TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1284 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 6 in this chapter
عیدین میں خطبے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِي أَخِي عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا .
It was narrated that Isma’il bin Abu Khalid said: “I saw Abu Kahil, and he was a Companions, and my brother narrated to me that he said: ‘I saw the Prophet (ﷺ) delivering the sermon atop his she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.’”
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎۔
1284
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 5, Hadith 1284 Arabic reference : Book 5, Hadith 1343
Conclusion
تخریج
سنن النسائی/العیدین ۱۶ (۱۵۷۴)،(تحفة الأشراف:۱۲۱۴۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۰۶)
Explanation
شرح و تفصیل
حبشی سے مراد بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔

Related Chapters

49
1
Chapter: It Is Permissible For Women To Go Out To The 'Id Prayer And Attend The Khutbah, Separated From The Men
عیدین میں عورتوں کے عید گاہ کی طرف جانے اور مردو ں سے الگ ہو کر خطبے میں حاضر ہونے کا جواز
Sahih Muslim
2
عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
Sunnan Nisai
3
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: [What Has Been Related About About] The Recitation During The Two Eid
باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: [What Has Been Related] About The Takbir On The Two Eid
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
Mishkat
9
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
10
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
Musnad Ahmad
12
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
Musnad Ahmad
15
نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
16
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
18
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
Musnad Ahmad
19
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
20
(161) CHAPTER. The ablution for boys (youngsters). When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers.
اس بارے میں کہ بچوں کے لیے وضو اور ان پر غسل اور وضو اور جماعت ، عیدین ، جنازوں میں ان کی حاضری اور ان کی صفوں میں شرکت کب ضروری ہو گی اور کیونکر ہو گی ۔
Sahih Bukhari
21
(17) CHAPTER. The Imam faces the people while delivering the Khutba (religious talk) of Eid.
امام عید کے خطبے میں لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو
Sahih Bukhari
22
Chapter: The two khutbah before the prayer, and sitting briefly in between them
جمعے کی نماز سے پہلے کیے دو خطبے اور ان کے درمیان بیٹھنا
Sahih Muslim
23
Chapter: The hadith about teaching during the khutbah
خطبے کے دوران میں (امام کی طرف سے )سکھانے کے لیے بات کرنا
Sahih Muslim
24
Chapter: What Is To Be Recited In The 'Id Prayer?
عیدین کی نماز میں کیا پڑھا جائے ؟
Sahih Muslim
25
CHAPTER: The ’Eid Prayers.
باب: عیدین کی نماز کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: The Takbir During The Two ’Eid.
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding Fasting On the Two ’Eid.
باب: عیدین ( عیدالفطر اور عیدالاضحی ) کے دن روزہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
عیدین کی نماز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
29
عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟۔
Sunnan Ibn e Maja
30
نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
32
عیدین میں غسل کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
33
عیدین کی نماز کے وقت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
34
عیدین کی رات میں عبادت کرنے والے کا ثواب
Sunnan Ibn e Maja
35
عیدین اور مسلمانوں کی دعا میں حائضہ عورتوں کی حاضری کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
جمعہ کے دن کتنے خطبے دے ؟
Sunnan Nisai
37
دوسرے خطبے میں قرأت اور ذکر الٰہی کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
عیدین کے لیے زیب و زینت کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
عیدین میں اذان نہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
عیدین کی نماز نیزہ سامنے رکھ کر پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
عیدین کی نماز کی رکعات کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
عیدین میں سورۃ ’’ قٓ ‘‘ اور سورۃ ’’ اقتربت ‘‘ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
عیدین میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
عیدین کا خطبہ نماز کے بعد دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
عیدین کے خطبہ کے لیے زینت کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
عیدین کا خطبہ کیسا ہو ؟
Sunnan Nisai
49
نماز عیدین سے پہلے اور اس کے بعد نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,903
Sunnan Ibn e Maja
113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:‏‏‏‏ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّر ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَيْسٌ:‏‏‏‏ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَيْسٌ:‏‏‏‏ فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
It was narrated that 'Aishah said: When he was ill, the Messenger of Allah said: 'I would like to have some of my Companions with me.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we call Abu Bakr for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Umar for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Uthman for you?' He said: 'Yes.' So 'Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet started to speak to him and 'Uthman's expression changed. Qais said: Abu Sahlah, the freed slave of 'Uthman, narrated to me that on the Day of the House, 'Uthman bin 'Affan said: 'The Messenger of Allah told me what would come to pass and now I am coming to that day.' In his narration of the Hadith, 'Ali (one of the narrators) said (that he said): And I am going to bear it with patience. Qais said: They used to think that that was the Day of the House.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔
Sahih Muslim
1204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
A hadith like this has been transmitted by Isma'il b. Abu Khalid.
ہشیم کے بجائے ) عبداللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
Sahih Muslim
4951
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ ‏ لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ‏ ‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Mughira who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A group of people from my Umma will continue to be triumphant over the people until the Command of Allah overtakes them while they are still triumphant.
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ ( اس حدیث کا بیان کتاب الایمان میں گزرا ) ۔
Sunnan Ibn e Maja
177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏ وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.
It was narrated that Jarir bin 'Abdullah said: We were sitting with the Messenger of Allah. He looked at the moon, which was full, and said, 'Indeed, you will see your Lord as you see this moon. You will not feel the slightest inconvenience and overcrowding in seeing Him. If you have the power not to be overcome and to say this prayer before the sun rises and before it sets, then do that.' Then he recited: And glorify the praises of your Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے ( سورة ق: 39 ) ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ هُوَ أَبُو كَاهِلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ حَسْنَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا .
It was narrated that Qais bin ‘Aidh, who was Abu Kahil, said: “I saw the Prophet (ﷺ) delivering the sermon atop a beautiful she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.”
قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔
Sunnan Ibn e Maja
2512
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَاعَ الْمُدَبَّرِ .
It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah (ﷺ) sold a Mudabbar.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ .
It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever meets Allah (SWT) not associating anything in worship with him, and not having shed any blood unlawfully, will enter Paradise.”
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔
Sunnan Ibn e Maja
4073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ،‏‏‏‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:‏‏‏‏ أَشَدَّ سُؤَالًا مِنِّي،‏‏‏‏ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ مَا تَسْأَلُ عَنْهُ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ .
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah said: No one asked the Prophet (ﷺ) about Dajjal more than I did. (One of the narrators) Ibn Numair said (in his version): (No one asked) more difficult questions than I did. - He said to me: 'What are you asking about him?' I said: 'They say he will have food and drink with him.' He said: 'He is too insignificant before Allah for that.'
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، ( ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
2551
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Jarir bin 'Abdullah Al-Bajali narrated: We were seated with the Prophet (s.a.w) when he looked towards the moon on the night of a full moon and said: Indeed you shall be placed before your Lord and you shall see Him as you see this moon. You will see Him without trouble. So if you are able to keep from becoming overwhelmed from prayer before the rising of the sun and before its setting, then do so. Then he recited: And glorify the praises of your Lord before the setting.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں ہو گی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد کی نماز ( فجر اور مغرب ) میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «سبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