TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توبہ کی کتاب - توبہ کی کتاب - Book 166 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 166 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 56 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

56 Hadith · 9 Chapters
توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب
۔ (۱۰۱۸۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا قَضَی اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِیْ کِتَابِہٖفَھُوَعِنْدَہُفَوْقَالْعَرْشِ،اِنَّرَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ(وَفِیْ لَفْظٍ) غَلَبَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۴۹۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کامعاملہ مکمل کیا، تو اپنی کتاب میں لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی، وہ کتاب عرش پر اس کے پاس ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۹۴، ومسلم: ۲۷۵ (انظر: ۷۵۰۰)
10189
Sahih
توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب
۔ (۱۰۱۹۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ بِیَدِہِ عَلٰی نَفْسِہِ اِنَّ رَحْمَتِیْ غَلَبَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۵)
۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔
Takhreej
(۱۰۱۹۰) تخریج: اسنادہ جیّد، وقولہ بیدہ زیادۃ شاذۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۹، ۴۲۹۵، والترمذی: ۳۵۴۳ (انظر: ۹۵۹۷)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے غضب کی بہ نسبت اس کی رحمت وسیع ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖمَنْاَشَآئُوَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَیَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَایُؤْمِنُوْن۔} … میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۶)
10190
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
۔ (۱۰۱۹۱)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: (( لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِائَۃُ رَحْمَۃٍ، وَاِنَّہُ قَسَمَ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ اَھْلِ الْاَرْضِ فَوَسِعَتْھُمْ اِلٰی آجَالِھِمْ، وَذَخَرَ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ رَحْمَۃً لِاَوْلِیَائِہِ، وَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَابِضٌ تِلْکَ الرَّحْمَۃَ الَّتِیْ قَسَمَھَا بَیْنَ اَھْلَ الْاَرْضِ اِلَی التِّسْعَۃِ وَّالتِسْعِیْنَ فَیُکَمِّلُھَا مِائَۃَ رَحْمَۃٍ لِاَوْلِیَائِہیَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) قَالَ مُحَمَّدٌ: فِیْ حَدِیْثِہِ وَحَدَّثَنِیْ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ وَخِلَاسٌ کِلَاھُمَا، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۸۰)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت کو اہل زمین کے مابین تقسیم کیا، وہ ان کے لیے ان کی موتوں تک پوری ہو گئی، اور ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس رحمت کو زمین والوںمیں تقسیم کیا ہے، وہ قیامت کے دن اس کو بھی واپس کر کے ننانوے کے ساتھ ملا کر سو پورا کر دے گا۔ محمد بن سیرین اور خلاس نے اس حدیث کو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرفوعا بیان کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۹۱) تخریج: صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۶(انظر: ۱۰۶۷۰)
10191
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
۔ (۱۰۱۹۲)۔ عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِیِّ ، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌ فَاَنَاخَ رَاحِتَلَہُ ثُمَّ عَقَلَھَا، ثُمَّ صَلّٰی خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتٰی رَاحِلَتَہَ فَاَطْلَقَ عِقَالَھَا ثُمَّ رَکِبِھَا ثُمَّ نَادٰی: اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِکْ فِیْ رَحْمَتِـنَا اَحَدًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَقُوْلُوْنَ ھٰذَا اَضَلُّ اَمْ بَعِیْرُہُ؟ اَلَمْ تَسْمَعُوْا مَاقَالَ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((لَقَدْ حَظَرْتَ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ، اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ مِائَۃَ رَحْمَۃً فَاَنْزَلَ اللّٰہُ رَحْمَۃً وَاحِدَۃًیَتَعَاطَفُ بِھَا الْخَلَائِقُ جِنُّھَا وَاِنْسُھَا وَبَھَائِمُھَا، وَعِنْدَہُ تِسْعٌ وَتِسْعُوْنَ، اَتَقُوْلُوْنَ ھُوَ اَضَلُّ اَمْ بَعِیْرُہُ؟)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۶)
