۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔
فوائد:… غور کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری عادات و اطوار پر، کتنی سنجیدگی اور وقار ہے، چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ قبل ان عادات کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی پردہ کھولے اور اجازت سے پہلے کسی کے گھر میں نظر ڈالے، اس نے حد جتنا جرم کیا، اس کے لئے ایسا کرنا حلال نہیں تھا، اور اگر کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو اس کی آنکھ رائیگاں اور ہدر ہو جائے ہے، اگر کوئی آدمی اس دروازے پر سے گزرتا ہے، جس پر پردہ نہیں اور وہ اس گھر کی پردہ والی چیز دیکھ لیتا ہے تو اس پر غلطی کا الزام نہیں لگایا جائے گا، بلکہ ایسی صورت میں غلطی گھر والوں کی ہو گی۔
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ پر لٹکے ہوئے پردے سے دیکھا، آپ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کے قریب آ کر اس کی آنکھ میں یہ کنگھی مار دیتا، نظر کی وجہ سے ہی اجازت لینے کو مشروع قرار دیا گیاہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے گا، ان کو اجازت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
Takhreej
(۸۲۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۵۸(انظر: ۷۶۱۶)
Explanation
فوائد:… قرآن و حدیث میں کسی کے گھر داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے پر زور دیا گیا ہے، حتی کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلبی کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا گھر تیرے لیے حرم کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے جو آدمی تیرے حرم میں (بغیر اجازت کے) داخل ہو جائے، اس کو قتل کر دے۔
Takhreej
(۸۲۹۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن کثیر القصاب، ومحمدُ بن سیرین لم یسمع من عبادۃ، أخرجہ ابویعلی فی مسندہ (انظر: ۲۲۷۷۲)
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔
فوائد:… یعنی شادی شدہ خاتون کی اجازت دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس جانے سے پہلے اس کے خاوند سے اجازت طلب کی جائے اور پھر اس سے اجازت مانگی جائے۔
۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اِدھر علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔
۔ کلدہ بن حنبل کہتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مکہ فتح کے وقت دودھ، ہرنی کے بچے کا گوشت اور چھوٹی ککڑیاں دے کر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی بلند وادی کی جانب تھے،میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس جائو، السلام علیکم کہو اور پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں۔ عمرو نے بتایا کہ یہ واقعہ مجھے امیہ بن صفوان نے بتایا تھا، میں نے کلدہ سے نہیں سنا تھا، ضحاک اور ابن حارث نے کہا: یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے، ضحاک اور عبداللہ بن حارث نے دودھ اور ہرنی کے گوشت بھیجنے کا کہا ہے، ککڑی کا ذکرنہیں۔
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آئو تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے،جبکہ آپ ایک بالا خانے میں تشریف فرما تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،اے اللہ کے رسول! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟
۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔
Takhreej
(۸۲۹۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۴۹۴۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کے گھر جائیں تو سلام بھی کہا جائے اور اجازت طلب کی جائے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہا جائے اور پھر نام بتایا جائے اور کہا جائے اندر آنے کی اجازت ہے اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو جائیں اگر اجازت نہ ملے تو واپس آ جائیں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے، دراصل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لائو، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔
۔ عبید بن عمبیر بیان کرتے ہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گھر جا کر تین مرتبہ اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن جب اجازت نہ ملی تو وہ واپس ہو لئے، سیدنا عمر نے کہا: کیا میں ابھی ابو موسی عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سن رہا تھا، گھر والوں نے کہا: کیوں نہیں، یہ وہی تھے، انھوں نے کہا: اسے بلائو، پس بلایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:جو کچھ تم نے کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ہے، مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس جا رہا تھا، ہمیں یہی حکم ملا ہے، سیدنا عمر نے کہا: اس پر دلیل لائو وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، سیدنا ابو موسیٰ مسجد میں آئے یا انصار کی مجلس میں گئے اور گواہ کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارا سب سے چھوٹا بندہ ہی تیرے حق میں گواہی دے گا، پس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھے اور ان کے حق میں گواہی دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سنت مجھ سے مخفی رہ گئی ہے، بازاروں کی تجارت نے ہمیں غافل کر دیا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ، انھوں نے جوابا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تو کہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بھی تین بار ہی جواب دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا،بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹ آئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیچھے ہو لئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب بھی آپ نے سلام کہا، میں نے جواب دیا، مگر آپ کو سنایا نہیں تھا، دراصل میں زیادہ سے زیادہ آپ کا سلام اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے منقّی پیش کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ (نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کریں)۔
فوائد:… اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت لینے والا یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ آجکل لوگ اجازت طلب کرنے کے لیے صرف (M صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم y, I رضی اللہ عنہا om in sir?) کہتے ہیں، اجازت لینے کا یہ طریقہ تعلیمی اداروں میں عام ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے، جیسے طلبہ کو سلام کا شعور ہی نہیں ہے، ایسوں کو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا چاہئے، تاکہ نبی ٔ مہربان کی سنت ِ مبارکہ پر عمل ہو سکے اور رحمت و سلامتی کی دعا کا تبادلہ بھی ہو جائے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۸۳۰۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۱۲۴۴، وابن حبان: ۵۲۸۱، والبیھقی: ۹/ ۳۵۹، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۲۳۰۰(انظر: ۱۱۰۴۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں محتاج کے لیے اجازت لینے کا یہ مخصوص طریقہ ہے اور ایسی صورت میں محتاج کو کوئی چیز اپنے ساتھ اٹھا کر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، کسی انسان کے کھلیان، گھر یا دوکان وغیرہ میں پڑے ہوئے مال اور غلے کے بارے میں اجازت لینے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔
۔ سیدنا انس سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام کرتے تو اس کلام کو تین بار دوہراتے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو سلام کہتے تو ان کو تین دفعہ سلام کہتے۔
فوائد:… ہر بات کو تین بار دوہرانا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ نہیں تھی، البتہ بعض اہم باتوں کو تین یا اس سے بھی زیادہ دفعہ بیان فرما دیا کرتے تھے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔
۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: ا ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتائوں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔
Takhreej
(۸۳۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ العنزی، وایوبُ بن بشیرالعدوی، روی عنہ غیر واحد، وذکرہ ابن حبان فی ثقاتہ لکن جھّلہ ابن خراش (انظر: ۲۱۴۴۳)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