TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح کے موانع کا بیان - نکاح کے موانع کا بیان - Book 120 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 120 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 85 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

85 Hadith · 19 Chapters
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
۔ (۷۰۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْأَعْرَجِ اَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ اَنْکَحَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْحَکَمِ اِبْنَتَہ، وَاَنْکَحَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنَتَہُ وَقَدْ کَانَا جَعَلَا صَدَاقًا فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ اِلٰی مَرْوَانَ یَأْمُرُہُ بِالتَّفْرِیْقِ بَیْنَہُمَا، وَقَالَ فِیْ کِتَابِہِ: ھٰذَا الشِّغَارُ الَّذِیْ نَہٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۱)
۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کیطرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میںیہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۰۷۵(انظر: ۱۶۸۵۶)
7003
Sahih
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
۔ (۷۰۰۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّغَارِ۔ (مسند احمد:۱۴۷۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۷۰۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۷(انظر: ۱۴۶۴۸)
7004
Sahih
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
۔ (۷۰۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْْاِسْلَام)) (مسند احمد: ۴۹۱۸)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی شغار نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۵(انظر: ۴۹۱۸)
7005
Sahih
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
۔ (۷۰۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاشِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۵(انظر: ۱۲۶۸۶)
7006
Sahih
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
۔ (۷۰۰۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۰۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۵۸۱، والنسائی: ۶/ ۲۲۸، والترمذی: ۱۱۲۳(انظر: ۱۹۹۶۲)
Explanation
فوائد:… باب کے شروع میں شغار کی تعریف گزر چکی ہے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شغار میں اصل چیز لڑکی کے بدلے لڑکی لینے کی شرط لگانا ہے، اگر اتفاقی طور پر مہر کا ذکر ہو بھی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ہمارے ملک میں مہر کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔
7007
Sahih
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
۔ (۷۰۰۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الزَّانِیْ الْمَجْلُوْدُ لَا یَنْکِحُ اِلَّا مِثْلَہ۔)) (مسند احمد: ۸۲۸۳)
۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حد زدہ زانی نکاح نہیں کرتا، مگر اپنے جیسے سے۔
Takhreej
(۷۰۰۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۰۵۲ (انظر: ۸۳۰۰)
Explanation
فوائد:… ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جیسے بدکردار مرد اپنے جیسی بدکردار سے ہی شادی کرتا ہے،یہی معاملہ بری خاتون کا ہے، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس مرد کا زنا ظاہر ہو چکا ہو، کوئی پاکدامن خاتون اس سے شادی نہ کرے، اسی طرح جس عورت کی بدکاری فاش ہو چکی ہو، کوئی پاکدامن مرد اس سے نکاح نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بدکار مردوں کو اپنے جیسی بدکار خواتین کی ہی تلاش ہوتی ہے، اسی طرح بری عورتوں کو برے مردوں سے ہی رغبت ہوتی ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف ’’چشم گل‘‘ ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی ’’بالکل‘‘ ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے ’’چشم گل‘‘ کے نصیبے میں’’بالکل‘‘ آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔
7008
Sahih
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
۔ (۷۰۰۹)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِسْتَأْذَنَ نَبِیَّ اللّٰہِ a فِیْ اِمْرَأَۃٍیُقَالَ لَھَا: اُمُّ مَہْزُوْلٍ، کَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَہُ اَنْ تُنْفِقَ عَلَیْہِ وَأَنَّہُ اسْتَاْذَنَ فِیْہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ ذَکَرَ لَہُ اَمْرَھَا فَقَرَأَ النَّبِیُّa {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَا اِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} [النور: ۳]۔ (مسند احمد: ۶۴۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی،یہ خاتون بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گی، بہرحال اس مسلمان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کییا اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا معاملہ ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: زانیہ خاتون سے نکاح نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ (سورۂ نور: ۲)
Takhreej
(۷۰۰۹) حسن، أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۱۱۳۵۹، والطبران فی ’’الاوسط‘‘: ۱۸۱۹(انظر: ۶۴۸۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُسَارَی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّV فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَنْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) …سیدنا مرثدغنویb مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد b کہتے ہیں: میں نبی کریمa کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ a مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔‘‘ آپ a نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: ’’تو اس سے شادی نہ کر۔‘‘(ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸)
