TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث

Chapter 3 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 11 · 7 Hadith
۔ (۶۲۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ حَاجَۃً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ حَتّٰی انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اَلْوَضُوئَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ فَصَبَّ عَلٰی یَدِہِ فَغَسَلَہَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ بِکَفِّہَا فَصَبَّ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ قَبْضًا بِیَدِہِ فَضَرَبَ بِہِ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ فَمَسَحَ بِہِ عَلٰی قَدَمِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی لَنَا الظُّہْرَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۳)
سیدنا عبد الرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلَا، جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چلا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلّو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا ، پھر تشریف لائے اور ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی۔
Takhreej
(۶۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۰۷۵)
626
Sahih
۔ (۶۲۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَؓفَسَأَلْتُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَخْرَجْتْ لَہُ یَعْنِیْ اِنَائً یَکُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ و رُبْعٍ، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَذْہَبُ اِلَی الْہَاشِمِیِّ، قَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّۃً: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا وَیَمْسَحُ بِرَأْسِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ یَغْسِلُ رَِجْلَیْہِ ثَلَاثًا، قَدْ جَائَ نِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ فَسَأَلَنِیْ وَہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ لِیْ: مَا أَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ اِلَّا مَسْحَتَیْنِ وَغَسْلَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کے پاس بھیجا، انھوں ایک برتن نکالا، جو ایک مُدّ یا ایک مُدّ اور چوتھائی مُدّ کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مُدّ کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیعؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباسؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انھوںنے کہا: میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔
Takhreej
(۶۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب، وقد انفرد بہ واضطرب فی متنہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۷، ۱۳۰، والترمذی: ۳۳، وابن ماجہ: ۳۹۰، ۴۱۸،۴۴۰ (انظر: ۲۷۰۱۵)
Explanation
فوائد: …آخری قول سے وہ وضو والی آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس میں ان کے فہم کے مطابق چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کا اور سر اور پاؤں کا مسح کرنے کا ذکر ہے، حقیقت میں پاؤں کو دھونا ہی ثابت ہے، البتہ موزے وغیرہ کی صورت میں مسح کیا جا سکتا ہے۔
627
Zaeef
۔ (۶۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ أَیْضًا قَالَ: حَدَّثَتْنِی الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ (ؓ) قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا فَیُکْثِرُ فَأَتَانَا فَوَضَعْنَا لَہُ الْمِیْضَأَۃَ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَا بَقِیَ مِنْ وَضُوئِہِ فِی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِہِ ثُمَّ رَدَّ یَدَہُ اِلَی نَاصِیَتِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ أُذُنَیْہِ مُقَدَّمَہُمَا وَمُؤَخَّرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۶)
۔ (دوسری سند)عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: سیدہ ربیع بن معوذؓ نے مجھے بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کثرت سے ہمارے پاس آتے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ایک برتن رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اس طرح وضو کیا کہ تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا اور ایک ایک دفعہ کلی کی اور ناک میںپانی چڑھایا، پھر آپ نے تین دفعہ چہرہ اور دو بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر وضو کا جو پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھوں میں بچا، اس سے دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور پھر اپنے ہاتھ کو پیشانی تک لے آئے اور اپنے پاؤں کو تین تین بار دھویا اور کانوں کے سامنے والے اور پچھلے حصے کا مسح کیا۔
Takhreej
(۶۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
628
Zaeef
۔ (۶۲۹)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ یَحْیٰ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ ؓ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، فَقِیْلَ لَہُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَدَعَا بِاِنَائٍ فَأَکْفَأَ مِنْہُ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا فَغَسَلَہُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ وَاسْتَخْرَجَہَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ فَفَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا وَاسْتَخْرَجَہَا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَہَا فَغَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَہَا فَمَسَحَ بِرَأْسِہِ فَأَقْبَلَ بِیَدِہِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ وُضُوْئُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۹)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ، جن کو صحبت نصیب ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھائیں، پس انھوں ے برتن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ پانی میں داخل کیا اور نکالا اور ایک ہی چلّو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح تین بار کیا، پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور اس کو نکال کر چہرہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر سر کا اس طرح مسح کیا کہ ہاتھ کو سامنے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔
Takhreej
