TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خوابوں کی تعبیر کا بیان - خوابوں کی تعبیر کا بیان - Book 138 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 138 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 63 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

63 Hadith · 9 Chapters
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پاؤں کی جانب اور دوسرا سر کی جانب بیٹھ گیا، جو پائنتی کی جانب بیٹھا تھا، اس نے اس فرشتہ سے کہا جو سرہانے بیٹھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی مثال اس قوم کی مانند ہے، جو ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے، اس کے پاس نہ تو توشہ سفر ہے کہ اس جنگل کو طے کر سکے اور نہ ہی واپس لوٹنے کی گنجائش ہے، یہ قوم اسی حالت میں تھی کہ اس کے پاس ایک آدمی آتا ہے، جو دھاری دار جوڑ ا زیب تن کئے ہے اور وہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں سر سبز و شاداب باغیچے میں لے چلوں، جس کا منظر نہایت ہی دلربا ہے، کیا تم میرے پیچھے چلو گے؟ وہ قوم کہتی ہے: جی ہاں چلیں گے، وہ انہیں لے کر چلتا ہے اور انہیں سرسبز و شاداب باغیوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کرتا ہے، وہ ان میں کھاتے پیتے ہیں اور موٹے تازے صحت مند ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں یاد دہانی کراتا ہے، جب میری تم سے ملاقات ہوئی تھی تو تم کس حال میں تھے، پھر تم نے مجھ پر اعتماد کیا، میں نے تم سے عہد کیا تھاکہ میں تمہیں سرسبز وشاداب باغیچوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کروں گا، اگر تم میرے پیچھے چلو گے تو میں نے وارد کیا ہے، وہ قوم کہتی ہے: کیوں نہیں، ایسا ہی ہوا ہے، وہ کہتا ہے تو اب میں پھر کہتا ہوں: ان باغوں سے بھی زیادہ سرسبز باغ اور حسین منظر حوض اس سے آگے ہیں، میرے پیچھے چلو تو ایک گروہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے، ہم پیچھے جائیں گے، دوسرا گروہ کہتا ہے اتنا ہی ہمیں کافی ہے، ہم اسی پر مقیم رہنا پسند کرتے ہیں، ساتھ نہیں جاتے۔
Takhreej
(۷۸۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، ولین یوسف بن مہران، أخرجہ البزار: ۲۴۰۷، والطبرانی: ۱۲۹۴۰ (انظر: ۲۴۰۲)
Explanation
فوائد:… اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق دنیا میں رہ کر جنت کے حصول کی فکر کرے گا، وہ اس کے باغوں اور حوضوں میں جائے گا اور جو دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتا رہا وہ جنت سے محروم رہے گا۔
7848
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا، یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے پھوٹنا شروع ہو گیا، پھر جو بچ گیا، وہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد علم ہے۔
Takhreej
(۷۸۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۸۱، ۷۰۰۶، ومسلم: ۲۳۹۱ (انظر: ۵۵۵۴)
Explanation
فوائد:… ثابت ہوا خواب میں دودھ پینا یا کسی کو دینا یہ علم دین کی اشاعت ہے اور اس علم دین کو حاصل کرنا ہے۔
7849
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے متعلقہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ابوبکر کھڑے ہوئے ایک یا دو ڈول کنوئیں سے پانی کے کھینچتے ہیں، ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ تعالی انہیں معاف فرمائے، پھر عمر نے ڈول کھینچا ہے، پس وہ بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا، میں نے لوگوں میں سے اتنا قوی کسی کو نہیں دیکھا، (انھوں نے اس قدر ڈول کھینچے کہ) لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا لیے۔
Takhreej
(۷۸۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۳۳، ومسلم: ۲۳۹۳(انظر: ۴۸۱۴)
Explanation
فوائد:… یہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خلافت کی طرف اشارہ ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدت ِ خلافت کا مختصر ہونا ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدت خلافت دس برس سے بھی زیادہ تھی، انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خوب خدمت کی۔
7850
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو ایک خواب دیکھا کہ ایک نیک آدمی ہے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے ساتھ وابستہ ہوگئے ، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وابستہ ہوگئے ہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وابستہ ہوگئے ہیں۔سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم یہ بات سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے کھڑے ہوئے تو ہم نے کہا: نیک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، ان کے ساتھ وابستہ یکے بعد دیگرے وابستہ ہونے والوں سے مراد اس دین کے والی اور خلیفے ہیں، جس دین کے ساتھ اللہ تعالی نے اپنی نبی کو مبعوث فرمایا۔
Takhreej
(۷۸۵۱) تخریج: ضعیف، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۶۳۶ (انظر: ۱۴۸۲۱)
7851
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، یہ آدمی سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے بغیر وفات نہیں پائیں گے، ہم نے اس سے کہا: تمہیں کیسے علم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب دیکھا کہ میرے تین صحابہ کا وزن کیا گیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو یہ وزن میں بڑھ گئے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وزن کئے گئے تو یہ بھی وزن میں بھاری ہوئے، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا وزن کچھ کم نکلا، بہرحال وہ نیک اور صالح ہیں۔
