TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان - نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of نمازوں کے اوقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 23 · 15 Hadith
۔ (۱۱۵۳)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَزَالُ أُمَّتِیْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوْعِ النُّجُوْمِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۰۸)
سیدنا سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت پر رہی گی، جب تک نمازِ مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔
Takhreej
(۱۱۵۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ البیھقی: ۱/ ۴۴۸، والطبرانی فی الکبیر : ۶۶۷۱ (انظر: ۱۵۷۱۷)
1153
Sahih
۔ (۱۱۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الصُّنَابِحِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَنْ تَزَالَ أُمَّتِیْ فِیْ مُسْکَۃٍ مَا لَمْ یَعْمَلُوْا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ بِاِنْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاہَاۃَ الْیَہُوْدِ، وَمَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْفَجْرَ اِمْحَاقَ النُّجُوْمِ مُضَاہَاۃَ النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَا لَمْ یَکِلُوْا الْجَنَائِزَ اِلَی أَہْلِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۷)
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔
Takhreej
(۱۱۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحارث بن وھب مجھول الحال۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۲۶۳، وعبد الرزاق: ۶۵۳۰، والحاکم: ۱/ ۳۷۰(انظر: ۱۹۰۶۷)
1154
Zaeef
۔ (۱۱۵۵)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ الْمِصْرِیِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْیَزَنِیِّ، وَیَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْیَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا أَ بُوْ أَ یُّوْبَ خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیُّؓ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْرَ غَازِیًا وَکَانَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُہَنِیُّ أَمَّرَہُ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سَفْیَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلّٰی قَامَ اِلَیْہِ أَبُوْأَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیُّ فَقَالَ لَہُ: یَا عُقْبَۃُ! أَہٰکَذَا رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ أَوْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ حَتّٰی تَشْتَبِکَ النُّجُوْمُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا بِیْ اِلَّا أَنْ یَظُنَّ النَّاسُ أَنَّکَ رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۶۲)
مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۱۱۵۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۸(انظر: ۱۷۳۲۹)
1155
Sahih
۔ (۱۱۵۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ الْمُزَنِیِّ (یَعْنِیْ ابْنَ مُغَفَّلٍ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَغْلِبَنَّکُمُ الْأَعْرَابُ عَلَی اِسْمِ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ۔)) قَالَ: وَتَقُوْلُ الْأَعْرَابُ: ہِیَ الْعِشَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۲۷)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر گز ایسا نہ ہو کہ کہ بدّو لوگ نمازِ مغرب کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب آ جائیں۔ بدّو اِس نماز کو عشاء کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۳(انظر: ۲۰۵۵۳)
1156
Sahih
۔ (۱۱۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتَأْخِیْرِ الْعِشَائِ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَائَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۰۶)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا اور عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک لیٹ کرنے کا حکم دے دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں عشا کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
Takhreej
(۱۱۶۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۷، ۶۹۱، والترمذی:۲۲(انظر: ۷۴۱۲)
1166
Sahih
۔ (۱۱۶۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: مَسّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصَلَاۃِ الْعِشَائِ حَتّٰی صَلَّی الْمُصَلِّیْ وَاسْتَیْقَظَ الْمُسْتَیْقِظُ وَنَامَ النَّائِمُوْنَ وَتَہَجَّدَ الْمُتَہَجِّدُوْنَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ أَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْا ھٰذَا الْوَقْتَ أَوْ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ۔)) أَوْ نَحْوَ ذَا۔ (مسند أحمد: ۴۸۲۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِعشاء کو اتنا مؤخر کر دیا کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجدگزاروں نے تہجد پڑھ لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اس وقت میں یہ نماز پڑھنے کا حکم دے دیتا۔
Takhreej
(۱۱۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی اسرائیل۔ وأصل الحدیث الصحیح، وھو قولہ: لو لا ان اشق علی امتی … أخرجہ مسلم: ۶۳۹ (انظر: ۴۸۲۶)
1167
Zaeef
۔ (۱۱۶۸)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شُغِلَ عَنْہَا لَیْلَۃً فَأَخَّرَہَا حَتّٰی رَقَدْنَا فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا فخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ الْاََرْضِ یَنْتَظِرُ الصَّلٰوۃَ غَیْرَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۱۱)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک رات نمازِ عشاء سے مشغول ہو گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے، پھر ہم جاگے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے، جو اس نماز کاانتظار کر رہا ہو۔
Takhreej
(۱۱۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۳۹(انظر: ۵۶۱۱)
1168
Sahih
۔ (۱۱۶۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِنَا الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَلَا یُطِیْلُ فِیْھَا وَلَا یُخَفِّفُ وَسَطًا مِنْ ذٰلِکَ وَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَتَمَۃَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلْعِشَائَ الْآخِرَۃَ)۔ (مسند أحمد: ۲۱۳۱۴)
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں فرضی نماز پڑھاتے تھے اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اتنا زیادہ لمبا کرتے تھے اور نہ مختصر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عَتَمَۃ یعنی نماز عشا کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۶۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۴۳(انظر: ۲۱۰۰۲)
1169
Sahih
۔ (۱۱۷۰)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَظَرْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً بِصَلَاۃِ الْعِشَائِ حَتّٰی ذَہَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، قَالَ: فَجَائَ فَصَلّٰی بِنَا ثُمَّ قَالَ: ((خُذُوْا مَقَاعِدَکُمْ فَاِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوْا مَضَاجِعَہُمْ وَاِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مُنْذُ اِنْتَظَرْتُمُوْہَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِیْفِ وَسُقْمُ السَّقِیْمِ وَحَاجَۃُ ذِی الْحَاجَۃِ لَأَخَّرْتُ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ اِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۲۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
Takhreej
(۱۱۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۲، والنسائی: ۱/ ۲۶۸، وابن ماجہ: ۶۹۳ (انظر: ۱۱۰۱۵)
1170
Sahih
۔ (۱۱۷۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ وَ أَبُوْدَاوُدَ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ أَبُوْدَاوُدَ: ثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ (ؓ) قَالَ: أَخَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ تِسْعَ لَیَالٍ، قَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: ثَمَانِ لَیَالٍ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ أَنَّکَ عَجَّلْتَ لَکَانَ أَمْثَلَ لِقِیَامِنَا مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَعَجَّلَ بَعْدَ ذٰلِکَ، قَالَ أَبِیْ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ فَقَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ: سَبْعَ لَیَالٍ وَقَالَ عَفَّانُ: تِسْعَ لَیَالٍ۔ (مسند أحمد: ۲۰۷۵۷)
سیدنا ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آٹھ یا نو راتوں تک نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتے رہے، ایک دن سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں یہ نماز جلدی پڑھا دیا کریں تو یہ عمل رات کے قیام کے لیے بہتر ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بعد یہ نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔ عبد الصمد نے سات اور عفان نے نو راتوں کا ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۱۷۱) اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ الطیالسی: ۸۷۵(انظر: ۲۰۴۸۳)
1171
Zaeef
۔ (۱۱۷۲)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ الشَّکُوْنِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: رَقَبْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ فَاحْتَبَسَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنْ لَنْ یَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدْ صَلّٰی وَلَنْ یَخْرُجَ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنَّا أَنَّکَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدْ صَلّٰی وَلَنْ یَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْتِمُوْا بِہٰذِہِ الصَّلَاۃِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ یُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۶)
عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔
Takhreej
(۱۱۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۱ (انظر: ۲۲۰۶۶)
1172
Sahih
۔ (۱۱۷۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَابْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَیُّ حِیْنٍ أَحَبُّ اِلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ اِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً بِالْعِشَائِ حَتّٰی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوْا، فَقََامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ فَقَالَ: اَلصَّلَاۃَ، قَالَ عَطَائٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ الْآنَ یَقْطُرُ رَأْسُہُ مَائً وَاضِعًا یَدَہُ عَلَی شِقِّ رَأْسِہِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْہَا کَذٰلِکَ)) (مسند أحمد: ۳۴۶۶)
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔
Takhreej
(۱۱۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۱، ومسلم: ۶۴۲ (انظر: ۳۴۶۶)
1173
Sahih
۔ (۱۱۷۴)۔(ومِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَامَ النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْہَا ہٰذِہِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۶)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور کہا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اِس وقت میں ادا کیا کریں۔
Takhreej
(۱۱۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1174
Sahih
۔ (۱۱۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعِشَائِ حَتّٰی نَادَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ: قَدْ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ الْاََرْضِ یُصَلِّیْ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ غَیْرُکُمْ)) وَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ یُصَلِّیْ یَوْمَئِذٍ غَیْرُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَفْشُوَا الْاِسْلَامُ) (مسند أحمد: ۲۴۵۶۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک نمازِ عشاء میں تاخیر کر دی، یہاں سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ آواز دی: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اِس نماز کو اِس وقت میں ادا کر رہا ہو۔ اس وقت نماز پڑھنے والے صرف مدینہ کے لوگ تھے، ایک روایت میں ہے: یہ بات اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی ہے۔
Takhreej
(۱۱۷۵)تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۶۹، ۶۸۲، ۸۶۴، ومسلم: ۶۳۸ (انظر: ۲۴۰۵۹)
1175
Sahih
۔ (۱۱۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی الْمُغِیْرَۃُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أُمِّ کَلْثُوْمٍ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتَّی ذَہَبَ عَامَۃُ اللَّیْلِ وَحَتّٰی نَاَم أَھْلُ الْمَسْجِدِ (وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: رَقَدَ) ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَوَقْتُہَا، لَوْ لَا أَنْ یَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ، وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: أَنْ أَشُقَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۶۸۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔
Takhreej
(۱۱۷۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۳۸ (انظر: ۲۵۱۷۲)
1176
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.