۔ (۷۰۴۷)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِجْتَمَعَ الدَّاعِیَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَہُمْا بَابًا، فَاِنَّ أَقْرَبَہُمَا بَابًا أَقْرَبُہُمَا جِوَارًا، فَاِذَا سَبَقَ اَحَدُھُمَا فَأَجِبِ الَّذِیْ سَبَقَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۶۰)
۔ حمید بن عبد الرحمن، ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے آجائیں، تو ان میں سے جو زیادہ قریبی دروازے والا ہو، اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ زیادہ قریبی دروازے والا زیادہ قریبی پڑوسی ہے، اور اگر ان میں سے ایک پہلے پہنچ جائے تو پہلے آ جانے والی کی دعوت قبول کر۔
Takhreej
(۷۰۴۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۶(انظر: ۲۳۴۶۶)
Explanation
فوائد:… قریبی داعی کو ترجیح دی جائے۔
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
7047
Sahih