TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12575 - بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۵۷۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفِیْلُ وَاَصْحَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ دَوْسًا قَدِ اسْتَعْصَتْ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے تو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک بنو دوس نے سرکشی کی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنودوس کو ہدایت دے اور ان کومیرے پاس لے آ۔
12575
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۵۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۹۲ (انظر: ۹۷۸۴)

Related Chapters

413
1
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
2
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
4
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
5
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
6
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
7
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
8
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
9
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
10
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Severe Threat For One Who Is Awarded A Judgement For Something That Is Not His To Take
باب: قاضی کے فیصلے کی بنا پر دوسرے کا مال لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Ghulul
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Liar And Destroyer From Thaqif
باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا
Jam e Tirmazi
15
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
16
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
Musnad Ahmad
17
وفدِ ثقیف اور قبیلہ بنو سعد کے نمائندے سیدنا ضمام بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
18
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
Musnad Ahmad
19
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
Musnad Ahmad
20
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
21
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
22
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
23
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
Musnad Ahmad
24
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
Musnad Ahmad
26
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
27
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
28
(15) CHAPTER. The women's attesting the honourable record of each other.
عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کے بارے میں گواہی دینا
Sahih Bukhari
29
(32) CHAPTER. Whoever likes to hear the Quran from another person.
اس شخص کے بارے میں جس نے قرآنمجید کو دوسرے سے سننا پسند کیا
Sahih Bukhari
30
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
31
(40) CHAPTER. One should take off the left shoe first.
اس بارے میں کہ صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو ۔ دوسرا پیر ننگا ہو اس طرح چلنا منع ہے
Sahih Bukhari
32
Chapter: What was narrated concerning one who finds relief and one from whom relief is found
آرام پانےوالا اور جس سے دوسرے آرام پائیں ‘ان کےبارے میں کیا کہا گیا؟
Sahih Muslim
33
CHAPTER: Hair Extensions.
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
Chapter: One Who Claims Something Does Not Belong To Him And Disputes About It
جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
جو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہہ دے کہ یہ میرا نہیں ہے اس پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
37
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Neglecting The Friday Prayer Without An Excuse.
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been related about the severe warning regarding the one who raises his head before the Imam
باب: اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھانے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Severe Warning Against Withholding Zakat
