TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان

Chapter 8 of عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 12 · 9 Hadith
۔ (۲۸۶۱) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلٰی بِلَالٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَھُمْ وَحَثَّہُمْ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ مَضٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَأَمَرَ ھُنَّ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَوَعَظَہُنَّ وَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَحَثَّہُنَّ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَاِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ۔)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سَفِلَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ۔)) فَجَعَلْنَ یَنْزِعْنَ حُلِیَّہُنَّ وَقَلَائِدَھُنَّ وَقِرَطَتَہُنَّ وَخَوَاتِیْمَہُنَّ یَقْذِفْنَ بِہِ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ یَتَصَدَّقْنَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں عید کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نمازسے آغاز کیا، تکمیلِ نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو اپنی اطاعت کرنے پر رغبت دلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا اور مزید وعظ و نصیحت کی، وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی اطاعت پر آمادہ کیا اور پھر فرمایا: صدقہ کیا کرو،پس بے شک تم میں سے اکثر خواتین جہنم کا ایندھن ہیں۔ نچلے درجے کی عورتوں میں سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ بہت کرتی ہو، اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ اس کے بعد عورتیں شروع ہوئیں اور صدقہ کرنے کے لیے اپنے زیورات، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں پھینکنے لگیں۔
Takhreej
(۲۸۶۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۵۸، ۹۶۱ و مسلم: ۸۸۵ (انظر: ۱۴۱۶۳، ۱۴۴۲۰)
2861
Sahih
۔ (۲۸۶۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! وَلَوْ مِنْ حُلیِّکُنَّ فَاِنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَھْلِ النَّارِ۔)) فَقَامَتِ أَمْرَأَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَائِ فَقَالَتْ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الْلَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۹)
سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہو، کیونکہ تم میں سے اکثر آگ والیاں ہیں۔ ایک عورت، جو اشراف عورتوں میں سے نہیں تھی، کھڑی ہوئی اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن (اور گالی گلوچ) بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔
Takhreej
(۲۸۶۲) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الحمیدی: ۹۲، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۹۲۵۷، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۱۱۰، والحاکم: ۲/ ۱۹۰، والطیالسی: ۳۸۴ (انظر: ۳۵۶۹، ۴۱۵۱)
2862
Sahih
۔ (۲۸۶۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ یَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّھُمْ کَانَ یُصَلِّیْھَا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنِّی أَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ یُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ یَشُقُّہُمْ حَتّٰی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} فَتَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ فَرَغَ مِنْہَا: ((أَنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِکَ؟)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَمْ یُجِبْہُ غَیْرُھَا مِنْہُنَّ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَایَدْرِی حَسَنٌ مَنْ ھِیَ، قَالَ: ((فَتَصَدَّقْنَ۔)) قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَہُ ثُمَّ قَالَ: ھَلُمَّ لَکُنَّ فِدَاکُنَّ أَبِی وَأُمِّی، فَجَعَلْنَ یُلْقِیْنَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: اَلْخَوَاتِیْمَ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَہُ فِی ثَوْبٍ حَتّٰی أَمْضَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الفطر کے دن نماز میں حاضر ہوا ہوں، یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (خطبۂ عید سے فارغ ہو کر) نیچے اترے اور گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس پہنچ گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} (اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی …) پوری آیت کی تلاوت کی، جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم اسی (بیعت) پر پابند ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی، کوئی اور عورت نہیں بولی، حسن راوی نہیں جانتا کہ وہ کون تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ پس سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کپڑا بچھایا اور کہا: لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، سو وہ بڑی انگوٹھیاں اور چھوٹی انگوٹھیاں سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، انھوں نے سب کچھ کپڑے میں اکٹھا کر لیا، پھر وہ چلے گئے۔
