TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان - گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان - Book 169 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 169 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 17 Chapters
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
۔ (۱۰۴۴۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُسَیْکٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْل َاللّٰہِ! أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِیْ مُدْبِرَھُمْ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، فَقَاتِلْ بِمُقْبِلِ قَوْمِکَ مُدْبِرَھُمْ۔)) فَلَمَّا وَلَّیْتُ دَعَانِیْ فَقَالَ: ((لَا تُقَاتِلْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوَھُمْ اِلَی الْإِسْلَامِ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ رَأَیْتَ سَبَأً، أ وَادٍ ھُوَ أَوْ جَبَلٌ، مَا ھُوَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا بَلْ ھُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرْبِ وُلِدَ لَہُ عَشْرَۃٌ، فَتَیَامَنَ سِتَّۃٌ وَتَشَائَ مَ أَرْبَعَۃٌ، تَیَامَنَ الْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَحِمْیَرٌ وَکِنْدَۃُ وَمذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ الَّذِیْنَیُقَالُ لَھُمْ بَجَیْلَۃُ وَخَثْعَمُ، وَتَشَائَمَ لَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۰۶)
۔ سیدنا عروہ بن مسیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے مسلمان ہونے والے افراد کو لے کر اس کے اسلام قبول نہ کرنے والے افراد سے جہاد کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، تو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر اپنی قوم کے کافروں سے لڑائی کر۔ پھر جب میں جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تو نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کرنا، جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے دے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سبأ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ وادی کا نام ہے یا کوئی پہاڑ ہے؟ یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو ایک آدمی تھا، اس کے دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں بسے، یمن میں آباد ہونے والے ازد، اشعری، حمیر، کندہ، مذحج اور انمار ہیں، مؤخر الذکرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بجیلہ اور خثعم بھی ان میں سے ہیں، اور شام میں آباد ہونے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔
Takhreej
(۱۰۴۴۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۸۳۴(انظر: ۰۰۰/۸۸)
10442
Sahih
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
۔ (۱۰۴۴۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٌٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖتَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)
۔ سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
Takhreej
(۱۰۴۴۳) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۲۲۷ (انظر: ۱۶۸۲۷)
Explanation
فوائد:… حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔ حمیریمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲) قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
10443
Sahih
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
۔ (۱۰۴۴۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَعِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَسُبُّوْا تُبَّعًا فِإِنَّہُ قَدْ کَانَ أَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۸)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تبع کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ وہ مسلمان ہو گیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۴) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۲۸۸۰)
Explanation
فوائد:… اس تبع کا نام تبان اسعد ابو کرب تھا، یمن کے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی اور مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے تھے۔
10444
Sahih
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
۔ (۱۰۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ سَیَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ اَبُوْخُزَاعَۃَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّیْ رَأَیْتُہُیَجُرُّ أَمْعَائَہُ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، یہ خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاںگھسیٹ رہا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۴۲۵۸)
10445
Sahih
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