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Muhill And The One Who The Muhallal Was Done For
باب: حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back One's Gift
باب: ہبہ کو واپس لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Married A Woman His Father Was Married To (Previously)
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Severing the Ties Of Kinship
باب: قطع رحمی (ناتا توڑنے) پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
49
باب: زہر یا کسی اور ذریعہ سے خودکشی کرنے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
9276
۔ (۹۲۷۶)۔ عَنْ اَبِی عَسِیْبٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلاً، فَمَرَّ بِی فَدَعَانِی اِلَیْہِ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِاَبِی بَکْرٍ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی دَخَلَ حَائِطًا لَبَعْضِ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: ((اَطْعِمْنَا بُسْرًا۔)) فَجَائَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَہُ، فَاَکَلَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: ((لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَاَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِہٖالْاَرْضَحَتّٰی تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَئِنَّا لَمَسْئُوْلُوْنَ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ! اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، خِرْقَۃٍ کَفَّ بِھَا الرَّجُلُ عَوْرَتَہُ، اَوْ کِسْرَۃٍ سَدَّ بِھَا جَوْعَتَہُ، اَوْ حِجْرٍ یَتَدَخَّلُ فِیْہِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ۔))(مسند احمد: ۲۱۰۴۹)
۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔
Musnad Ahmad
9921
۔ (۹۹۲۱)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ اَبَا بَکْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا اِلٰی بُصْرٰی، وَمَعَہُ نُعَیْْمَانُ وَسُوَیْبِطُ بْنُ حَرْمَلَۃَ، وَکِلَاھُمَا بَدْرِیٌّ، وَکَانَ سُوَیْبِطُ عَلَی الزَّادِ، فَجَائَ ہُ نُعَیْمَانُ فَقَالَ: اَطْعِمْنِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰییَاْتِیَ اَبُوْبَکْرٍ، وَ کَانَ نُعَیْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاکًا مَزَّاحًا، فَقَالَ: لَاُغِیْظَنَّکَ، فَجَائَ اِلَی اُنَاسٍ جَلَبُوْا ظَھْرًا، فَقَالَ: ابْتَاعُوْا مِنِّیْ غُلَامًا عَرَبِیًّا فَارِھًا، وَھُوَ ذُوْ لِسَانٍ، وَلَعَلَّہُ یَقُوْلُ : اَنَا حُرٌّ، فَاِنْ کُنْتُمْ تَارِکِیْہِ لِذٰلِکَ فَدَعُوْنِیْ، لَا تُفْسِدُوْا عَلَیَّ غُلَامِیْ، فَقَالُوْا: بَلْ نَبْتَاعُہُ مِنْکَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ، فَاَقْبَلَ بِھَا یَسُوْقُھَا، وَاَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّی عَقَلَھَا، ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ: دُوْنَکُمْ ھُوَ ھٰذَا، فَجَائَ الْقَوْمُ، فَقَالُوْا: قَدِ اشْتَرَینَاکَ، قَالَ سُوَیْبِطُ: ھُوَ کَاذِبٌ اَنَا رَجُلٌ حُرٌّ، فَقَالُوْا: قَدْ اَخْبَرَنَا خَبْرَکَ وَطَرَحُوْا الْحَبْلَ فِیْ رَقَبَتِہِ، فَذَھَبُوْا بِہٖفَجَائَاَبُوْبَکْرٍفَاَخْبَرَ، فَذَھَبَ ھُوَ وَاَصْحَابٌ لَہُ، فَرَدُّوْا الْقَلَائِصَ وَاَخَذُوْہُ، فَضَحِکَ مِنْھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ حَوْلًا۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تجارت کی غرض سے بصری کی طرف نکلے، سیدنا نعیمان اور سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، یہ دونوں بدری صحابی تھے، زادِ سفر سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے، سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، انھوں نے کہا: جی نہیں،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آجائیں۔ سیدنا نعیمان بہت زیادہ ہنسانے والے اور مذاق کرنے والے آدمی تھے، پس انھوں نے کہا: میں تجھے ضرور ضرور غصہ دلاؤں گا، پس وہ ایسے لوگوں کے پاس گئے جو سواریاں لے کر جا رہے تھے اور ان سے کہا: تم لوگ مجھ سے ایک پھرتیلا اور چست عربی غلام خرید لو، البتہ وہ زبان دراز ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ تو آزاد شخص ہے، اگر اس کی اس بات کی وجہ سے تم نے اس کو چھوڑ دینا ہے تو پھر سودا ہی رہنے دو اور مجھ پر میرے غلام کو خراب نہ کرو، انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تجھ سے دس اونٹنیوں کے عوض خریدیں گے، پس سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس ساتھی کو کھینچ کر لے آئے اور اس کو لوگوں کے سامنے لا کر باندھ دیا اور ان کو کہا: یہ لو، وہ غلام یہ ہے، پس لوگ آئے اور انھوں نے اس سے کہا: ہم نے تجھے خرید لیا ہے، سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ جھوٹا ہے، میں تو آزاد آدمی ہوں، انھوں نے کہا: اس نے ہمیں تیری ساری بات بتلا دی ہے، پھر انھوں نے اس کی گردن میں رسی ڈالی اور اس کو لے گئے، اتنے میں اُدھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے اور انھوں نے ان کو واقعہ کی خبر دی، پس وہ اور ان کے ساتھی گئے اور ان کی اونٹنیاں واپس کر کے اس کو واپس لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ ایک سال تک اس واقعہ سے ہنستے رہے۔
Musnad Ahmad
13012
۔ (۱۳۰۱۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ اَبُوالْعَبَّاسِ الدَّمِشْقِیُّ بِمَکَّۃَ اِمْلَائً قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْیَحْیٰی بْنُ جَابِرِ نِ الطَّائِیُّ قَاضِی حِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرِ نِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہُ سَمِعَ النَّوَاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاۃٍ فَخَفَضَ فِیْہِ وَرَفَعَ، حَتّٰی ظَنَنَّاہُ فِیْ طَائِفَۃِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا اِلَیْہِ عَرَفَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِنَا، فَسَاَلْنَاہُ فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَکَرْتَ الدَّجَالَ الْغَدَاۃَ فَخَفَضْتَ فِیْہِ وَرَفَعْتَ، حَتّٰی ظَنَنَّاہُ فِیْ طَائِفَۃِ النَّخْلِ، قَالَ: ((غَیْرُالدَّجَّالِ اَخْوَفُ مِنِّیْ عَلَیْکُمْ، فَاِنْ یَّخْرُجْ وَاَنَا فِیْکُمْ فَاَنَا حَجِیْجُہُ دُوْنَکُمْ وَاِنْ یَّخْرُجْ وَلَسْتُ فِیْکُمْ فَامْرُؤٌحَجِیْجُ نَفْسِہٖ وَاللّٰہُ خَلِیْفَتِیْ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ، اِنَّہُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ، عَیْنُہُ طَافِیَۃٌ، وَاِنَّہُ یَخْرُجُ مِنْ خُلَّۃٍ بَیْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ یَمِیْنًا وَشِمَالًا، یَا عِبَادَ اللّٰہِ! اُثْبُتُوْا۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَبْثُہٗ فِی الْاَرْضِ؟ قَالَ: ((اَرْبَعِیْنَیَوْمًا،یَوْمٌ کَسَنَۃٍ،وَیَوْمٌ کَشَہْرٍ،وَیَوْمٌ کَجُمُعَۃٍ، وَسَائِرُ اَیَّامِہِ کَاَیَّامِکُمْ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ ھُوَ کَسَنَۃٍ اَیَکْفِیْنَا فِیْہِ صَلَاۃُیَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، قَالَ: ((لَا، اُقْدُرُوْا لَہُ قَدْرَہُ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا اِسَرَاعُہُ فِی الْاَرْضِ؟ قَالَ: ((کَالْغَیْثِ اِسْتَدْبَرَتْہُ الرِّیْحُ، قَالَ: فَیَمُرُّ بِالْحَیِّ فَیَدْعُوْھُمْ فَیَسْتَجِیْبُوْنَ لَہُ فَیَاْمُرُ السَّمَائَ فَتُمْطِرُ وَالْاَرْضَ فَتُنْبِتُ وَتَرُوْحُ عَلَیْہِمْ سَارِحَتُہُمْ وَھِیَ اَطْوَلُ مَا کَانَتْ ذُرًی وَاَمَدُّہُ خَوَاصِرَ وَاَسْبَغُہُ ضُرُوْعًا وَیَمُرُّ بِالْحَیِّ فَیَدْعُوْھُمْ فَیَرُدُّوْا عَلَیْہِ قَوْلَہُ فَتَتَّبِعُہُ اَمْوَالُھُمْ، فَیُصْبِحُوْا مُمْحِلِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ شَیْئٌ، وَیَمُرُّ بِالْخَرِبَۃِ، فَیَقُوْلَ: لَھَا اُخْرُجِیْ کُنُوْزَکِ، فَتَتَّبِعُہُ کُنُوْزُھَا کَیَعَاسِیْبِ النَّخْلِ قَالَ: وَیَاْمُرُ بِرَجُلٍ فَیُقْتَلُ فَیَضْرِبُہُ بِالسَّیْفِ فَیَقْطَعُہُ جَزْلَتَیْنِ رَمْیَۃَ الْغَرَضِ، ثُمَّ یَدْعُوْ فَیُقْبِلُ اِلَیْہِیَتَہَلَّلُ وَجْہُہُ قَالَ: فَبَیْنَا ھُوَ عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَسِیْحَ بْنَ مَرْیَمَ، فَیَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَائِ شَرْقِیِّ دِمَشْقَ بَیْنَ مَہْرُوْدَتَیْنِ وَاضِعًا یَدَہُ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ فَیَتْبَعُہُ فَیُدْرِکُہُ فَیَقْتُلُہُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِیِّ، قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُمْ کَذٰلِکَ اِذْ اَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی عِیْسٰی بْنِ مَرْیَم علیہ السلام اَنِّیْ قَدْ اَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِیْ لَایَدَانِ لَکَ بِقِتَالِھِمْ، فَحَوِّزْ عِبَادِیْ اِلٰی الطُّوْرِ فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَھُمْ کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} فَیَرْغَبُ عِیْسٰی وَاَصْحَابُہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیُرْسِلُ عَلَیْہِمْ نَغْفًا فِیْ رِقَابِہِمْ فَیُصْبِحُوْنَ فَرْسٰی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ فَیَہْبِطُ عِیْسٰی وَاَصْحَابُہُ فَلَا یَجِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ بَیْتًا اِلَّا قَدْ مَلَأَہٗزَھَمُہُمْوَنَتْنُہُمْ،فَیَرْغَبُ عِیْسٰی وَاَصْحَابُہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیُرْسِلُ عَلَیْہِمْ طَیْرًا کَاَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُہُمْ فَتَطْرَحُہُمْ حَیْثُ شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَحَدَّثَنِیْ عَطَائُ بْنُ یَزِیْدَ اَلسِّکْسَکِیُّ مِنْ کَعْبٍ اَوْ غَیْرِہِ قَالَ: فَتَطْرَحُہُمْ بِالْمُہَبَّلِ، قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: یَا اَبَا یَزِیْدَ! وَاَیْنَ الْمُہَبَّلُ؟ قَالَ: مَطْلِعُ الشَّمْسِ قَالَ: ((وَیُرْسِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَطَرًا لَایَکِنَّ مِنْہُ بَیْتُ وَبَرٍوَلَامَدَرٍ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا فَیَغْسِلُ الْاَرْضَ حَتّٰییَتْرُکَھَا کَالزَّلَفَۃِ وَیُقَالُ لِلْاَرْضِ: اَنْبِتِیْ ثَمَرَتَکِ وَرَدِّیْ بَرَکَتَکِ، قَالَ: فَیَوْمَئِذٍیَاْکُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَۃِ وَیَسْتَظِلُّوْنَ بِقِحْفِہَا وَیُبَارَکُ فِی الرِّسْلِ حَتّٰی اَنَّ اللِّقْحَۃَ مِنَ الْاِبِلِ لَتَکْفِی الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَۃَ مِنَ الْبَقَرِ تَکْفِی الْفَخِذَ وَالشَّاۃُ مِنَ الْغَنَمِ تَکْفِیْ اَھْلَ الْبَیْتِ قَالَ: فَبَیْنَا ھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رِیْحًا طَیِّبَۃً تَحْتَ آبَاطِہِمْ فَتَقْبِضُ رُوْحَ کُلِّ مُسْلِمٍ اَوْقَالَ: کُلِّ مُوْمِنٍ وَیَبْقٰی شِرَارُ النَّاسُ یَتَہَارَجُوْنَ تَہَارُجَ الْحَمِیْرِ وَعَلَیْہِمْ اَوْقَالَ: وَعَلَیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۹)
سیدنا نواس بن سمعان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن صبح کو دجال کا ذکر کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کبھی اپنی آواز کو پست کر لیتے اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کھجوروں کے کسی جھنڈ میں موجود ہے، ہم اس سے اس قدر خوف زدہ ہوگئے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر دہشت سی محسوس کر لی، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے متعلق مزید دریافت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آج دجال کا ذکر کیا اور اس دوران اپنی آواز کو کبھی پست کیا اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کہیںکھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق دجال کے علاوہ دوسری بات کا اندیشہ زیادہ ہے، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال آگیا تو میں تم سے آگے اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر آدمی اپنا دفاع خود کر لے گا اور ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ میری طرف سے خلیفہ ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو فتنہ ٔ دجال سے محفوظ رکھے گا)، دجال نوجوان ہوگا، اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ خوشۂ انگور میں ابھرے ہوئے دانے کی طرح ہو گی،وہ شام اور عراق کے درمیان کے علاقوں میں ظاہر ہوگا اور دائیں بائیں (زمین پر) گھومے گا، اللہ کے بندو! تم اس وقت دین پر ثابت قدم رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس دن، لیکن اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا ،تو کیا اس میںہمیں ہمیں ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جی نہیں،تم وقت کا اندازہ کر کے (وقفے وقفے سے نمازیں) ادا کرتے رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کس رفتار سے جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی رفتار اس بادل کی سی ہوگی، جسے ہوا آگے کو دھکیل رہی ہو۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ایک