۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل پر، پیدل چلنے والا بیٹھنے والے پر، تھوڑی تعداد والے زیادہ تعداد والوں پر اور چھوٹا بڑے پر سلام کرے۔
۔ یسار بیان کرتے ہیں: میں ثابت بنانی کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے اور ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے، انھوں نے ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کہا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے پاس آئے، جبکہ وہ کھیل رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کہا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہمارے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا جبکہ ہم کھیل رہے تھے تو آپ نے فرمایا: بچو! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور ان کو سلام کہا۔
Takhreej
(۸۲۷۳) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۶۳۵، وابویعلی: ۷۵۰۶ (انظر: ۱۹۱۵۴)
Explanation
فوائد:… تربیت کے لیے بچوں کو سلام کہنا چاہیے، نیز سلام کہنے کے معاملے میں مرد وزن میں کوئی فرق نہیں ہے، ہاں اگر کسی فتنے کا ڈر ہو، تو تربیت کرنے تک کسی مصلحت سے کام لیا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو تم سلام میں پہل نہ کرو اور ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے سہیل سے کہا: کیا ان سے مراد یہود و نصاری ہیں؟ انھوں نے کہا: مشرک ہیں۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔
Takhreej
(۸۲۷۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کرنا، اس سے غیر مسلم کی اہانت مقصود نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان راستے کے درمیان میں چلیں تاکہ اسلام اور مسلمان کی فضیلت واضح ہو جائے، جب اسلام کو عملی طور پر زمین کا پسندیدہ مذہب مانا جاتا تھا، اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے میں خوبصورتی لگتی تھی، کیونکہ ان اعمال سے اسلام کی شان و عظمت ثابت ہوتی ہے اور اِس وقت چونکہ مسلمان اپنے آپ کو شان والا ثابت نہیں کر رہے، اس لیے اسلام کو اس مرتبے والا نہیں سمجھا جا رہا۔
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔
Takhreej
(۸۲۷۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۹۹ (انظر: ۱۷۲۹۵)
Explanation
فوائد:… احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید وضاحت اگلے باب سے ہو گی۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالی کی لعنت اور غضب برسے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جائو۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میںہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۲۸۲) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۳۵۳۱)
Explanation
ٖفوائد:… قارئین کرام! غور کریں کہ جب یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی بجائے ہلاکت اور موت کی بد دعاکر رہے تھے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فحش گوئی اور بد گوئی کو پسند نہیں کیا، اس سے ہمیں اپنے بولوں کا اندازہ کر لینا چاہیے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔
Takhreej
(۸۲۸۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا ابن ابا بکر بن محمد بن عمرو لم یذکروا لہ سماعا من عائشۃ (انظر: ۲۴۸۵۱)
۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالی نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔
Takhreej
(۸۲۸۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۸۵۶(انظر: ۲۵۰۲۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
Takhreej
(۸۲۸۵) تخریج:أخرجہ مسلم:۲۱۶۶ (انظر: ۱۵۱۰۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں یا اس لفظ کو تبدیل کر کے کوئی بددعا کر یں تو ان کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا جائے۔ جمہور کا یہی مسلک ہے، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل روایت نقل کی:
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کے گھر آتے تو اس کی دیوار کے نزدیک کھڑے ہوتے اور اس کے دروازے کے سامنے نہ آتے تھے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔
Takhreej
(۸۲۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اجازت لینے والے یا دستک دینے والے کو دروازے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، تاکہ کوئی بے پردگی نہ ہو اور کوئی راز فاش نہ ہو اور کوئی شرمندگی نہ ہو۔