۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیری بہنوں کو دیا ہے، تیرے لیے اس سے کمی نہیں کروں گا، دو چکیاں ہیں، ایک گھڑا ہے اور چمڑے کا ایک گدا ہے، جس میں پتے بھرے گئے تھے۔
Takhreej
(۶۹۴۳) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابن عمر بن ابی سلمۃ، أخرجہ ابن حبان: ۲۹۴۹، والحاکم: ۲/ ۱۷۸، وابویعلی: ۶۹۰۷ (انظر: ۲۶۵۲۹)
Explanation
فوائد:… بہنوں سے مراد اسلامی بہنیں ہیں،یعنی اسلامی رشتے کے اعتبار سے امہات المؤمنین آپس میں بہنیں تھیں۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔
Takhreej
(۶۹۴۴) اسنادہ ضعیف، خصیف بن عبد الرحمن سییء الحفظ، أخرجہ ابوداود: ۲۰۶۷ (انظر: ۱۸۷۸)
Explanation
فوائد:… ’’وَبَیْنَ الْعَمَّتَیْنِ وَالْخَالَتَیْنِ‘‘ کے ذریعے پچھلے جملے کے مضمون کو دوہرایا گیا، تغلیباً پھوپھی اور بھتیجی کو ’’عَمَّتَیْن‘‘ اور خالہ اور بھانجی کو ’’خَالَتَیْن‘‘ کہا گیا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ چھوٹی پر بڑی سے اور بڑی پر چھوٹی سے شادی کی جائے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت سے شادی نہ کی جائے، جس کی پھوپھی اور خالہ پہلے سے موجود ہوں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ امور سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کو شمار کیا، ان میں سے ایک چیزیہ تھی: لڑکی اور اس کی خالہ اور لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا۔ یعنییہ ان امور میں سے تھا، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا تھا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔
۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھییا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھییہی حکم ہے۔
Takhreej
(۶۹۵۲) تخریج: صحیح من حدیث ام حبیبۃ بنت ابی سفیان کما فی البخاری ومسلم، أخرجہ ابوداود: ۲۰۵۶ (انظر: ۲۶۴۹۳)
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔
فوائد:… کون کون سی خواتین کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، دو بہنوںکا ذکر قرآن مجید میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} …’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو لیکن اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو بھی ایک نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، رضاعی رشتوں کا بھی اسی طرح لحاظ رکھا جائے گا۔
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} …’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا،
شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ a اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں کو ملا،… پھر اوپر والی حدیث بیان کی،… البتہ اس کے آخر میںہے: ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے ابو مریم عبد الغفار سے صرف یہ حدیث بیان کی ہے، کیونکہ اس میں علت موجود ہے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمبارک میں میرے اونٹ گم ہو گئے، پس میں مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا، اچانک میں نے ایک قافلہ اور گھوڑ سوار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور میرے صحن میں گھومے، انھوں نے ایک آدمی کو نکالنے کا مطالبہ کیا، پھر نہ انھوں نے اس سے کوئی سوال کیا اور نہ اس سے کوئی بات کی،یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا۔
۔ سیدنا مطرف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ایک خیمہ میں آئے، انھوں نے وہاں سے ایک آدمی باہر نکالا اور اسے قتل کر دیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے اپنی بیوی کی ماں سے شادی کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کی طرف بھیجا ہے، اس لیے انھوں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے کہا: تم کہاں جارہے ہو: انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے آدمی کی جانب بھیجا ہے، جو اپنے باپ کی بیوی سے زنا کرتا ہے، تاکہ ہم اس کو قتل کر دیں۔
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے:
{وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آَبَائُکُمْ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَآئَ سَبِیْلًا} … ’’اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۲۲)
دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماں کو بھی میت کا ورثہ سمجھ لیا جاتا تھا، اس کا نکاح کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ورثاء کی مرضی پر تھا، بلکہ مرنے والے کا بیٹا اپنے باپ کی اس بیوی سے نکاح بھی سکتا تھا، شریعت ِاسلامیہ نے اس تحریم و تقدس کو بحال کرتے ہوئے سوتیلی ماں کو بھی محرم قرار دیا اور اس سے نکاح کرنے والے کی سزا یہ رکھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور اس کا مال غصب کر لیا جائے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتائوں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔
Takhreej
(۶۹۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۶(انظر: ۶۲۰)
Explanation
فوائد:… ابو لہب کی لونڈی نے نبی کریمa اور سیدنا حمزہ b کو دودھ پلایا تھا، اس طرح آپ a اور سیدنا حمزہ b رضاعی بھائی بن گئے اور ہر ایک کی اولاد دوسرے کے لیے محرم قرار پائی۔ اگر صرف نسب کو دیکھا جاتا ہے کہ آپ a سیدنا حمزہ کی بچی سے شادی کر سکتے تھے، لیکن رضاعت آڑے آ گئی۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! آپ قریش میں رشتے کو پسند کرتے ہیں اور ہمیںیعنی بنو ہاشم کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں، سیدنا حمزہ کی بیٹی (سلمیٰ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حمزہ کی بیٹی سے رشتہ کرنے کا بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہے، جو نسب سے حرام ہے، سو وہ میرے لئے حلال نہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتہ حرام ہوتا ہے، جو نسب کی وجہ سے حرام ہے، مثلا ماموں، چچا، بھتیجا وغیرہ۔
فوائد:… ہر وہ عورت جو نسب کی وجہ سے حرام کی گئی ہے، وہ اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہے، ان عورتوں کی تفصیلیہ ہیں: ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔
ان عورتوں میں وہی تفصیل ہے، جو نسبی محرمات میں بیان کی جاتی ہے، یعنی صرف رضاعی ماں بھی حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی ماں، اس کی دادی اور آگے پڑدادیاں اور ان سے آگے تک تمام مائیں حرام ہوں گی۔ اسی طرح اگر رضاعی بیٹی حرام ہے تو رضاعی پوتیاں، نواسیاں، اور نواسیوں اور پوتیوں کی بیٹیاں، نیچے تک سب حرام ہو ں گی۔
قرآن مجید میں صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے، باقی تفصیل احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