TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2344 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
Chapter: Who Stipulates The Condition Of Khalas
(خرید و فروخت میں) خلاصی کی شرط لگانے کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ إِبْطَالُ الْخَلَاصِ.
It was narrated from ('Uqbah bin 'Amir or) Samurah bin Jundub that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a product is sold to two men, it is for the one who was first.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا ۱؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔
2344
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Ibn Majah 2344 In-book reference : Book 13, Hadith 37 English translation : Vol. 3, Book 13, Hadith 2344
(سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۵۸۲،۹۹۱۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ۲۰ (۱۱۱۰)، سنن النسائی/البیوع ۹۴ (۴۶۸۶)، مسند احمد (۵/۸،۱۱،۱۲،۱۸،۲۲)، سنن الدارمی/النکاح ۱۵ (۲۲۳۹)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہو گی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی

Related Chapters

249
1
Chapter: What Has Been Related About Conditions When Contracting A Marriage
باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Recording The Conditions
باب: خرید و فروخت کے شرائط لکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Making A Condition To Retain Al-Wala' And The Rebuke For That
باب: ولاء کی شرط لگانے اور اس پر سرزنش کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(2) CHAPTER. What conditions are permissible for a writing of emancipation and whoever stipulates conditions that are not (present) in Allah's Book (i.e., not in accordance with Allah's Laws).
مکاتب سے کون سی شرطیں کرنا درست ہیں اور جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو ( وہ شرط باطل ہے )
Sahih Bukhari
6
(5) CHAPTER. Conditions in contracts (of share-cropping etc.).
معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان
Sahih Bukhari
7
(19) CHAPTER. Conditions in Waqf (i.e., religious endowment).
وقف میں شرطیں لگانے کا بیان
Sahih Bukhari
8
CHAPTER: Stipulating Conditions During Hajj.
باب: حج میں شرط لگانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Stating A Condition For Hajj
باب: حج میں شرط لگا لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else About That
باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: 'Fulfill The Trust For The One Who Entrusted You'
باب: خرید و فروخت (بیع و شرائط) سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Contests And Racing
باب: گھڑ دوڑ میں شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
16
احرام میں شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
17
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
18
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
20
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
23
(70) CHAPTER. Mentioning about sales and purchases on the pulpit in the mosque.
مسجد کے منبر پر مسائل خریدوفروخت کا ذکر کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
24
(150) CHAPTER. Trading during the time of Hajj, and selling in the markets of the Pre-Islamic Period.
زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خریدوفروخت کا بیان
Sahih Bukhari
25
(16) CHAPTER. One should be lenient and generous in bargaining, and whoever demands his debts back should do so in a modest lenient manner.
خریدوفروخت کے وقت نرمی ، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا
Sahih Bukhari
26
(27) CHAPTER. What is disapproved of as regards giving oaths (swearing) while selling.
خریدوفروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
27
(35) CHAPTER. The markets of the Pre-Islamic Period of Ignorance where the people continued to trade after embracing Islam.
جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خریدوفروخت کی
Sahih Bukhari
28
(48) CHAPTER. What is disliked as regards cheating in business.
خریدوفروخت میں دھوکہ دینا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
29
(67) CHAPTER. Dealing with women in selling and buying.
عورتوں سے خریدوفروخت کرنا
Sahih Bukhari
30
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
Sahih Bukhari
31
(95) CHAPTER. In cases where there is no fixed judgement, the traditions and conventions of each community are to be referred to, to deduce a judgement in such matters as sales, renting, measuring and weighing.
خریدوفروخت اور اجارے میں ہر ملک کے دستور کے موافق حکم دیا جائے گا
Sahih Bukhari
32
(99) CHAPTER. Buying and selling with Mushrikun (pegans) and with the enemy at war.
مشرکوں اور حربی کافروں کے ساتھ خریدوفروخت کرنا
Sahih Bukhari
33
(12) CHAPTER. What conditions are disliked in share-cropping.
بٹائی میں کون سی شرطیں لگانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
34
(11) CHAPTER. The witness of a blind man, his marriage, his affairs, the marriage conducted by him, and his buying and selling; and accepting his call for the Salat (prayer), etc., and what can be known by sound or voice.
اندھے آدمی کی گواہی اور اس کے معاملہ کا بیان اور اس کا اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا نکاح کروانا یا اس کی خریدوفروخت
Sahih Bukhari
35
(1) CHAPTER. The conditions permissible on embracing Islam, and in contracts and transactions.
اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع و شراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
36
(3) CHAPTER. The conditions of selling.
بیع میں شرطیں کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. The terms and the conditions of Mahr at the time of the marriage contract.
نکاح کے وقت مہر کی شرطیں
Sahih Bukhari
38
(7) CHAPTER. The conditions in share-cropping.
مزارعت کی شرطیں جو جائز ہیں
Sahih Bukhari
39
(8) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the contracts of marriage.
جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
40
(9) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the legal punishments prescribed by Allah.
جو شرطیں حدود اللہ میں جائز نہیں ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
41
(11) CHAPTER. Conditions concerning divorce.
طلاق کی شرطیں ( جو منع ہیں )
Sahih Bukhari
42
(13) CHAPTER. Conditions for Wala.
ولاء میں شرط لگانا
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER. If the landlord stipulates in the contract of share-cropping that he would terminate the contract whenever he likes.
مزارعت میں مالک نے کاشتکار سے یہ شرط لگائی کہ جب میں چاہوں گا تجھے بے دخل کر سکوں گا
Sahih Bukhari
44
(15) CHAPTER. The conditions of Jihad and peace treaties with (non-Muslim) warriors, and the writing of the conditions.
جہاد میں شرطیں لگانا اور کافروں کے ساتھ صلح کرنے میں اور شرطوں کا لکھنا
Sahih Bukhari
45
(16) CHAPTER. Conditions in loans.
قرض میں شرط لگانا
Sahih Bukhari
46
(17) CHAPTER. Al-Mukatab (i.e., the slave who is given the writing of emancipation for a certain sum) and about the invalidity of those conditions which contradict Allah's Laws.
مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
47
(18) CHAPTER. What kinds of conditions are permissible; and what is exempted from the decision.
اقرار میں شرط لگانا یا استثناء کرنا جائز ہے اور ا ن شرطوں کا بیان
Sahih Bukhari
48
(33) CHAPTER. If somebody keeps a piece of land or a well as an endowment, or stipulates that he should benefit by its water as the other Muslims do (will this be permissible)?
کسی نے کنواں وقف کیا اور اپنے لئے بھی اس میں سے عام مسلمانوں کی طرح پانی لینے کی شرط لگائی ۔ ۔ ۔
Sahih Bukhari
49
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
Sahih Bukhari
50
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

210
Jam e Tirmazi
41
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَمُعَيْقِيبٍ،‏‏‏‏ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمَا خُفَّانِ أَوْ جَوْرَبَانِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Protect the heels from the Fire!
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔
Jam e Tirmazi
1608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَنْ يَرِثُكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلِي وَوَلَدِي قَالَتْ:‏‏‏‏ فَمَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا نُورَثُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
Narrated Abu Hurairah: Fatimah came to Abu Bakr and said: 'Who will inherit from you?' He said: 'My family and my son.' She said: 'So what about me? I do not get inheritance from my father?' So Abu Bakr said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'We are not inherited from' but I support those whom the Messenger of Allah (ﷺ) used to support, and I spend upon those whom the Messenger of Allah (ﷺ) spent upon. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Umar, Talhah, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin 'Awf, Sa'd and 'Aishah. The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib from this route. It is only reported with a chain by Hammad bin Salamah and 'Abdul Wahhab bin 'Ata, from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah. I asked Muhammad about this Hadith and he said: No one is known to have reported it from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah except from Hammad bin Salamah. 'Abdul Wahhab bin 'Ata reported it from Muhammad bib 'Amr, from Abu Salamah, and from Abu Hurairah and it is similar to the narration of Hammad bin Salamah. And this Hadith has been reported through other routes from Abu Bakr As-Siddiq, from the Prophet (ﷺ).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے کہا: میرے گھر والے اور میری اولاد، فاطمہ رضی الله عنہا نے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”ہم ( انبیاء ) کا کوئی وارث نہیں ہوتا“ ( پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہو۔ ( ترمذی کہتے ہیں: ہاں ) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عمر، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2678
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ وَذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ،‏‏‏‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُوهُ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ صَدُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ رُبَّمَا يَرْفَعُ الشَّيْءَ الَّذِي يُوقِفُهُ غَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَكَانَ رَفَّاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رِوَايَةً إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمِنْقَرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَلَمْ يُعْرَفْ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثُ وَلَا غَيْرُهُ،‏‏‏‏ وَمَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَاتَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بَعْدَهُ بِسَنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏مَاتَ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ.
