TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 196 - Chapter: Clarifying that the religion is sincerity - The book of faith - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
Chapter: Clarifying that the religion is sincerity
دین خیر خواہی ( اور خلوص) کا نام ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ: إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ: وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»
It is narrated on the authority of Tamim ad-Dari that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: Al-Din is a name of sincerity and well wishing. Upon this we said: For whom? He replied: For Allah, His Book, His Messenger and for the leaders and the general Muslims.
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ( سفیان نے کہا : ) مجھے امید تھی کہ وہ ( مجھے خود روایت سنا کر ) ایک راوی کم کر دے گا ( چنانچہ سہیل نےکہا ) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد سے سنی ، وہ شام میں ان کا دوست تھا ۔ ( محمد بن عباد نے کہا ) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت سنائی کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘ ‘ ہم ( صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانون کی ( خیرخواہی ۔ ) ‘ ‘
196
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

998
1
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
CHAPTER: Regarding sincere counsel and protection.
باب: خلوص و خیر خواہی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
6
Chapter: (What Has Been Related) About An-Nasihah
باب: خیر خواہی اور بھلائی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The One Who Is Patient Upon His Religion During Fitan Is like One Holding An Ember
باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا
Jam e Tirmazi
8
Chapter: When Allah Wants Good For A Slave, He Gives Him Understanding In The Religion
باب: جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے​
Jam e Tirmazi
9
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
10
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
Musnad Ahmad
12
معلومیا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
14
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
15
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
18
(12) CHAPTER. To flee (run away) from Al-Fitn (afflictions and trials), is a part of religion.
فتنوں سے دور بھاگنا ( بھی ) دین ( ہی ) میں شامل ہے
Sahih Bukhari
19
(29) CHAPTER. Religion is very easy.
اس بیان میں کہ دین آسان ہے
Sahih Bukhari
20
(32) CHAPTER. Ad-Din (good, righteous deed - act of worship) loved most by Allah is that which is done regularly. (And in fact the best religion with Allah is Islam).
اللہ کو دین ( کا ) وہ ( عمل ) سب سے زیادہ پسند ہے جس کو پابندی سے کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
21
(39) CHAPTER. The superiority of that person who leaves all doubtful (unclear) things for the sake of his religion.
اس شخص کی فضیلت کے بیان میں جو اپنا دین قائم رکھنے کے لیے گناہ سے بچ گیا
Sahih Bukhari
22
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
23
(31) CHAPTER. A man teaching (religion to) his woman-slave and his family.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا ( ضروری ہے )
Sahih Bukhari
24
(16) CHAPTER. To give objects of charity with the right hand.
خیرات داہنے ہاتھ سے دینی بہتر ہے
Sahih Bukhari
25
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
26
(64) CHAPTER. The invoking and supplicating Allah of the Imam for the one who gives in charity.
امام ( حاکم ) کی طرف سے زکوٰۃ دینے والے کے حق میں دعائے خیر و برکت کرنا
Sahih Bukhari
27
(3) CHAPTER. Al-Madina is also called Taba.
مدینہ کا ایک نام طابہ بھی ہے
Sahih Bukhari
28
(16) CHAPTER. (The reward of) a slave who worships his Lord (Allah) and he is also honest and faithful to his master.
جب غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کی خیرخواہی بھی تو اس کے ثواب کا بیان
Sahih Bukhari
29
(140) CHAPTER. If a man has enlisted himself in the army and then his wife goes out for Hajj, or he has a genuine excuse, can he be given a leave?
ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے
Sahih Bukhari
30
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
Sahih Bukhari
31
(2) CHAPTER. The payment of Khumus is a part of religion.
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا دین ایمان میں داخل ہے
Sahih Bukhari
32
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “O people of the Scriptures (Jews and Christians)! Do not exceed the limits in your religion... (up to )... as a Disposer of affairs. (V.4:171)
اللہ پاک کا سورۃ النساء میں فرمانا اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو ( سختی اور تشدد ) نہ کرو ۔
Sahih Bukhari
33
(2) CHAPTER. Alalh's Statement: “This day, I have perfected your religion for you...” (V.5:3)
آیت ( ( الیوم اکملت لکم دینکم ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
34
(8) CHAPTER. What is disliked of not marrying and of getting castrated.
مجرد رہنا اور اپنے کو نامرد بنا دینا منع ہے ۔
Sahih Bukhari
35
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
Sahih Bukhari
36
(37) CHAPTER. If a camel of some people runs away and one of them shoots it with an arrow and kills it for their own good, then it is permissibl. Rafi narrates this on the authority of the Prophet .
جب کسی قوم کا کوئی اونٹ بدک جائے اور ان میں سے کوئی شخص خیرخواہی کی نیت سے اسے تیر سے نشانہ لگا کر مار ڈالے تو جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. Killing Al-Khawarij (some people who dissented from the religion and disagreed with the rest of Muslims), and Al-Mullhidun (heretical) after the establishment of firm proof against them.
خارجیوں اور بے دینوں سے ان پر دلیل قائم کر کے لڑنا
Sahih Bukhari
38
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
Sahih Bukhari
39
(7) CHAPTER. What is said against judging (in religion) made on the basis of one's own opinion or by Qiyas (without referring to the Quran or Sunna).
