۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، … پھر وہی حدیث بیان کی۔
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: افلح بن ابی قعیس آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جس خاتون نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، یہ شخص اس کے خاوند کا بھائی تھا، پس اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دیا کر۔ … الحدیث۔ عباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیانکی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
فوائد:… جیسے رضاعت کی وجہ سے خواتین کی حرمت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح اگر دودھ پینے والی بچی ہو تو وہ بھی رضاعت کی وجہ سے بعض مردوں پر حرام ہو گی، اگر دودھ پلانے والی رضاعی ماں ہے، تو اس کا خاوند رضاعی باپ ہوگا، اس کا بیٹا رضاعی بھائی ہو گا، اس کا بھائی رضاعیماموں ہو گا، اس کا باپ رضاعی نانا ہو گا، رضاعی باپ کے والدین رضاعی دادا دادی ہوں گے، علی ہذا لقیاس، اسی طرح آگے علاتی اور اخیافی بہن بھائیوں کا سلسلہ ہو گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ اس کے خاوند کے جماع اور حمل کے نتیجے میں اترتا ہے، گویا عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے، لہذا دودھ پینے والے بچے یا بچی کا رشتہ عورت اور اس کے خاوند دونوں سے قائم ہو گا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ……فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیکیہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میںیہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔
فوائد:… دودھ کی کتنی مقدار سے رضاعت ثابت ہو گی؟ اس باب کے آخر میں وضاحت کی جائے گی۔
’’کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے کپڑوں سے نہ مکمل پردہ ہوتا ہے اور کام کاج کے دوران وجود کو چھپانا بھی مشکل ہوتا ہے، اور اُدھر سیدنا سالم b دیکھ رہے ہوتے تھے، اس چیز کو سیدنا ابوحذیفہb محسوس کرنے لگ گئے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔
Takhreej
(۶۹۶۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ’’فارضعیہ عشر رضعات‘‘ فقد انفرد فیہ ابن اسحاق، والصحیح ’’أرضعیہ خمس رضعات‘‘ وانظر الحدیث السابق
۔ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوحذیفہ کا آزاد شدہ غلام میرے پاس آتا ہے، جبکہ اب تو وہ داڑھی والا جوان ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلا ؤں وہ تو داڑھی والا ہے؟ پھر انھوں نے اس کو دودھ پلا دیا تھا اور وہ ان کے پاس آتا جاتا تھا۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئییہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا آپ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔
Takhreej
(۶۹۷۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۵۳(انظر: ۲۴۱۰۸)
Explanation
فوائد:… یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس میں غورو فکر کی ضرورت ہے۔سیدنا ابوحذیفہb نے سیدنا سالم b کو متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا رکھا تھا، وہ گھر میں بیٹوں کی طرف رہتا اور آتا جاتا تھا، جب یہ حکم اترا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں ہیں اور نہ ان پر حقیقی بیٹوں کے احکام لاگو ہوتے ہیں، تو اب اس سے پردہ فرض ہو گیا، آپ a نے ان کی مشکل کو یوں حل کیا کہ سیدنا ابو حذیفہb کی بیوی سیدہ سہلہc، سیدنا سالم b کو پانچ بار دودھ پلا دے۔
سیدہ عائشہ c کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریمa کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ a نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم b کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ c کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں:
(۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہbکے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریمa کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ c کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم b کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہc کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ c کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ a فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ a کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک ’’رَضْعَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ کو یہ بات سخت ناگوار گزری، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کامطلب یہ ہے کہ جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ اس کی خوراک صرف دودھ بن سکتا ہو تو اس عمر میں دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے اور مدت ِ رضاعت دو سال ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِکَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَاَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} … ’’اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں، جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۳) مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔
۔ ابو موسیٰ ہلالی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی نے بچہ جنا، لیکن اس کا دودھ رک گیا، اس لیے اس آدمی نے اس کا دودھ چوسنا اور پھر منہ سے باہر پھینکنا شروع کر دیا، (تاکہ دودھ رواں ہو جائے)، لیکن ہوا یوں کہ کچھ دودھ اس کے حلق میں اتر گیا، پس وہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، انھوں نے کہا: تیری بیوی تو تجھ پر حرام ہو چکی ہے، پھر وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’رضاعت اس وقت تک حرام نہیں کرتی، جب تک وہ گوشت نہ اگائے اور ہڈیوں کو مضبوط نہ کرے۔
فوائد:… بچہ مدت ِ رضاعت میں جو دودھ پیتا ہے، اس سے اس کا گوشت اگتا ہے اور اس کی ہڈیاں بڑتی اور مضبوط ہوتی ہیں، اس طرح سے وہ دودھ پلانے والی کا ایسا جزو بن جاتا ہے، جیسے وہ اپنے والدین کا جزو ہوتاہے اور یہی حرمت کی وجہ ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ چوسنے یا دو دفعہ چوسنے سے رضاعت حرام نہیں کرتی۔
Takhreej
(۶۹۷۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۵۴۵۸، والبیھقی: ۷/ ۴۵۴، وابن حبان: ۴۲۲۷(انظر: ۱۶۱۱۰)
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی تھی، میں نے اس پر ایک اور شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایکیا دو دفعہ دودھ پلایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایکیا دو دفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۶۹۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۵۱(انظر: ۲۶۸۷۳)
Explanation
فوائد:… ’’اَلرَّضْعَۃُ‘‘ (ایک بار دودھ پلانا): جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے۔
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اس طرح بھی بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ثابت نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۶۹۷۹) تخریج: أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایک دو بار دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، پچھلے باب کے آخر میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے ایک عورت سے شادی کی، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا: میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے، میںیہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے فلاں کی بیٹی سے شادی کی ہے ، اب ہمارے پاس ایک سیاہ فام عورت آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، جبکہ وہ بات کرنے والی کافرہ ہے، یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رخ موڑ لیا، میں پھر آپ کے چہرۂ مبارک کے سامنے سے آ گیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹ بول رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیسے جھوٹ بول رہی ہے، اب اس نے کہہ جو دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اب تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔
Takhreej
(۶۹۸۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرضِعہ (دودھ پلانے والی) کی شہادت قبول کی جائے گی اور اس پر عمل کرنا واجب ہو جائے گا، الا یہ کہ ایسے قرائن موجود ہوں، جو واضح طور پر مرضِعہ کے جھوٹا ہونے پر دلالت کر رہے ہوں، مثلا مدت ِ رضاعت میں بچے اور اِس خاتون کا ایک علاقے میں جمع ہی نہ ہونا۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ a نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہ ہوسکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ایک آدمی اور ایک عورت۔
Takhreej
(۶۹۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا لضعف الشیخ من اھل نجران، ومحمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی مجمع علی ضعفہ، واتھمہ ابن حبان بالوضع، وابوہ ضعّفہ غیر واحد، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۳۹۸۲(انظر: ۵۸۷۷)