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O my son! If you are capable of (waking up in) the morning and (ending) the evening, while there is nothing of deception in your heart for anything, then do so.' Then he said to me: 'O my son! That is from my Sunnah. Whoever revives my Sunnah then he has loved me. And whoever loved me, he shall be with me in Paradise.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارے کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ ( بغض، حسد، کینہ وغیرہ ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت ( اور میرا طریقہ ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے، ۲- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- محمد بن عبداللہ انصاری ثقہ ہیں، اور ان کے باپ بھی ثقہ ہیں، ۴- علی بن زید صدوق ہیں ( ان کا شمار سچوں میں ہے ) بس ان میں اتنی سی کمی و خرابی ہے کہ وہ بسا اوقات بعض روایات کو جسے دوسرے راوی موقوفاً روایت کرتے ہیں اسے یہ مرفوع روایت کر دیتے ہیں، ۵- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوالولید نے کہا: شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن زید نے حدیث بیان کی اور علی بن زید رفاع تھے، ۶- ہم سعید بن مسیب کی انس کے واسطہ سے اس طویل حدیث کے سوا اور کوئی روایت نہیں جانتے، ۷- عباد بن میسرہ منقری نے یہ حدیث علی بن زید کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اس حدیث میں سعید بن مسیب کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۸- میں نے اس حدیث کا محمد بن اسماعیل بخاری سے ذکر کر کے اس کے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے اس کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، ۹- انس بن مالک سے سعید بن مسیب کی روایت سے یہ یا اس کے علاوہ کوئی بھی حدیث معروف نہیں ہے۔ انس بن مالک ۹۳ ہجری میں انتقال فرما گئے اور سعید بن مسیب ان کے دو سال بعد ۹۵ ہجری میں اللہ کو پیارے ہوئے۔
Sahih Muslim
2442
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: افْتَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ، قَالَ: فَصُفَّتِ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ قَالَ: فَنَادَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، يَا لَلْمُهَاجِرِينَ» ثُمَّ قَالَ: «يَا لَلْأَنْصَارِ، يَا لَلْأَنْصَارِ» قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ: قُلْنَا، لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَايْمُ اللهِ، مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللهُ، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ. ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَأَبِي التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ
Anas b. Malik reported: We conquered Mecca and then we went on an expedition to Hunain. The polytheists came, forming themselves into the best rows that I have seen. They first formed the rows of cavalry, then those of infantry, and then those of women behind them. Then there were formed the rows of sheep and goats and then of other animals. We were also people large in number, and our (number) had reached six thousand. And on one side Khalid b. Walid was in charge of the cavalry. And our horses at once turned back from our rear. And we could hardly hold our own when our horses were exposed, and the bedouins and the people whom we knew took to their heels. (Seeing this) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called thus: O emigrants, O emigrants. He then. said: O Ansar, O Ansar. (Anas said: This hadith is transmitted by a group of eminent persons.) We said: At thy beck and call are we, Messenger of Allah. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then advanced and he (Anas) said: By Allah, we had not yet reached them when Allah defeated them. and we took possession of the wealth and we then marched towards Ta'if, and we besieged them for forty nights. and then came back to Mecca and encamped (at a place), and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) began to bestow a hundred camels upon each individual. The rest of the hadith is the same.
سمیط نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے مکہ فتح کرلیا ، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی ، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کرکے ( مقابلہ میں ) آئے ۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی ، پھر جنگجوؤں ( لڑنے والوں ) کی ، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی ، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں ، پھر اونٹوں کی قطاریں ۔ کہا : اور ہم ( انصار ) بہت لوگ تھے ، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں ( مکہ کے نو مسلم ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازدی : " اے مہاجرین!اے مہاجرین! " پھر فرمایا : " اے انصار! اے انصار!کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ ( میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی ) جماعت کی روایت ہے ۔ کہا : ہم نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، اور ہم اللہ کی قسم!ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دو چار کردیا ، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کرلیا ، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا ، پھر ہم مکہ واپس آئے اوروہاں پڑاؤکیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سواونٹ ( کے حساب سے ) دینے کا آغاز فرمایا ۔ ۔ ۔ پھرحدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح ( اوپر کی روایات میں ) قتادہ ، ابو تیاح اور ہشام بن زیدکی روایت ہے ۔
Sahih Muslim
5036
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا،
Khalid b. Walid reported that he visited Maimuna daughter of al-Harith with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and she was the sister of his mother. She presented to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the flesh of a lizard which Umm Hufaid daughter of al-Harith had brought from Najd, and she had been married to a person belonging to Banu Ja'far. It was the habit of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not to eat anything until he knew what that was. The rest of the hadith is the same but with this (addition): Ibn al-Asamm narrated it from Maimuna and he was under her care.
