TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2944 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ .
It was narrated that Sa’eed bin Jubair said: I heard Ibn ‘Abbas say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This Stone will be brought on the Day of Resurrection, and it will be given two eyes with which to see, and a tongue with which to speak, and it will bear witness for those who touched it in sincerity.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔
2944
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 25, Hadith 2944 Arabic reference : Book 25, Hadith 3057
Conclusion
تخریج
«سنن الترمذی/الحج ۱۱۳ (۹۶۱)،(تحفة الأشراف:۵۵۳۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۴۷،۲۶۶،۲۹۱،۳۰۷،۳۷۱)، سنن الدارمی/المناسک ۲۶ (۱۸۸۱)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اور مفید نہیں ہوتی۔

Related Chapters

70
1
چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What Has Been Related About Touching The (Black) Stone And The Yemeni Corner And Not The Other Corner
باب: بیت اللہ کے دوسرے کونوں کو چھوڑ کر صرف حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Touching The Two Corners
باب: حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کا بیان
Jam e Tirmazi
4
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
7
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
8
CHAPTER: Touching The Other Corners.
باب: ارکان کعبہ کے استلام ( چھونے اور چومنے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
باب: حجر اسود کے استلام کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
باب: رکن یمانی اور حجر اسود کو طواف کے ہر پھیرے میں چھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: خم دار ڈنڈے سے حجر اسود کو چھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
Chapter: What Has Been Related About Performing Raml From The (Black) Stone To The (Black) Stone
باب: حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Kissing The (Black) Stone
باب: حجر اسود کو بوسہ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Black Stone
باب: حجر اسود کا بیان
Jam e Tirmazi
16
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
(50) CHAPTER. What is said regarding the Black Stone.
حجراسود کا بیان
Sahih Bukhari
18
(56) CHAPTER. The touching (and kissing) of the Black Stone on reaching Makkah during the first round of Tawaf of the Kabah, and doing Ramal in the first three rounds (of Tawaf).
جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجراسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے
Sahih Bukhari
19
(58) CHAPTER. Touching the Corner (Black Stone) with a bent-headed stick.
حجراسود کو چھڑی سے چھونا اور چومنا
Sahih Bukhari
20
(60) CHAPTER. To kiss the Black Stone.
حجراسود کو بوسہ دینا
Sahih Bukhari
21
(61) CHAPTER. Whoever pointed towards the Corner (Black Stone) on coming in front of it (while performing Tawaf).
حجراسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف اشارہ کرنا ( جب چومنا نہ ہو سکے )
Sahih Bukhari
22
(62) CHAPTER. To say Takbir (Allah is the Most Great) on coming in front of the Corner (having the Black Stone).
حجراسود کے سامنے آ کر تکبیر کہنا
Sahih Bukhari
23
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
24
CHAPTER: On Kissing The Black Stone.
باب: حجر اسود کو چومنا ۔
Sunnan Abu Dawood
25
باب: حجر اسود کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: حجر (اسود) کا بوسہ لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: حجر اسود کا بوسہ کس طرح لیا جائے؟
Sunnan Nisai
28
باب: آنے والا طواف کہاں سے شروع کرے؟ اور حجر اسود کو بوسہ لے کر کدھر جائے؟
Sunnan Nisai
29
باب: طواف کعبہ میں حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک رمل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
باب: طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود پر ہاتھ پھیرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: حجر اسود کی طرف اشارہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
(61)Chapter: Wudu For Touching The Penis
باب: شرمگاہ (عضو تناسل) چھونے پر وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
33
(62)Chapter: [What Has Been Related About] Not Performing Wudu For Touching The Penis
باب: عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Salat On Busut
باب: بچھونے پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Bed Of The Prophet (saws)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
38
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
Musnad Ahmad
39
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
Musnad Ahmad
41
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
42
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
CHAPTER. To offer Salat (the prayer) on the bed.
بچھونے پر نماز پڑھنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
45
(59) CHAPTER. Whoever did not touch except the two Yemenite Corners of the Kabah.
اس شخص سے متعلق جس نے صرف دونوں ارکان یمانی کا استلام کیا
Sahih Bukhari
46
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
Sahih Bukhari
47
(63) CHAPTER. The Anmat (curtains, beddings, etc.) and similar things designed for the women.
عورتوں کے لئے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھا نا جائز ہے ( یا باریک پردہ لٹکانا ) ۔
Sahih Bukhari
48
Chapter: Humility In Dress And Sticking To Coarse And Simple Clothes, Furnishings Etc., Permissibility Of Wearing Clothes Made From Camel Hair And Those On Which There Are Markings
لباس پہننے میں انکسار روا رکھنا موٹے اور باسہولت کپڑے پہننا اور بچھونے وغیرہ کے لیے استعمال کرنا ،نیز بالوں کے بنے ہو ئے (اونی ) اور منقش کپڑے پہننے کا جواز
Sahih Muslim
49
Chapter: It Is Disliked To Have More Furniture And Bedding Than One Needs
ضرورت سے زیادہ بچھونے اور لباس بنانا مکروہ ہے
Sahih Muslim
50
CHAPTER: Wudu’ From Touching The Penis.
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,344
Sunnan Ibn e Maja
2703
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever tries to avoid giving the inheritance to his heirs, Allah (SWT) will deprive him of his inheritance in Paradise on the Day of Resurrection.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔
Jam e Tirmazi
206
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ضَعَّفُوهُ تَرَكَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت الْجَارُودَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ:‏‏‏‏ لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet said: 'Whoever calls the Adhan for seven years, seeking reward for it, salvation from the Fire is written for him.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ثوبان، معاویہ، انس، ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ - اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے، ۴- اگر جابر جعفی نہ ہوتے ۱؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔
Jam e Tirmazi
514
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَرَيَانِ بِالْحِبْوَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ بَأْسًا.
