TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4254 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 11 in this chapter
توبہ کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً،‏‏‏‏ فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا،‏‏‏‏ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114،‏‏‏‏ فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَلِي هَذِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي .
It was narrated from Ibn Mas’ud that a man came to the Prophet (ﷺ) and said that he had kissed a woman, and he started to ask about expiation, but he (the Prophet (ﷺ)) did not say anything to him. Then Allah revealed the Verse: “And perform prayers at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful.” [11:114] The man said: “O Messenger of Allah, is this (the Verse) just for me?” He said: “It is for whoever acts upon it among my nation.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ( سورۃ ہود: ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔
4254
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4254 Arabic reference : Book 37, Hadith 4395
Conclusion
تخریج
«صحیح البخاری/المواقیت ۴ (۵۲۶)، تفسیر القرآن ۶ (۴۶۸۷)، صحیح مسلم/التوبة ۷ (۲۷۶۳)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۱۲ (۳۱۱۴)،(تحفة الأشراف:۹۳۷۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۵،۴۳۰)

Related Chapters

34
1
Chapter: What Has Been Related About Salat With Repentance
باب: توبہ کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
2
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Repentance, And Seeking Forgiveness, And What Has Been Mentioned Of Allah’s Mercy To His Slaves
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
4
بَاب الاسْتِغْفَار وَالتَّوْبَة
استغفار و توبہ کا بیان
Mishkat
5
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
Musnad Ahmad
6
شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت اور آخرت کی شراب سے اس کے محروم ہو جانے کا بیان، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
Musnad Ahmad
7
سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
Musnad Ahmad
8
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
Musnad Ahmad
10
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
11
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
12
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
13
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
14
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
Sahih Bukhari
15
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
16
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
Sahih Bukhari
17
(4) CHAPTER. At-Tauba (turning to Allah in repentance).
توبہ کا بیان
Sahih Bukhari
18
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And invoke Allah for them...”.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ التوبہ میں فرمانا
Sahih Bukhari
19
(14) CHAPTER. “...(Allah) comes in between a person and his heart (i.e., He prevents an evil person to decide anything)... (V.8:24)
سورۃ التوبہ کی اس آیت کا بیان
Sahih Bukhari
20
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
چور کی توبہ کا بیان ۔
Sahih Bukhari
21
Chapter: The punishment of one who drinks Khamr if he does not repent from it: he will be denied it in the hereafter
جس نے شراب پی اور اس (کے پینے) سے توبہ نہیں کی اس کی سزا یہ ہو گی کہ آخرت میں وہ اس سے روک دی جا ئے گی۔
Sahih Muslim
22
Chapter: Exhortation To Repent And Rejoicing Therein
توبہ کی تلقین اور اس پر (اللہ عزوجل کی) خوشی
Sahih Muslim
23
Chapter: Sins Are Erased By Praying For Forgiveness And Repenting
استغفار اور توبہ سے گناہوں کا زائل ہو جانا
Sahih Muslim
24
Chapter: Acceptance Of Repentance From Sin, Even If The Sin And Repentance Happen Repeatedly
گناہوں سے توبہ قبول ہوتی ہے، چاہے گناہ بار بار (سرزد) ہوں اور توبہ بھی بار بار ہو
Sahih Muslim
25
Chapter: The Acceptance Of The Repentance Of The One Who Kills, Even If He Has Killed A Great Deal
قاتل کی توبہ قبول ہوتی ہے، خواہ اس نے بہت سے قتل کیے ہوں
Sahih Muslim
26
Chapter: The Repentance Of Ka'b Ibn Malik And His Two Companions
جھوٹی تہمت (اِفک) کی حدیث اور تہمت لگانے والوں کی توبہ کی قبولیت
Sahih Muslim
27
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
Silsila Sahih
28
CHAPTER: About Seeking Forgiveness.
باب: توبہ و استغفار کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: A man who does something less than intercourse with a woman, and repents before he is arrested by the imam..
باب: آدمی عورت سے جماع کے علاوہ سارے کام کر لے پھر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
30
کیا مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
31
باب: لعان کرنے والے مرد اور عورت سے لعان کے بعد توبہ کرانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: چور کو توبہ و استغفار کی تلقین کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: شرابی کی توبہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

70
Sahih Muslim
1515
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ
This hadith has been transmitted by Taimi with the same chain of narrators.
عتمر بن سلیمان اور جریر دونوں نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔
Sahih Muslim
2771
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ، فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ، أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: «وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ» فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed i'tikaf (confined himself for devotion and prayer) in the first ten (days) of Ramadan; he then observed i'tikaf in the middle ten (days) in a Turkish tent with a mat hanging at its door. He (the Holy Prophet) took hold of that mat and placed it in the nook of the tent. He then put his head out and talked with people and they came near him, and he (the Holy Prophet) said: I observed i'tikaf in the first ten (nights and days) in order to seek that night (Lailat-ul-Qadr). I then observed i'tikaf in the middle ten days. Then (an angel) was sent to me and I was told that this (night) is among the last ten (nights). He who among you likes to observe i'tikaf should do so; and the people observed it along with him, and he (the Holy Prophet) said: That (Lailat-ul-Qadr) was shown to me on an odd (night) and I (saw in the dream) that I was prostrating in the morning in clay and water. So in the morning of the twenty-first night when he (the Holy Prophet) got up for dawn (prayer). there was a rainfall and the mosque dripped, and I saw clay and water. When he came out after completing the morning prayer (I saw) that his forehead and the tip of his nose had (traces) of clay and water, and that was the twenty-first night among the last ten (nights).
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
Sunnan Nisai
967
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: Abu Bakr and Umar, may Allah be pleased with them both, and the one who was better than them prostrated during 'When the heaven is split asunder' and 'Read! In the name of your Lord.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
Sunnan Nisai
2073
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said: When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of hell it is said: 'This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection. '
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ( پیش کیا جائے گا ) ، اور کہا جاتا ہے: یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
Sunnan Nisai
3298
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
Sunnan Nisai
3489
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
Ikrimah said: A man came to the Prophet of Allah and said: 'O Prophet of Allah,' and that he had declared Zihar to his wife, then he had intercourse with her before he did what he had to do. He said: 'What made you do that?' He said: 'O Prophet of Allah! I saw the whiteness of her calves in the moonlight.' The Prophet said: 'Keep away until you have done what you have to do.' (One of the narrators) Ishaq said in his Hadith: Keep away from her until you have done what you have to do. The wording is that of Muhammad.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎۔
Sunnan Nisai
4512
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،‏‏‏‏ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ .
It was narrated from Anas bin Malik that: the Messenger of Allah sold a drinking bowl and a blanket (for a horse of camel) to the highest bidder '
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالا اور ایک کمبل نیلام کیا۔
Sunnan Nisai
5217
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ قِبَلِ كَفِّهِ،‏‏‏‏ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ،‏‏‏‏ وَأَلْقَى النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah [SAW] put on a ring of gold and put its stone toward his palm. Then the people started to wear rings of gold. Then the Messenger of Allah [SAW] threw away his ring and said: 'I will never wear it again,' and the people threw away their rings.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اپنی انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینک دیں ۱؎۔
Sunnan Nisai
5718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَنْصُورًا،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ نُبَاتَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ:‏‏‏‏ أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ .
It was narrated that Suwiad bin Ghafalah said: Umar bin Al-Khattab wrote to some of his workers saying: 'Give to the Muslims thickened grape juice when two thirds of it have gone and one-third is left.'
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل ( گورنر ) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎۔