۔ سیدنا حجاج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کونسی چیز ہے، جو دودھ پلانے والی کے حق کو مجھ سے ادا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا ایک لونڈی۔
فوائد:… اس حق سے مراد اجرت نہیں ہے، اجرت علیحدہ چیز ہے اور دودھ چھڑاتے وقت مرضِعہ کو عطیہ دینا علیحدہ چیز ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدت ِ رضاعت کی تکمیل پر مرضِعہ کو ایک غلام یا لونڈی دے کر اس کے احسان کا جواب دیا جائے، جیسے اس نے بڑی احتیاط سے ایک بچے کو پالا پوسا اور اس کی خدمت کر کے اس کو سہارا دیا اور والدین کی اس مشقت سے مستغنی کیے رکھا، ایسے ہی غلام یا لونڈی کی صورت میں اس کو ایک نفس کا عطیہ دیا جائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۂ مائدہ: ۸۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۹۸۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اتفاقی طور پر کپڑے کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ عورت کی رضامندی کے مطابق کوئی چیز بھی دی جا سکتی تھی۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں اور سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں عورتوں سے نکاح متعہ کیا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخر میں ہمیں منع کر دیا تھا۔
Takhreej
(۶۹۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۵(انظر: ۱۴۲۶۸)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جن صحابہ نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کے ادوارِ خلافت میں نکاحِ متعہ کیا، ان کو ناسخ دلیل کا علم نہیں تھا، بالآخر سیدنا عمر b نے ان کوبھی منع کر دیا۔
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اس بات کا علم ہوا کہ وہ متعہ کی رخصت دیتے ہیں تو انھوں نے ان کو کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔
۔ عبد الرحمن بن نعیم اعرجی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے متعہ کے نکاح کے بارے میں سوال کیا، وہ غصے میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زنا کار اور بدکار نہ تھے۔
۔ سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے دن نکلے، ہم پندرہ روز وہاں ٹھہرے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی، میں اور میرا چچا زاد مکہ کے زیریںیا بالائی علاقے میں گئے، وہاں ہم بنی عامر بن صعصعہ کی ایک نوجوان لڑکی سے ملے، گویا کہ وہ لمبی گردن والی نوخیز اونٹنی تھی، میں خوش شکل نہ تھا، لیکن میری چادر بالکل نئی تھی اور میرے چچا کے بیٹے پر پرانی اور بوسیدہ چادر تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا تو ہم میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: کیایہ کرنا درست ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، پھر اس نے دیکھنا شروع کر دیا، جب وہ میرے چچا زاد بھائی کی جانب دیکھتی تو میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہتا: میرییہ چادر بالکل نئی ہے اور اس کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے۔ اس نے کہا: تیرے چچا زاد بھائی کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پس اس نے میرے چچا زاد بھائی سے متعہ کر لیا، بعد میں ہم ابھی مکہ سے باہر نہیں آئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا۔
۔ سیدنا سبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، جب ہم عسفان میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میںداخل ہو چکا ہے۔ سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس طرح تعلیم دیں، جس طرح اس قوم کو تعلیم دی جاتی ہے جو آج پیدا ہوئی ہو، سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں نے انکار کر دیا ہے، البتہ وہ مقررہ وقت تک ماننے کے لیے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کرلو۔ میں نکلا ، میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا، ایک چادر میرے اوپر تھی، ایک چادر اس کے اوپر تھی۔ ہم ایک عورت کے پاس گئے، ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، جب وہ عورت میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھتی تواسے میری چادر سے عمدہ پاتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، بالآخر اس نے کہا: چادر تو چادر ہی ہے، آدمی کا بدل تو نہیں ہوتا، پس اس نے مجھے پسند کر لیا، میں نے اس سے دس دن کے لئے چادر کے عوض شادی کر لی، میں نے اس کے ساتھ ابھی تک ایک رات گزاری تھی کہ جب میں صبح کے وقت مسجد میں گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم میں سے جس نے بھی کسی عورت سے وقت مقررہ تک شادی کی ہے، جو عوض مقرر کیا ہے ،وہ اسے دے دے اور جو دے رکھا ہے، وہ واپس نہ لے اور اسے جدا کر دے، اللہ تعالی نے اس متعہ والے نکاح کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔
فوائد:… اس حدیث کے کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے، جس سے ایک حدیث دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی ہے، عورتوں سے نکاح متعہ کا یہ معاملہ فتح مکہ کے موقع پر پیش آیا تھا، نہ کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، نیز فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمa اور صحابہ احرام کی حالت میں نہیں تھے۔
۔ امام زہری کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبد العزیز کے پاس متعہ کا ذکرکیا، ربیع بن سبرہ نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر متعہ کا نکاح حرام قرار دیا تھا۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوطاس والے سال متعہ کی رخصت دی تھی۔
Takhreej
(۶۹۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۵(انظر: ۱۶۵۵۲)
Explanation
فوائد:… اوطاس طائف میں ایک وادی کانام ہے،غزوۂ اوطاس اور فتح مکہ کے واقعات ایک سال میں پیش آئے، بلکہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ فتح مکہ رمضان ۸ میں اور غزوۂ اوطاس اگلے ماہ یعنی شوال رمضان ۸ میں، اس لیے غزوۂ اوطاس کے سال سے مراد فتح مکہ کا واقعہ ہے، کیونکہ اس موقع پر آپ a نے تین دنوں کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر مکہ مکرمہ سے نکلنے سے پہلے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: ((فَاِنَِّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ حَرَّمَھَا عَلَیْکُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) … ’’بیشک اللہ تعالی نے اس کو قیامت کے دن تک حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (حدیث نمبر (۶۹۹۲)کے آخر میںیہ الفاظ گزر چکے ہیں)
ذہن نشین رہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ a نے نکاحِ متعہ کے حرام ہو جانے کی بات کو تاکیدا دوہرایا تھا،تاکہ سب لوگوں کو علم ہو جائے، جس روایت میں حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ کے حلال ہونے کا ذکر ہے، وہ خطا اور غلطی ہے۔
امام نووی نے کہا: صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ متعہ کی اباحت اور حرمت دوبار پیش آئی،یہ نکاح غزوۂ خیبر سے پہلے حلال تھا، آپ a نے خیبرکے موقع پر اس سے منع فرما دیا، دوسری بار فتح مکہ کے موقع پر اس کو تین ایام کے لیے جائز قرار دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جا رہا ہو، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Takhreej
(۶۹۹۶) اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۴۹، وابن ماجہ: ۲۲۷۷ (انظر: ۴۲۸۳)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود والا (یعنی دینے والا)، سود کھانے والا، اس کے دو گواہ،حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔
Takhreej
(۶۹۹۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۳۵، والترمذی: ۱۱۱۹ (انظر: ۷۲۱)
فوائد:… حلال کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے جو تین طلاق والی عورت سے نکاح اور پھر مباشرت کر کے اس کو اس کے پہلے خاوند کیلئے حلال کرتاہے۔ اس کاروائی میں عورت کی ذلت و توہین ہے، غیرت و حمیت کی کمی ہے اور اس میں شریک ہونے والوں کے مزاج کا گھٹیا اور کمینہ پن ہے، اسی لیے آپ a نے ایسے شخص کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامرb سے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالتَّیْسِ الْمُسْتَعَارِ؟)) قَالُوا: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ہُوَ الْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔)) … ’’کیا میںتمہیں کرائے پر لیے سانڈ کی خبرد نہ دے دوں؟‘‘ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپa نے فرمایا: ’’وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ تعالی حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعت کی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ: ۱۹۲۶)
معلوم ہوا کہ یہ حلالہ حرام فعل ہے، اس لیے جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جو نکاح حلالہ کی نیت سے کیا جائے گا، وہ فاسد ہو گا۔
جس خاتون کو تین طلاقیں دے دی جائیں، اس کا شریعت ِ اسلامیہ میں حل یہ ہے کہ وہ سابق خاوند سے ناامید ہو جائے اور گھر بسانے کی نیت سے آگے کسی اور آدمی سے شادی کر لے، اگر اتفاق سے وہ آدمی بھی اس کو طلاق دے دے تو وہ عدت کے بعد سابقہ خاوند سے نیا نکاح کر سکتیہے، اللہ تعالی کے اس فرمان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗمِنْبَعْدُحَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ} … ’’پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں، جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ یہ جان لیں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۰)
لیکنیہ ضروری ہے کہ دوسرا خاوند نکاح کے بعد حق زوجیت بھی ادا کرے۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام والا نہ خود نکاح کرے،نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے اور نہ منگنی کا پیغام بھیجے۔
Takhreej
(۶۹۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۹ (انظر: ۴۰۱)
Explanation
فوائد:… محرم نہ نکاح کر سکتا ہے، نہ کروا سکتا ہے اور نہ منگنی کا معاملہ طے کر سکتا ہے۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایاہے، راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے کہا: شغار کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا اور خود اس کی بیٹی سے نکاح کر لینا، اسی طرح ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بہن کا نکاح کرنا اور خود اس کی بہن سے نکاح کر لینا، جبکہ بیچ میں مہر نہ ہو۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا، امام مالک کہتے ہیں:شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دے اور میں اپنی بیٹی کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتا ہے: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے اور میں اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کر دیتا ہوں، یا تو مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دے اور میں تجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دیتا ہوں نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکا کی تجارت اور کنکری کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