Sahl bin Ma'adh narrated from his father: The Prophet prohibited Al-Habwah on Friday while the Imam is delivering the Khutbah.
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
653
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَسَأَلَهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَاهُ وَذَهَبَ فَعِنْدَ ذَلِكَ حَرُمَتِ الْمَسْأَلَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ .
Hubshi bin Junadah As-Saluli narrated: During the Farewell Hajj, while the Messener of allah was standing at Arafat, a Bedouin came to him begging while pulling on the edge of his Rida. He gave him something and he left. With that, begging was made unlawful, so the Messenger of Allah said: 'Begging is not lawful for the rich nor for the physically fit, except for the one who is severely poor or in perilous debt. And whoever begs the people (merely) to increase his wealth, then on the Day of Judgment (the wealth he begged for) will be lacerations on his face and heated coals from Hell will be provided for him to eat. Whoever wishes, let him take a little, and whoever wishes, then let him take a lot.'
حبشی بن جنادہ سلولی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا آپ عرفہ میں کھڑے تھے، آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ کی چادر کا کنارا پکڑ کر آپ سے مانگا، آپ نے اسے دیا اور وہ چلا گیا، اس وقت مانگنا حرام ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں نہ کسی ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لیے سوائے جان لیوا فقر والے کے اور کسی بھاری تاوان میں دبے شخص کے۔ اور جو لوگوں سے اس لیے مانگے کہ اس کے ذریعہ سے اپنا مال بڑھائے تو یہ مال قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراش ہو گا۔ اور وہ جہنم کا ایک گرم پتھر ہو گا جسے وہ کھا رہا ہو گا، تو جو چاہے اسے کم کر لے اور جو چاہے زیادہ کر لے“ ا؎۔
Jam e Tirmazi
1306
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever grants respite to an indigent or alleviates it for him, Allah will shade him on the Day of Judgement under His Throne, a Day in which there is no shade except His shade. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Al-Yasar, Abu Qatadah, Hudhaifah, Abu Mas'ud, 'Ubadah, and Jabir. [Abu 'Eisa said:] The Hadith if Abu Hurairah is a Hasan Sahih Gharib Hadith from this route.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست ( قرض دار ) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابویسر ( کعب بن عمرو ) ، ابوقتادہ، حذیفہ، ابن مسعود، عبادہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1329
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, the most beloved of people to Allah on the Day of Judgement, and the nearest to Him in the status is the just Imam. And the most hated of people to Allah and the furthest from Him in status is the oppressive Imam.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
1406
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ،‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا،‏‏‏‏ وَلَا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا،‏‏‏‏ فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي،‏‏‏‏ وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ هُذَيْلٍ،‏‏‏‏ وَإِنِّي عَاقِلُهُ،‏‏‏‏ فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ:‏‏‏‏ إِمَّا أَنْ يَقْتُلُوا،‏‏‏‏ أَوْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا،‏‏‏‏ وَرُوِي عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ،‏‏‏‏ فَلَهُ أَنْ يَقْتُلَ،‏‏‏‏ أَوْ يَعْفُوَ،‏‏‏‏ أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ . وَذَهَبَ إِلَى هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Narrated Abu Shuraih Al-Ka'bi: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah made Makkah sacred, it was not made sacred by the people. Whoever believes in Allah, and the Last Day, then let them not shed blood in it, nor cut down any of its trees. If one tries to make an excuse by saying: 'It was made lawful for the Messenger of Allah (ﷺ)' then indeed Allah made it lawful for me but He did not make it lawful for the people, and it was only made lawful for me for an hour of a day. Then it is returned to being sacred until the Day of Judgement. Then, to you people of Khuza'ah who killed this man from Hudhail: I am his 'Aqil, so whomever (one of his relatives) is killed after today, then his people have two options; either they have him killed, or they take the blood-money from him.'
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا ( محترم ) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، ( اب ) اگر کوئی ( خونریزی کے لیے ) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا تھا ( تو اس کا یہ استدلال باطل ہے ) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، ( سن لو ) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا: یا تو وہ ( اس کے بدلے ) اسے قتل کر دیں، یا اس سے دیت لے لیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ۲- اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ۳- اور یہ ( حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام ) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ ( اور یہ دونوں ایک ہی ہیں ) اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے“، ۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُطِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
Narrated Al-Harith bin Malik bin Al-Barsa': On the day of the Conquest of Makkah, I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'This is not to be battled over after today, until the Day of Judgement.' [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas, Sulaiman bin Surad, and Muti' This Hadith is Hasan Sahih, and it is a narration of Zakariyya bin Abi Za'idah from Ash-Sha'bi, we do not know of it except from his narration.
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مکہ میں آج کے بعد قیامت تک ( کافروں سے ) جہاد نہیں کیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1694
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعُرْوَةُ هُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ أَنَّ الْجِهَادَ مَعَ كُلِّ إِمَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
Narrated 'Urwah Al-Bariqi: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Goodness will remain in the forelocks of horses until the Day of Judgement: (They bring about) Rewards and spoils of war. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Sa'eed, Jarir, Abu Hurairah, Asma' bin Yazid, Al-Mughira bin Shu'bah, and Jabir. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. 'Urwah is Ibn Al-Ja'd Al-Bariqi, and they say he is 'Urwah bin Al-Ja'd. Ahmad bin Hanbal said: The Fiqh of this Hadith is that Jihad is with every Imam until the Day of Judgement.
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ( بھلائی ) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