TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - Book 117 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 117 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 25 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

25 Hadith · 7 Chapters
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَحَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیٌّ مِنْ یَہُوْدِ بَنِی زُرَیْقٍیُقَالُ لَہُ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتّٰی کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہ یَفْعَلُ الشَّیْئَ وَمَا یَفْعَلُہُ، قَالَتْ: حَتّٰی إذا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! شَعَرْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِی فِیْمَا اِسْتَفْتَیْتُہُ فِیْہِ، جَائَ نِی رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِی وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ، فَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِیْ لِلَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ أَوِ الَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ لِلَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِی: مَاوَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہُ؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: وَاَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ بِئْرِ أَرْوَانَ۔)) قَالَتْ: فَأَتَاھَا فِی نَاسٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَیْہَا وَعَلَیْہَا نَخْلٌ) ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا أَحْرَقْتَہ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَحْرِقْہُ) قَالَ: ((لَا، أَمَّا اَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) قَالَتْ: فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: بنوزریق کے لَبِید بن اعصم نامی ایکیہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا،یہاں تک کہ اس کا اتنا اثر ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی کام کیا ہے ، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی فرمایا: عائشہ! مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، سر کے پاس بیٹھنے والے نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے یا پاؤں والے نے سر والے سے کہا: اس بندے کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو ہوا ہوا ہے، اس نے کہا: کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں؟ اس نے کہا: کنگھی میں، کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اس نے کہا: یہ عمل اب کہاں ہے؟ اس نے کہا: یہ اروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: لوگ اس کنویں کی طرف گئے، ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے، اس کے پاس لگی ہوئی کھجوریں تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس میں مہندی بھگوئی گئی ہے، اور اس کی کھجوریں شیطانوں کے سروں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس (جادو والے عمل کو نکال کر) جلا کیوں نہیں دیا؟ ایک روایت میں ہے: آپ اس کو جلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالی نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں اس شرّ کو خواہ مخواہ پھیلائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس عمل کو دفن کر دیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۶۵، ۶۰۶۳، ومسلم: ۲۱۸۹(انظر: ۲۴۳۰۰)
6803
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّۃَ أَشْہُرٍ یَرٰی أَنَّہ، یَأْتِی وَلَا یَأْتِی، فَأَتَاہُ مَلَکَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِہِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِلْآخَرَ: مَا بَالُہُ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہ،؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْمَ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ فِیْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ فِی بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ راَعُوْفَۃٍ، فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمِہِ فَقَالَ: ((أَیْ عَائِشَۃُ! اَلَمْ تَرٰی أَنَّ اللّٰہَ أَفْتَانِی فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہُ۔)) فَأَتَی الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ الْبِئْرُ الَّتِیْ أُرِیْتُہَا وَاللّٰہِ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَکَأَنَّ رُؤُوْسَ نَخْلِہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْ أَنَّکَ کَأَنَّہَا تَعْنِی أَنْ یَتَنَشَّرَ، قَالَ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! قَدْ عَافَانِی اللّٰہُ وَأَنَا أَکْرَہُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔
Takhreej
