TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7046 - ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان - ولیمہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۶)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ سَمِعْتُ أَبَا غَادِیَۃَ الْیَمَانِیَّ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَجَائَ رَسُوْلُ کَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَا ھُمْ، فَمَا قَامَ اِلَّا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَخَمْسَۃٌ مِنْہُمْ، اَنَا أَحَدُھُمْ، فذَھَبُوْا فَأَکَلُوْا، ثُمَّ جَائَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَغَسَلَ یَدَہ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! یَا أَھْلَ الْمَسْجِدِ اِنَّکُمْ لَعُصَاۃٌ لِأَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۱)
۔ ابو غادیہیمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نافرمان ہو۔
7046
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۷۰۴۶) تخریج:اسنادہ ضعیف، ابو غادیۃ الیمامی، جھلہ ابو زرعۃ العراقی وابن حجر (انظر: ۷۸۸۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… مسلمان کی دعوت قبول کرنا حق ہے، خاص طور پر ولیمہ کی دعوت، اس لیے باہتمام اس حق کو ادا کرنا چاہیے، وگرنہ نبی کریمa کی نافرمانی ہو گی۔ بعض احادیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی وجہ سے دعوت قبول نہ کی جائے، لیکن دعوت کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا بھی جائز ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدریb بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہa کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا (دسترخوان پر) رکھا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ اس پر رسول اللہ a نے فرمایا: ((دَعَاکَ اَخُوْکَ وَ تَکَلَّفَ لَکَ فَصُمْ مَکَانَہٗاِنْشِئْتَ۔)) …’’تیرے بھائی نے تجھے دعوت دی اور تیرے لیے تکلف کیا، (اس لیے روزہ توڑ دے) اور اگر چاہے تو اس کی جگہ پر ایک اور روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی، قال الحافظ ابن حجر: اسنادہ حسن) اگر واقعی نظر آ رہا ہے کہ داعی نے بڑے تکلف اور رغبت سے کھانا تیار کیا ہے تو نفلی روزہ توڑ دینا چاہیے، اگر اجر و ثواب ہی مطلوب ہو تو دوبارہ روزہ رکھ لیا جائے۔

Related Chapters

613
1
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
Sahih Bukhari
2
Chapter: The command to accept invitations
دعوت دینے کو والے کا بلا وا قبول کرنے کا حکم
Sahih Muslim
3
(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Accepting The Invitation (To A Meal)
باب: روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Accepting The Invitation
باب: دعوت قبول کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Accepting The Gift and Accepting The Invitation
باب: ہدیہ تحفہ اور دعوت قبول کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Accepting Gifts And Reciprocating For Them
باب: ہدیہ قبول کرنے اور اس کا بدلہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
11
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
13
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
Musnad Ahmad
15
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
17
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
18
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
Sahih Bukhari
19
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
Sahih Bukhari
20
(73) CHAPTER. If somebody refuses an invitation [to a Walima (wedding banquet)] he indeed disobeys Allah and His Messenger .
جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
Sahih Bukhari
21
(74) CHAPTER. Whoever accepted the invitation to a meal of trotters.
جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے ۔
Sahih Bukhari
22
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
Sahih Bukhari
23
(22) CHAPTER. The order of the Wali (chief ruler) sending two Amir (governors) to one place that they should coopertae and agree with each other and should not differ with one another.
حاکم دعوت قبول کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
24
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
Sahih Muslim
25
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
26
CHAPTER: Regarding A Fasting Person Who Is Invited To A Walimah (Wedding Feast).
باب: روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding Calling Idolators To Islam.
باب: کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Calling The Idolaters (To Accept Islam).
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Regarding Duals.
باب: مقابل یا حریف کو مقابلہ میں آنے کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: What has been reported about accepting invitations.
باب: دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Regarding the recommendation for holding a wedding feast.
باب: نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: How long should the wedding feast last.
باب: دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: If two invitations come at the same time, which should be given precedence?
باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
37
باب: سحری کی دعوت دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
(1)Chapter: What Has Been Related That Salat Is Not Accepted Without Purification
باب: وضو (طہارت) کے بغیر نماز مقبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About 'The Salat Of A Woman Who Has Reached The Age Of Menstruation Is Not Accepted Without A Khimar'
باب: اوڑھنی کے بغیر عورت کی نماز کے قبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
Jam e Tirmazi
46
Chapter: [What Has Been Related] About The Hour That Is Hoped For On Friday
باب: جمعہ کے دن کی وہ گھڑی جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Khutbah On the Minbar
باب: منبر پر خطبہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: (What Has Been Mentioned) About A Man Performing Ghusl When He Accepts Islam
باب: قبول اسلام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
1395
۔ (۱۳۹۵) عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَقِیَنَا أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَقَالَ أَرِنِیْ أُقَبِّلُ مِنْکَ حَیْثُ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِِّلُ فَقَالَ بِقَمِیْصِہِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۵)
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں ملے اور کہنے لگے: ادھر آئو میں تمہیں اس مقام پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بو سہ دیتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے قمیص اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Musnad Ahmad
1567
۔ (۱۵۶۷) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحَمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلٰی ھِشَامِ بْنِ زُھْرَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ) فِھَی خِدَاجٌ، ھِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔)) قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: إِنِّیْ أَکُوْنُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِْمَامِ، قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ذِرَاعِیْ، فَقَالَ: یَافَارِسِیُّ! اِقْرَأْھَا فِیْ نَفْسِکَ ،إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ فَنِصْفُہَا لِیْ وَنِصْفُہَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُوْا یَقُوْلُ فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ، وَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: أَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ، فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ، وَقَالَ: ھٰذِہٖبَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ،یَقُوْلُ الْعَبْدُ: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} قَالَ: أَجِدُھاَ لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سأَلَ، قَالَ یَقُوْلُ عَبْدِیْ: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ۔)) (مسند احمد: ۷۸۲۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، نامکمل ہے۔ ابو لسائب نے سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بسا اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، (تو اس وقت میں فاتحہ کی تلاوت کیسے کروں)؟ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیتے ہوئے میرے بازو کو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیاکر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ سیّدناأبو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاتحہ پڑھو، جب بندہ {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتاہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔ جب بندہ {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری شان بیان کی ۔ اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ (اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، جب بندہ کہتا ہے: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میں اس (آیت کے دوسرے جملے کو) اپنے بندے کے لیے پاتا ہوں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا،جب بندہ کہتا ہے: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا ہے۔
Musnad Ahmad
1673
۔ (۱۶۷۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْھُرَیْرَۃَ أَوْغَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلاَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّا صَلّٰی، قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلاَتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ، وَاللّٰہِ مَاأُبَالِیْ، اِخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
1769
۔ (۱۷۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْ قُطْنٍ وَأَبُوْ عَامِرٍ قاَلاَ حَدَّثَنَا ھِشَامٌ یَعْنِیْ الدَّسْتَوَائِیَّ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ لَأُقَرِّبَنَّ لَکُمْ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ صَلاَۃَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ فَکَانَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقْنُتُ فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَصَلاَۃِ الْعِشَائِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ فِی حَدِیْثِہِ: الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَیَدْعُوْا لِلْمُؤُمِنِیْنَ وَیَلْعَنُ الْکُفَّارَ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ وَیَلْعَنُ الْکَافِرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تمہارے سامنے رکھوںگا،ایک روایت میں ہے:بلاشبہ نماز کے لحاظ سے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں، پس سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ظہر، عشاء اورفجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں قنوت کیا کرتے تھے، جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے، اس میں مؤمنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
6661
۔ (۶۶۶۱)۔ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ ابْنِ آدَمَ لَہُ حَظُّہُ مِنَ الزِّنَا، فَزِنَا الْعَیْنَیْنِ النَّظْرُ، وَزِنَا الْیَدَیْنِ الْبَطْشُ، وَزِنَا الرِّجْلَیْنِ الْمَشْیُ، وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَیَتَمَنَّی وَیُصَدِّقُ ذَالِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ۔)) وَحَلَّقَ عَشْرَۃً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَہُ السَّبَابَۃَ فِیْہَا،یَشْہَدُ عَلٰی ذَالِکَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ، لَحْمُہُ وَدَمُہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۳۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کا زنا میں حصہ ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پائوں کا زنا چلنا ہے،منہ کا زنا بوسہ لینا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ ان امور کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دس کے عدد کا حلقہ بنایا اور دوسرے ہاتھ کی انگشت ِ شہادت کو اس میں داخل کیا اور کہا:ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
6862
۔ (۶۸۶۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ اَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبُرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ نِسَائُ قُرَیْشٍ، اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ وَاَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیْرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
Musnad Ahmad
11306
۔ (۱۱۳۰۶)۔ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَمَدَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ إِلٰی نِصْفِ مُدِّ شَعِیْرٍ فَطَحَنَتْہٗ،ثُمَّعَمَدَتْإِلٰی عُکَّۃٍ کَانَ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ سَمْنٍ، فَاتَّخَذَتْ مِنْہُ خَطِیْفَۃً، قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَتْنِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ فِی أَصْحَابِہِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ أَرْسَلَتْنِیْ إِلَیْکَ تَدْعُوْکَ، فَقَالَ: ((أَنَا وَمَنْ مَعِی؟)) قَالَ: فَجَائَ ھُوَ وَمَنْ مَعَہٗ،قَالَ: فَدَخَلَتُفَقُلْتُلِأَبِی طَلْحَۃَ: قَدْ جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَنْ مَعَہٗ،فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَۃَ فَمَشٰی إِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ھِیَ خَطِیْفَۃٌ إِتَّخَذَتْہَا أُمُّ سُلَیْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدِّ شَعِیْرٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَأُتِیَ بِہِ، قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ فِیْہَا ثُمَّ قَالَ: ((أَدْخِلْ عَشَرَۃً۔)) قَالَ: فَدَخَلَ عَشَرَۃٌ فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَۃٌ فَأَکَلُوْا، ثُمَّ عَشَرَۃٌ، ثُمَّ عَشَرَۃٌ، حَتّٰی أَکَلَ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ، کُلُّہُمْ أَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، قَالَ: وَبَقِیَتْ کَمَا ھِیَ، قَالَ: فَأَکَلْنَا۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۹)
سیدناسیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نصف مد جو پیسے، پھرگھی کے لیے چمڑے کا بنا ہوا ڈبہ اٹھایا، اس میں تھوڑا ساگھی تھا۔ انہوں نے اس سے دلیہ سا بنایا، پھر انہوںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔ میں نے عرض کی: ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بھیجا ہے، وہ آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اور میرے ان ساتھیوں کو بھی؟ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تشریف لائے۔ میں نے گھر جا کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہرنکلے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو کے ساتھ چلنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صرف دلیہ ہے، جو ام سلیم نے نصف مد جو سے تیار کیاہے (اتنی مقدار تو کھانے کی نہیں ہے کہ اتنے لوگ کھا لیں)۔ بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندرتشریف لائے، وہ کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا اور فرمایا: دس آدمیوںکو اندر بلا لو۔ پس دس آدمیوں نے آکر پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے،پھر دس آدمی آئے، یہاں تک کہ چالیس افراد نے سیر ہو کر کھاناکھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی بچا رہا، پھر ہم گھر والوں نے وہ کھا لیا۔