پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان - پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان - Book 10 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 10 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا محمد بن عبد اللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اہل قبا کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تم لوگوں کی تعریف کی ہے، کیا تم مجھے بتلاؤ گے نہیں (کہ تم کون سا عمل کرتے ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا: اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تورات میں پانی کے ساتھ استنجا کرنے کا ذکر پاتے ہیں (اور پھر اسی طرح عمل کرتے ہیں)۔
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن لوگوںکے پاس مسجد ِ قباء میں تشریف لے گئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کر کے طہارت کے معاملے میں تمہاری اچھی تعریف کی ہے، تو یہ کون سی پاکیزگی ہے، جو تم اختیار کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس معاملے میں کوئی چیز ہمارے علم میں تو نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہودی لوگ ہمارے پڑوسی تھے اور وہ پائخانہ کر کے اپنی پچھلی طرف کو دھوتے تھے، پس ہم نے بھی ان کی طرح اس حصے کو دھونا شروع کر دیا۔
فوائد:… سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَثْنٰی عَلَیْکُمْ فِیْ الطُّھُوْرِ، فَمَا طُھُوْرُکُمْ؟)) قَالُوْا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاۃِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَنَسْتَنْجِیْ بِالْمَائِ، قَالَ: ((فَھُوَ ذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ۔)) … اے انصاریوں کی جماعت! بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے سلسلے میں تمہاری تعریف کی ہے، پس تمہاری طہارت کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ یہی (مؤخر الذکر) چیز ہے، تم اس کو لازم پکڑو۔ (ابن ماجہ: ۳۵۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَزَلَتْ فِیْ اَھْلِ قُبَائَ {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ})) … اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ دراصل وہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے، پس ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ:۳۵۷، ترمذی: ۳۱۰۰)
سلیم الفطرت لوگ جانتے ہیں کہ پانی اور پتھروں سے استنجاکرنے میں کیا فرق ہے، بہرحال دونوں طریقے مسنون ہیں اور پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت عام کر دی ہے، لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ افضل طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔
سیدنا عائشہؓ سے مروی ہے کہ اہل بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس آئیں، سیدہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں اور اپنے خاوندوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح استنجا کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا بھی ہے۔ یہ آخری جملہ سیدہ عائشہ ؓ نے از خود کہا یا ابو عمار نے۔
Takhreej
(۵۴۰) حدیث صحیح دون قولہ: وھو شفاء من الباسور ان کان من قول عائشۃ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، شداد ابو عمار لم یدرک عائشۃ ؓ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۹، والنسائی: ۱/ ۴۲(انظر: ۲۴۶۲۳)
Explanation
فوائد:… سنن بیہقی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ بواسیر سے شفا بھی ہے والا جملہ سیدہ عائشہؓ نے کہا تھا۔
۔ ۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: بیشک اِن دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۰)
فوائد:… صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ،وَاِنَّہٗ لَکَبِیْرٌ … اور ان کو مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، اور وہ بڑے گناہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا اور چغلی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ دو مسلمان تھے، ان کو بقیع میں دفن کیا گیا تھا، البتہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں تھے، یہ تفصیل ایک روایت کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ دَفَنْتُمُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا؟)) … آج تم لوگوں نے یہاں کن کو دفن کیا ہے۔ اس قسم کی احادیث سے ہمیں متنبہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ ہماری ان ہستیوں سے کیا نسبت ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر براہِ راست ایمان لائی تھیں۔ جب وہ عظیم ہستیوں میں شامل ہونے کے باوجود مذکورہ کوتاہیوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہو گئے تو ہم ان کمزوریوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
یزداد بن فساء ہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ اپنے عضو ِ خاص کو تین دفعہ نچوڑے۔
Takhreej
(۵۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،عیسی بن یزداد وأبوہ مجھولان ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۶(انظر: ۱۹۰۵۴)
Explanation
فوائد:… یزداد بن فساء ہ کے بارے میں صحیح رائے یہ ہے کہ ان کی صحابیت کا شرف حاصل نہیں ہوا، سو اس کی روایت مرسل ہو گی، امام بخاری، ابو حاتم رازی، ابوداود اور دیگر اہل علم نے یزداد کے صحابی نہ ہونے کی صراحت کی ہے۔
۔ (دوسری سند) اس میں یہ زائد بات ہے: پس بیشک یہ عمل اس کو کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۵۴۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی مخصوص آدمی کو ظن غالب کی حد تک شبہ ہو جائے تو وہ عضو ِ خاص کو نچوڑ کر یا انگلی مار کر یا کچھ دیر بیٹھ کر اس شبہ کو ختم کر سکتا ہے، لیکن اس ضمن میں شیطان کے وسوسوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا ضروری ہے، وگرنہ طہارت کے معاملات میں کئی اشکالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ استنجا کا اصل طریقہ یہی ہے کہ پیشاب منقطع ہو جانے کے بعد پتھر یا پانی استعمال کر لیا جائے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نماز کے لیے اس حالت میں نہ جائے کہ اس کے ساتھ پائخانہ یا پیشاب کی نجاست لگی ہوئی ہو۔ -
فوائد:… اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا بول و براز نجس ہے اور اس سے اجتناب کرنا اور کپڑے یا جسم کے کسی حصہ کو لگ جانے کی صورت میں اس سے پاکی حاصل کرنا فرض ہے۔ اس ضمن میں احناف نے ایک درہم کی مقدار کے برابر نجاست کی اجازت دی ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۴۴۰)میں گزر چکی ہے۔
سیدنا حکم بن سفیان یا سفیان بن حکم ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا اور وضو کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ یحییٰ بن سعید کے الفاظ یہ تھے: بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔
Takhreej
(۵۴۸) تخریج: قال الالبانی: صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۷، ۱۶۸، وابن ماجہ: ۴۶۱(انظر: ۲۳۴۶۹)
۔ (دوسری سند) بنوثقیف کے ایک آدمی کا باپ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔
Takhreej
(۵۴۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… حضرت زید بن حارثہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِيْ أَوَّلِ مَا أُوْحِيَ إِلَیْہِ، فَعَلَّمَہٗ الْوُضُوْئَ وَالصَّلَاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوْئِ، أَخَذَ غُرْفَۃً مِنْ مَّائٍ فَنَضَحَ بِھَا فَرْجَہٗ۔))… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کے ابتدائی زمانے میں جبریل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ (ابن ماجہ :۱/۱۷۲ـ ۱۷۳، صحیحہ: ۸۴۱)معلوم ہوا کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دینا چاہیے۔