۔ (۱۰۴۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ (اَلْخُزَاعِیَّ) یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَکَانَ أَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّائِبَۃَ وَبَحَرَ الْبَحِیْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا، وہ پہلا شخص ہے، جس نے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑا اور اونٹنیوں کے کان کاٹ کر ان کو چھوڑا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۲۱، ۴۶۲۳، ومسلم: ۲۸۵۶ (انظر: ۸۷۸۷)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَائِبَۃٍ وَّلَا وَصِیْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَاَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔} … اللہ نے نہ کوئی کان پھٹی اونٹنی مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سانڈ چُھٹی ہوئی اور نہ کوئی اوپر تلے بچے دینے والی مادہ اور نہ کوئی بچوں کا باپ اونٹ اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۳) حافظ ابن کثیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: صحیح بخاری میں ہے: سعید بن مسیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے، اسے کوئی دو ہتا نہ تھا، سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے، جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے، سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے، وصیلہ وہ اونٹنی ہے، جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں، ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو، اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ حام اس نر اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں، پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے۔
10446
Sahih
حاتم طائی کا ذکر
۔ (۱۰۴۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ کَانْ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیَقْرِی الضَّیْفَ وَیَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: ((اِنَّ أَبَاکَ أَرَادَ شَیْئًا فَأَدْرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۱)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا اور دیگر کوئی امور سر انجام دیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے جس چیز کا ارادہ کیا، اس کو پا لیا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۷) تخریج: حسن، أخرجہ ابوداود الطیالسی: ۱۰۳۳ ، وابن حبان: ۳۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۲۴۷ (انظر: ۱۹۳۷۴)
Explanation
فوائد:… حاتم کی سخاوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں تھا، بلکہ شہرت طلبی تھا،اوروہ پورا ہو چکا ہے، ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں اور قابل مذمت ہوتا ہے۔
10447
Sahih
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
۔ (۱۰۴۴۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِیَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمَسَاکِیْنَ فَھَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ؟ قَالَ: ((لَا، یَاعَائِشَۃُ! إِنَّہُ لَمْ یَقُلْیَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْئَتِیْیَوْمَ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دورِ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیایہ نیکیاں اس کے لئے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھییہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روزِ قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۴ (انظر: ۲۴۶۲۱)
Explanation
فوائد:… ابن جدعان کی صلہ رحمی اور سخاوت وغیرہ اس کوفائدہ نہیں دے گی، کیونکہ وہ کافر تھا، اس کے یہ دعا نہ کرنے سے مقصودیہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس کے عمل ضائع ہو گئے۔
10448
Sahih
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
۔ (۱۰۴۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِمْرَؤُ الْقَیْسِ صَاحِبُ لِوَائِ الشُّعَرَائِ اِلَی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امرؤ القیس جہنم کی طرف شعراء کا جھنڈا اٹھانے والا ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف ،ابو الجھم الواسطی لایعرف الا بھذا الحدیث، وقال ابوزرعۃ: واھی الحدیث، أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… امرؤ القیس بن حُجْر بن حارث کندی دورِ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا،یہ وہ پہلا شخص تھا، جس نے قصیدے ترتیب دیئے۔ اس نے قابل مذمت امور پر مشتمل اشعار ایجاد کیے،بعد والے شعراء اور مشرکین نے اس کی پیروی کی، لہٰذا جیسے وہ دنیا میں ان لوگوں کا قائد تھا، اسی طرح آخرت میں قائد ہو گا، لیکن قیادت جہنم کی طرف کرے گا۔
10449
Zaeef
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
۔ (۱۰۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَشْعَرُ بَیْتٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَصْدَقُ بَیْتٍ) قَالَتْہُ الْعَرَبُ: (أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ) وَکَادَ اُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ أَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے) اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۶(انظر: ۹۰۸۳)
10450
Sahih
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
۔ (۱۰۴۵۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اسْتَنْشَدَہُ مِنْ شِعْرِ أُمَّیَۃَ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ، قَالَ: فَأَنْشَدَہُ مِائَۃَ قَافِیَۃٍ، قَالَ: فَلَمْ أُنْشِدْہُ شَیْئًا اِلَّا قَال: ((اِیْہِ، اِیْہِ۔)) حَتّٰی اِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَۃِ قَافِیَۃٍ قَالَ: ((کَادَ أَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۳)