Takhreej
(۲۸۶۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۷۹، ومسلم: ۸۸۴ (انظر: ۳۰۶۳)
2863
Sahih
۔ (۲۸۶۴) عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ یَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتٰی النِّسَائَ فَذَکَّرَھُنَّ وَھُوَ یَتَوَکَّأُ عَلٰی یَدِ بِلَالِ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَہُ یُلْقِیْنَ فِیْہِ النِّسَائُ صَدَقَۃً، قَالَ: تُلْقِی الْمَرْأَۃُ فَتَخَہَا وَیُلْقِیْنَ قَالَ ابْنُ بَکْرٍ فَتَخَتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۱۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، جب اس سے فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آکر ان کو وعظ و نصیحت کی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور وہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اس میں اپنا صدقہ ڈال رہی تھیں، اور بڑی بڑی انگوٹھیاں اور دوسرے زیورات صدقہ کر رہی تھیں۔
Takhreej
(۲۸۶۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۵۸، ۹۶۱، ۹۷۸، ومسلم: ۸۸۵(انظر: ۱۴۱۶۳)
2864
Sahih
۔ (۲۸۶۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی الْفِطْرِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَالْأَضْحٰی‘‘ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَھُمْ جُلُوْسٌ فَیَقُوْلُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَکَانَ أَکْثَرَ مَا یَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئِ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْبَعْثِ ذَکَرَہُ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ انْصَرَفَ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَاِنْ کَانَ یُرِیْدُ أَنْ یَضْرِبَ عَلَی النَّاسِ بَعْثًا ذَکَرَہُ وَاِلَّا انْصَرَفَ ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۳۵)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔
Takhreej
(۲۸۶۵) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا مسلم: ۸۸۹، والنسائی: ۳/ ۱۸۷، وابن ماجہ: ۱۲۸۸ (انظر: ۱۱۳۱۵)
2865
Sahih
۔ (۲۸۶۶) عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِی یَوْمِ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُنْ یُخْرَجُ بِہِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُبْدَأُ بِہَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَامَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّۃَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ یَوْمَ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُ یُخْرَجُ بِہِ فِی یَوْمِ عِیْدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُ یُبْدَأُ بِہَا۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ: أَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا، فَاِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَلْیَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّۃً فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِیَدِہِ فَبِلِسَانِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِلِسَانِہِ فَبِقَلْبِہِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۸۹)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
Takhreej
(۲۸۶۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۹ (انظر: ۱۱۰۷۳/أ)
2866
Sahih
۔ (۲۸۶۷) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمُصَلّٰی یَوْمَ أَضْحٰی فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ نُسُکِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا الصَّلَاۃُ۔)) قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْہِہِ وَأُعْطِیَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّکَأَ عَلَیْہِ، فَحَمِدَ للّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَأَمَرَھُمْ وَنَہَاھُمْ وَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَاِنَّمَا ھِیَ جَزْرَۃٌ أَطْعَمَہُ أَھْلَہُ، اِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاۃِ۔)) فَقَامَ اِلَیْہِ خَالِی أَبُو بُرْدَۃَ بْنُ نِیَارٍ فَقَالَ: أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِیُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نجْتمِعُ عَلَیْہِ اِذَا رَجَعْنَا، وَعِنْدِی جَذَعَۃٌ مِنْ مَعْزٍ ھِیَ أَوْفٰی مِنَ الَّذِی ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِی عَنِّی یَارَسُوْلَ اللّٰہَ ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: {یَا بِلَالُ!