۔ سیدنا جندب بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو آیا، اپنے اونٹ کو بٹھا کر اس کے گھٹنے کو باندھا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنے سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوا اور کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر رحم فرما اور اپنی رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کییہ دعا سن کر فرمایا: کیا تم یہ کہو گے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم لوگوں نے اس کی کہی ہوئی بات سنی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع چیز ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے جنوں، انسان اور جانوروں سمیت تمام مخلوقات ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ننانوے رحمتیں اس کے پاس محفوظ ہیں، اب کیا تم کہو گے کہ وہ خود زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟
Takhreej
(۱۰۱۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، أخرجہ ابوداود مختصرا: ۴۸۸۵(انظر: ۱۸۷۹۹)
10192
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
۔ (۱۰۱۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (( لِلّٰہِ مِائَۃُ رَحْمَۃٍ اَنْزَلَ مِنْھَا رَحْمَۃً وَّاحِدَۃً بَیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْھَوَامِّ، فِیْھَایَتَعَاطَفُوْنَ، وَبِھَا یَتَرَاحَمُوْنَ، وَبِھَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلٰی اَوْلَادِھَا، وَاَخَّرَتِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ یَرْحَمُ بِھَا عِبَادَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۶۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں ایک رحمت انسانوں، جنوں اور کیڑوں مکوڑوں کے درمیان نازل کی ہے، اس کی وجہ وہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کے اثر سے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربانی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۵۲، وأخرج بنحوہ و اطول منہ البخاری: ۶۴۶۹ (انظر: ۹۶۰۹)
Explanation
فوائد:… تمام مخلوقات میںمحبت کا جو عنصر پایا جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی اس ایک رحمت کا اثر ہے۔
10193
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
۔ (۱۰۱۹۴)۔ عَنْ سَلْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ فَمِنْھَا رَحْمَۃٌیَتَرَاحَمُ بِھَا الْخَلْقُ، فِبْھَا تَعْطِفُ الْوُحُوْشُ عَلٰی اَوْلَادِھَا، وَاَخَّرَ تِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۲۱)
۔ سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں ایک رحمت کا اثر ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے سے محبت رکھتی ہیں، وحشی جانور اسی رحمت کی وجہ سے اپنی اولاد سے شفقت کرتے ہیں اور اس نے ننانوے رحمتیں قیامت کے دن تک مؤخر کر دی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۵۳(انظر: ۲۳۷۲۰)
10194
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
۔ (۱۰۱۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ مَاطَمَعَ فِیْ الْجَنَّۃِ اَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رَحْمَۃٍ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنّۃِ اَحَدٌ، خَلَقَ اللّٰہُ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ فَوَضَعَ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ خَلْقِہِ یَتَرَاحَمُوْنَ بِھَا، وَعِنْدَ اللّٰہِ تِسْعَۃٌ وَّتِسْعُوْنَ رَحْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۸۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت کی طمع نہیں رکھے گا اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت اپنی مخلوق کے اندر نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے یہ ایک دوسرے پر رحیم ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۶۹، وأخرج الشطر الثانی مسلم: ۲۷۵۲(انظر: ۱۰۲۸۰)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرنی چاہیے، لیکن اس کے عذاب کا ڈر بھی ہونا چاہیے، اس کو خوف اور امید کی زندگی کہتے ہیں، پھر عملی انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی نظر آئے اور اس کے عذاب سے ڈر ستاتا رہے۔
10195
Sahih
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
۔ (۱۰۱۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُنْجِیْ اَحَدَکُمْ عَمَلُہُ۔)) قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَۃٍ فَسَدِّدُوْا، وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا، وَرُوْحُوْا، وَشَیْئٌ مِنَ الدُّلْجَۃِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ لوگوں نے کہا: اور نہ آپ کو، اے اللہ کے رسول!؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، پس راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، دن کے شروع میں کچھ چل لو، دن کے آخر میں کچھ چل لو اور کچھ رات کو، اور میانہ روی اختیار کرو، اعتدال کو اپناؤ، اپنے مقصد کو پا لو گے۔