(۶۸۰۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں چالیس دنوں کا ذکر ہے اور اِس میں چھ ماہ کا، حافظ ابن حجر نے کہا: ممکن ہے کہ کل چھ ماہ تک آپ a کے مزاج میں تغیر رہا ہو اور ان میں سے چالیس دنوں میں زیادہ اثر ہوا ہو۔
6804
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَأَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ ذِی أَرْوَانَ وَفِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَخَرَجْتَہُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: ((اَمَّا اَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۲)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔
Takhreej
(۶۸۰۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6805
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَحَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، قَالَ: فَاشْتَکٰی لِذَالِکَ أَیَّامًا، قَالَ: فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ سَحَرَکَ عَقَدَ لَکَ عُقَدًا عُقَدًا فِیْ بِئْرٍ کَذَا وَکَذَا، فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا مَنْ یَجِیْئُ بِہَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَخْرَجَہَا فَجَائَ بِہَا فَحَلَّلَہَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَکَرَ لِذَالِکَ الْیَہُوْدِیِّ وَلَا رَآہ فِیْ وَجْہِہِ قَطُّ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۲)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا : یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوںکو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔
Takhreej
(۶۸۰۶) تخریج: حدیث صحیح بغیر ھذہ السیاقۃ، وھذا اسناد فیہ تدلیس الاعمش، وسیاقہ الصحیح تقدم برقم (۶۸۰۳)، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱۲(انظر: ۱۹۲۶۷)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے حکم سے جادو کا اثر ہو سکتا ہے اور یہ اثر نبی کریمa پر بھی ہو گیا تھا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا ھُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖمِنْاَحَدٍاِلَّابِاِذْنِاللّٰہِ} … ’’اور وہ جادو گر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالی کی مرضی کے ساتھ۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اللہ تعالی نے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی۔ بعض بدعتی لوگوں نے ان احادیث کا انکار کر دیا ہے، جن میں نبی کریمa پر جادو کے اثر انداز ہو جانے کا بیان ہے، ان کا نظریہیہ ہے کہ یہ چیز منصب ِ نبوت کے لائق نہیں ہے، اس سے تشکیک کی راہ کھلتی ہے اور شریعت کو نا قابل اعتبار ٹھہراتی ہے۔ لیکنیہ سارے خیالات مردود ہیں، ہم دلائل و براہین کے محتاج ہیں، جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات میں نبی کریمa کی عصمت، صداقت اور حقانیت بیان کی گئی تو ہم نے تسلیم کیا اور جب ان ہی دلائل میں ان عوارض کو بیان کیا گیا، جو نبی کریمa کو لاحق ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ دراصل بات یہ ہے کہ جیسے انبیاء و رسل کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں،یا ہو سکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متأثر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ فرعون کے دربار میں موسیg پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْیُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (۶۶) فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖخِیْفَۃً مُّوْسٰی} (۶۷) ’’موسیg نے کہا: نہیں، تم ہی پہلے ڈالو، اب تو موسیg کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسی (g) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔‘‘(سورۂ طہ: ۶۶) اسی طرح یہودی لوگوں نے آپ a پر جادو کیا، جس کے کچھ اثرات آپ a نے محسوس کیے، اس سے بھی منصب ِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آیا، کیونکہ اس سے کارِ نبوت متاثر نہیں ہوا، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور جادو سے وحییا فریضۂ رسالت کی ادائیگی متاثر نہیں ہونے دی۔ جیسے دشمنوں نے غزوۂ احد کے موقع پر آپ a کو خاصا جسمانی نقصان پہنچایا، اسی طرح آپ a کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے، آپ a بیمار بھی ہو جاتے تھے، ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، آپa کو زہر دیا گیا اور اس سے آپ a کو تکلیف ہوئی، لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ a پریشان ہو جاتے تھے، اسی طرح جادو سے بھی آپ a کچھ متأثر ہو گئے تھے۔ بہرحال ہم قرآن حکیم اور احادیث ِ صحیحہ کے محتاج ہیں اور ان پر ہی اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ a نے جادو کا عمل نکالنے کے لیے سیدنا علیb کو بھیجا تھا اور بعض میں ہے کہ آپ a خود تشریف لے گئے تھے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہ صورت ممکن ہے کہ پہلے آپ a نے سیدنا علیb کو بھیجا ہو اور پھر آپ a خود ان کے پیچھے روانہ ہو گئے ہوں، اس طرح سیدنا علیb نے وہ عمل کنویں سے نکالا ہو اور آپ a نے اس کا مشاہدہ کر کے اس کو ختم کیا ہو اور پھر سیدنا علیb کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ اس کو دفنا دیں۔ آپa نے لبید بن عاصم سے انتقام نہیں لیایا اس کو سزا نہیں دی، ممکن ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے اس کو سزا نہ دی گئی ہو، کیونکہیہ شخص بنو زریق قبیلے سے تھا، جو کہ خزرج قبیلے کی ایک شاخ تھی اور اسلام سے پہلے بہت زیادہ انصاریوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدے کیے گئے تھے، اس لیے انتقامی کاروائی کرنے سے کوئی شرّ پھیل سکتا تھا، یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ a نے منافقوں کو قتل نہ کرنے کییہ وجہ بیان کی تھی: ((لَایَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔)) …’’کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ محمد (a) تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔‘‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ a اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک جادو گر کے بارے میں کوئی خاص سزا نازل نہ ہوئی ہو۔
6806
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۷)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَ: اِشْتَکَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکَوْاھَا، فَقَدِمَ اِنْسَانٌ الْمَدِیْنَۃَیَتَطَبَّبُ فَذَھَبَ بَنُو أَخِیْہَایَسْأَلُوْنَہُ عَنْ وَجَعِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُوْنَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوْبَۃٍ، قَالَ: ھٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُوْرَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَھَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوْتِی فَأُعْتَقَ، قَالَتْ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً، قَالَتْ: بِیْعُوْھَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوْا ثَمَنَہَا فِیْ مِثْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری طول پکڑ گئی، ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا، وہ طب اور حکمت کا کام کرتا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھتیجے اس حکیم کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تکلیف کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کچھ بتارہے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون پر جادو ہوا ہے اور اس کی لونڈی نے اس پر جادو کیا ہے، جب اس لونڈی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہاں! میں نے جادو کیا ہے، میں چاہتی تھی کہ تو جلدی مر جائے، تاکہ میں آزاد ہو جائوں، دراصل وہ لونڈی مدبرہ تھی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : اسے اس آدمی کے ہاں فروخت کرو جو عرب میں لونڈیوں کے معاملے میں سخت ترین ہو اور اس کی قیمت سے اس جیسی ایک اور لونڈی خرید لو۔
Takhreej
(۶۸۰۷) ھذا الاثر صحیح، أخرجہ مالک فی ’’المؤطا‘‘: ۲۷۸۲، وعبد الرزاق: ۱۸۷۴۹(انظر: ۲۴۱۲۶)
6807
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا کَاھِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ خصلتوں والا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا: شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، جادو کی تصدیق کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کہانت کرنے والااور احسان جتانے والا۔
Takhreej
(۶۸۰۸) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۹۳۲ (انظر: ۱۱۷۸۱/۱)
6808
Sahih
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ نَہْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔
Takhreej
(۶۸۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی حریز، وقولہ منہ: ’’ثلاثۃ لا یدخلون الجنۃ: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر‘‘ حسن لغیرہ بشاہدہ من حدیث ابی سعید الخدریB، أخرجہ ابن حبان: ۵۳۴۶، وابویعلی: ۷۲۴۸، وابن حبان: ۶۱۳۷، والحاکم: ۴/ ۱۴۶ (انظر: ۱۹۵۶۹)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: جادو کا عمل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے، بسا اوقات یہ کفر ہوتا ہے اور بعض اوقات معصیت، اگر اس میں کہا جانے والا قول یا کیا جانے والا فعل کفر ہو تو جادو گر کافر ہو جائے گا اور اگر وہ عمل کفریہ نہ ہو تو وہ فاسق اور نافرمان ٹھہرے گا، بہرحال اس کی تعلیم دینا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا دونوں حرام ہیں۔ حدیث نمبر (۶۸۰۹) یہاں اختصار کے ساتھ روایت کی گئی ہے، مکمل روایت ’’کتاب الاشربۃ‘‘ میں آئے گی، اس میں غوطہ کی نہر کی وضاحت کی گئی ہے۔
6809
Zaeef
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
۔ (۶۸۱۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ وَعَشَّارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)
