آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
۔ (۷۰۲۳)۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ: اِشْتَرَیْتُ بَرِیْرَۃَ فَاشْتَرَطَ أَھْلُہَا وَلَائَ ھَا، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اشْتَرِیْہَا فَأَعْتِقِیْہَا فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ)) قَالَتْ: فَاشْتَرَیْتُہَا
فَأَعْتَقْتُہَا، قَالَتْ: فَدَعَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَخَیَّرَھَا مِنْ زَوْجِہَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا۔ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۸۰)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے بریرہ کوآزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ ولاء ان کی رہے گی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بیشک اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کی ہوتی ہے، جو چاندی (یعنی قیمت) خرچ کر تا ہے۔ پس میں نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دے، اس نے یہ اختیار قبول کیا، اس کا خاوند آزاد تھا۔
Takhreej
(۷۰۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۳۶، ۶۷۵۸ (انظر: ۲۵۳۶۶)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری الفاظ ’’اس کا خاوند آزاد تھا‘‘ اسود راوی کے کلام سے مدرج ہیں، اگر اس کو موصول بھی سمجھ لیا جائے تو کثرت ِ طرق کی بنا پر وہ روایت راجح ہو گی، جس میں سیدہ بریرہc کے خاوند کے غلام ہونے کا ذکر ہے۔
7023
Sahih