Takhreej
(۱۰۱۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹، ۶۴۶۳ (انظر: ۱۰۶۷۷)
10196
Sahih
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
۔ (۱۰۱۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ یُنْجِیْہِ عَمَلُہُ۔)) قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَ لَا اَنَا، اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیْ رَبِّیْ مِنْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ، وَ لَا اَنَا، اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ رَبِّیْ مِنْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۰۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اس کا عمل نجات دلا سکے۔ لوگوں نے کہا: اور نہ آپ؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے، اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین بارے ایسے ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۱۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10197
Sahih
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
۔ (۱۰۱۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ ھٰکَذَا وَاَشَارَ وَھْبٌ یَقْبِضُھَا وَیَبْسُطُھَا۔ (مسند احمد: ۸۳۱۲)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، وہب راوی نے وضاحت کرتے ہوئے ہاتھ کو بند کیا اور کھولا۔
Takhreej
(۱۰۱۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، دن کے شروع میں کچھ چل لو، دن کے آخر میں کچھ چل لو اور کچھ رات کو، اور میانہ روی اختیار کرو، اعتدال کو اپناؤ، اپنے مقصد کو پا لو گے۔ اس جملے کا معنییہ ہے کہ کثرتِ عبادت کی بجائے ان اوقات میں عبادت کی کچھ مقدار پر ہمیشگی اختیار کی جائے، تاکہ بوریت اور اکتاہٹ بھی نہ ہو اور احکامِ اسلام پر عمل بھی ہوتا رہے۔ اصل میں اس جملے کے ذریعے مسافر کو سفر جاری رکھنے کا ایک انداز بتلایا گیا کہ وہ اپنا سفر دن رات جاری نہ رکھے، وگرنہ عاجز آجائے گا اور منزل مقصدتک نہیں پہنچ پائے گا، اسے چاہیے کہ صبح کے وقت، شام کے وقت اور اسی طرح رات کو کچھ وقت اپنا سفر جاری رکھا کرے، کیونکہیہ پھرتی اور چستی کے اوقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان بھی آخرت تک پہنچنے کے لیے سفر کر رہا ہے، اسے چاہیے کہ اچھے سفر کے لیے اپنی عبادات کے لیے ایسے اوقات کا تعین کرے، جن میں وہ ہشاش بشاش ہو، اور ان عبادات کا تعین رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کر دیا ہے، ہمیں ان پر کاربند رہنا چاہیے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے بڑے حکیم اور دانا تھے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرما دیا کہ کوئی شخص اپنے نیک اعمال کے بل بوتے پر جنت میں نہیں جا سکتا، جبکہ دوسری طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمل کرنے کا حکم بھی دے رہے ہیں۔ حقیقت میں ان دو امور میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلا شک و شبہ جنت میں داخل ہونے کا سبب اعمالِ صالحہ ہیں اور داخلہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہو گا، مزید تفصیل امام صاحب کے کلام میں پیش کی جاتی ہے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: بعض لوگ اشکال میں پڑ گئے اور اس حدیث کو درج ذیل آیت کے مخالف گمان کرنے لگے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اَوْرَثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} (سورۂ زخرف: ۷۲) … تم لوگوں کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا ہے، اس وجہ سے کہ جو تم عمل کرتے تھے۔ اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی آیات و احادیث پائی جاتی ہیں۔ اس تضاد کو دور کرنے کے لیے مختلف جوابات دیے گئے ہیں، سب سے بہتر جمع و تطبیقیہ ہے کہ ((لَاتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِعَمَلٍ)) جیسی مذکورہ بالا احادیث میں باء الثمنیۃ ہے اور درج بالا آیت میں باء السببیۃ ہے۔ یعنی اعمالِ صالحہ جنت میں داخل ہونے کا سبب ضرور ہیں، لیکنیہ جنت اور اس کی نعمتوں اور اس کے درجات کی قیمت نہیں ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے کہا: اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسباب کو سب کچھ سمجھ لینا شرک ہے، اسباب کو سرے سے ختم کر دینا عقل کے ناقص ہونے کی علامت ہے اور اسباب سے کلی طور پر اعراض کرنے سے شریعت پر طعن لازم آتا ہے۔ صرف اسباب، مسبَّب کے حصول کے لیے کافی نہیں ہیں، اگر دیکھا جائے تو بارش کا نازل ہونا اور بیج کا کاشت کر دینا کھیتی کے لیے بہت بڑے اسباب ہیں، لیکن در حقیقتیہ کافی نہیں ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مفید ہواؤں کا چلنا، دوسری تمام شرائط کا پایا جانا اور موانع کی نفی ہونا ضروری امور ہیں۔ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قضا سے ہو گا ایک اور مثال سمجھیں کہ بچے کی ولادت کے لیےیہ کافی نہیں ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے جماع کرے، کیونکہ ایسے بے شمار واقعات ہے کہ جماع کے باوجود بچے کی پیدائش نہ ہو سکی، کیونکہ اس سبب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت ضروری ہے کہ عورت کو حمل ہو، بچہ رحم میں پرورش پائے اور اس کی تخلیق کے سارے مراحل طے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی مانع بھی نہ ہو۔ یہی معاملہ آخرت کا ہے، سعادت مند بننے کے لیے اعمال کافی نہیں ہیں، ہاں یہ سبب ضرور ہیں،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} (سورۂ نحل: ۳۲) … جنت میں داخل ہو جاؤ، سبب یہ ہے کہ تم عمل کرتے تھے۔ یہ باء السبب ہے، یعنی اعمال صالحہ جنت میں داخل کرنے کا سبب ہیں، اور جن احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے عمل کے بل بوتے میں جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، ان میں بائ مقابلہ کے لیے آئی ہے، یعنی ہمارے اعمال جنت میں داخل ہونے کا عوض یا قیمت نہیں ہیں، بلکہ اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی معافی، رحمت اور فضل ضروری ہے، کیونکہ اس کی معافی کی وجہ سے برائیاں مٹ جائیں گی، اس کی رحمت سے خیر و بھلائی آئے گی اور اس کے فضل کی وجہ سے درجات بلند ہوں گے۔ اس مقام پر لوگوں میں دو فرقے گمراہ ہو گئے ہیں: ۱۔ ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لانے کو حصولِ مقصود کے لیے کافی سمجھ لیا اور اسباب ِ شرعیہ اور اعمالِ صالحہ سے مکمل اعراض کر لیا۔ ان کے اس عقیدے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتب، رسل اور دین کا کفر کرنے پر اتر آتے ہیں۔ ۲۔ دوسرا فریق عمل کرکے اللہ تعالیٰ سے یوں اجر وثواب طلب کرتا ہے، جیسے مزدور اپنی مزدوری پوری کرنے کے بعد مالک سے اجرت طلب کرتا ہے، یعنی ان لوگوں کو اپنے عمل اور قوت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے، یہ لوگ بھی جاہل اور گمراہ ہیں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی تعمیل میں ہماری اپنی خیر و بھلائی پنہاں ہے، نہ کہ اس کا کوئی ذاتی فائدہ، جیساکہ حدیث ِ قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! تم مجھے نقصان دے سکتے ہو نہ نفع۔ بادشاہ اپنی ذاتی حاجت و ضرورت کی وجہ سے اپنے ماتحت لوگوں کو حکم دیتا ہے اور وہ اپنی ذاتی قوت کی بنا پر اس کا مطالبہ پورا کر کے اجرت کے مستحق ٹھہرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ جہان والوں سے غنی ہے، نیکی و بھلائی کے امور سر انجام دینے کی قوتیں اس نے عطا کی ہیں۔ نیکی کرنے والا اپنا ہی فائدہ کرتا ہے اور برائی کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ ابن تیمیہ کا کلام ختم ہوا جو (مجموعۃ الفتاوی: ۸/ ۷۰۔ ۷۱) سے نقل کیا گیا، اسی قسم کا کلام علامہ ابن قیم نے (مفتاح دار السعادۃ: صـ ۹۔ ۱۰) میں اور مقریزی نے (تجرید التوحید المفید: صـ۳۶۔ ۴۳) میں پیش کیا ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۰۲) امام نووی نے اس باب کی حدیث اور عمل والی آیات کے بارے کہا: سرے سے ان احادیث اور آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے، آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کی وجہ سے جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔ لیکن نیک اعمال، ہدایت اور اخلاص کی توفیق اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ہوتی ہے، لہٰذا یہ بات صحیح ہے کہ اس کامیابی کا انحصار صرف اعمال پر نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شامل حال ہونا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔
10198
Sahih
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
۔ (۱۰۱۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ اَحَدٌ اِلَّا بِرَحْمَۃِ اللّٰہِ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا اَنْتَ؟ قَالَ: ((وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَتِہِ۔)) وَقَالَ بِیَدِہِ فَوْقَ رَاْسِہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۰۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی فرد جنت میں ہر گز داخل نہیں ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ۔ ہم نے کہا: اورآپ بھی نہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور نہ میں، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے سر کے اوپر اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۰۱۹۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۱۴۸۶)