۔ سیدناعثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام نے رات کو ایک وقت کا تعین کر رکھا تھا، جس میں وہ اپنے اہل وعیال کو بیدا کرتے اور فرماتے :اے آل دائود! اٹھو اور نماز پڑھو، یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتے ہیں،ما سوائے جادو گر اور ٹیکس وصول کنندہ کی دعا کے۔
Takhreej
(۶۸۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، ولاختلاف فی سماع الحسن من عثمان، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۳۷۴ (انظر: ۱۶۲۸۱)
6810
Zaeef
جادو گر کی حد کا بیان
۔ (۶۸۱۱)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو سَمِعَ بَجَالَۃَیَقُوْلُ: کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَۃٍ: أَنِ اقْتُلُوْا کُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: وَسَاحِرَۃٍ، وَفَرِّقُوْا بَیْنَ کُلِّ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ وَانْہَوْھُمْ عَنِ الْزَمْزَمَۃِ، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَۃَ سَوَا حِرَ،وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ حَرِیْمَتِہِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَصَنَعَ جَزْئٌ طَعَامًا کَثِیْرًا وَعَرَضَ السَّیْفَ عَلٰی فَخِذِہِ وَدَعَا الْمَجُوْسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَیْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَکَلُوْا مِنْ غَیْرِ زَمْزَمَۃَ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: قَبِلَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ، وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: حَجَّ بَجَالَۃُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَۃَ سَبْعِیْنَ۔(مسند احمد: ۱۶۵۷)
۔ بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خط آیا،یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میںیہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں ہر محرم کے درمیان تفریق ڈال دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو، اس حکم کے بعد ہم نے تین جادو گر قتل کئے اور کتاب اللہ کے مطابق حرام رشتوں میں علیحدگی پیدا کر دی، جزء نے بہت سارا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کو دعوت دی اور تلوار اپنی ران پر رکھ لی، انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچر کے بوجھ اٹھانے کے برابر چاندی بھی بطور جزیہ دی، مگر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ جزیہ ان سے نہ لیا ، کبھی سفیان راوی اس طرح بیان کرتے: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے حق میں نہ تھے، حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجر کے علاقہ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا، تب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول کرنا شروع کیا۔
Takhreej
(۶۸۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۵۶ (انظر: ۱۶۵۷)
Explanation
فوائد:… سیدہ حفصہc نے اپنی لونڈی کو جادو کرنے کی وجہ سے قتل کروا دیا تھا۔ (مؤطا امام مالک: ۲/ ۸۷۱) پچھلے باب میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ بسا اوقات جادو کبیرہ گناہ ہوتا ہے اور بسا اوقات کفر، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ} … ’’سلیمان (g) نے تو کفر نہیں کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں نے کیا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) جادو کی جو قسم کفر ہے، اگر جادو گر مسلمان ہو تو اس سے ارتداد لازم آتا ہے اور اس طرح وہ واجب القتل ٹھہرتا ہے۔ امام شافعی نے کہا: جادو گر کو اس وقت قتل کیا جائے گا، جب وہ ایسا جادو کرے، جو کفر تک پہنچاتا ہے، ورنہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام مالک کی رائے کے مطابق جادو گر کو قتل کیا جائے گا۔ امام شافعی کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے۔ لیکن آپ a نے اپنی ذات ِ مبارکہ پر جادو کرنے والے لبید کو قتل کیوں نہیں کروایا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۸۰۶) کے فوائد زمزمہ: یہ ایک قسم کا کلام تھا، جو مجوسی لوگ کھانا کھاتے وقت ادا کیا کرتے تھے، ان کے دین میں اس کے بغیر کھانا کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، دراصل وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کی تعظیم کرتے تھے، یہ ان کی بیوقوفی اور تکلف تھا۔ یہ باتیں ابن حزم نے ’’المحلی‘‘ میں بیان کیں ہیں۔
6811
Sahih
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
