۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹا خواب بتایا، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ جو کے دانے میں گرہ لگائے۔
Takhreej
(۷۸۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یعنی ایسا آدمی اس وقت تک مبتلائے عذاب رہے گا، جب تک جو کے دانے میں گرہ نہ لگا لے اور گرہ لگا نہیں سکے گا، اللہ تعالی کی پناہ۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خواب میں جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۷۸۲۹) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۰۸۹)
Explanation
فوائد:… لوگ اپنی شہرت ، ناموری اور نیک نامی کے لیے جھوٹے خوابوں کا سہارا لیتے ہیں، ان احادیث میں خلافِ حقیقت خواب بیان کرنے کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے اور اس کو عذاب کی وعیدبھی سنائی گئی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے،اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اُس سے چُلو بھر رہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم۔ادھر ایک رسی ہے، جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کودیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا، پھرایک تیسرے آدمی نے پکڑا، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی،پھر اسے جوڑاگیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیں میںاس کی تعبیر بیان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم اس کی تعبیر بیان کرو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن کی مٹھاس ہے۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے، وہ حق ہے، جس پر آپ قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا۔ پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائزہوگا، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا،پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا، پس وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میںغلطی کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! قسم نہ اٹھاؤ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے، جنت میں جس جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں، وہ مجھے اڑا کر لے جاتا ہے، جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ) تمہارا بھائی عبداللہ نیک آدمی ہے۔
فوائد:… ۱۵ فروری ۲۰۱۴ ء کو میری اہلیہ محترمہ ام میمون وفات پا گئی تھیں، ان کی سہیلیوں نے ان کے بارے میں بڑے اچھے اچھے خواب دیکھے، میرے محترم والد نے رات ایک بجے ان کے بارے میں یہ خواب دیکھا کہ وہ ایسی گھوڑی پر سوار ہو کر گھر آئی ہیں، جو اڑ کر ہمارے گھر آئی ہے اورانھوں نے بہت اچھا اور خوبصورت لباس زیب ِ تن کیا ہوا تھا، آتے ہی والدہ محترمہ سے محو کلام ہو گئیں، ابو جی ملاقات کرنے کے لیے اٹھے، اتنے میں آنکھ کھل گئی، ابو جی نے اسی وقت ہماری والدہ کو بیدار کر کے یہ خواب سنا کر خوش کیا اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد فوراً میرے سسر کے گھر گئے اور ان کو یہ خواب سنایا۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو وہ آتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر وہ خواب بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان کروں، میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہے اور مجھے آگ کی جانب لے جارہے ہیں، وہاں ایک منڈیر تھی، جس طرح کنوئیں کی منڈیر ہوتی ہے اور اس کے دو ستون تھے، اس میں کچھ لوگ تھے، جنہیں میں پہچانتا تھا میں نے یہ دیکھ کر کہنا شروع کردیا: میں آگ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں، ان دو فرشتوں کو ایک اور فرشتہ ملا، اس نے مجھ سے کہا: عبداللہ آپ ہر گز نہ ڈریں، میں نے یہ خواب اپنی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا، انہوں نے اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، بس ایک بات ہے کہ اگر وہ رات کو قیام کرنا شروع کر دے (تو بہت اچھا ہو گا)۔ سالم کہتے ہیں: (یہ تعبیر سننے کے بعد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے (یعنی رات کا زیادہ حصہ عبادت میں مصروف رہتے تھے)۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا، جیسے سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ میری دو انگلیوں میں سے ایک پر گھی لگا ہے اور دوسری پر شہد اور میں دونوں انگلیوں کو چاٹ رہا ہوں، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعبیر بتائی کہ تم دو کتابیں تو رات اور قرآن مجید پڑھو گے۔ پس وہ یہ دونوں کتابیں پڑھتے تھے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں سورۂ ص لکھ رہا ہوں، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا ہوں تو میں نے دیکھا کہ دوات، قلم اور میرے ارد گرد موجود ہر چیز نے سجدہ کیا، جب میں نے یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اس سورت میں سجدۂ تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، بکر بن عبد اللہ المزنی لم یسمع من ابی سعید الخدری، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۳۲، والبیھقی: ۲/ ۳۲۰ (انظر: ۱۱۷۴۱)
۔ عمارہ بن خزیمہ، یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ وہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کی شہادت کو دو افراد کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، تو عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا، جو صحابی تھے، سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا خزیمہ بن ثائب انصاری رضی اللہ عنہ نے نیند میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے اور سیدنا خزیمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
Takhreej
(۷۸۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عامر بن صالح الزبیری متروک، وفیہ الاختلاف الذی وقع فیہ علی یونس بن یزید وعلی الزھری، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۷۶۳۰ (انظر: ۲۱۸۸۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کررہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے اور ان سے فرمایا: اپنا خواب سچا کر لو۔ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
Takhreej
(۷۸۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، صالح بن ابی الاخضر ضعیف، وانظر الحدیث بالطریق الاول