7009
Sahih
بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
۔ (۷۰۱۰)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ قَالَ: اَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ عَمَّتِیْ سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ قَالَتْ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِہِ وَأَنَا مَعَ اَبِیْ وَبِیَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دِرَّۃٌ کَدِرَّۃِ الْکُتَّابِ فَسَمِعْتُ الْاَعْرَابَ وَالنَّاسَ یَقُوْلُوْنَ: الْطَبْطَبِیَّۃَ ، فَدَنَا مِنْہُ اَبِیْ فَأَخَذَ بِقَدَمِہِ فَأَقَرَّلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَمَا نَسِیْتُ فِیْمَا نَسِیْتُ طُوْلَ إِصْبَعِ قَدَمِہِ السَّبَّابَۃِ عَلٰی سَائِرِ أَصَابِعِہِ، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: إِنِّیْ شَہِدْتُ جَیْشَ عِثْرَانَ قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ الْجَیْشَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ یُعْطِیْنِیْ رُمْحًا بَثَوَابِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُہُ؟ قَالَ: أُزَوِّجُہُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَکُوْنُ لِیْ، قَالَ: فَأَعْطَیْتُہُ رُمْحِیْ ثُمَّ تَرَکْتُہُ حَتّٰی وُلِدَتْ لَہُ اِبْنَۃٌ وَبَلَغَتْ، فَأَتَیْتُہ،، فَقُلْتُ لَہُ: جَھِّزْ لِیْ أَھْلِیْ، فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! لَا أُجَہِّزُھَا حَتّٰی تُحْدِثَ صَدَاقًا غَیْرَ ذَالِکَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَّا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِقَدْرِ أَیِّ النِّسَائِ ھِیَ؟)) قُلْتُ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِیْرَ، قَالَ: فقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہَا عَنْکَ لَاخَیْرَ لَکَ فِیْہَا۔))، قَالَ: فَرَاعَنِیْ ذَالِکَ وَنَظَرْتُ إِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَأْثَمُ وَلَا یَأْثَمُ صَاحِبُکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۰۴)
۔ سیدنا میمونہ بنت کردم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ مکہ میں اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا، جیسے کتابت سکھانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے،میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کوسنا وہ کہہ رہے تھے: کوڑے کی آواز طب طب سے بچو (یعنی کوڑے سے بچو)، میرے باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ کے قدم مبارک کو پکڑ لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قدم برقرار رکھا،میں آپ کے پائوں کی سبابہ انگلی کی لمبائی دیگر انگلیوں کے مقابلہ میں کبھی نہیں بھولوں گی، میرے باپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میں عشران کے لشکر میں حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا، طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے کپڑے کے عوض نیزہ دے گا، میں اسے اس کی جزا دوں گا۔ میں نے کہا:اس کی جزا کیا چیز ہو گی؟ اس نے کہا:میں اپنی پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کی اس سے شادی کروں گا، میں نے اسے نیزہ دے دیا اور اس کے پاس ہی چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی اور پھر وہ بالغ بھی ہوگئی، میں اس کے پاس گیااور اس سے کہا: میری اہلیہ کو میرے لئے تیار کرو، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے تیار نہیں کروں گا تاوقتیکہ تو اس نیزے کے علاوہ بھی اس کا کوئی مہر بتائے، میں نے قسم اٹھائی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس میں خیر نہیں۔ اس بات نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ تو قسم کی وجہ سے گنہگار ہوا اور نہ تیرا ساتھی ہوا۔
Takhreej
(۷۰۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال سارۃ بنت مقسم، أخرجہ ابوداود: ۳۳۱۴ (انظر: ۲۷۰۶۴)
Explanation
فوائد:… سیدنامعقل بن یسارb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جَاء َ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ إِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّہَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُہَا فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَنَہَاہُ فَقَالَ: ((تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمْ۔))… ایک آدمی، نبی کریمa کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے، البتہ وہ ہے بانجھ، تو کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟ آپ a نے اس کو منع فرمایا، پھر دوسری بار آگیا، آپ a نے اس کو روکا، جب وہ تیسری بار آیا تو آپ a نے اس کو منع کیا اور فرمایا: ’’ایسی عورتوں سے شادی کرو، جو زیادہ بچے جننے والی اور خوب محبت کرنے والی ہوں، یقینا میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔‘‘ (ابوداود: ۲۰۵۰، نسائی: ۳۲۲۹) نکاح کا مقصد صرف شہوت رانی نہیں، بلکہ اولاد ہے، البتہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے نکاح جائز ہے، لیکنیہ عام طور پر بڑی عمر میں ہوتا ہے، نوجوان آدمی کو تندرست خاتون سے شادی کرنی چاہیے۔
7010
Zaeef
کسی عیب کی وجہ سے منکوحہ کو ردّ کر دینے کا بیان