} قَالَ: فَمَشٰی وَاتَّبَعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَی النِّسَائَ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ النِّسْوَانِ! تَصَدَّقْنَ، اَلصَّدَقَۃُ خَیْرٌ لَکُنَّ۔)) قَالَ: فَمَا رَأَیْتُ یَوْمًا قَطُّ أَکْثَرَ خَدَمۃً مَقْطُوْعَۃً وَقِلَادَۃً وَقُرْطًا مِنْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۸۲)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم عید الاضحی والے دن عید گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، لوگوں کو سلام کہا اورفرمایا: تمہار ے اس دن کی پہلی عبادت نماز ہے ۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے، دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کمان یا لاٹھی دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ٹیک لگائی اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنابیان کرنے کے بعد لوگوں کو بعض امور کا حکم دیا اور بعض سے منع کیا اور پھر فرمایا: تم میں سے جس شخص نے جلدی کی اور قربانی (نماز سے پہلے) ذبح کر دی تو وہ تو محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو کھلایا ہے، قربانی نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں سیّدنا ابوبریدہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی بکری کی قربانی جلدی کر بیٹھا ہوں، میرا مقصد تو یہ تھا کہ اتنے میں کھانا تیار ہو جائے گا اور ہم واپس آ کر اکٹھا کھانا کھائیں گے، اب میرے پاس بکر ی کا ایک سال کا (کھیرا) بچہ ہے، لیکن یہ میرے ذبح کیے ہوئے جانور سے موٹا ہے، کیا وہ مجھے کفایت کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں،لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا ۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! پس سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چل پڑے اور رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے پیچھے ہو لیے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ گئے اور (ان کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، صدقہ کرنا تمہار ے لیے بہتر ہے۔ (پھر عورتوں نے اتنا صدقہ کیا کہ) میں نے اس دن کی بہ نسبت کبھی بھی اتنے پازیب، ہار اور بالیاں نہیں دیکھی تھیں۔
Takhreej
(۲۸۶۷) تخریـج: …حدیث صحیح بطرقہ و شواھدہ أخرجہ مختصرا أبوداود: ۱۱۴۵بلفظ: ان النبیV نول یوم العید قوسا فخطب علیہ۔ (انظر: ۱۸۴۹۰)
2867
Sahih
۔ (۲۸۶۸) عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُصَلِّیَانِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰی ثُمَّ یَنْصَرِفَانِ یُذَکِّرانِ النَّاسَ، قَالَ: وَسَمِعْتُھُمَا یَقُوْلَانِ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ صِیَامِ ھٰذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبْقٰی مِنْ نُسُکِکُمْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ بَعْدَ ثَـلَاثٍ۔ (مسند احمد: ۴۳۵)
مولائے عبدالرحمن بن ازہر ابو عبید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ پہلے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں پڑھاتے، ان سے فارغ ہو کرلوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایاہے۔ خود میں نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا گوشت تین دنوں سے زیادہ باقی رہے۔
Takhreej
(۲۸۶۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۷۸۸، والبزار: ۴۰۷، والطحاوی: ۲/ ۲۴۷(انظر: ۴۲۷، ۴۳۵)وأما حدیث علی: نھی رسول اللہV… فأخرجہ البخاری: ۵۵۷۳، ومسلم: ۱۹۶۹ (انظر: ۵۸۷)
2868
Sahih
۔ (۲۸۶۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ شَہِدْتُّہُ مَعَ عَلِیٍّ فَصَلّٰی قَبْلَ أَنْ یَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی أَنْ تَأْکُلُوا نُسُکَکُمْ بَعْدَ ثَـلَاثِ لَیَالٍ فَـلَا تَأْکُلُوْھَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۳)
(دوسری سند) ابو عبید کہتے ہیں: پھر میں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، انھوں نے اذان و اقامت کے بغیرخطبہ سے پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور کہا: لوگو! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم قربانی کا گوشت تین دنوں کے بعد کھاؤ، لہٰذا اس مقدار کے بعد نہ کھایا کرو۔
Takhreej
(۲۸۶۹)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2869
Sahih

Chapters

12
01
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
5 Hadith
02
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
5 Hadith
03
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
6 Hadith
04
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
9 Hadith
05
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
1 Hadith
06
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
5 Hadith
07
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
4 Hadith
08
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
9 Hadith
09
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
1 Hadith
10
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
3 Hadith
11
عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
6 Hadith
12
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.