Takhreej
(۷۸۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۶۶۰۴)
Explanation
فوائد:… اگرچہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفۂ راشد تھے، لیکن ان کے دورِخلافت میں جو افراتفری بپا ہوئی تھی، اس کو کم وزن سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
7852
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور انعام دی، یہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک شگاف اور رخنہ دیکھا ہے، اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارے اندر رخنہ پڑے گا (یعنی شکست ہوگی)، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے، میں نے تاویل کی ہے کہ دشمن لشکر کا بہادر شہید ہوگا، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ محفوظ رہے گا اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے، اللہ بھلائی والا ہے اور اللہ بھلائی والا ہے ۔ وہی ہوا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا۔
Takhreej
(۷۸۵۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرج أولہ الی قولہ یوم احد : الترمذی: بعد الحدیث: ۱۵۶۱، وابن ماجہ: ۲۸۰۸، وأخرج بأطول مما ھنا الحاکم: ۲/ ۱۲۸، والبیھقی: ۷/ ۴۱ (انظر: ۲۴۴۵)
Explanation
فوائد:… یہ تعبیریں غزوۂ احد کے موقع پر پوری ہوئیں، گائے ذبح ہونے کی تعبیر اسی غزوہ کے موقع پر ستر صحابۂ کرام کی شہادت ہے۔
7853
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا، جیسا کہ سونے والا خواب دیکھتا ہے کہ میں نے ایک مینڈھا اپنے پیچھے بٹھایا ہوا ہے اور میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ دشمن لشکر کا آدمی قتل ہوگا اور میرے گھر والوں میں سے ایک آدمی شہید ہو گا۔
Takhreej
(۷۸۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۶۹، والبزار: ۲۱۳۱ (انظر: ۱۳۸۲۵)
Explanation
فوائد:… دشمنوں کا علم بردار طلحہ بن ابی طلحہ ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے تھے۔
7854
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہے، میں نے اس میں سے کچھ کھجوریں جمع کی ہیں اور منہ میں ڈال لی ہیں، میں نے ان میں ایسی گٹھلی پائی کہ جس سے مجھے تکلیف ہوئی، میں نے وہ کھجوریں منہ سے پھینک دی ہیں، پھر میں نے اور لے لیں اور انہیں جمع کیا ہے، ان میں گٹھلی موجود تھی، انہیں بھی میں نے پھینک دیا ہے، پھر اور لے لیں اور جمع کرکے منہ میں ڈالی ہیں ،ان میں بھی میں نے گٹھلی پائی اور انہیں پھینک دیا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس کی تعبیر کی اجازت دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر کرو۔ ‘ انہوں نے کہا: اس سے مراد آپ کا وہ لشکر ہے جو آپ نے بھیجا ہے وہ صحیح سلامت آئے گا اور مال غنیمت لے کر آئے گا، وہ ایک آدمی سے ملیں گے، وہ انہیں آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے چھوڑ دیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑدیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا حوالہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑ دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے نے مجھے یہی تعبیر بتلائی ہے۔
Takhreej
(۷۸۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید، أخرجہ الدارمی: ۲۱۶۲، والحمیدی: ۱۲۹۶(انظر: ۱۵۲۸۸)
7855
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں، ہمارے پاس ابن طاب کھجوریں لائی گئیں،میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت ملے گی اور آخرت میں حسن انجام ملے گا اور ہمارا دین نہایت عمدگی اختیار کر چکا ہے۔
Takhreej
(۷۸۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۷۰(انظر: ۱۳۲۱۹)
Explanation
فوائد:… ابن طاب، مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ایک قسم ہے، جو ابن طاب کی طرف منسوب تھی۔
7856
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ یعنی جحفہ مقام میں ٹھہر گئی، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ مدینہ کی وبا وہاں منتقل ہو گئی ہے۔
Takhreej
(۷۸۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۰۳۸، ۸۰۴۰ (انظر: ۵۸۴۹)
7857
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، میں نے ایک گندمی رنگ کا بہت زیادہ حسین، جو ایک آدمی ہوسکتا ہے، دیکھا، اس کے بال کانوں تک تھے، کنگھی کی ہوئی تھی اور اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور اس کے بال لہردار تھے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں نے ایک اور آدمی دیکھا، اس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی مانند تھی، یوں سمجھیں کہ لوگوں میں اس کی مشابہت ابن قطن سے پڑتی تھی، یہ بھی دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کررہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔
Takhreej
(۷۸۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۰۲، ۶۹۹۹، ومسلم: ۱۶۹ (انظر: ۶۰۹۹)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مختلف خواب تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی تعبیر بھی بیان کر دی ہے۔
7858
