TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10110 - ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۱۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُجَیْرٍ، ثَنَا سَیَّارٌ اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ۔)) اَوْ قَالَ: ((یَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ مَعَھُمْ اَسْیَاطٌ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ الْبَقَرِ، یَغْدُوْنَ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ، وَیَرُوْحُوْنَ فِیْ غَضَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۲۵۰۲)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔
10110
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۱۱۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۰۰۰ (انظر: ۲۲۱۵۰)

Related Chapters

2,033
1
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
Musnad Ahmad
2
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
Musnad Ahmad
4
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet I know Allah تعالیٰ better, than all of you do.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں
Sahih Bukhari
5
(1b) CHAPTER.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ، اے رسول ! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک ( قوم کو ) جانشین بنانے والا ہوں ۔
Sahih Bukhari
6
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
7
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
Sahih Bukhari
8
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
9
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
Sahih Muslim
10
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
Sahih Muslim
11
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
12
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
Sunnan Nisai
13
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
24
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
30
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
31
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
32
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
34
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
35
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
37
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
38
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
39
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
40
بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاته
رسول اللہ ﷺ کے اسمائے مبارک اور صفات کا بیان
Mishkat
41
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
42
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
49
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

136
Musnad Ahmad
1324
۔ (۱۳۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِداً، فَأَیُّمَا رَجُلِ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۳۱۴)
سیّدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اورمسجد بنا دیا گیا ہے، لہٰذا جس آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ وہیںنماز ادا کرلے۔
Musnad Ahmad
1406
۔ (۱۴۰۶) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِہِ وَرِدَاؤُہُ قَرِیْبٌ لَوْ تَنَاوَلَہُ بَلَغَہُ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ ھٰذَا لِیَرَانِیَ الْحَمْقٰی أَمْثَالُکُمْ فَیُفْشُوْا عَلٰی جَابِرٍ رُخْصَۃً رَخَّصَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ فَجِئْتُہُ لَیْلَۃً وَھُوَ یُصَلِّیْ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَعَلَیَّ ثَوْبٌ وَّاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِہِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلٰی جَنْبِہِ، قَالَ: ((یَاجَابِرُ مَا ھٰذَا الإِْشْتِمَالُ؟ إِذَا صَلَّیْتَ وَعَلَیْکَ ثَوْبٌ وَّاحِدٌ فَإِنْ کَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِہِ، وَإِنْ کَانَ ضَیِّقًا فَاتَّزِرْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۵۷۲)
سعید بن حارث کہتے ہیں : ہم سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس اس حالت میں داخل ہوئے کہ وہ ایک کپڑے میںلپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی اوپر والی چادر ان کے اتنی قریب تھی کہ اگر وہ اسے پکڑنا چاہتے تو پکڑ لیتے۔ بہرحال جب انھوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے اس لباس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تا کہ تمہارے جیسے بیوقوف مجھے دیکھ کر جابر پر ایسی رخصت کا چرچاکریں جس کی اجازت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دی تھی۔ پھر سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، جب میں (دورانِ سفر) رات کے وقت آپ کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھ پر بھی ایک ہی کپڑا تھا، اس لیے میں نے اس کے ساتھ اشتمال کیا اور آپ کی ایک جانب کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جابر! یہ اشتمال کیسا ہے؟ جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تجھ پر ایک ہی کپڑا ہو، اگر وہ وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کر اور کپڑا تنگ ہونے کی صورت میں صرف ازار باندھ لیا کر۔
Musnad Ahmad
1683
۔ (۱۶۸۳) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا خَلَفُ بِنُ الْوَلِیْدِ ثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنِ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَمِّہٖقَالَ: رَمَقْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلاَتِہِ فَکَانَ یَمْکُثُ فِی رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖقَدْرَمَایَقُوْلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖثَلاَثًا۔ (مسنداحمد: ۲۲۶۸۵)
۔ (دوسری سند)ان کا باپ ان کے چچے سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں بغور دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع وسجود میں اتنی دیر ٹھہرتے تھے، جیسے کوئی آدمی تین دفعہ یہ کلمہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
Musnad Ahmad
1701
۔ (۱۷۰۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی صَلاَۃِ رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۱۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میںاپنی کمر سیدھی نہیںکرتا۔
Musnad Ahmad
1779
۔ (۱۷۷۹) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۳۹۲۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تشہد کی تعلیم دی اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ لوگوں کو بھییہ سکھائے: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔))
Musnad Ahmad
1784
۔ (۱۷۸۴) عَنْ أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَدِیثٍ ذَکَرَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُمْ الصَّلاَۃَ (إِلٰی أَنْ قَالَ:) ((فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ أَنْ یَّقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۹۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نماز کی تعلیم دی،یہاں تک کہ فرمایا: جب تم سے کوئی قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔
Musnad Ahmad
3623
۔ (۳۶۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا، فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌ فَعَلٰی عِیَالِہٖ، وَإِنْ کَانَ فَضْلٌ فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہٖاَوْقَالَ،عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌفَہَاہُنَاوَہٰہُنَا)) (مسنداحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔
Musnad Ahmad
3818
۔ (۳۸۱۸) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاتُواصِلُوا، فَاَیُّکُمْ اَرَادَ اَنْ یُوَاصِلَ فَلْیُوَاصِلْ حَتَّی السَّحَرِ)) فَقَالُوْا: إِنَّکَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّیْ لَسْتُ کَہَیْئَتِکُمْ، إِنِّیْ اَبِیْتُ، لِیْ مُطْعِمٌ یُطْعِمُنِی وَسَاقٍ یَسْقِیْنِیْ))(مسنداحمد:۱۱۰۷۰)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم وصال نہ کرو اور جو آدمی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری تک وصال کر لیا کرے۔ صحابہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود تو وصال کر لیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے ایک کھلانے والا کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا پلاتا ہے۔
Musnad Ahmad
3832
۔ (۳۸۳۲) عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ فِی سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحَ وَاَمَرَ اَصْحَابَہٗبِالإِفْطَارِ،وَقَالَ: ((إِنَّکُمْتَلْقَوْنَ عَدُوَّ کُمْ فََتَقَوَّوْا۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوْا لِصِیَامِکَ فَلَمَّا اَتَی الْکَدِیْدَ اَفْطَرَ، قَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلٰی رَاْسِہٖمِنَالْحَرِّوَہُوَصَائِمٌ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۱۹)
۔ ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں تھے۔