TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان

Chapter 91 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 91 of 113 · 3 Hadith
۔ (۱۲۴۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ نُجَیٍّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَارَ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَکَانَ صَاحِبَ مِطْہَرَتِہِ، فَلَمَّا حَاذٰی نِینَوٰی، وَہُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی صِفِّینَ، فَنَادٰی عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ، قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالَ: قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ وَعَیْنَاہُ تَفِیضَانِ، قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَغْضَبَکَ أَحَدٌ؟ مَا شَأْنُ عَیْنَیْکَ تَفِیضَانِ؟ قَالَ: ((بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِی جِبْرِیلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِی أَنَّ الْحُسَیْنَیُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ، قَالَ: فَقَالَ: ہَلْ لَکَ إِلٰی أَنْ أُشِمَّکَ مِنْ تُرْبَتِہِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَمَدَّ یَدَہُ فَقَبَضَ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابٍ، فَأَعْطَانِیہَا فَلَمْ أَمْلِکْ عَیْنَیَّ أَنْ فَاضَتَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸)
عبداللہ بن نجی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طہارت والے پانی کا برتن اٹھا کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی مقام تک پہنچے، تو سیدنا علی نے آواز دی: ابو عبداللہ! ٹھہر جاؤ ، دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا: ادھر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، اس حال میں کہ آپ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھیں کیوں آنسو بہار ہی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کی آمد سے قبل جبریل امین میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین کو دریائے فرات کے کنارے قتل کر دیا جائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میں آپ کو اس کی مٹی کی خوشبو سونگھاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پس اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا، مٹی کی مٹھی بھری اور مجھے دے دی۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور رونے لگ گیا۔
Takhreej
(۱۲۴۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن نجی مختلف فیہ،وأبوہ نجی لم یرو عنہ غیر ابنہ، ولم یوثقہ غیر ابن حبان، وقال: لایعجبنی الاحتجاج بخبرہ اذا انفرد، اخرجہ النسائی: ۳/ ۱۲، والبزار: ۸۷۹، وابن خزیمۃ: ۹۰۲(انظر: ۶۴۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام الفضل بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّي رَاَیْتُ حُلْمًا مُنْکرًا اللَّیْلَۃَ۔ قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: اِنَّہُ شَدِیْدٌ۔قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَ: رَاَیْتُ کَاَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعْتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِيْ ۔ قَالَ: ((رَایَتِيْ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَاماً فَیَکُوْنُ فِي حِجْرِکِ۔)) فوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ، فَکَانَ فِي حِجْرِي کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ یَوْمًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْتُہُ فِي حِجْرِہِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي اِلْتِفَاتَۃٌ فَاِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُھْرِ یْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! بِأَبِي اَنْتَ وَاُمِّيْ مَالَکَ؟ فَقَالَ: ((اَتَانِي جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَاَخْبَرَنِي اَنَّ اُمَّتِي سَتَقْتُلُ اِبْنِيْ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: ھٰذَا؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔ وَاَتَانِي بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔)) … اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخر وہ ہے کیا؟ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینکا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) ان شاء اللہ میری بیٹی فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گاجو تیری گود میں ہو گا۔ واقعی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے کہا:اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے ۔ (مستدرک حاکم: ۳/ ۱۷۶، صحیحہ: ۸۲۱) آج کل سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کی نسبت سے جن امور کا ارتکاب کیا جا رہا ہے یا ان کو دین میں داخل کر دیا گیا ہے، ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کا ردّ ہوتا ہے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے شہادت ِ حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ساری صورتحال واضح کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہ کیا۔ سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میدانِ کربلا میںشہادت امت مسلمہ کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام کے تعاون سے پہلے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: اِس قسم کی احادیث کربلا کے تقدس، اس زمین پر سجدہ کرنے اور اس کی مٹی کی بنائی گئی ٹکیہ پر سجدے کرنے کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں، جیسا کہ شیعوں کا خیال ہے، اگر اس قسم کی ٹکی کی کوئی فضیلت ہوتی تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کی مٹی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔ اصل میں اس چیز کا تعلق شیعوں کی بدعت اور اہل بیت اور ان کے آثار کی تعظیم میں غلو سے ہے۔ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ اِن لوگوں کے ہاں عقل بھی مصادرِ شریعت میں سے ہے، اسی بنا پر وہ عقلی تحسین اور عقلی تقبیح کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کربلا کی زمین پر سجدہ کرنے کی فضیلت ایسی روایات سے ثابت کرتے ہیں، جو عقلی تقاضوں کے مطابق بالکل باطل ہیں۔ سید عبد الرضا مرعشی شہرساتی نے اپنے رسالے (ص ۱۵) میں السجود علی التربۃ الحسینیۃ کے عنوان میں لکھا: کربلا کی مٹی کے شرف، تقدس اور وہاں مدفون ہستیوں کی طہارت کی وجہ سے اس پر سجدہ کرنا افضل ہے، عترتِ طاہرہ کے ائمہM سے مروی روایات اس پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: اس (مٹی) پر کیے ہوئے سجدے ساتویں زمین تک نور پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ سجدے ساتوں پردوں کو چاک کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اس مٹی پر سجدے کرنے والے کی نماز قبول کرتا ہے، اس طرح دوسروں کی نہیں کرتا۔ حسین کی قبر کی مٹی پر کیا گیا سجدہ زمینوں کو روشن کر دیتا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: ان روایات کا باطل و مردود ہونا ظاہر ہے، اہل بیت کے ائمہ ایسی مرویات سے بری ہیں، ان کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے کہ محقق علم حدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں ان کو پرکھ سکے، کوئی روایت مرسل ہے تو کوئی معضل۔ اسی شیعہ مصنف نے اپنی کتاب کے ورقوں کو کالا کرتے ہوئے مزید کہا: حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرنے والی روایات صرف ائمۂ اہلِ بیت سے مروی نہیں ہیں، بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی بنیادی کتابوں میں بڑی شہرت کے ساتھ ان کا تذکرہ ملتا ہے، ان کے علما اور رواۃ نے ان کو روایات کیا ہے، مثلا امام سیوطی نے اپنی کتاب (الخصائص الکبری) میں (باب اخبار النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقتل الحسین علیہ السلام ) میں امام حاکم، امام بیہقی، امام ابو نعیم اور امام طبری جیسے ثقات سے تقریباً بیس روایات بیان کی ہیں، اسی طرح امام ہیثمی کے (مجمع الزوائد: ۹/ ۱۹۱) میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: اے مسلمان! تجھے علم ہونا چاہیے کہ امام سیوطی اور امام ہیثمی نے ایک حدیث بھی ایسی ذکر نہیں کی، جو حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرے، اہل السنّہ کی روایت کردہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی، جیسا کہ میں نے بھی اس صحیحہ میں چند روایات بیان کی ہیں۔ اس شیعے نے جن روایات کے بارے میں دعوی کیا ہے، کیا وہ سیوطی اور ہیثمی نے روایت کی ہیں؟ اے اللہ! ہرگز نہیں۔ در اصل یہ شیعہ اپنی ضلالت اور بدعت کی تائید میں رواں دواں تھا اور مکڑی کے جالے سے کمزور دلیل کا بھی سہارا لینے لگا۔ اس مرعشی شہرسانی شیعے نے اپنی کتاب کے قاریوں کو اتنا دھوکہ دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے کی جرأت بھی کرنے لگا، جیسا کہ وہ کہتا ہے: جس نے سب سے پہلی مٹی سے بنی ہوئی تختی پر سجدہ کیا، وہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے، جب ۳ ھ میں مسلمانوں اور قریشیوں میں احد والی جنگ لڑی گئی، جس میں رکنِ اسلام حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ہر محفلِ سوگ میں ان پر نوحہ کریں، پھر ان کی تکریم میں وسعت اختیار کی گئی اور لوگ ان کی قبر سے مٹی لے کر اس سے تبرک حاصل کرتے اور اس پر سجدہ کرتے اور اس سے سجدہ کی جگہیں بناتے، جیسا کہ(شیعوں کی کتاب) (الارض والتربۃ الحسینیۃ) میں ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: قارئینِ کرام! سوچیں، اس آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کیسا جھوٹ منسوب کیا اور یہ دعوی کر دیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے سجدہ کرنے کے لیے ٹکی بنوائی تھی۔ پھر اس نے اپنے دعوی کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کی۔ البتہ یہ جھوٹ پیش کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کو سیدناحمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس حکم کا مٹی والے مسئلہ سے کوئی ربط بھی نہیں ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ پھر تیسرا جھوٹ یہ پیش کر دیا کہ صحابہ کرام تبرک کے لیے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قبر سے مٹی اٹھا لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ یہ صحابہ کرام پر واضح جھوٹ ہے۔ وہ اس قسم کی بت پرستی سے کوسوں دور تھے۔ پھر یہ بیچارہ اپنے جھوٹوں کو مسلمانوں کے کسی معروف مصدر کی طرف منسوب بھی نہ کر سکا۔ البتہ (الارض والتربۃ الحسینیۃ) کا نام پیش کر دیا، جو ایک شیعی کی کتاب ہے۔ (صحیحہ: ۱۱۷۱) اس کے بعد مزید بحث صحیحہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
12419
Zaeef
۔ (۱۲۴۲۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَلَکَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّہُ أَنْ یَأْتِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: امْلِکِی عَلَیْنَا الْبَابَ لَا یَدْخُلْ عَلَیْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَائَ الْحُسَیْنُ لِیَدْخُلَ فَمَنَعَتْہُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ یَقْعُدُ عَلٰی ظَہَرِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی مَنْکِبِہِ وَعَلٰی عَاتِقِہِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَکُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّہُ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَکَ سَتَقْتُلُہُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَیْتُکَ الْمَکَانَ الَّذِییُقْتَلُ فِیہِ فَضَرَبَ بِیَدِہِ فَجَائَ بِطِینَۃٍ حَمْرَاء َ فَأَخَذَتْہَا أُمُّ سَلَمَۃَ فَصَرَّتْہَا فِی خِمَارِہَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّہَا کَرْبَلَائُ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۷۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمارۃ بن زاذان عن ثابت، وقد قال الامام احمد: یروی عن ثابت عن انس احادیث مناکیر، اخرجہ البزار: ۲۶۴۲، وابویعلی: ۳۴۰۲، وابن حبان: ۶۷۴۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۸۱۳ (انظر: ۱۳۵۳۹)
12420
Zaeef
۔ (۱۲۴۲۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَوْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَ: وَکِیعٌ شَکَّ ہُوَ یَعْنِی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَعِیدٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاہُمَا: ((لَقَدْ دَخَلَ عَلَیَّ الْبَیْتَ مَلَکٌ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیَّ قَبْلَہَا، فَقَالَ لِی: إِنَّ ابْنَکَ ہٰذَا حُسَیْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَیْتُکَ مِنْ تُرْبَۃِ الْأَرْضِ الَّتِییُقْتَلُ بِہَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَۃً حَمْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۵۹)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یا سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے بتلایاہے کہ آپ کا یہ بیٹا حسین قتل ہوگا، اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھاؤں، جہاں یہ قتل ہوگا، پھر اس نے سرخ مٹی دکھائی۔
Takhreej
(۱۲۴۲۱) تخریج: حدیث حسن بطرقہ وشاھدہ، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۸۱۵، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۹۷ (انظر: ۲۶۵۲۴)
12421
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.