10199
Sahih
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
۔ (۱۰۲۰۰)۔ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ حَوْسٍ الْیَمَانِیِّ، قَالَ: قَالَ لِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ : یَایَمَامِیُّ! لَا تَقُوْلَنَّ لِرَجُلٍ : واللّٰہِ! لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ، اَوْ لَا یُدْخِلُکَ اللّٰہُ الْجَنّۃَ اَبَدًا، قُلْتُ: یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ! اِنَّ ھٰذِہِ الْکَلِمَۃَیَقُوْلُھَا اَحَدُنَا لِاَخِیْہِ وَصَاحِبِہٖاِذَاغَضِبَ،قَالَ: فَـلَاتَقُلْھَا،فَاِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((کَانَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ رَجُلَانِ کَانَ اَحَدُھُمَا مُجْتَھِدًا فِیْ الْعِبَادَۃِ، وَکَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلٰی نَفْسِہِ، فَکَانَا مُتَآخِیَیْنِ، فَکَانَ الْمُجْتَھِدُ لَا یَزَالُیَرَی الْآخَرَ عَلٰی ذَنْبٍ، فَیَقُوْلُ: یَا ھٰذَا اَقْصِرْ، فَیَقُوْلُ : خَلِّنِیْ وَرَبِّیْ، اَبُعِثْتَ عَلَیَّ رَقِیْبًا؟ قَالَ: اِلٰی اَنْ رَآہُ یَوْمًا عَلٰی ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَہُ فَقَالَ لَہُ: وَیْحَکَ اَقْصِرْ، قَالَ: خَلِّنِیْ وَرَبِّیْ، اَبُعِثْتَ عَلَیَّ رَقِیْبًا؟ قَالَ: فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ اَوْ لَا یُدْخِلُکَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ اَبَدًا، (قَالَ اَحَدُھَا) قَالَ: فَبَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْھِمَامَلَکًا فَقَبَضَ اَرْوَاحَھُمَا وَاجْتَمَعَا فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِیْ، وَقَالَ لِلْآخَرَ: اَکُنْتَ بِیْ عَالِمًا؟ اَکُنْتَ عَلَیَّ مَا فِیْیَدِیْ خَازِنًا؟ اذْھَبُوْا بِہٖاِلَی النَّارِ، قَالَ: فَوَ الَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ الْقَاسِمِ بِیَدِہِ لَتَکَلَّمَ بِالْکَلِمَۃِ اَوْبَقَتْ دُنْیَاہُ وَآخِـرَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۷۵)
۔ ضمضم بن ہوس یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: اے یمامی! تو نے کسی آدمی کو ہر گز اس طرح نہیں کہنا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھ کو کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! ہم میں جب کوئی آدمی ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنے بھائی اور ساتھی پر یہ جملے کستا ہے، انھوں نے کہا: پس تو نے اس طرح نہیں کہنا، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنواسرائیل میں دو آدمی تھے، ان دونوں میں بھائی چارہ تھا، ان میں سے ایک عبادت میں بڑی محنت کرنے والا تھا اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے والا تھا، عبادت گزار دوسرے آدمی کو گناہوں میںملوث دیکھتا رہتا تھا اور اس کو کہتا تھا: او فلاں! باز آ جا، لیکن وہ کہتا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، ایک دن اس عبادت گزار کو اس کو ایسے گناہ میں ملوث پایا، جس کو اس نے بڑا سمجھا، پس اس نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، باز آ جا، اس نے حسب ِ روٹین کہا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، لیکن اس بار اس نے یہ بھی کہہ دیا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھے کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا اور ان کی روحیں قبض کر لیں، پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے گنہگار سے کہا: تو جا اور میری رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے کہا: کیا تو میرے بارے میںجاننے والا تھا؟ میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے، کیا تو اس کا خزانچی تھا، لے جاؤ اس کو آگ کی طرف۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! اس آدمی نے ایسی بات کر دی کہ جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر دیا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۰۱ (انظر: ۸۲۹۲)
Explanation