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا پروردگار انتہائی خوبصورت شکل میں میرے خواب میں میرے پاس آیا، میرا خیال ہے کہ یہ نیند کا واقعہ ہے، اور اللہ تعالی نے فرمایا: اے محمد! آپ جانتے ہیں یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر اللہ تعالی نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری کمر پر رکھایہاں تک کہ میں نے اپنی چھاتی میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی، مجھے زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا علم ہو گیا، پھر اللہ تعالی نے فرمایا: اے محمد ! کیا آپ جانتے ہیں مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی وہ کفاروں اور درجات میں کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: کفارے اور درجات کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا: کفارات یہ ہیں: مساجد میں ٹھہرنا، جماعتوں کے لیے قدموں پر چل کر جانا، تنگی کے باوجود وضو پورا کرنا، جس نے یہ اعمال کیے، وہ زندہ بھی خیر سے رہا اور اس کی موت بھی خیر پر آئی اور وہ اپنی خطائوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔پھر اللہ تعالی نے فرمایا: اور اے محمد ! جب آپ نماز ادا کرلیں تو یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کو کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں سے فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔) اوردرجات یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کہنا اور رات جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھنا۔
Takhreej
(۷۸۵۹) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۳(انظر: ۳۴۸۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے ربّ کو دیکھنے کا یہ واقعہ خواب میں پیش آیا، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((… فَنَعِسْتُ فِی صَلَاتِیْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ ، فَإِذَا اَنَا بِرَبِّیْ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ۔)) … پس میں نماز میں اونگھنے لگ گیا، یہاں تک کہ میں بوجھل ہو گیا، پس اچانک میں اپنے رب کے ساتھ تھا اور اللہ تعالی انتہائی خوبصورت شکل میں تھے۔ (ترمذی) اور اس حدیث کے شروع میں بھی نیند کا ذکر ہے۔
7859
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ یزید فارسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ابھی تک زندہ تھے اور یزید مصحف لکھا کرتے تھے، میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے، جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: کیا ایسا ممکن ہے کہ تم اس آدمی کا حلیہ بیان کرسکو جو تم نے دیکھا ہے؟ یزید کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، میں نے درمیانے قد کا آدمی دیکھا ہے، اس کا گوشت اور چمڑا سفیدی مائل گندمی رنگ ہے، حسین انداز میں مسکراتے ہیں، آنکھیں سرمگین ہیں، آپ کا چہرہ اور دھاریاں نہایت حسین و جمیل گولائی والا ہے اور داڑھی سینے کو بھرے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حالت بیداری میں دیکھ لیتے تو اس سے بہتر بیان نہ کرسکتے،( یعنی بالکل حلیہ ٹھیک بتایا ہے)۔
Takhreej
(۷۸۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، یزید الفارسی فی عداد المجھولین، أخرجہ الترمذی فی الشمائل : ۳۹۲، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۵۶ (انظر: ۳۴۱۰)
7860
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، تحقیق اس نے حق دیکھا، کیونکہ شیطان میری تمثیل اختیار نہیں کر سکتا، ایک روایت میںہے: وہ میری مشابہت اختیار نہیں کرسکتا، ایک روایت میں ہے: وہ میری یکسانیت اختیار کر کے میری صورت ذہن میں نہیں ڈال سکتا، پس بیشک مؤمن بندے کا نیک اور سچا خواب نبوت کا سترھواں حصہ ہے۔
Takhreej
(۷۸۶۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۰۱ (انظر: ۷۱۶۸)
7861
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتایا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے کہا: پھر تم نے واقعی آپ کو ہی دیکھا ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکل کا ذکر کیا کہ (وہ ہستی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکل کی لگ رہی تھی)، اللہ کی قسم! میں نے ان کا ذکر کیا اور ان کے چلنے کا انداز بیان کیا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ صورت تو واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہے۔
Takhreej
(۷۸۶۲) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی فی الشمائل: ۳۹۱، والحاکم: ۴/ ۳۹۳، واسحاق بن راھویہ: ۲۶۱ (انظر: ۸۵۰۸)
7862
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس قسم کی مرفوع حدیث مروی ہے۔
Takhreej
(۷۸۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۹۴ (انظر: ۱۳۸۴۹)
7863
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا، یا فرمایا:گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا۔
Takhreej
(۷۸۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۹۳، ومسلم: ۲۲۶۶(انظر: ۲۲۶۰۶)
7864
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان کے لائق نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے۔
Takhreej
(۷۸۶۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۱۲۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۱۰، وفی الاوسط : ۱۲۵۶ (انظر: ۳۵۵۹)
7865
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ ابومالک اشجعی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے۔
Takhreej
(۷۸۶۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: فی الشمائل : ۳۸۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۵۵ (انظر: ۲۷۲۰۸)
7866
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، پس بیشک شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔
Takhreej
(۷۸۶۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۱۰، ۶۱۹۷(انظر: ۳۷۹۸)
Explanation
فوائد:… بیداری میں دیکھنے سے مراد صحت ِ رؤیت ہے۔
7867
Sahih