(۶۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۱، ومسلم: ۲۳۵ (انظر: ۱۶۴۴۵)
629
Sahih
۔ (۶۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ أَبِیْہِ)۔ أَنَّ جَدَّہٗ قَالَ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ: ہَلْ تَسْتَطَیْعُ أَنْ تُرِیَنِیْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَغَسَلَ یَدَہُ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًاثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہٗ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِہِمَا اِلَی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ( وَفِی رِوَایَۃٍ: أَنَّہُ مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۴۵)
۔ (دوسری سند) ان کے دادا جان نے سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے کہا: کیا تم مجھے یہ دکھا سکتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور دو بار اپنے ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو دو دو مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا اس طرح مسح کیا کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، تفصیل یہ ہے کہ سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ ایک روایت میں ہے: سر کا مسح دو بار کیا اور پاؤں بھی دو دو مرتبہ دھوئے۔
Takhreej
(۶۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
630
Sahih
۔ (۶۳۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ (یَعْنِی ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ) حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِیْ عَائِذٍ سَیْفٍ السَّعْدِیِّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ خَیْرًا عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَکَانَ أَمِیْرًا بِعُمَّانَ وَکَانَ کَخَیْرِ الْأُمَرَائِ، قَالَ أَبِیْ: اِجْتَمِعُوا فَلِاُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّی، فَاِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ صُحْبَتِیْ اِیَّاکُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِیْہِ وَأَہْلَہُ وَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْیَدَ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَغَسَلَ یَدَہُ ہَذِہِ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی ثُمَ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ یَعْنِی الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی، قَالَ: ہٰکَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً مَا نَدْرِیْ مَا ہِیَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلٰوۃِ فَأُقِیْمَتْ فَصَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ، فَأَحْسِبُ أَ نِّیْ سَمِعْتُ مِنْہُ آیَاتٍ مِنْ یٰسٓ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعِشَائَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُم کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۶)
یزید بن براء ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازبؓ نے کہا: جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے، بہرحال انھوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انھوں نے ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اِس نماز میں سورۂ یس کی کچھ آیتیںسنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔
Takhreej
(۶۳۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن المنذر فی الاوسط : ۱/ ۴۰۰۱، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۴ / ۱۷۰(انظر: ۱۸۵۳۷)
631
Sahih
۔ (۶۳۲)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعبَۃَؓوَقَد سُئِلَ: ہَل أَمَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍؓ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرِ کَذَا وَکَذَا، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ) فَلَمَّا کَانَ مِنَ السَّحَرِ ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِہِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُہُ فَتَغَیَّبَ عَنِّیْ سَاعَۃً ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((حَاجَتُکَ؟)) فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ حَاجَۃٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ہَلْ مِن مَّائٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ وَکَانَتْ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ یَدَیْہِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ عَلٰی العِمَامَۃِ وَعَلٰی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَوۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَہَبْتُ لِأُوذِنَہُ فَنَہَانِیْ فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ أَدْرَکْنَا) وَقَضَیْنَا الَّتِیْ سُبِقْنَا بِہَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقْنَا)۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۱۴)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اس امت میں سے سیدنا ابو بکرؓ کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امامت کرائی ہے انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم غزوۂ تبوک کے موقع پر سفرمیں تھے، جب سحری کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی سواری کی گردن پر مارا اور چل پڑے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے ہو لیا، کچھ وقت تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھ سے غائب رہے اور پھر واپس آ گئے اور مجھ سے فرمایا: کوئی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی ضرورت نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پانی بہایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہاتھ دھوئے،پھر چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا پیچھے کرنے لگے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جبّہ پہنا ہوا تھا، اس کے بازو تنگ ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے بازو اندر سے باہر نکال لیے اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا، پھر جب ہم لوگوں تک پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں ان کو بتلانے کے لیے جانے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے منع کر دیا، پھرجو نماز ہمیں مل گئی، ہم نے ادا کر لی اور جو رہ گئی اس کو بعد میں پورا کر لیا۔
Takhreej
(۶۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۳۴)
632
Sahih