فوائد:… اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہر شریعت میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ اعمالِ صالحہ کا اہتمام کریں اور گناہ والے امور سے اجتناب کریں، اس حدیث میں دو اہم باتوں کا ذکر ہے، ایک اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش سکتا ہے، جیسا کہ اس گنہگار کو بخش دیا تھا، دوسرا زبان کے استعمال میں محتاط رہنا چاہیے، کسی گنہگار کو یہ کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں بخشے گا، یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑی جرأت ہے، اس ایک بول نے نیکوکار کی نیکیوں کو اجاڑ دیا۔ کوئی شخص اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال نہ کرنے پائے کہ برائیاں کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ نہیں تھا۔
10200
Sahih
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
۔ (۱۰۲۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ رَزِیْنِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ضَحِکَ رَبُّنَا قُنُوْطَ عِبَادِہِ وَقُرْبَ غِیَرِہِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَوَ یَضْحَکُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔ قَالَ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۸۸)
۔ سیدنا ابو رزین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ اس بات پر ہنستا ہے کہ اس کا بندہ ناامید ہو رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کے حالات کی تبدیلی قریب ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ربّ تعالیٰ بھی ہنستا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہم ہنسنے والے ربّ کے ہاں خیر کو مفقود نہیں پائیں گے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال وکیع بن حدس، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۱ (انظر: ۱۶۱۸۷)
Explanation
فوائد:… جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے معمولی آزمائش کو کچھ وقت کے لیے رفع نہیں کرتا تو خیر سے مایوسی اس پر غلبہ پانے لگتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس بندے کے لیے خیر کا معاملہ قریب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْاعَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} … کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ (سورۂ زمر: ۵۳) مزید فرمایا: {وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗلَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ۔} … اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقتیہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ (سورۂ یوسف: ۸۷)
10201
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
۔ (۱۰۲۰۲)۔ حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِیُّ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْقَاھِرُ بْنُ السَّرِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنٌ لِکَنَانَۃَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ اَبَاہُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لِاُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ، فَاَکْثَرَ الدُّعَائَ فَاَجَابَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِاُمَّتِکَ اِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: یَارَبِّ! اِنَّکَ قَادِرٌ اَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِیْبَ الْمَظْلُوْمَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ۔)) فَلَمْ یَکُنْ فِیْ تِلْکَ الْعَشِیَّۃِ اِلَّا ذَا، یَعْنِیْ فَلَمْ یُجِبْہُ تِلْکَ الْعَشِیَّۃَ کَمَا فِیْ بَعْضِ الرَّوَایَاتِ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَعَادَ یَدْعُوْ لِاُمَّتِہِ فَلَمْ یَلْبَثِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ تَبَسَّمَ فَقَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ ضَحِکْتَ فِیْ سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَضْحَکُ فِیْھَا، فَمَا اَضْحَکَکَ؟ اَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ۔ قَالَ: ((تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللّٰہِ اِبْلَیْسَ حِیْنَ عَلِمَ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ لِیْ فِیْ اُمَّتِیْ وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ اَھْوٰییَدْعُوْ بِالثُّبُوْرِ وَالْوَیْلِ وَیَحْثُوْا التُّرَابَ عَلٰی رَاْسِہِ فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ جَزْعُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۸)