۔ (۷۰۱۱)۔ عَنْ جَمِیْلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ شَیْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَکَرَ أَنَّہ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌیُقَالُ لَہُ: کَعْبُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ a تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا وَضَعَ ثَوْبَہ، وَقَعَدَ عَلَی الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِکَشْحِہَا بَیَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ: ((خُذِیْ عَلَیْکِ ثِیَابَکِ۔)) وَلَمْ یَأْخُذْ مِمَّا آتَاھَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۸)
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
Takhreej
(۷۰۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جمیل بن زید الطائی، ثم ان فی اسناد حدیثہ ھذا اضطرابا، أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۷/ ۲۲۳، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۶۴۶، والبیھقی: ۷/ ۲۵۶ (انظر: ۱۶۰۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن کسی عیب کی وجہ سے خاوند کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔
7011
Zaeef
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
۔ (۷۰۱۲)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَرْمِنْہُنَ أَرْبَعًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار پسند کر لو (اور باقی چھوڑ دو)۔
Takhreej
(۷۰۱۲) حدیث صحیح بطرقہ وشواہدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۵۳، والترمذی: ۱۱۲۸(انظر: ۴۶۰۹)
Explanation
فوائد:… ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَسْلَمَ وَلَہٗعَشْرُنِسْوَۃٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃٍ فَاَسْلَمْنَ مَعَہٗ۔ … جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، وہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہو گئیں۔ اس میں اس طرح کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ ان چار بیویوں کو اپنے عقد میں رکھے، جن سے پہلے نکاح کیا تھا۔
7012
Sahih
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
۔ (۷۰۱۳)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدُرْوُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ إِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
Takhreej
(۷۰۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸(انظر: ۱۴۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہd۔
7013
Sahih
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
۔ (۷۰۱۴)۔ عَنْ مَطَرِ نِ الْوَرَّاقِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ aیَطُوْفُ عَلٰی تِسْعِ نِسْوَۃٍ فِیْ ضَحْوَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۳۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میں نو بیویوں پر چکر لگاتے (جماع کرتے) تھے۔
Takhreej
(۷۰۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸(انظر: ۱۴۱۰۹)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۷۱۴۲) کی شرح میں ان امہات المومنین کے نام پیش کیے گئے ہیں۔
7014
Sahih
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
۔ (۷۰۱۵)۔ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ فَیْرُوْزَ أَنَّ أَبَاہُ فَیْرُوْزَ أَدْرَکَہُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَہُ أُخْتَانِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((طَلِّقْ اَیَّتَہُمَا شِئْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۰۳)
۔ ضحاک کہتے ہیں: میرے باپ فیروز نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے جس ایک کوچاہتا ہے، چھوڑ دے۔
Takhreej
(۷۰۱۵) اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابوداود:۲۲۴۳، والترمذی: ۱۱۲۹، وابن ماجہ: ۱۹۵۱(انظر:)
7015
Sahih
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
۔ (۷۰۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِیْ اِمْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاھُمَا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۵)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔
Takhreej
(۷۰۱۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} …’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۳) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔ امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔ لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
7016
Sahih
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
۔ (۷۰۱۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْنَبَ ابَنَتَہُ عَلٰی زَوْجِہَا اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ بِالنِّکَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ یُحْدِثْ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۸۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی سیدنا زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کے سپرد کر دیا تھا اور کوئی نیا نکاح نہیں کیا تھا۔
Takhreej
(۷۰۱۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۲۴۰، والترمذی: ۱۱۴۳ (انظر: ۱۸۷۶)
7017
Sahih
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
۔ (۷۰۱۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّ ابْنَتَہُ زَیْنَبَ عَلٰی اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ وَکَانَ إِسْلَامُہَا قَبْلَ إِسْلَامِہِ بِسِتِّ سِنِیْنَ، عَلَی النِّکَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ یُحْدِثْ شَہَادَۃً وَلَا صَدَاقًا۔(مسند احمد: ۲۳۶۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کی طرف لوٹا دیا، حالانکہ سیدہ اپنے خاوند سے چھ سال پہلے مسلمان ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ نئی گواہی پیش کی اور نہ نئے مہر کا مطالبہ کیا۔