۔ (۶۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّھْرِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖقَالَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرُمِیَ بِنَجْمٍ عَظَیِمٍ فَاسْتَنَارَ، قَالَ: ((مَاکُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ إِذَا کَانَ مِثْلُ ھٰذَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟)) قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ: یُوْلَدُ عَظِیْمٌ أَوْ یَمُوْتُ عَظِیْمٌ، قُلْتُ لِلزُّھْرِیِّ: أَکَانَیُرْمٰی بِہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنْ غُلِّظَتْ حِیْنَ بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہُ لَا یُرْمٰی بِہَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّ رَبَّنَا تَبَارَکَ اسْمُہُ اِذَا قَضٰی أَمْرًا سَبَّحَ (وَفِیْ لَفْظٍ: سَبَّحَہُ) حَمَلَۃُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ حَتّٰی بَلَغَ التَّسْبِیْحُ ھٰذِہٖالسَّمَائَالدُّنْیَا، ثُمَّ یَسْتَخْبِرُ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ یَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ لِحَمَلَۃِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ فَیُخْبِرُوْنَہُمْ، وَیُخْبِرُ أَھْلُ کُلِّ سَمَائٍ سَمَائً حَتّٰییَنْتَہِیَ الْخَبْرُ اِلٰی ھٰذِہِ السَّمَائِ وَیَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَیُرْمَوْنَ، فَمَا جَائُ وْا بِہِ عَلٰی وَجْہِہِ فَہُوَ حَقٌّ وَلٰکِنَّہُمْ یَقْذِفُوْنَ وَیَزِیْدُوْنَ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَیَنْقُصُوْنَ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: (یَعْنِی ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) قَالَ اَبِیْ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَیَخْطِفُ الْجِنُّ وَیُرْمَوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کی جماعت میں جلوہ افروز تھے، عبد الرزاق نے کہا:یہ انصاری لوگ تھے، جن کے ساتھ آپ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک بہت بڑا ستارہ مارا گیا، اس سے روشنی پھیل گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے کہ یا تو کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ میں نے زہری سے کہا: کیا جاہلیت میں بھی ستارے مارے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان میں شدت آگئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں مار جاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا ربّ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملینِ عرش فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے آسمان کے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں،یہاں تک کہ یہ سبحان اللہ کیدلنواز صدا آسمان دنیا تک پھیل جاتی ہے، پھر آسمان والے فرشتے، اپنے قریب والے عرش بردار فرشتوں سے اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عرش بردار فرشتوں کے قریب والے ان سے دریافت کرتے ہیں۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں اور ہر ایک آسمان والے فرشتے نچلے آسمان والوں کو بتاتے ہیں،یہاں تک کہ وہ خبر آسمانِ دنیا والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے،اُدھر جن چوری کرتے ہوئے اس بات میں سے کچھ حصہ اچک لیتے ہیں اور ان پر ستارے کو گرایا جاتا ہے ،جو وہ بچ بچا کر بات لے آتے ہیں، وہ تو حق ہوتی ہے، لیکن اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں اور ایک روایت کے مطابق اس میں کمی کرتے ہیں۔ عبد الرزاق نے کہا: جن وحی کی بات کو اچک لیتے ہیں، لیکن پھر ان پر ستارے کو گرا دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۶۸۱۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۲۲۹ (انظر: ۱۸۸۲)
Explanation
فوائد:… بعض روایات میںیہ اضافہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالی کسی کام کا فیصلہ کرتے ہیں تو حاملین عرش سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے سبحان اللہ کہتے ہیں۔ آسمانوں میں گردش کرتی ہوئییہ تسبیح آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور جو حاملین عرش کے قریب فرشتے ہوتے ہیں وہ حاملین عرش سے دریافت کرتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ جو اب دیتے ہیں: حق بات ہی کہی ہے اور وہ بہت بلندی والا اور بڑائی والا ہے، پھر وہ بتاتے ہیں کہ اس نے یہیہ کہا ہے اور آسمانوں والے ایک دوسرے کو اس کی خبر دیتے ہیں، حتی کہ یہ خبر آسمان دنیاتک پہنچ جاتی ہے اور یہاںشیطان آجاتے ہیں اور وہ بھی سننے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ کوئی بات سن لیتے ہیں تو اس کو اپنے دوستوں، کاہنوں، نجومیوں وغیرہ تک پہنچاتے ہیں اور وہ اس میں کئی جھوٹوں کی آمیزش کرتے ہیں اور ان کی جو بات درست ہوتی ہے، وہ وہ ہوتی ہے جویہ فرشتوں سے اچک کرلائے ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالی کا نظام ہے، اسی نے جنوں کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر چڑھتے چڑھتے آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔
6812
Sahih
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
