امام بیہقی نے اسے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان : لم اجدہ و لعلہ یشیر الی حدیث :’’ من قطع میراثًا فرضہ اللہ و رسولہ قطع اللہ میراثًا من الجنۃ ‘‘ رواہ البیھقی فی شعب الایمان (نسخۃ محققۃ : ۷۵۹۴) و سندہ ضعیف فیہ سلم بن سلیمان شیخ بالبصرۃ و لم اجد من وثقہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص جماع اور نکاح کے اخراجات کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کرے ، کیونکہ وہ نگاہوں کو نیچا رکھنے اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر ہے ، اور جو شخص (عقدِ نکاح کی) استطاعت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے ، کیونکہ یہ اس کی شہوت کم کرنے کا باعث ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۶۶) و مسلم (۱ / ۱۴۰۰) ۔ 3398
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کی ترکِ نکاح کی سوچ کو رد فرمایا ، اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۷۳) و مسلم (۶ / ۱۴۰۲) ۔ 3404
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت سے چار چیزوں ، اس کے مال ، اس کے حسب و نسب ، اس کے حسن و جمال اور اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دین دار کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۹۰) و مسلم (۵۳ / ۱۴۶۶) ۔ 3635
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اونٹوں پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں سے ، قریش کی صالحہ خواتین بہتر ہیں ۔ وہ اپنے چھوٹے بچوں پر نہایت شفیق اور شوہر کے مال کی انتہائی محافظ ہوتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۸۲) و مسلم (۲۰۲ / ۲۵۲۷) ۔ 6460
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا شیریں اور سرسبز و شاداب ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے ، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، تم دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچو ، کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے رونما ہوا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت ، گھر اور گھوڑے میں نحوست (یعنی بے برکتی) ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ تین چیزوں میں نحوست ہے عورت ، گھر اور جانور ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۹۳) و مسلم (۱۱۵ / ۲۲۲۵) ۔ 5804
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ، جب ہم واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے شادی کر لی ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کنواری سے یا بیوہ سے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ! بیوہ سے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی ، تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔‘‘ جب ہم (مدینہ کے) قریب پہنچ گئے اور اس میں داخل ہونے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھہر جاؤ حتی کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ منتشر بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب رہا ہو وہ زیر ناف بال صاف کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۴۷) و مسلم (۵۷ / ۱۴۶۶) ۔ 3641
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں ، مکاتب جو کہ ادائیگی چاہتا ہو ، عفت و پاک دامنی کی خاطر نکاح کرنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی اللہ ضرور مدد کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۶۵۵ وقال : حسن) و النسائی (۶ / ۶۱ ح ۳۲۲۰) و ابن ماجہ (۲۵۱۸) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام نکاح آئے جس کا دین اور اخلاق و عادات تمہیں پسند ہوں تو اسے بچی کا رشتہ دے دو ، اگر ایسا نہ کرو گے تو پھر زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۸۴) * محمد بن عجلان مدلس و عنعن و عبد الحمید بن سلیمان ضعیف ولہ شاھد عند الترمذی (۱۰۸۶) و سندہ ضعیف ۔
معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی عورتوں سے شادی کرو ، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۰۵۰) و النسائی (۶ / ۶۶ ح ۳۲۲۹) ۔
عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ انصاری اپنے والد (سالم) سے وہ اس کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کنواری لڑکیوں سے شادی کرو ، کیونکہ وہ شیریں گفتار ، زیادہ بچوں کو جننے والی اور بہت کم چیز پر راضی ہو جانے والی ہیں ۔‘‘ ابن ماجہ ، روایت مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۸۶۱) * الحدیث مرسل مع جھالۃ عبد الرحمن ھذا ولہ شواھد ضعیفۃ ، انظر التلخیص الحبیر (۳ / ۱۴۵ ، ان شئت الوقوف علی تلک الشواھد) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے نکاح (یعنی خاوند و بیوی) کی مثل دو باہم محبت کرنے والے نہیں دیکھے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص پاکیزہ حالت میں اللہ سے ملاقات کرنے کا خواہش مند ہو تو اسے آزاد عورتوں سے شادی کرنی چاہیے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۸۶۲) * سلام بن سوار : ضعیف ، و کثیر بن سلیم : ضعیف جدًا ، وقال ابن حبان :’’ یروی عن انس مالیس منہ حدیثہ و یضع علیہ ‘‘ و اوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات (۲ / ۲۶۱) فالسند ضعیف جدًا ولہ شاھد عند البخاری فی التاریخ الکبیر (۸ / ۴۰۴) بدون سند و اللہ اعلم بحالہ ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن نے اللہ کے تقوی کے بعد اپنے لیے جس خیر سے استفادہ کیا ، وہ صالحہ بیوی ہے ، اگر اس (مومن) نے اسے حکم دیا تو اس (بیوی) نے اس کی اطاعت کی ، اگر اس نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے خوش کر دیا ، اگر اس نے اسے قسم دے دی تو اس نے اسے پورا کیا اور اگر وہ اس کے پاس سے چلا گیا تو اس نے اپنی جان اور اس کے مال میں اس سے خیر خواہی کی ۔‘‘ تینوں احادیث ابن ماجہ نے روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ (۱۸۵۷) * علی بن یزید : ضعیف جدًا متروک ، و عثمان بن ابی العاتکۃ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ شادی کر لیتا ہے تو وہ نصف دین مکمل کر لیتا ہے ، اسے نصف باقی میں اللہ سے ڈرنا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۴۸۶ ، نسخۃ محققۃ : ۵۱۰۰) * فیہ خلیل بن مرۃ : ضعیف منکر الحدیث ، عن یزید الرقاشی : ضعیف ، عن انس رضی اللہ عنہ و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے ، جس میں اخراجات کم ہوں ۔‘‘ امام بیہقی ؒ نے دونوں احادیث کو شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۶۵۶۶ ، و السنن الکبری ۷ / ۲۳۵) [و احمد (۶ / ۸۲ ، ۱۴۵) و صححہ الحاکم علی شرط مسلم (۲ / ۱۷۸) و وافقہ الذھبی ، فیہ ابن سخبرۃ اختلفوا فی تعینہ فالسند ضعیف و یغنی عنہ حدیث احمد (۶ / ۷۷) و ابن حبان (الموارد : ۱۲۵۶) و الحاکم (۲ / ۱۸۱) و غیرھم بلفظ :’’ ان من یمن المراۃ تیسیر خطبتھا و تیسیر صداقھا و تیسیر رحمھا ‘‘ و سندہ حسن ۔