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کررہا ہوں، جب میں نے یہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک روح روح کومل ہی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اوپر اٹھایا یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ نے اپنی پیشانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوسہ لے رہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھے خواب بہت بھلے لگتے تھے، بعض اوقات آپ خود سوال کرتے تھے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور جب کسی آدمی نے دیکھا ہوتا وہ اس کے متعلق خود پوچھ لیتا تھا، اگر کوئی نقصان دہ نہ ہوتا تو وہ اس خواب کی وجہ سے آپ کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو جاتا ایک عورت آئی اور کہا اے اللہ کے رسول! گویا کہ میں جنت میں داخل ہوئی ہوں اور وہاں میں نے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی ہے، جس سے جنت لرز اٹھی ہے میں نے دیکھا تو اچانک فلاں کا بیٹا فلاں کا اور فلاں کا بیٹا فلاں، یہاں تک کہ اس نے بارہ آدمی شمار کئے، اس سے پہلے حقیقی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا تھا، عورت خواب بتاتی ہے کہ انہیں لایا گیا ان پر میلے کچیلے کپڑے دئیے گئے تھے، ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، ان کے متعلق کہا گیا کہ انہیں نہر بیدخ یا نہر بیدج میں لے جائو، انہوں نے اس میں غوطہ لگایا وہ اس سے باہر آئے ان کے چہرے اس طرح چمک رہے ہیں، جیسا کہ چودہویں کا چاند ہے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے اور ایک پیالہ لایا گیا، جس میں ڈوکا کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں سے کھایا، وہ کسی بھی پہلو میں اسے پلتے ہیں تو پھل ہی پھل کھاتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ کھاتی ہوں، اتنی دیر میں حقیقی طور پر اس دستہ کے متعلق اطلاع دینے والا آیا اس نے ساری تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ فلاں، فلاں، فلاں حتیٰ کہ بارہ آدمی شمار کئے، وہ سب شہید ہو گئے ہیں، یہ اتنی ہی تعداد تھی جتنی اس عورت نے بیان کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو میرے پاس لے آئو۔ آپ نے اس سے فرمایا: اسے اپنا خواب سنائو ۔ اس عورت نے اسی طرح بیان کیا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بیان کیا تھا۔
Takhreej
(۷۸۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابویعلی: ۳۲۸۹، وابن حبان: ۶۰۵۴، والنسائی فی الکبری : ۷۶۲۲ (انظر: ۱۲۳۸۵)
Explanation
فوائد:… یہ خواب سچ تھا اور حقیقت کے عین مطابق تھا، اس خواب کی روشنی میں سابقہ ان احادیث کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، جن میں نیک خواب کو نبوت کا جزو قرار دیا گیا ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ہے اور میرا سر گر پڑا، میں اس کے پیچھے جاتا ہوں، اسے پکڑ کر پھر اس کی جگہ پر لگادیتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ شیطان کھیل کرے تو ہر گز لوگوں کو نہ بتائے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر مار دیا گیا ہے، پھر میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لڑھکتا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور پھر فرمایا: تم میں سے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے ہولناکی میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر وہ صبح کو لوگوں کو بتا رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۱۱ (انظر: ۸۷۶۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جن خوابوں کو برا اور شیطانی سمجھتا ہے، ان کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے خیال کو دفع کرنے کا جو طریقہ بتلایا، اس پر عمل کرے اور ان کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔
۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔
فوائد:… اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیٹ کے بجائے دوسرے اعضا میں یہ بڑا پن ہوتا، جیسے بازو یا سر وغیرہ، پیٹ بڑا ہونے کی بجائے اس کی ذہانت اور عقل زیادہ ہوتی تو یہ بہتر ہوتا، پیٹ کے بڑا ہونے میں تو کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ یہ تو قابل مذمت چیز ہے، کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، طبیعت میں کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔
۔ مولائے ابو اسرائیل سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خواب بیان کررہا تھا، اس نے اپنے موٹاپے اور بڑے پیٹ کا ذکر کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر تیرا یہ بڑا ہونا دوسرے اعضاء (یا صلاحیت) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Takhreej
(۷۸۴۳) تخریج: انظر الحدیث السابق (۷۸۴۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیٹ کی جانب اشارہ کیا اورفرمایا: اگر یہ بڑا پن کسی دوسرے (عضو یا عقلی صلاحیت وغیرہ) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Explanation
فوائد:… یہ روایات ضعیف ہے، بہرحال بسیار خوری کی وجہ سے پیٹ کا بڑا ہونا قابل مذمت ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو کنگن سونے کے رکھ دئیے گئے ہیں، میں ان کی وجہ سے گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا، مجھے اجازت ملی کہ میں ان پر پھونک ماروں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے ، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ یہ نمودار ہونے والے دو جھوٹے نبی ہوں گے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: ایک ان میں سے اسود عنسی ہے، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔
Takhreej
(۷۸۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۷۹، ۷۰۳۳، وأما قول ابن عباس فیہ: ذُکر لی فقد جاء من غیر ھذا الطریق ان الذی حدثہ بذالک وھو ابو ھریرۃ فقد أخرجہ البخاری: ۳۶۲۱، ۴۳۷۴، ومسلم: ۲۲۷۴(انظر: ۲۳۷۳)
Explanation
فوائد:… پھونک مارنے سے مراد ان جھوٹے مدعیان نبوت کی ہلاکت تھی۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے، جو مجھ پہ بڑے گراں گزرے اور انہوں نے مجھے بہت غمگین کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک مار دیں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دو کذاب ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صنعاء والا یعنی اسود عنسی ہے اور دوسرا صاحب ِ یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب۔
فوائد:… زمین کے خزانوں سے مراد قیصر و کسری کی سلطنتیں اور مال و دولت کے خزانے ہیں، یہ خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مل گئے تھے اور صنعاء اور یمامہ میں دو جھوٹوں نے نبوت کا دعوی بھی کیا تھا، لیکن ہلاکت ان کا مقدر بنی۔