۔ (۶۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ الْجِنُّ یَسْمَعُوْنَ الْوَحْیَ فَیَسْتَمِعُوْنَ الْکَلِمَۃَ فَیَزِیْدُوْنَ فِیْہَا عَشَرًا فَیَکُوْنَ مَاسَمِعُوْا حَقًّا وَمَا زَادُوْہُ بِاطِلًا وَکَانَتِ النُّجُوْمُ لَا یُرْمٰی بِہَا قَبْلَ ذَالِکَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَحَدُھُمْ لَا یَأْتِی مَقْعَدَہُ اِلَّا رُمِیَ بِشِہَابٍ یُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَکَوْا ذَالِکَ اِلٰی اِبْلِیْسَ فَقَالَ: مَا ھٰذَا اِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ، فَبَثَّ جُنُوْدَہُ، فاِذَا ھُمْ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بَیْنَ جَبَلَیْ نَخْلَۃَ، فَأَتَوْہُ، فَأَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ھٰذَا الْحَدَثُ الَّذِیْ حَدَثَ فِیْ الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جن وحی سن لیا کرتے تھے اور ایک بات سن کر اس کے ساتھ دس باتوں کا ضافہ کرتے تھے، جو کچھ سنا ہوتا تھا وہ سچ ہوتا تھا اور جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے، وہ باطل ہوتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے شہاب ثاقب نہیں گرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر آتا تھا،شہاب ثاقب جس کو لگتا اسے جلا دیتا تھا، انہوں نے ابلیس سے اس کی شکایت کی، اس نے کہا: ضرورکوئی نئی صورت پیدا ہو گئی ہے، تب ہی ایسے ہو رہا ہے، اس نے تحقیق کے لیے اپنے لشکر پھیلا دئیے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو پہاڑوں کے درمیان نخلہ وادی میں نماز ادا کر رہے ہیں، وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے اس کی اطلاع دی، اس نے کہا: یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں نیا رونما ہوا ہے۔
Takhreej
(۶۸۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۳۳۲۴ (انظر: ۲۴۸۲)
6813
Sahih
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
۔ (۶۸۱۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَأَلَ اُنَاسٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْکُہَّانِ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسُوْا بِشَیْئٍ۔)) فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُمْ یُحَدِّثُوْنَ أَحْیَانًا بِشَیْئٍیَکُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطِفُہَا الْجِنِّیُّ فَیُقِرُّھَا فِی أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُوْنَ فِیْہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۷۷)
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کبھی کبھییہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں، جو سچ ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق بات ہوتی ہے، جس کو جن اچک لیتا ہے، پھر وہ اپنے دوست کے کان میں اس طرح کڑ کڑاتے ہیں، جیسے مرغی کرتی ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۸۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۶۲، ومسلم: ۲۲۲۸(انظر: ۲۴۵۷۰)
Explanation
فوائد:… اس مسئلہ کی مزید وضاحت درج ذیل ہے : یہ اللہ تعالی کی حکمت و دانائی کے مطابق اس کا نظم و نسق ہے کہ جب وہ وحی پر مشتمل کلام کرتا ہے تو فرشتوں پر بیہوشی طاری ہو جاتی ہے، پھر ان کو حاملین عرش اور جبریل امین وحی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں، جب یہی فرشتے آسمان دنیا پر وحی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو شیطان ان کی باتیں سن لیتے ہیں، اس چیز کی مزید وضاحت سیدہ عائشہ c کی روایت میں کی گئی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَنْزِلُ فِی الْعَنَانِ ۔ وَہُوَ السَّحَابُ۔ فَتَذْکُرُ الْاَمْرَ قُضِیَ فِی السَّمَائِ ، فَتَسْتَرِقُ الشَّیَاطِیْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُہُ فَتُوْحِیْہِ اِلَی الْکُہَّانِ ، فَیَکْذِبُوْنَ مَعَہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ۔)) (بخاری: ۳۲۱۰) … ’’جب فرشتے آسمانِ دنیا میں اترتے ہیں اور آسمان میں کیے جانے والے فیصلے کا ذکر کرتے ہیں تو شیطان ان کی بات کو چوری کرتے ہیں، پھر اس کو کاہنوں (اور نجومیوں) تک پہنچا دیتے اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ ‘‘ اللہ تعالی کے انتظام و انصرام کے بعض امور انسانوں کے لیے آزمائش ہوتے ہیں، ان میں سے ایکیہ ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے وحی کی حفاظت کے لیے شہابِ ثاقب کا انتظام کیا ہے، وہاں ممکن تھا کہ ان جنوں کو سرے سے آسمانوں کی طرف چڑھنے ہی نہ دیتا، لیکنیہ اللہ تعالی کی حکمت ہے اور بنو آدم کے لیے آزمائش ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لیے جو نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جا کر اپنے عقائد کو دیمک لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے واضح کر دیا ہے کہ نجومیوں کے پاس ایک سو ایک دعووں میں سے ایک سچا ہو سکتا ہے، جس کی بنا پر ان کے مریدوں کے یقین میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قارئین کرام! اگر نجومی اور کاہن لوگوں مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو یہ لوگ ایئر پورٹ، اسٹیشن اور لاری اڈے جیسے مقامات پر بیٹھ کر ان جہازوں، ریل گاڑیوں اور بسوں کو کیوں نہیں روک لیتے، جن کا حادثہ ہونے والا ہوتا ہے۔ جو نجومی بزعم خود یہ حساب و کتاب لگا سکتا ہے کہ فلاں آدمی کا بیٹا گم ہونے کے بعد کہاں ہے، وہ اس جہاز اور ٹرین کے بارے میں کیوں غافل ہو جاتا ہے، جو تھوڑے وقت کے بعد سینکڑوں لوگوں کو موت کے کنویں میں پھینکنے والے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات بارشیں نہ ہونے یا کثرت سے ہونے کی وجہ سے زمینداروں کی اربوں کی فصلوں کا نقصان ہو جاتا ہے، یہ لوگ زمینداروں کو فصل کاشت ہی کیوں کرنے دیتے ہیں۔ دو بچوں کا باپ ہمارا ایک دوست ایک نجومی کی آزمائش کے لیے اس کے پاس گیا اور کہا: حضور! میری شادی نہیں ہو رہی، مختلف حربے استعمال کیے، لیکن ناکام رہا، اب آپ ہی ہیں، جو حساب و کتاب لگا کر میرا معاملہ مجھ پر واضح کر سکتے ہیں اور شادی میںمیرا تعاون کر سکتے ہیں۔ وہ نجومی مختلف حربوں ، وظیفوں اور تعویذوں کے ذریعے قسمت آزمائی کرنے لگا اور اس مقصد میں کامیابی کے لیے مختلف مشورے دینے لگا۔ اتنے میں میرے دوست نے چھلانگ لگائی، اس کے کمرے سے باہر آگیا اور اسے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے تو اللہ تعالی نے ایک بیوی سے دو بچے بھی دے رکھے ہیں، تجھے تو میرے ماضی کی خبر نہیں، تو میرے مستقبل کے بارے میں خاک فیصلہ کرے گا۔ اسی طرح ایک نجومی پولیس والوں کے پاس اپنے مال کی چوری کی شکایت لے کر گیا اور تعاون کی درخواست کی، اللہ کا کرنا کہ پولیس والے صحیح عقائد کے مالک تھے، انھوں نے کہا: حضور! لوگوں کی چوریوں کے بارے میں تو آپ بڑی چھان بین کر کے مجرم تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اپنی چوری میں کچھ نہیں کر سکتے؟ مزید کیا حقائق ہیں، اس مقام پر ان کو قلمبند نہیں کیا جا سکتا، زبانی وضاحت ضرور کی جا سکتی ہے، لیکن کاہنوں پر یقین رکھنے والے لوگوں سے التماس ہے کہ وہ فرضی کہانی بتا کر ان کو ایک دو دفعہ آزمائیں، وہ ان شاء اللہ تیسری دفعہ جانے کی جرأت ہی نہیں کریں گے، کیونکہ سارے کے سارے معاملات ان پر واضح ہو جائیں گے۔
6814
Sahih
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۸۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۹۵۳۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل کی گئی۔
Takhreej
(۶۸۱۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الحاکم: ۱/۸ (انظر: ۹۵۳۶)
Explanation
فوائد:… کاہن اور عَرَّاف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ ہوتا ہے، جو مستقبل کے حوادث و واقعات کی معرفت کے درپے ہوتا ہے اور عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو چوری کی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کے موقع کی خبر دیتا ہے اور مختلف اسباب کے ذریعے مختلف امور کی معرفت کا دعوی کرتا ہے۔
6815
Sahih
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۸۱۶)۔ (عَنْ صَفِیَّۃَ) عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۵)
۔ سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۳۰(انظر: ۱۶۶۳۸)
Explanation
فوائد:… جو آدمی کاہن کے دعوی کی تصدیق کرے گا اور اس کے بارے میںیہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے تو وہ واقعی کافر ہو جائے گا، جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو آدمی کاہن کے پاس گیا اور اس کے اس دعوی کی تصدیق کی، جس کی معرفت انسان کے بس کی بات ہوتی ہے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
6816
Sahih
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۸۱۷)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَرَأَیْتَ اَشْیَائً کُنَّا نَفْعَلُہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، کُنَّا نَتَطَیَّرُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ شَیْئٌ تَجِدُہُ فِی نَفْسِکَ فَـلَا یَصُدَّنَّکَ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَأْتِی الْکُہَّانَ، قَالَ: ((فَـلَا تَأْتِ الْکُہَّانَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۸)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میںکرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکنیہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔
Takhreej
(۶۸۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۳۷ (انظر: ۱۵۶۶۳)
Explanation
فوائد:… کسی چیز کی کراہت انسان کے دل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے، مثلا ایک آدمی نے صبح صبح سفر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اسی وقت اس کے سامنے اُلّو یا کوّا آ گیا،یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا، تو اس سے اس کو یہ خیال تو آ سکتا ہے کہ اس کو سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کو اس خیال پر عمل نہ کرتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کر کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
