۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے قبل توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۶۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا ہے، اس وقت تک توبہ کی قبولیت کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن ہر انسان کے حق میں توبہ کی قبولیت کا قانون حدیث نمبر (۱۰۱۶۷) میں بیان کیا گیا ہے۔
۔ عبد الرحمن بن بیلمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: چار صحابہ کرام جمع ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے ایک دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا: تو نے یہ بات واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تیسرے نے کہا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ چوتھے نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتے ہیں، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔
Takhreej
(۱۰۱۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن البیلمانی، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۵۷ (انظر: ۱۵۴۹۹)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔
Takhreej
(۱۰۱۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمر بن نعیم وشیخِہ اسامۃ بن سلمان، أخرجہ ابن حبان: ۶۲۷، والبزار: ۴۰۵۶ (انظر: ۲۱۵۲۳)
Explanation
فوائد:… شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع عطا کرتا، جتنا وہ چاہتا، لیکن جب کوئی اور آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھاتا تو میں اس کی تصدیق کرتا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا اور ابو بکر سچے ہیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی گناہ کرتا ہے، پھر اچھے انداز میں وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتاہے۔
Takhreej
(۱۰۱۷۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۹۵(انظر: ۲)
Explanation
فوائد:… نیکیوں سے برائیوں کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ } … اور دن کے دونوں کناروں میںنماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، پھر یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {وَمَنْ یَعْمَلْ سُوْئً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا} اور جو آدمی برائی کرتا ہے یا اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتا ہے۔ اور {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ } اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں،یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔
۔ عبد اللہ بن معقل کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ندامت توبہ ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۰۱۷۵) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۵۲(انظر: ۳۵۶۸)
Explanation
فوائد:… اگر گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے تو ایسے گناہ سے توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں: (۱)اس گناہ کو ترک کر دینا، (۲) اس پر ندامت کا اظہار کرنا اور (۳) اس کو آئندہ نہ کرنے پر پکا ارادہ کرنا۔ اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقو ق سے ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں، مذکورہ تین اور چوتھییہ کہ صاحب حق کا حق ادا کیا جائے اور کسی انداز میں اس کے ساتھ تصفیہ کر لیا جائے۔
مرکزی شرط ندامت ہی ہے، جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا پر نادم ہو گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور وہ خود آئندہ ایسا گناہ کرنے سے محفوظ رہے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ کا کفارہ ندامت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔
فوائد:… ہر انسان طبعی طور پر غلطی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے کسی قسم کا گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور یقینا ایسے ہی ہو گا، انبیاء کے بعد کوئی کس و ناکس عفت و عصمت کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، ہر امتی کسی نہ کسی انداز میں کوئی نہ کوئی ٹھوکر ضرور کھائے گا۔ ان احادیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کر کے اس پراصرار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تو بہ و استغفار کیا جائے، کیونکہیہ چیز اسے بہت پسند ہے اور اتنی پسند ہے کہ اگر ایسے لوگ ناپید ہو جائیں، کہ جن سے گناہ کا صدور ہی نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرما دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہونے کے بعد بخشش طلب کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔ اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ وہ گناہوں کو پسند کرتا ہے اور گناہ گار اسے محبوب ہیں، بلکہ وہ تو بہ و انابت کو پسند فرماتا ہے اور ایسے ہی لوگ اسے محبوب ہیں اور یہی اس حدیث کا مفہوم ہے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی گناہ سے توبہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس سے توبہ کرے اور پھر اس کا ارتکاب نہ کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، وقد روی مرفوعا وموقوفا، والصحیح وقفہ، الھجری لین الحدیث، وعلی بن عاصم صدوق یخطیء ویصر علی الخطأ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۳۰۰،و البیھقی فی الشعب : ۷۰۳۶(انظر: ۴۲۶۴)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو، پس بیشک گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو، وہ آج اس کے پاس جا کر اس سے معذرت کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (اس کے مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
Takhreej
(۱۰۱۷۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۰۵۷۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئی دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیے رشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم گناہ کرتے رہو، یہاں تک کہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا درمیانی خلا بھر جائے، پھر جب تم اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو گے تو وہ تم کو بخش دے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا، جو گناہ کریں اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے گناہ نہ کیے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کریں گے، تاکہ وہ ان کو بخشے۔
