TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان

Chapter 39 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 39 of 43 · 9 Hadith
۔ (۱۳۰۲۹)۔ عَنْ اَبِیِْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَاِذَا طَلَعَتْ وَرَآھَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَیْہَا فَذٰلِکَ حِیْنٌ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۰۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۳۵، ومسلم بعد حدیث: ۱۵۷(انظر: ۷۱۶۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸) اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔ اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
13029
Sahih
۔ (۱۳۰۳۰)۔ وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ مَادَامَ الْعَدُوُّ یُقَاتَلُ۔)) فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْھِجْرَۃ َخَصْلَتَانِ ، اِحْدَاھُمَا اَنْ تَہْجُرَ السَّیِّئَاتِ وَالْاُخْرٰی اَنْ تُہَاجِرَ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ، وَلَاتَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَۃُ وَلَاتَزَالُ التَّوْبَۃُ مَقْبُوْلَۃً حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَاِذَا طَلَعَتْ، طُبِعَ عَلٰی کُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِیْہِ وَکُفِیَ النَّاسُ الْعَمَلَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۱)
سیدناابن سعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو سکتی۔ اور سیدنامعاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ تم برائیوں کو ترک کر دو۔ اور دوسری یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو، جب تک اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ قبول ہوتی رہے گی، تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا اور تو یہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا، تب ہر دل میں (کفر یا ایمان اور عمل کی صورت میں) جو کچھ ہو گا، اس پر مہر لگا دی جائے گی اور اس وقت لوگوں کو عمل سے بے نیاز کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۰) تخریج: اسنادہ حسن، حدیث ابن السعدی: أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۴۶، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۵/ ۲۷۔ والبیھقی: ۹/ ۱۷۔ وابن حبان: ۴۸۶۶۔ حدیث معاویۃ: أخرجہ ابوداود: ۲۴۷۹۔ حدیث عبد الرحمن بن عوف أخرجہ البزار: ۱۰۵۴(انظر: ۱۶۷۱)
13030
Sahih
۔ (۱۳۰۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۳(انظر: ۹۱۳۰)
13031
Sahih
۔ (۱۳۰۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حِمَارٍ وَعَلَیْہِ بَرْذَعَۃٌ اَوْ قَطِیْفَۃٌ قَالَ: فَذٰلِکَ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِیْ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! ھَلْ تَدْرِیْ اَیْنَ تَغِیْبُ ہٰذِہٖ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَامِئَۃٍ، تَنْطَلِقُ حَتّٰی تَخِرَّ لِرَبِّہَا عَزَّوَجَلَّ سَاجِدَۃً تَحْتَ الْعَرْشِ، فَاِذَا حَانَ خُرُوْجُہَا اَذِنَ اللّٰہُ لَھَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ، فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یُّطْلِعَہَا مِنْ حَیْثُ تَغْرُبُ، حَبَسَہَا، فَتَقُوْلُ: یَارَبِّ اِنَّ مَسِیْرِیْ بَعِیْدٌ فَیَقُوْلُ لَھَا: اُطْلُعِیْ مِنْ حَیْثُ غِبْتِ ، فَذٰلِکَ حِیْنٌ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۹۱)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۴۰۰۲ (انظر: ۲۱۴۵۹)
Explanation
فوائد:… سورج کا دلدل والے چشمے میں غروب ہونا، اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: {اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا} … یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی اچھا سلوک کرے۔ (سورۂ کہف: ۸۶) ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے ۔ الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے ۔ حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی ۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔ سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے ؟ کعب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے ، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸) ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
13032
Sahih
۔ (۱۳۰۳۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا وَتَخْرُجُ الدَّابَّۃُ عَلٰی النَّاسِ ضُحًی فَاَیُّہُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِہٖفَالْاُخْرٰی مِنْہَا قَرِیْبٌ۔)) وَلَااَحْسِبُہُ اِلَّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا، ھِیَ الَّتِیْ اَوَّلًا۔(مسند احمد: ۶۵۳۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے والے اپنے مقام سے طلوع ہوگا اورچاشت کے وقت ایک جانور ظاہر ہوگا، ان میں سے جو علامت بھی پہلے ظاہر ہو گئی تو دوسری اس کے بعد جلد نمایاں ہوجائے گی۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا پہلے ہو گا، یہی پہلی علامت ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۰۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۱ (انظر: ۶۵۳۱)