۔ سیدنا عباس بن مرداس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے لیے کثرت کے ساتھ مغفرت اور رحمت کی دعا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا قبول کی اور فرمایا: بے شک تحقیق میں نے کر دیا ہے اور تیری امت کو بخش دیا ہے، مگر وہ جو یہ خود ایک دوسرے پر ظلم کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے ربّ! تو اس چیز پر قادر ہے کہ تو ظالم کو بخش دے اور مظلوم کو اس پر کے گئے ظلم سے بہتر اجر و ثواب عطا کر دے۔ اس شام کو تو یہی کچھ ہوا تھا، یعنی عرفہ کی شام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ بعض روایاتمیں ہے، جب اگلا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو اپنی امت کے لیے دعا مانگنا شروع کی، جلد ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرانے لگ گئے، ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ایسی گھڑی میں مسکرائے ہیں، جس میں مسکرانا آپ کی عادت نہیں تھی، پس کس چیز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہنسایا ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دانت مبارک کو مسکراتا رکھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی وجہ سے مسکرایا ہوں، جب اس کو علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخش دیا ہے تو اس نے ہلاکت کو پکارا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، پس میں اس جزع و فزع کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن کنانۃ بن العباس مجھول، وقال البخاری: لم یصح حدیثہ، ووالدہ کنانۃ مجھول ایضا، وقد تناقض فیہ ابن حبان، فذکرہ فی الثقات علی عادتہ فی توثیق المجاھیل، ثم جازف، فاعاد ذکرہ فی المجروحین وقال: حدیثہ منکر جدا، أخرجہ ابوداود: ۵۲۳۴،و ابن ماجہ: ۳۰۱۳ (انظر: ۱۶۲۰۷)
10202
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
۔ (۱۰۲۰۳)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ مَالِکٍ الْجُنَبِیِّ، اَنَّ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَادَۃَ وَعُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَفَرَغَ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ قَضَائِ الْخَلْقِ فَیَبْقٰی رَجُلَانِ فَیُؤْمَرُ بِھِمَا اِلَی النَّارِ فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمَا فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ تَعَالٰی: رُدُّوْہُ فَیَرُدُّوُنَہُ، قَالَ لَہُ : لِمَ اِلْتَفَتَّ؟ قَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرْجُوْ اَنْ تُدْخِلَنِیَ الْجَنّۃَ قَالَ: فَیُؤْمَرُ لَہُ اِلَی الْجَنَّۃِ، فَیَقُوْلُ : لَقَدْ اَعْطَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی اَنِّیْ لَوْ اَطْعَمْتُ اَھْلَ الْجَنّۃَ مَانَقَصَ ذٰلِکَ مَا عِنْدِیْ شَیْئًا ۔)) قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا ذَکَرَہُ یُرَی السُّرُوْرُ فِیْ وَجْھِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۷۹)
۔ سیدنا فضالہ بن عبادہ اور سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے سے فارغ ہو جائے گا، تو دو بندے ابھی تک باقی کھڑے ہوں گے، ان کے بارے میں جہنم کا حکم دیا جائے گا، جب ان میں سے ایک پلٹ کر دیکھے گا تو جبّار تعالیٰ کہے گا: اس کو واپس لاؤ، پس فرشتے اس کو واپس لائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو نے پلٹ کر کیوں دیکھا ہے؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا، پس اس کے لیے جنت کا حکم دے دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ کچھ عطا کر دیا ہے کہ اگر میں جنتیوں کو کھانا کھلا دوں، تو اس سے میرے پاس جو کچھ ہے، اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب یہ بات ذکر کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر سرور نظر آ رہا تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد(انظر: ۲۲۷۹۳)
10203
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
۔ (۱۰۲۰۴)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا بِھٰذِہِ الْآیَۃِ {یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْ مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَنْ اَشْرَکَ؟ فَسَکَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((اِلَّا مَنْ اَشْرَکَ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۲۰)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ مجھے اس آیت کے بدلے دنیا ومافیہا مل جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، بیشک وہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جو شخص شرک کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اور پھر تین بار فرمایا: مگر جو شرک کرے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، وابو عبد الرحمن الجیلانی فی عداد المجھولین، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۷۱۳۷، والطبرانی فی الاوسط : ۱۷۶(انظر: ۲۲۳۶۲)
Explanation
فوائد:… ہر گناہ کی بخشش ممکن ہے، اگر معاف نہ کیا گیا تو محدود عذاب کے ذریعے اس کا بدلہ دیا جائے گا، ما سوائے شرک کے، یہ گناہ ناقابل معافی ہے۔
10204
Zaeef