TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل - سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل - Book 142 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 142 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 73 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

73 Hadith · 17 Chapters
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لائو گے اور تم اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، اب کیا میں تمہیں وہ چیز بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کروگے تو تم آپس میں محبت کرنے لگ جائو گے پس تم آپس میں سلام کو عام کرو۔
Takhreej
(۸۲۴۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۴(انظر: ۹۷۰۹)
8248
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلائو، اور اس طرح بھائی بھائی بن جائو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۸۲۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۵۲ (انظر: ۶۴۵۰)
8249
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام عام کرو، تم سلامت رہو گے،صرف بعض لوگوں کو (ملاقات اور سلام کے لیے) ترجیح دینا بدترین بات ہے۔
Takhreej
(۸۲۵۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۴۷۷، ۹۷۹ (انظر: ۱۸۵۳۰)
Explanation
فوائد:… ظاہر بات ہے کہ مسلمان بوقت ِ ملاقات ایک دوسرے کے لیے سلامت و سلامتی اور رحمت و برکت کی دعائیں کریں گے تو نتیجتاً سلامتیاں ہی نصیب ہوں گی، دوسری احادیث کی روشنی میں سلام کی وجہ سے محبت بڑھے گی، ایمان میں اضافہ ہو گا اور جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔
8250
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تولوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب ٹوٹ پڑے، میں بھی ان میں تھا، جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو میں جان گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، پھر پہلی چیز جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، وہ یہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام پھیلائو، کھانا کھلائو، صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوں تو تم نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے۔
Takhreej
(۸۲۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۳۴، والترمذی: ۲۴۸۵ (انظر: ۲۳۷۸۴)
8251
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا زبیر بن غوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر تم سے پہلی والی امتوں کی بیماری سرایت کر جائے گی اور وہ بیماری حسد اور بغض ہے، یہ دین کو ٹنڈ منڈ کر دینے والی ہے، یہ بالوں کو مونڈنے والی نہیں ہے (یہ تو دین کا ستیاناس کر دیتی ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے اور کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کرو گے تو باہمی محبت کرنے والے بن جاؤ گے، پس سلام کو آپس میں عام کرو۔
Takhreej
(۸۲۵۲) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۲۵۱۰(انظر: ۱۴۱۲)
8252
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تم ایمان نہیں لائو گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے، …۔ ‘
Takhreej
(۸۲۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
8253
Sahih
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کہنا اہل جنت کا تحفہ ہو گا۔
Takhreej
(۸۲۵۴) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لاضطرابہ، لکن لہ شاھد موقوف من حدیث ابن عباس، رواہ البیھقی فی الشعب ، أخرجہ البزار: ۱۴۶۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۹۰(انظر: ۱۹۴۰۴)
8254
Zaeef
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سلام کرنے میںپہل کرے گا، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے قریب تر ہو گا۔
Takhreej
(۸۲۵۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۱۹۷ (انظر: ۲۲۱۹۲)
Explanation
فوائد:… بہت ساری احادیث ِ مبارکہ میں سلام کو عام کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
8255
Sahih
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا اسود بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوچکی تھی اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا، جبکہ ہم چل بھی رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! السلام علیکم، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ (اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا: جب آپ پر ایک آدمی نے سلام کہا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ معرفت کی بنا پر سلام ہو گا۔
Takhreej
(۸۲۵۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۹۴۹۱ (انظر: ۳۶۶۴)
8256
Sahih
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے، وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا، ہم نے بھی رکوع کیا، پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! السلام علیکم۔ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیا؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ، حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی، نیز قطع رحمی، جھوٹی گواہی، سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔
Takhreej
(۸۲۵۷) اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۱۰۴۹، والحاکم: ۴/ ۴۴۵ (انظر: ۳۸۷۰)
Explanation
فوائد:… عصر حاضر میں یہ امور ہوبہو پورے ہو چکے ہیں۔
8257
Sahih
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔
Takhreej
(۸۲۵۸) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیثیں السابقین
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے،نیز مسلمان کواس لیے سلام کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب آدمی ذاتی معرفت کی بنا پر سلام کہے گا تو وہ دراصل اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم نہیں ہو گا، جبکہ اب وہی کچھ ہو رہا ہے، جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیامت کی علامت قرار دیا تھا، اب کسی کو سلام کہنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ذاتی معرفت ہونی چاہیے، اجنبی لوگوں کا معاملہ گونگوں سے زیادہ نہیں ہے۔