6817
Sahih
کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
۔ (۶۸۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَہْرِ الْبَغِیِّ وَحُلْوَانِ الْکَاھِنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے مہر اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۶۸۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۷، ۲۲۸۲، ومسلم: ۱۵۶۷ (انظر: ۱۷۰۷۰)
6818
Sahih
کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
۔ (۶۸۱۹)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَنَزَلُوْا رُفَقَائَ، رُفْقَۃٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَۃٌ مَعَ فُـلَان، فَنَزَلْتُ فِی رُفْقَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ مَعَنَا أَعْرَابِیٌّ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، فَنَزَلْنَا بِأَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِیْہِمُ امْرَأْۃُ حَامِلٌ، فَقَالَ لَھَا الْأَعْرَابِیُّ: أَ یَسُرُّکِ أَنْ تَلِدِی غُلَامًا، إِنْ أَعْطَیْتِنِیْ شَاۃً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْہُ شَاۃً وَسَجَعَ لَھَا أَسَاجِیْعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاۃَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ یَأْکُلُوْنَ، قَالَ رَجُلٌ: أَ تَدْرُوْنَ مَاھٰذِہِ الشَّاۃُ؟ فَاَخْبَرَھُمْ، قَالَ: فرَاَیْتُ أَبَا بَکْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَیِّئًا۔ (مسند احمد: ۱۱۵۰۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑائو ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے ؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔
Takhreej
(۶۸۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۱۴۸۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر صدیقb کو کھاتے وقت تو پتہ نہ چلا، لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انھوں نے چاہا کہ ان کے پیٹ میں اس حرام چیز کا کوئی جزو باقی نہ رہے، اس لیے تکلّف کے ساتھ قے کرنا شروع کر دی۔
6819
Sahih
کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
۔ (۶۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَیْشًا أَتَوْا کَاھِنَۃً فَقَالُوْا لَھَا: اَخْبِرِیْنَا بِأَقْرَبِنَا شََبہًا بِصَاحِبِ ھٰذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: اِنْ اَنْتُمْ جَرَرْتُمْ کِسَائً عَلٰی ھٰذِہِ السَّہْلَۃِ ثُمَّ مَشَیْتُمْ عَلَیْہَا أَنْبَأْتُکُمْ فَجَرُّوْا ثُمَّ مَشَی النَّاسُ عَلَیْہَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَتْ: ھٰذَا أَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِہِ، فَمَکَثُوْا بَعْدَ ذَالِکَ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ قَرِیْبًا مِنْ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ مَاشَائَ اللّٰہُ ثُمَّ بُعِثَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیںیہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتائوں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، فان روایۃ سماک عن عکرمۃ فیھا اضطراب، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۵۰(انظر: ۳۰۷۲)
6820
Zaeef
کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
۔ (۶۸۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ الظَّفَرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنَ الْکَاھِنِیْنَ رَجُلٌ یَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَۃً لَایَدْرُسُہَا أَحَدٌ یََکُوْنُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۷۷)
۔ سیدنا ابو بردہ ظفری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں میں سے ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ قرآن مجید کو اس انداز میں پڑھے گا کہ اس کے بعد اس جیسا اور کوئی نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۸۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن معتب و أبیہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۷۹۴، والبیھقی فی ’’دلائل النبوۃ‘‘: ۶/ ۴۹۸ (انظر: ۲۳۸۸۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ کہانت کی کمائی حرام ہے، اس کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق و اجماع ہے۔
6821
Zaeef
فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان
۔ (۶۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَائِیَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَہُ فَہُوَ عِلْمُہُ)) (مسند احمد: ۹۱۰۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔
Takhreej
(۶۸۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۹۱۱۷)
Explanation
فوائد:… گویا کہ آپ a زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
6822
Sahih