۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کیطرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میںیہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
فوائد:… باب کے شروع میں شغار کی تعریف گزر چکی ہے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شغار میں اصل چیز لڑکی کے بدلے لڑکی لینے کی شرط لگانا ہے، اگر اتفاقی طور پر مہر کا ذکر ہو بھی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ہمارے ملک میں مہر کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔
ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔
فوائد:… ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جیسے بدکردار مرد اپنے جیسی بدکردار سے ہی شادی کرتا ہے،یہی معاملہ بری خاتون کا ہے، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس مرد کا زنا ظاہر ہو چکا ہو، کوئی پاکدامن خاتون اس سے شادی نہ کرے، اسی طرح جس عورت کی بدکاری فاش ہو چکی ہو، کوئی پاکدامن مرد اس سے نکاح نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بدکار مردوں کو اپنے جیسی بدکار خواتین کی ہی تلاش ہوتی ہے، اسی طرح بری عورتوں کو برے مردوں سے ہی رغبت ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف ’’چشم گل‘‘ ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی ’’بالکل‘‘ ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے ’’چشم گل‘‘ کے نصیبے میں’’بالکل‘‘ آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی،یہ خاتون بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گی، بہرحال اس مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کییا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: زانیہ خاتون سے نکاح نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ (سورۂ نور: ۲)
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُسَارَی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّV فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَنْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) …سیدنا مرثدغنویb مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد b کہتے ہیں: میں نبی کریمa کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ a مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔‘‘ آپ a نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: ’’تو اس سے شادی نہ کر۔‘‘(ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸)
۔ سیدنا میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مکہ میں اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا، جیسے کتابت سکھانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے،میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کوسنا وہ کہہ رہے تھے: کوڑے کی آواز طب طب سے بچو (یعنی کوڑے سے بچو)، میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ کے قدم مبارک کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم برقرار رکھا،میں آپ کے پائوں کی سبابہ انگلی کی لمبائی دیگر انگلیوں کے مقابلہ میں کبھی نہیں بھولوں گی، میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں عشران کے لشکر میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا، طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے کپڑے کے عوض نیزہ دے گا، میں اسے اس کی جزا دوں گا۔ میں نے کہا:اس کی جزا کیا چیز ہو گی؟ اس نے کہا:میں اپنی پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کی اس سے شادی کروں گا، میں نے اسے نیزہ دے دیا اور اس کے پاس ہی چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی اور پھر وہ بالغ بھی ہوگئی، میں اس کے پاس گیااور اس سے کہا: میری اہلیہ کو میرے لئے تیار کرو، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے تیار نہیں کروں گا تاوقتیکہ تو اس نیزے کے علاوہ بھی اس کا کوئی مہر بتائے، میں نے قسم اٹھائی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس میں خیر نہیں۔ اس بات نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تو قسم کی وجہ سے گنہگار ہوا اور نہ تیرا ساتھی ہوا۔
Takhreej
(۷۰۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال سارۃ بنت مقسم، أخرجہ ابوداود: ۳۳۱۴ (انظر: ۲۷۰۶۴)
Explanation
فوائد:… سیدنامعقل بن یسارb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جَاء َ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ إِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّہَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُہَا فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَنَہَاہُ فَقَالَ: ((تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمْ۔))… ایک آدمی، نبی کریمa کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے، البتہ وہ ہے بانجھ، تو کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟ آپ a نے اس کو منع فرمایا، پھر دوسری بار آگیا، آپ a نے اس کو روکا، جب وہ تیسری بار آیا تو آپ a نے اس کو منع کیا اور فرمایا: ’’ایسی عورتوں سے شادی کرو، جو زیادہ بچے جننے والی اور خوب محبت کرنے والی ہوں، یقینا میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔‘‘ (ابوداود: ۲۰۵۰، نسائی: ۳۲۲۹)
نکاح کا مقصد صرف شہوت رانی نہیں، بلکہ اولاد ہے، البتہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے نکاح جائز ہے، لیکنیہ عام طور پر بڑی عمر میں ہوتا ہے، نوجوان آدمی کو تندرست خاتون سے شادی کرنی چاہیے۔
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار پسند کر لو (اور باقی چھوڑ دو)۔
فوائد:… ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَسْلَمَ وَلَہٗعَشْرُنِسْوَۃٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃٍ فَاَسْلَمْنَ مَعَہٗ۔ … جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، وہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہو گئیں۔ اس میں اس طرح کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ ان چار بیویوں کو اپنے عقد میں رکھے، جن سے پہلے نکاح کیا تھا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
Takhreej
(۷۰۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸(انظر: ۱۴۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہd۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میں نو بیویوں پر چکر لگاتے (جماع کرتے) تھے۔
Takhreej
(۷۰۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸(انظر: ۱۴۱۰۹)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۷۱۴۲) کی شرح میں ان امہات المومنین کے نام پیش کیے گئے ہیں۔
۔ ضحاک کہتے ہیں: میرے باپ فیروز نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے جس ایک کوچاہتا ہے، چھوڑ دے۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔
Takhreej
(۷۰۱۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} …’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۳)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدنا زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کے سپرد کر دیا تھا اور کوئی نیا نکاح نہیں کیا تھا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کی طرف لوٹا دیا، حالانکہ سیدہ اپنے خاوند سے چھ سال پہلے مسلمان ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ نئی گواہی پیش کی اور نہ نئے مہر کا مطالبہ کیا۔
Takhreej
(۷۰۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… جب کوئی خاتون مسلمان ہو جائے، جبکہ اس کا خاوند ابھی تک کافر ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہو گی، اس عدت کے بعد وہ کسی سے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر شادی کرنے سے پہلے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو ان کو سابق نکاح اور مہر کی بنیاد پر ہی میاں بیوی سمجھا جائے گا، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، جیسا کہ نبی کریمa نے سیدہ زینبc کے ساتھ کیا، اگر ایسی خاتون عدت گزانے کے بعد اور خاوند کے مسلمان ہونے سے پہلے شادی کر لیتی ہے تو پہلے خاوند کا حق ختم ہو جائے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ اپنی بیٹی کو سیدنا ابو العاص کی طرف لوٹایا تھا۔
Takhreej
(۷۰۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس، أخرجہ الترمذی: ۱۱۴۲، وابن ماجہ: ۲۰۱۰ (انظر: ۶۹۳۸)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ روایت ضعیف ہے، سابقہ حدیث میں مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوئی اور اس نے آگے شادی کرلی، لیکن اس کا پہلا خاوند نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی مشرف باسلام ہوا ہوں اور اس میری بیوی کو معلوم تھا کہ میں اسلام لا چکا ہوں، پھر بھی اس نے آگے شادی کر لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کو دوسرے خاوند سے واپس لے کر اس کو اس کے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا۔
Takhreej
(۷۰۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۲۲۳۹، وابن ماجہ: ۲۰۰۸(انظر: ۲۹۷۲)
Explanation
فوائد:… تاہم مسئلہ یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر پہلا خاوند مستحق ہے، عدت کے بعد خاتون کو اختیار مل جاتا ہے، لیکن پہلے خاوند کا انتظار کرنا درست ہے۔
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔
Takhreej
(۷۰۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۲۲۳۹، وابن ماجہ: ۲۰۰۸(انظر: ۲۹۷۲)
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام fسے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔ ‘