دین کے مسائل میں رائے پر عمل کرنے کی مذمت ‘ اسی طرح بے ضرورت قیاس کرنے کی برائی
Sahih Bukhari
40
Chapter: Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے
Sahih Muslim
41
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
Sahih Muslim
42
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
43
Chapter: The Congregation Appointing Someone To Lead Them If The Imam Is Delayed And If There Is No Fear Of Negative Repercussions
جب امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور کسی دوسرے کو آگے کرنے میں فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی کو جماعت کے لیے آگے کر دینا (جائز ہے)
Sahih Muslim
44
Chapter: Al-Madinah eliminates its Dross and it is also called Tabah, and Taibah
مدینہ اپنے میل کچیل (شریر لوگوں)کو نکال دیتا ہے اور اس کا نام طابہ (پاک کرنے والا )اور طیبہ (پاکیزہ )ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The reward of a slave who is sincere towards his master and worships Allah properly
غلام جب اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اچھےے طریقے سے اللہ کی بندگی کرے تو اس کا اجرو ثواب
Sahih Muslim
46
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
Sahih Muslim
47
Chapter: It is recommended to cover vessels, tie up waterskins, close doors and mention the name of Allah over them, extinguish lamps and fires when going to sleep, and keep children and animals in after maghrib
مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
48
CHAPTER: On Giving A Person Who Begs In The Name Of Allah.
باب: جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسے دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding sincere counsel.
باب: نصیحت و خیر خواہی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Changing names.
باب: نام بدل دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

536
Sunnan Nisai
4202
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَعْقَاعِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي حَدَّثَ أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكِتَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ وَعَامَّتِهِمْ .
It was narrated that Tamim Ad-Dari said: The Messenger of Allah said: 'Religion is sincerity (An-Nasihah).' They said: 'To whom, O Messenger of Allah?' he said: 'To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims, and to their common folk. '
تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین نصیحت خیر خواہی کا نام ہے“، آپ نے کہا: ( نصیحت و خیر خواہی ) کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عوام کے لیے“ ۱؎۔
Mishkat
4966
وَعَن تَمِيم الدَّارِيّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ثَلَاثًا. قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
تمیم داری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا :’’ دین ، اخلاص و خیر خواہی (کا نام) ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، کس کے لیے ؟ فرمایا :’’ اللہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے ، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Sunnan Nisai
4203
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكِتَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ وَعَامَّتِهِمْ .
It was narrated that Tamim Ad-Dari said: The Messenger of Allah said: 'Religion is sincerity (An-Nasihah).' They said: 'To whom, O Messenger of Allah? He said: 'To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk '
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے“ لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب ( قرآن ) کے لیے، اس کے رسول ( محمد ) کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عوام کے لیے“۔
Sunnan Nisai
4204
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكِتَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ وَعَامَّتِهِمْ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Religion is sincerity, religion is sincerity (Al-Nasihah), religion is sincerity. They said; To whom, O Messenger of Allah? He said: To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”بلاشبہ دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے“، لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب ( قرآن ) کے لیے، اس کے رسول ( محمد ) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عوام کے لیے“۔
Sunnan Nisai
4205
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ سُمَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكِتَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ وَعَامَّتِهِمْ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Religion is sincerity (An-Nasihah). The said: To whom, O Messenger of Allah? he said: To Allah, to His Book, to His Messenger, to the imams of the Muslims and to their common folk.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب ( قرآن ) کے لیے، اس کے رسول ( محمد ) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عوام کے لیے“۔
Jam e Tirmazi
1926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لِمَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكِتَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَامَّتِهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَجَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَثَوْبَانَ.
Abu Hurairah narrated that: the Messenger of Allah said: The religion is An-Nasihah three times. They said: O Messenger of Allah! For Whom? He said : To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
4859
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَضَمَّنَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانًا بِي، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ مِسْكٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ»،
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace upon him) said: Allah has undertaken to look after the affairs of one who goes out to fight in His way believing in Him and affirming the truth of His Apostles. He is committed to His care that Re will either admit him to Paradise or bring him back to his home from where he set out with a reward or (his share of) booty. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad. If a person gets wounded in the way of Allah, he will come on the Day of Judgment with his wound in the same condition as it was when it was first inflicted; its colour being the colour of blood but its smell will be the smell of musk. By, the Being in Whose Hand is Muhammad's life, if it were not to be too hard upon the Muslime. I would not lag behind any expedition which is going to fight in the cause of Allah. But I do not have abundant means to provide them (the Mujahids) with riding beasts, nor have they (i. e. all of them) abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) so that they could he left behind. By the Being in Whose Hand is Muhammad's life, I love to fight in the way of Allah and be killed, to fight and again be killed and to fight again and be killed.
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے خود ( ایسے شخص کی ) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا ، میرے راستے میں جہاد ، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا ، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ ( میری خاطر ) نکلا تھا ، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ( تو زخم کھانے والا ) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا ، اس ( زخم ) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے ( گھر میں ) نہ بیٹھتا ، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان ( سب ) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ اس ذات کی قسم کس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں ۔ "
Sunnan Abu Dawood
4944
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ .
Tamim al-Dari reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying; Religion conduct; religion consists in sincere conduct. The people asked; to whom should it be directed, Messenger of Allah? He replied: To Allah, his book, his Messenger, the leaders (public authorities) of the believers and all the believers, and the leaders (public authorities) of Muslim and the Muslims and the Muslims in general.
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً، دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن کے لیے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے ۱؎ ۔
Sunnan Abu Dawood
4945
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ .
Narrated Jarir: I swore allegiance to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم promising to hear and obey, and behave sincerely towards every Muslim. Abu Zurah said: Whenever he sold and bought anything, he would say: What we took from you is dearer to us than what we gave you. So choose (as you like).
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت پر بیعت کی، اور یہ کہ میں ہر مسلمان کا خیرخواہ ہوں گا، راوی کہتے ہیں: وہ ( یعنی جریر ) جب کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرما دیتے: ہم جو چیز تم سے لے رہے ہیں، وہ ہمیں زیادہ محبوب و پسند ہے اس چیز کے مقابلے میں جو ہم تمہیں دے رہے ہیں، اب تم چاہو بیچو یا نہ بیچو، خریدو یا نہ خریدو۔