قبیلے کے پاس سے گزرے گا اور انہیں (اپنی ربوبیت) کی دعوت دے گا، لوگ اس کی بات مان لیں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین نباتات اگائے گی، جنگلوں میں چرنے والے ان کے جانور پہلے سے بڑی کوہانوں والے، بھری ہوئی کو کھوں والے اور بڑے تھنوں والے ہو کر واپس آئیں گے، اسی طرح جب وہ ایک دوسرے قبیلے کے پاس سے گزر ے گا اور ان کو (اپنی ربوبیت پر ایمان لانے کی) دعوت دے گا اور وہ اس کی بات کو ردّ کردیں گے، ان کے اموال (ان کو چھوڑ کر) دجال کے پیچھے چل پڑیں گے اور وہ لوگ تنگ دست ہو کر رہ جائیں گے، ان کے پاس ان کے مالوں میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ دجال ایک شور زدہ زمین سے گزرتے ہوئے اس سے کہے گا کہ کہ تو اپنے خزانے اُگل دے، تو اس زمین کے خزانے نکل کر اس کے پیچھے یوں چلیں گے، جیسے شہد کی مکھیوں کے لشکر جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دجال تلوار کی ضرب سے ایک آدمی کے یک لخت اس طرح دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے تیر جلدی سے اور اچانک اپنے ہدف پر جا کر لگتا ہے، پھر وہ اس مقتول کو اپنی طرف بلائے گا تو وہ زندہ ہو کر اس کی طرف آ جائے گا اور اس کا چہرہ بے خوفی اور اطمینان کی وجہ سے خوب روشن ہوگا، دجال اسی طرح لوگوں کو شعبدے دکھا دکھا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرما دے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید رنگ کی بلند جگہ پر اتریں گے، انھوں نے ورس اور زعفران کے ساتھ رنگے ہوئے دو کپڑے زیب ِ تن کیے ہوں گے اور فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے، وہ اتر کر دجال کا پیچھا کر کے اسے لُدّ کے مشرقی دروازے کے قریب قتل کر دیں گے، اتنے میں اللہ تعالی، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ اب میں ایسے بندے بھیجنے لگا ہوں کہ آپ ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، لہٰذا آپ اہل ِ ایمان بندوں کو لے کر کوہِ طور کی طرف چلے جائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو ظاہر کرے گا، ان کی وہی کیفیت اور حالت ہوگی جو قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)۔ (سورۂ انبیائ: ۹۶) پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں گے اور اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا،اس سے وہ بہت جلد مر جائیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کوہِ طور سے نیچے آئیں گیاور جب وہ دیکھیں گے کہ ان کی لاشیں اور بدبو زمین پر ہر ہر گھر میں پڑی ہوئی ہے، تو وہ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اوراللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا، جو ان کے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر ادھر پھینک آئیں گے، جہاں اللہ کو منظور ہوگا۔ یحییٰ بن جابر کہتے ہیں: عطا ء بن یزید سکسکی نے مجھے سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا کسی اور صحابی کی روایت سے بیان کیا کہ وہ پرندے یا جوج ماجوج کی لاشوں کو مَھْبَل میں جا پھینکیں گے، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ مَھْبَل کہاں ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو چالیس دن تک جاری رہے گی، اس بارش سے کوئی خیمہ یا کوئی گھر محروم نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ اس بارش کے ذریعے زمین کو اچھی طرح دھو دے گا اور زمین صاف چٹیل پتھر کی طرح صاف ہوجائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کو حکم دیا جائے گا کہ تو وہ اپنے پھل اگا دے اور اپنی برکات اگل دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں میں پھلوں اور باقی چیزوں میں اس قدر برکت ہوگی کہ ایک انار کو لوگوں کی بڑی جماعت کھائے گی اور وہ لوگ اس کے چھلکے کے سائے میں بھی بیٹھ سکیں گے اور دودھ میں بھی اس قدر برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کو کفایت کرے گی اور ایک گائے کا دودھ بھی ایک جماعت کی ضرورت پوری کرے گا اور ایک بکری کا دودھ ایک گھر والوں کے لیے کافی رہے گا، لوگ اسی طرح خوش حالی کی زندگی گزار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے ایک بہترین خوش بو دار قسم کی ہوا چلائے گا، جو ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور وہ اس قدر بے حیا ہوں گے کہ گدھوں کی مانند بر سرِعام عورتوں کو استعمال کریں گے، پھر ایسے لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