Explanation
فوائد:… اگلے باب میں چوپائے کا ذکر آ رہا ہے۔
13033
Sahih
۔ (۱۳۰۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلٰی مَرْوَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَسَمِعُوْہُ وَھُوَ یُحَدِّثُ فِی الْآیَاتِ، اِنَّ اَوَّلَھَا خُرُوْجُ الدَّجَّالِ قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّفَرُ اِلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَدَّثُوْہُ بِالَّذِیْ سَمِعُوْہُ مِنْ مَرْوَانَ فِی الآْیَاتِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: لَمْ یَقُلْ مَرْوَانُ شَیْئًا قَدْ حَفِظْتُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ حَدِیْثًا لَمْ اَنْسَہُ بَعْدُ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ الْآیَاتِ خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوْجُ الدَّابَّۃِ ضُحًی، فَاَیَّتُہُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِہَا فَالْاُخْرٰی عَلٰی اَثَرِھَا۔)) ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکَانَ یَقْرَاُ الْکِتٰبَ وَاَظُنُّ اُوْلَاھَا خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَذٰلِکَ اَنَّہَا کَمَا غَرَبَتْ اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ فَاِذَنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ حَتّٰی اِذَا بَدَاَ لِلّٰہِ اَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِھَا فَعَلَتْ کَمَا کَانَتْ تَفْعَلُ، اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَلَمْ یُرَدَّعَلَیْہَا شَیْئٌ، ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فِی الرُّجُوْعِ فَلَا یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فَلاَ یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ حَتّٰی اِذَا ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّذْھَبَ وَعَرَفَتْ اَنَّہُ اِنْ اَذِنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ لَمْ تُدْرِکِ الْمَشْرِقَ، قَالَتْ: رَبِّ مَا اَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِیْ بِالنَّاسِ حَتّٰی اِذَا صَارَ الْاُفُقُ کَاَنَّہُ طُوِّقَ، اِسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَیُقَالُ لَھَا: مِنْ مَکَانِکَ فَاطْلُعِیْ فَطَلَعَتْ عَلٰی النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ثُمَّ تَلَا عَبْدُاللّٰہِ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔}[الأنعام: ۱۵۸] (مسند احمد: ۶۸۸۱)
ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیںپہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)
Takhreej
(۱۳۰۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۱ (انظر: ۶۸۸۱)
13034
Sahih
۔ (۱۳۰۳۵)۔ وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالِ نِ الْمُرَادِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوْحًا لِلتَّوْبَۃِ مَسِیْرَتُہُ سَبْعُوْنَ سَنَۃً، لَایُغْلَقُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۸۲۶۵)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مغرب کی سمت میں توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر مشتمل ایک بڑا دروازہ کھلا ہوا ہے، وہ دروازہ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے تک بند نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۷۰، والترمذی: ۳۵۳۶ (انظر: ۱۸۰۹۳)
13035
Sahih
۔ (۱۳۰۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِیْرَۃُ عَرْضِہٖسَبْعُوْنَعَامًالِلتَّوْبَۃِ، لَایُغْلَقُ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ قِبَلَہُ وَذٰالِکَ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: { یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (الانعام: ۱۵۸) (مسند احمد: ۱۸۲۷۹)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جہت میں توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے، اس کی مسافت ستر سال ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا۔) (الانعام: ۱۵۸)۔
Takhreej
(۱۳۰۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13036
Sahih
۔ (۱۳۰۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: ((فَتَحَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلتَّوْبَۃِیَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یُغْلِقُہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۷۱)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13037
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.