Takhreej
(۷۰۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… جب کوئی خاتون مسلمان ہو جائے، جبکہ اس کا خاوند ابھی تک کافر ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہو گی، اس عدت کے بعد وہ کسی سے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر شادی کرنے سے پہلے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو ان کو سابق نکاح اور مہر کی بنیاد پر ہی میاں بیوی سمجھا جائے گا، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، جیسا کہ نبی کریمa نے سیدہ زینبc کے ساتھ کیا، اگر ایسی خاتون عدت گزانے کے بعد اور خاوند کے مسلمان ہونے سے پہلے شادی کر لیتی ہے تو پہلے خاوند کا حق ختم ہو جائے گا۔
7018
Sahih
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
۔ (۷۰۱۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّ ابْنَتَہُ إِلٰی اَبِی الْعَاصِ بِمَہْرٍ جَدِیْدٍ وَنِکَاحٍ جَدِیْدٍ۔ (مسند احمد: ۶۹۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ اپنی بیٹی کو سیدنا ابو العاص کی طرف لوٹایا تھا۔
Takhreej
(۷۰۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس، أخرجہ الترمذی: ۱۱۴۲، وابن ماجہ: ۲۰۱۰ (انظر: ۶۹۳۸)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ روایت ضعیف ہے، سابقہ حدیث میں مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
7019
Zaeef
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
۔ (۷۰۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَۃٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَزَوَّجَتْ فجَائَ زَوْجُہَا الْأَوَّلُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِاِسْلَامِیْ فَنَزَعَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ زَوْجِہَا الْآخَرِ وَرَدَّھَا عَلٰی زَوْجِہَا الْأَوَّلِ۔ (مسند احمد: ۲۹۷۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوئی اور اس نے آگے شادی کرلی، لیکن اس کا پہلا خاوند نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی مشرف باسلام ہوا ہوں اور اس میری بیوی کو معلوم تھا کہ میں اسلام لا چکا ہوں، پھر بھی اس نے آگے شادی کر لی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون کو دوسرے خاوند سے واپس لے کر اس کو اس کے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا۔
Takhreej
(۷۰۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۲۲۳۹، وابن ماجہ: ۲۰۰۸(انظر: ۲۹۷۲)
Explanation
فوائد:… تاہم مسئلہ یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر پہلا خاوند مستحق ہے، عدت کے بعد خاتون کو اختیار مل جاتا ہے، لیکن پہلے خاوند کا انتظار کرنا درست ہے۔
7020
Zaeef
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
۔ (۷۰۲۱)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ اُمَیَّۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا یَتَحَدَّثُوْنَ عَنِ النَّبِیِّa قَالَ: ((إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَۃُ فَہِیَ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَطَأْھَا إِنْ شَائَتْ فَارَقَتْہُ، وَإِنْ وَطِئَہَا فَـلَا خِیَارَلَھَا وَلَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۵)
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔
Takhreej
(۷۰۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۲۲۳۹، وابن ماجہ: ۲۰۰۸(انظر: ۲۹۷۲)
7021
Sahih
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
۔ (۷۰۲۲)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَدَّثُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَۃُ وَھِیَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُھَا بِیَدِھَا فَاِنْ ھِیَ أَقَرَّتْ حَتّٰییَطَأَھَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ لَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۷)
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام fسے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔ ‘
Takhreej
(۷۰۲۲) تخریج: انظر الحدیث السابق،
7022
Sahih

Chapters

19
01
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
11 Hadith
02
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
5 Hadith
03
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
4 Hadith
04
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
4 Hadith
05
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
6 Hadith
06
رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
7 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
3 Hadith
08
دودھ چھڑاتے وقت عورت کو کچھ دینے کے مستحب ہونے کا بیان
1 Hadith
09
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
10
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
7 Hadith
11
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
4 Hadith
12
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
8 Hadith
13
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
2 Hadith
14
بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
1 Hadith
15
کسی عیب کی وجہ سے منکوحہ کو ردّ کر دینے کا بیان
1 Hadith
16
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
5 Hadith
17
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
3 Hadith
18
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
1 Hadith
19
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
7 Hadith
No chapter matched that.