8258
Sahih
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔
Takhreej
(۸۲۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ مطولا ومختصرا ابوداود: ۴۰۸۴، والترمذی: ۲۷۲۲، والنسائی فی الکبری : ۱۰۱۵۰(انظر: ۱۵۹۵۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں عَلَیْکَ السَّلَامُ کو مردوں کا سلام قرار دے کر اس سے منع کر دیا گیا ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ … کہنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبرستان میں جا کر خود اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ… ہی کہا؟
8259
Sahih
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا، وہ بھی بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیس نیکیاں حاصل کی ہیں۔
Takhreej
(۸۲۶۰) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۵۱۹۵، والترمذی: ۲۶۸۹ (انظر: ۱۹۹۴۸)
8260
Sahih
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
۔
۔ بنو نمیر کا ایک آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ابا جان آپ کو سلام کہتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَامُ (تم پر اور تیرے باپ پر بھی سلام ہو)۔
Takhreej
(۸۲۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل النمیری وابیہ، أخرجہ ابوداود: ۲۹۳۴، ۵۲۳۱ (انظر: ۲۳۱۰۴)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں:
8261
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوںنے کہا: ا ے ابو اسامہ ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔
Takhreej
(۸۲۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۹۲۷، والترمذی: ۳۶۸، وابن ماجہ: ۱۰۱۷،والنسائی: ۳/ ۵(انظر: ۴۵۶۸)
8262
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔
Takhreej
(۸۲۶۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۹۲۵، والترمذی: ۳۶۷،والنسائی: ۳/ ۵(انظر: ۱۸۹۳۱)
Explanation
فوائد:… علامہ سندھی حنفی نے کہا: یُشِیْرُ بِیَدِہ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے سلام کا جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی،بلکہ اس کو مکروہ بھی نہیں کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
8263
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
۔
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔
Takhreej
(۸۲۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ النسائی: ۳/ ۶ (انظر: ۱۸۳۱۸)
Explanation
فوائد:… نمازی کو سلام کہنا اور اس کا اشارہ کر کے جواب دینا، اس کا حکم کیا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۱۹۳۸)والا باب اور مفید بحث کا مطالعہ کریں۔
8264
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
۔
۔ سیدنا ابن جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتائوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔
Takhreej
(۸۲۶۵) تخریج: اسنادہ حسن فی المتابعات والشواھد،ثم ذکر الاحادیث التی تدل علی کراھۃ رد السلام علی غیر طھارۃ (انظر: ۱۷۵۹۷)
Explanation
فوائد:… سلام کا جواب دینے کے لیے وضو ضروری نہیں تھا، البتہ مستحب ضرور ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، سلام بھی اللہ تعالی کے ذکر کی ایک صورت ہے۔
8265
Sahih
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس تک پہنچے تو وہ سلام کہے، اگر اس کا ارادہ بیٹھنے کا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر جانے کے لئے کھڑا ہواور لوگ ابھی بیٹھے ہوں توپھر جاتے ہوئے سلام کہے، پہلی دفعہ کا سلام اس دوسری دفعہ کے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے (یعنی آتے وقت بھی سلام کہنا چاہیے اور جاتے وقت بھی، دونوں کی اہمیت برابر برابر ہے)۔
Takhreej
(۸۲۶۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۵۲۰۸،والترمذی: ۲۷۰۶ (انظر: ۹۶۶۴)
8266
Sahih
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں آئے، اس پر حق ہے کہ وہ سلام کہے اور جو مجلس سے کھڑا ہو تو اس پر بھی حق ہے کہ وہ جاتے وقت سلام کہے۔ اتنے میں ایک آدمی جانے کے لئے کھڑا ہوا، چونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک گفتگو میں مصروف تھے، اس لیے وہ سلام کہے بغیر چلا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے بات کو بہت جلدی بھلا دیا ہے۔
Takhreej
(۸۲۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۰۸ (انظر: ۱۵۶۱۵)
Explanation
فوائد:… پہلا سلام تو وہ ہے جو مجلس میں پہنچتے وقت کیا جائے اور دوسرا وہ ہے جو مجلس سے اٹھتے وقت کیا جائے، دونوں سلام ضروری ہیں، ایک کی اہمیت دوسرے سے زیادہ یا ایک دوسرے سے فائق نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی ضروری ہیں۔
8267
Zaeef

Chapters

17
01
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
3 Hadith
03
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
3 Hadith
04
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
4 Hadith
05
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
06
سوار، پیدل کوسلام کہے اور …
2 Hadith
07
بچوں اور عورتوں کو سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
08
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
09
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
11 Hadith
10
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
3 Hadith
11
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
12
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
5 Hadith
14
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
5 Hadith
15
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
4 Hadith
16
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
3 Hadith
17
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.