TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5261 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 14 of 14 in this chapter
CHAPTER: Regarding killing snakes.
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مُغِيرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أبو داود:‏‏‏‏ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ إِنْسَانٌ الْجَانُّ لَا يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ،‏‏‏‏ فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلَامَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
Narrated Abdullah ibn Masud: Kill all the snakes except the little white one which looks like a silver wand. Abu Dawud said: A man said to me: A white snake does not wind in its movement. If it is correct, that is a sign in it, if Allah wills.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
5261
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 5261 In-book reference : Book 43, Hadith 489 English translation : Book 42, Hadith 5241
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۹۱۵۹)

Related Chapters

111
1
Chapter: What Has Been Related About Killing Snakes
باب: سانپ مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Killing The Two Black Things In Salat
باب: نماز میں سانپ اور بچھو مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Killing Geckos
باب: چھپکلی مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Killing Dogs
باب: کتوں کو مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
Musnad Ahmad
6
Chapter: Killing Snakes Etc.
سانپ اور دیگر حشرات الارض کو مارنا :۔
Sahih Muslim
7
Chapter: The Prohibition Of Killing Ants
چیونٹی کو مارنے کی ممانعت :۔
Sahih Muslim
8
Chapter: The Prohibition Of Killing Cats
بلی کو مارنے کی ممانعت
Sahih Muslim
9
CHAPTER: Regarding killing geckos.
باب: چھپکلی مارنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
CHAPTER: Regarding killing ants.
باب: چیونٹی مارنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Regarding killing frogs.
باب: مینڈک مارنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Blow During Salat
باب: نماز میں پھونک مارنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Mentioned About Sprinkling Water On The Urine Of A Male Child Of Suckling Age
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Slaps His Servant
باب: خادم کو طمانچہ مارنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Regarding Nighttime And Surprise Attacks
باب: رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے اور حملہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Killing Captives And Ransoming
باب: قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Dislike Of Encouraging Beasts To Fight On Another [And Striking Them Or Branding Them On The Face]
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About 'Eisa Bin Maryam killing the Dajjal
باب: عیسیٰ بن مریم کا دجال کو قتل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
بَاب رمي الْجمار
کنکریاں مارنے کا بیان
Mishkat
22
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
23
[6] بَاب العطاس والتثاؤب
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
Mishkat
24
استنجاء کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
28
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
30
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
31
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
32
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
Musnad Ahmad
33
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
34
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
35
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(134) CHAPTER. To do the Ramy of the Jimar.
کنکریاں مارنے کا بیان
Sahih Bukhari
38
(102) CHAPTER. The killing of pigs.
سور کا مار ڈالنا
Sahih Bukhari
39
(31) CHAPTER. The breaking of the cross and the killing of the pigs.
صلیب کا توڑنا اور خنزیر کا مارنا
Sahih Bukhari
40
(146) CHAPTER. (Is it permissible) to attack the enemies wilth the probability of killing the babies and children (unintentionally)?
اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں ، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
41
(147) CHAPTER. Killing the children in the war.
جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
42
(148) CHAPTER. Killing the women in the war.
جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
43
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
Sahih Bukhari
44
(159) CHAPTER. Killing non-Muslim warriors secretly.
جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا
Sahih Bukhari
45
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
Sahih Bukhari
46
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
Sahih Bukhari
47
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
Sahih Bukhari
48
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
Sahih Bukhari
49
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
Sahih Bukhari
50
(2b) CHAPTER. What is said regarding the beating (lashing) of a drunk.
شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,075
Sunnan Nisai
3516
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُغِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ وَلَا أَحْسَبُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah said: The child is the bed's, and for the fornicator is the stone.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے کا ہے ۱؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے“ ۲؎۔
Jam e Tirmazi
143
حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطَإِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا وَطِيءَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهُوَ وَهَمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ هُودٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ:‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهَذَا الصَّحِيحُ.
Abdur-Rahman bin Awf's Umm Walad said, : I said to Umm Salamah: 'Indeed I am a woman with lengthy hems, and I walk in places of filth.' So she said: 'Allah's Messenger said: It is purified by what comes after it.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کے بعد کی ( پاک ) زمین اسے پاک کر دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ۲- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔
Jam e Tirmazi
155
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَلَا مِنْ عُمَرَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَخَبَّابٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ،‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ،‏‏‏‏ وَزَائِدَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ.
Aishah narrated: I have not seen anyone who hastened Zuhr more than Allah's Messenger nor Abu Bakr, nor Umar.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
228
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏والْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ هُوَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنَازِلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يُقَالُ إِنَّ خَالِدًا الْحَذَّاءَ مَا حَذَا نَعْلًا قَطُّ إِنَّمَا كَانَ يَجْلِسُ إِلَى حَذَّاءٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ.
Abdullah (Ibn Masud) narrated that : the Prophet said: Let those among you with understanding and reason be close to me, then those after them, then those after them. And do not separate or dissention will occur among your hearts, and beware of the commotion of the markets.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔
Jam e Tirmazi
392
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abdullah bin Masud narrated: The Prophet (S) prayed five (Rakah) for Zuhr, so it was said to him: 'Has the prayer been added to, or have you merely forgotten?' So he (S) performed two prostrations after he had said the Salam.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ ( یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کر دی گئی ہے ) تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
396
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَيْفَ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَيَسْجُدْ فِي ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيُعِدْ.
Iyad bin Hilal said: I said to Abu Sa'eed: 'One of us performs Salat and we do not know how (much) we prayed.' So he said: 'Allah's Messenger (S) said: When one of you performs Salat and he does now know how (much) he prayed then let him perform two prostrations while he is sitting.
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہا: ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ( یا وہ کیا کرے؟ ) تو ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ ( یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد ) امام ترمذی کہتے ہیں: ا- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہو جائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے“۔ اسی پر ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا عمل ہے ۱؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہو جائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
400
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:‏‏‏‏ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ،‏‏‏‏ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاءٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Sa'eed bin Yazid Abu Maslamah said: I said to Anas bin Malik: 'Would Allah's Messenger (S) perform Salat wearing his sandals?' He said: 'Yes.'
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ رضی الله عنہم اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Jam e Tirmazi
406
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة آل عمران آية 135 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَمُعَاذٍ،‏‏‏‏ ووَاثِلَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍ وَقَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلَّا هَذَا.
Asma bin Al-Hakam Al-Fazari said: I heard Ali saying: 'Indeed I am a man who, when I heard a Hadith from Allah's Messenger (S) then Allah causes me to benefit from it as much as He wills for me to benefit from it. When a man among his Companions narrated to me I ask him to swear an oath to me about it, and when he swears an oath to me I trust him. And Abu Bakr narrated to me - and Abu Bakr told the truth - he said: I heard Allah's Messenger (S) saying: 'There is no man who commits a sin, then makes Wudu, then performs Salat, then seeks forgiveness from Allah, except that Allah forgives him.' Then he recited this Ayah: Those who when they have committed Fahishah or wronged themselves with eveil, remember Allah. (3:135) until the end of the Ayah.
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ ( کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون» ”اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
509
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ مَنْصُورٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَسْتَحِبُّونَ اسْتِقْبَالَ الْإِمَامِ إِذَا خَطَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.
Abdullah bin Mas'ud narrated: When Allah's Messenger descending the Minbar he would face our direction.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کر لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں، ۳- اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۱؎، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