۔ (۶۲۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَاجًّا، قَالَ:
فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا أَرَادَ حَاجَۃً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ حَتّٰی انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اَلْوَضُوئَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَیَّ فَصَبَّ عَلٰی یَدِہِ فَغَسَلَہَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ بِکَفِّہَا فَصَبَّ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ قَبْضًا بِیَدِہِ فَضَرَبَ بِہِ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ فَمَسَحَ بِہِ عَلٰی قَدَمِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی لَنَا الظُّہْرَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۳)
سیدنا عبد الرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلَا، جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلّو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا ، پھر تشریف لائے اور ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی۔
Takhreej
(۶۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۰۷۵)
626
Sahih