فوائد:… اگرتم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کر دے گا، … اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۱۷۶)
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے کہا: میں تم سے ایک حدیث چھپاتا تھا، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۴۸ (انظر: ۲۳۵۱۵)
Explanation
فوائد:… چھپانے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت پر توکل کر کے نافرمانیوں میں پڑ جائیں، پھر وفات کے وقت یہ حدیث بیان کر دی تاکہ کتمانِ علم کے الزام سے بری ہو جائیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایک آدمی نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کیا ہے ، تو اس کو بخش دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور یہ بھی جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ کو بخش بھی سکتا ہے اور اس کی وجہ سے گرفت بھی کر سکتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے۔ پھر اس بندے نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، پس تو اس کو بخش دے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے۔ پھر اس نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کر دیا ہے، پس تو اس کومعاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے، وہ جو چاہے عمل کرتا رہے۔
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک قیدی کو لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ! میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف توبہ نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قیدی نے حق کو اس کے اہل کے لیے پہچان لیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری لم یسمع من الاسود بن سریع، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۳۹، والحاکم: ۴/ ۲۵۵ (انظر: ۱۵۵۸۷)
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کیا میں تمھیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، میرے کانوں نے وہ حدیث سنی او رمیرے دل نے اسے یاد کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے ننانوے افراد قتل کر دیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا۔ اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کی بابت لوگوں سے پوچھا؟ اسے ایک راہب (پادری) کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ وہ ننانوے آدمی قتل کر چکا ہے، کیا ایسے فرد کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا: کیا ننانوے افراد کے قتل کے بعد؟ (ایسے شخص کے لیے کوئی توبہ نہیں)۔ اس نے تلوار میان سے نکالی اور اسے قتل کر کے سو کی تعداد پوری کر دی۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے لوگوں سے اہل زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اس کے لیے ایک عالم کی نشاندہی کی گئی، وہ اس کے پاس گیا اور کہا: میں سو افراد قتل کر چکا ہوں، کیا میری لیے توبہ (کی کوئی گنجائش)ہے۔ اس نے کہا: تیرے او ر تیری توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ لیکن تو اس طرح کر کہ اس خبیث بستی سے نکل کر فلاں فلاں کسی نیک بستی کی طرف چلا جا۔ کیونکہ وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تو بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اپنے علاقے کی طرف مت لوٹنا کیونکہیہ بری سرزمین ہے۔ وہ نیک بستی کی طرف چل پڑا، لیکن راستے میں اسے موت آگئی، وہ اپنے سینے کے سہارے سرک کرپہلی زمین سے دور ہو کر(تھوڑا سا) دوسری طرف ہو گیا۔(اسے لینے کے لیے) رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ گئے اور ان کے مابین جھگڑا شروع ہو گیا۔ ابلیس نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اس نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی تھی۔ لیکن ملائکہ ٔ رحمت نے کہا: یہ تائب ہو کر آیا تھا اور دل کی پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والا تھا اور ملائکہ ٔ عذاب نے کہا: اس نے کبھی بھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ایک آدمی کی شکل میں بھیجا۔ انھوں نے اس کے سامنے یہ جھگڑ اپیش کیا۔ اس نے کہا: دیکھو کہ کون سی بستی اس کے قریب ہے، اسی بستی والوں سے اس کو ملا دیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو (جہاں سے وہ آ رہا تھا) حکم دیاکہ تو دور ہو جا اور ارض صالحین (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ جب انھوں نے اس کی پیمائش کی تو جس زمین کی طرف وہ جا رہا تھا، اسے (دوسری کی بہ نسبت) ایک بالشت زیادہ قریب پایا۔ پس رحمت کے فرشتے اسے لے گئے اور اسے بخش دیا گیا۔ حسن راوی کہتے ہیں: جب اسے موت کا علم ہوا تو وہ (نیک بستی کی طرف) سکڑ گیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے سینے کے سہارے (نیک بستی کی طرف) سرک گیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اسے قریۂ صالحہ کے قریب کر دیا اور قریۂ خبیثہ سے دور کر دیا، تو ان فرشتوں نے اسے نیک بستی والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
فوائد:… گناہ گار لوگوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی توبہ قبول فرماتا ہے، بشرطیکہ خالص توبہ ہو ۔ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ بتلاتے وقت، سائل کی نفسیات اور اس کی مشکلات کو سامنے رکھیںاور ایسی حکمت ِ عملی اختیار کریں کہ جس سے اللہ کے حکم میں بھی تبدیلی نہ آئے اور سائل بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر گناہوں پر مزید دلیر نہ ہو۔ نیک لوگوں کی صحبت میں رہنا باعث ِ برکت ہے اور برے لوگوں کے ساتھ رہنا باعث ِ نہوست ہے اور بوقت ِ ضرورت فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانی صورت میں آ جاتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے تو ہر گناہ کی معافی کے اسباب پیدا کرسکتا ہے، ما سوائے شرک کے۔
حدیث نمبر (۶۴۴۰) والے باب میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ قاتل کتنا بڑا مجرم ہے اور اس کی توبہ قبول ہو گییا نہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اپنے ہاتھ سے اپنے نفس کے لیے ایک کتاب لکھی اور اس کو اپنے عرش کے نیچے رکھا، اس میں ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔
Takhreej
(۱۰۱۸۷) تخریج: حدیث صحیح، وقولہ بیدہ زیادۃ منکرۃ، تفرد بھا شریک عن الاعمش، وانظر ھذا الحدیث بالطریق الثالث (انظر: ۹۱۵۹)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوق سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے عرش پر لکھا: میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی۔