۔ سیدنا شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے شعر پڑھے، پس میں نے سو قافیے پڑھ دیئے، میں جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا کوئی کلام سناتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور سناؤ، اور سناؤ۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہو جاتا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۵(انظر: ۱۹۴۶۴)
Explanation
فوائد:… امیہ بن ابی صلت نے اتنے عمدہ اشعار کہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اشعار پسند کیے، لیکن اس شخص کو اسلام نصیب نہ ہو سکا۔
10451
Sahih
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
۔ (۱۰۴۵۲)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، و ذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْوَحْیُ، فَقَدَّمَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُفْرَۃً فِیْھَا لَحْمٌ فَأَبَی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا، ثُمَّّ قَالَ: إِنِّیْ لَا آکُلُ مَا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ وَ لَا آکُلُ اِلَّا مَا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَ حَدَّثَ ھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۶۱۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح کے زیریں مقام پر ملے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے کی بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ایک تھیلا پیش کیا، اس میں گوشت تھا، لیکن اس نے اس سے کھانے سے انکارکر دیا اور کہا: بیشک میں وہ چیز نہیں کھاتا جوتم اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ چیز کھاتا ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۲۶ ، ۵۴۹۹ (انظر: ۶۱۱۰)
Explanation
فوائد:… زید بن عمرو بن نفیل، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا زاد تھے، انھوں نے نے بتوں کی عبادت کو ترک کر دیا تھا اور مشرکوں کے دین سے الگ تھلگ ہو گئے تھے اور صرف اس جانور کا گوشت کھاتے تھے، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جاتا تھا۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں زید بن عمرو کو ملی، وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے: اے قریشیو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے! تم میں سے کوئی آدمی دین ِ ابراہیمی کا پیروکار نہیںہے، ما سوائے میرے، پھر وہ کہتے: اے اللہ ! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کون سا چہرہ تجھے سب سے پسند ہے تو میں اس کے ذریعے تیری عبادت کرتا۔ … یہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور کہتے: ابراہیم علیہ السلام کا معبود میرا معبود ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا دین میرا دین ہے، یہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے تھے، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس کو کہتے: اس کو قتل نہ کر، بلکہ مجھے دے دے، میں اس کی کفالت کروں گا، پھر جب یہ بالغ ہو جائے گی تو مجھ سے لے لینایا میرے پاس چھوڑ دینا، جیسے تیری مرضی ہو گی۔ ایک بار یہ اہل کتاب میں دینِ ابراہیمی تلاش کرنے کے لیے شام کی طرف نکلے، مختلف لوگوں سے سوال کرنے کے لیے موصل اور جزیرہ کا گشت کیا، پھر شام کی طرف واپس پلٹے اور بلقاء کی سرزمین میں ایک گرجا گھر میں ایک پادری کے پاس آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پادری نصرانیت کا مکمل علم رکھتا تھا، انھوں نے اُس سے ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: تو ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے کہ آج کوئی بھی اس پر پابند نہیں ہے، اس دین کا علم مٹ چکا ہے اور اس کی معرفت رکھنے والے فوت ہو چکے ہیں، ہاں اب ایک نبی کے ظہور کا وقت ہو چکا ہے، زیدبن عمرو یہودیت اور نصرانت کی طلب میںنکلے تھے، لیکن ان دو ادیان کی کوئی چیز ان کو پسند نہ آئی، پھر وہ وہاں سے نکلے اورمکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے جلدی کی، لیکن جو لخم کے علاقے سے گزرے توان لوگوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا، ورقہ بن نوفل نے ان کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: رَشَدْتَّ وَ اَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو وَاِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تـَــنُّـــــورًا مِّــــنَ النَّارِ حَامِیَا بِدِیْنِکَ رَبًّــا لَــیْــسَ رَبٌّ کَـــمِثْــــــلِہِ وَتَرْکِکَ اْوَثَانَ الطَّوَاغِیْ کَمَا ھِیَا اے ابن عمرو! تو ہدایت پا گیا اور تو نے بہت اچھا کیا اور تو بچ گیا دہکتی ہوئی آگ کے تنور سے ایسے ربّ کو لائقِ عبادت سمجھ کر کہ جس کی طرح کا کوئی ربّ نہیں ہے اور بتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر۔ (ملخص از البدایۃ والنھایۃ لا بن کثیر)
10452
Sahih
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
۔ (۱۰۴۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ خَدِیْجَۃَ سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَرْقَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ فَأَحْسِبُہُ لَوْ کَانَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
Takhreej
(۱۰۴۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۷۰۹ (انظر: ۲۴۳۶۷)
Explanation
فوائد:… ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔
10453
Zaeef

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.