خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
Chapter 24 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جب کوئی اناج خریدو تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرو۔
۔ سیدنا حکیم بن حرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں کچھ چیزیں خریدتا ہوں تو ان میں میرے لیے حلال کون سی ہیں اور حرام کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اس وقت تک آگے فرو خت نہ کرو، جب تک اسے قبضہ میں نہ لے لو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شام کاایک آدمی تیل لے کرآیا، تاجر وںنے اس سے سود ے بازی شروع کردی، میں بھی ان میں شریک تھا اور میں نے اس سے خریدلیا، اسی مقام پر ایک آدمی خریدنے کے لئے سامنے آگیا، اس نے مجھے معقو ل منافع کی پیش کش کی اور اس نے مجھے سودا کرنے پر راضی کر لیا، پس میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تاکہ (سودا پکا کرنے کے لیے) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر ماروں، لیکن اتنے میں کسی نے پیچھے سے میرا بازو پکڑا، جب میںنے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جہاں کوئی چیز خریدو تو اس کو آگے فروخت کرنے سے پہلے اپنے گھر میں لے جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے، پس میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔
۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جن تاجروںکے پاس چیک تھے، وہ نکلے اور مروان سے ان چیکوں کو بیچنے کی اجازت لی، اس نے ان کو اجازت دے دی، اتنے سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: آپ نے تاجروں کو سود کی خرید و فروخت کی اجازت دے دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا ہے کہ اناج کو خرید کر مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے، یہ سن کر مروان نے اپنے پہرہ داروں کو بھیجا اور انھوں نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننا شروع کر دیئے، جن پر تنگی نہیں پڑ رہی تھی۔
Takhreej
(۵۸۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۲۸ (انظر: ۸۳۶۵)
Explanation
فوائد:… ’’صِکَاک‘‘ کی واحد ’’صَکّ‘‘ ہے، اس کے معانی کتاب کے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ امراء لوگوں کورزق اور عطیے دینے کے لیے کچھ رسیدیں تیار کرواتے تھے، لوگ ان کو حاصل کر کے جلد بازی کرتے ہوئے ان کو فروخت کرنا شروع کر دیتے تھے، پھر اس سے منع کر دیا گیا، کیونکہ اس میں قبضے میں لیے بغیر چیز کو فروخت کیا جا رہا تھا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں اناج خریدتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے آدمی کو ہماری طرف بھیجتے تھے، جو ہمیں حکم دیتا تھا کہ یہ اناج جس مقام پر تم نے خریدا ہے، اب اس کو بیچنے سے پہلے کسی اور جگہ پر لے جاؤ۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ جو ماپ یا تول کراناج خریدے تو وہ اس کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک مکمل قبضے میں نہ لے لے۔
۔ سالم اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ عہد ِ نبوی میں اندازے سے اناج خریدتے تھے تو ان کو اس امر پر مارا جاتا تھا کہ وہ اس کو اسی جگہ پر فروخت کرنا شروع کر دیں، (اور یہ حکم دیا جاتاتھا کہ) وہ اس کو پہلے اپنے گھروں کی طرف منتقل کریں۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ لوگ بازار کے اونچے حصہ میں بغیر تخمینے سے اناج کی خریدو فروخت کر تے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اناج کو وہاں سے منتقل کیے بغیر آگے بیچنے سے منع کر دیا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اناج خریدے اور اس کو مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنا شروع کر دے۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ درہم کے بدلے درہم کی بیع بن جاتی ہیںاور اناج کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ چیزجوقبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمائی ہے، وہ اناج ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا حکم اناج کی مانند ہے۔
Takhreej
(۵۸۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث میں بیع کے اس اصول پر زور دیا گیا ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز کو اپنے قبضے میں لے اور اس کو اس مکان سے منتقل کرے، جہاں سودا ہوا ہے، احادیث نمبر (۵۸۸۱، ۵۸۸۶) میں اس اصول کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سودی تجارت ہے، کیونکہ اگر ایک آدمی (۱۰۰) درہم کے ساتھ گندم کا ایک ڈھیر خریدتا ہے اور پھر اسی مقام پر اس کو (۱۲۰) درہم میں فروخت کر دیتا ہے، تو گویا اس نے (۱۰۰) درہم کے عوض (۱۲۰) درہم بٹور لیے ہیں۔ ان احکام پر عمل کرنا اس وقت ممکن ہو گا، جب تاجروں کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر زیادہ سے زیادہ زر جمع کیا جائے۔