TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل - سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل - Book 142 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 142 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 73 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

73 Hadith · 17 Chapters
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
۔
۔ ابو دائود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالی کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالی ان کو بخش دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابوداود نفیع بن الحارث الاعمی متروک، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۶۲۶ (انظر: ۱۸۵۴۸)
8308
Zaeef
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۸۳۰۹) اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۳۷، والبخاری فی الادب المفرد : ۹۷۰ (انظر: ۱۶۰۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں قیامت کے دن قصاص اور بدلا دلانے کا ذکر ہے، یہاں اس کو ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ نے آپس میں معانقہ کیا تھا۔
8309
Sahih
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کل تمہارے پاس وہ لوگ آنے والے ہیں، جن کے دل اسلام کے لئے تم سے بھی زیادہ رقت آمیز ہیں۔ پس اشعری قبیلہ کے لوگ آئے، ان میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو وہ یہ رجز پڑھنے لگے: غَدًا نَلْقَی الْأَحِبَّہْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہْ …(کل ہم اپنے پیاروں کو ملیں گے، یعنی محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گروہ)، پس جب وہ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا، یہ سب سے پہلے لوگ تھے، جنہوں نے مصافحہ کا طریقہ ایجاد کیا۔
Takhreej
(۸۳۱۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۷۱۹۳ (انظر: ۱۲۵۸۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وفد مدینہ منورہ میں فتح خیبر کے بعد آیا تھا یہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں بغیر غزوہ میں شرکت کئے حصہ غنیمت ملا تھا۔ان کے دل خشیت الٰہی سے لبریز اور قبول حق میں تیز تھے وعظ و نصیحت سے جلد متاثر ہوئے تھے اور قسوت و سختی سے صحیح و سلامت تھے۔ اس لئے انہیں بہت زیادہ رقت والے قرار دیا گیا ہے۔
8310
Sahih
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا ، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔
Takhreej
(۸۳۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۴۹(انظر: ۲۷۰۰۹)
8311
Sahih
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیعت کرتے وقت عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۳۱۲) تخریج: صحیح (انظر: ۶۹۹۸)
8312
Sahih
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیا کرتے تھے اور اس آیت پر بیعت لیتے تھے کہ خواتین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گی … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا تھا، ما سوائے اس عورت کے کہ جس کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالک ہوتے تھے۔
Takhreej
(۸۳۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲۱۴، ومسلم: ۱۸۶۶(انظر: ۲۵۱۹۸)
Explanation
فوائد:… چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔
8313
Sahih
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
۔
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں:میرے باپ اور ان کے ساتھی ربذہ مقام میں اترے،وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہاں ہیں، پس ہم ان کے پاس آئے ہم نے انہیں سلام کہا، پھر ان سے کچھ سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے اپنی پر گوشت ہتھیلی ہماے سامنے ظاہر کی، پس ہم ان کی طرف اٹھے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔
Takhreej
(۸۳۱۴) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۶۶۱ (انظر: ۱۶۵۵۱)
8314
Sahih
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔
Takhreej
(۸۳۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد، أخرجہ الترمذی: ۱۷۱۶(انظر: ۵۳۸۴)
8315
Zaeef
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
۔
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دے رہا ہوں، میں نے حاضر ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کو ان پر پیش کیا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
Takhreej
(۸۳۱۶) تخریج: ضعیف لاضطراب اسنادہ ومتنہ، أخرجہ عبد الرزاق: ۲۳۹۴، والنسائی فی الکبری : ۷۶۳۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۷۸، والطبرانی: ۳۷۱۷ (انظر: ۲۱۸۶۳)
Explanation
فوائد:… مسئلہ کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہوں حدیث نمبر (۸۳۰۹)کے فوائد
8316
Zaeef
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔
Takhreej
(۸۳۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۲۱، ومسلم: ۱۷۶۸(انظر: ۱۱۱۶۸)
8317
Sahih
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
۔
۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ …۔
Takhreej
(۸۳۱۷م) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ذہن نشین کر لیں کہ صحابہ کرام کا سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے کھڑا ہونا محض ان کی تعظیم کے لیے نہیں تھا، بلکہ ان کو گدھے سے اتارنے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، کیونکہ وہ غزوۂ خندق کے موقع پر زخمی ہو گئے تھے۔
8317
Sahih
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کوئی شخص زیادہ پیارا نہ تھا، لیکن جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتے تھے تو وہ کھڑے نہ ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کو پسند نہیں کرتے۔
8318
Sahih
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
۔
۔ ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر او ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن ابن زبیر بیٹھے رہے، ان سے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تم بھی بیٹھ جائو، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کے فوائد میں اس حدیث کا ذکر کیا جا چکا ہے۔
8319
Sahih

Chapters

17
01
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
3 Hadith
03
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
3 Hadith
04
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
4 Hadith
05
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
06
سوار، پیدل کوسلام کہے اور …
2 Hadith
07
بچوں اور عورتوں کو سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
08
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
09
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
11 Hadith
10
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
3 Hadith
11
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
12
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
5 Hadith
14
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
5 Hadith
15
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
4 Hadith
16
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
3 Hadith
17
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.