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔ )
Sunnan Abu Dawood
376
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ المعنى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِييَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ:‏‏‏‏ وَلِّنِي قَفَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِحَسَنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبَّاسٌ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هَارُونُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْأَبْوَالُ كُلُّهَا سَوَاءٌ.
Narrated AbusSamh: I used to serve the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Whenever he intended to wash himself, he would say: Turn your back towards me, So I would turn my back and hide him. (Once) Hasan or Husayn (may Allah be pleased with them) was brought to him and he passed water on his chest. I came to wash it. He said: It is only the urine of a female which should be washed; the urine of a male should be sprinkled over. Abbas (a narrator) said: Yahya bin al-Walid narrated the tradition to us. Abu Dawud said: He (Yahya) is Abu al-Za'ra'. Harun bin Tamim said on the authority of al-Hasan: All sorts of urine are equal.
ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب آپ غسل کرنا چاہتے تو مجھ سے فرماتے: تم اپنی پیٹھ میری جانب کر لو ، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا، ( ایک مرتبہ ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، میں اسے دھونے کے لیے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں: ( بچوں اور بچیوں کے ) پیشاب سب برابر ہیں ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
1236
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ:‏‏‏‏ لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، ‏‏‏‏‏‏لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَقَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حِطَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى فِعْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ.
Narrated Abu Ayyash az-Zuraqi: We accompanied the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم at Usfan, and Khalid ibn al-Walid was the chief of unbelievers. We offered the noon prayer. Thereupon, the unbelievers said: We suffered from negligence; we became careless. We should have attacked them while they were praying. Thereupon the verse was revealed, relating to the shortening of the prayer (in time of danger) between the noon and afternoon (prayer). When the time of the afternoon prayer came, the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم stood facing the qiblah, and the unbelievers were standing in front of him. The people stood in a row behind the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and there was another row behind this row. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم bowed and all of them bowed. He then prostrated and also the row near him prostrated. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When they performed two prostrations and stood up, those who were behind them prostrated. The people in the front row near him then stepped backward taking the place of the people in the second row and the second row took the place of the first row. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم then bowed and all of them bowed together. Then he and the row near him prostrated themselves. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and the row near him (i. e. the front row) were seated, the people in the second row behind them prostrated themselves. Then all of them were seated. (He (the Prophet) then uttered the salutation upon all of them. He prayed in his manner at Usfan as well as at the territory of Banu Sulaym. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ayyub and Hisham from Abu al-Zubair on the authority of Jabir to the same effect from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Similarly, this has been transmitted by Dawud bin Husain from Ikrimah, on the authority of Ibn Abbas. This has also been reported by Abd al-Malik, from Ata from Jabir in like manner. This has also been narrated by Qatadah from al-Hasan from Hittan on the authority of Abu Musa in a similar way. Similarly, this has been reported by Ikrimah bin Khalid from Mujahid from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. This has also been reported by Hisham bin Urwah from his father from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. This is the opinion of al-Thawri.
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ہم سے چوک ہو گئی، ہم غفلت کا شکار ہو گئے، کاش! ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کر دیا ہوتا، چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی ۱؎ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی ( پچھلی صف کے ) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آ گئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے، عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔ اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1753
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَى أَبِي الْوَلِيدِ،‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي تَفَرَّدُوا بِهِ.
This tradition has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators similar to that reported by Abu al-Walid. This version adds he then took out the blood by pressing it with his hand. Abu Dawud said: Hammam’s version has the words “He took out the blood by pressing with his fingers”. Abu Dawud said this tradition has been narrated by the people of Basrah who alone are its transmitters.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «ثم سلت الدم بيده» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں «سلت الدم عنها بإصبعه»کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
3390
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:‏‏‏‏ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ مِنِ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقَنا، ‏‏‏‏‏‏قَدِ اقْتَتَلَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ . زَادَ مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ قَوْلَهُ:‏‏‏‏ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ .
Narrated Urwah bin al-Zubair: That Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