TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12576 - بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
۔ (۱۲۵۷۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَہْدٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکْرَۃً، فَعَوَّضَہُ سِتَّ بَکَرَاتٍ فَتَسَخَّطَہُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، وہ تب بھی ناراض ہی رہا، جب یہ خبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی نے مجھے ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی تھی، حالانکہ وہ میری ہی اونٹنی تھی، میں اسے اسی طرح پہچانتا ہوں، جیسے میں اپنے اہل خانہ کو پہنچانتا ہوں، وہ زغابہ کے1 د ن لڑائی میں میرے ہاتھو ں سے نکل گئی تھی، تاہم میں نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں دے دیں تھیں، مگر وہ پھر بھی ناراض رہا، اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول نہ کروں۔
12576
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۵۷۶) تخریج: حسن، اخرجہ الترمذی: ۳۹۴۵، والنسائی: ۶/ ۲۷۹ (انظر: ۷۹۱۸)

Related Chapters

413
1
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
2
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
4
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
5
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
6
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
7
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
8
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
9
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
10
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Severe Threat For One Who Is Awarded A Judgement For Something That Is Not His To Take
باب: قاضی کے فیصلے کی بنا پر دوسرے کا مال لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Ghulul
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Liar And Destroyer From Thaqif
باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا
Jam e Tirmazi
15
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
16
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
Musnad Ahmad
17
وفدِ ثقیف اور قبیلہ بنو سعد کے نمائندے سیدنا ضمام بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
18
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
Musnad Ahmad
19
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
Musnad Ahmad
20
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
21
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
22
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
23
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
Musnad Ahmad
24
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
Musnad Ahmad
26
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
27
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
28
(15) CHAPTER. The women's attesting the honourable record of each other.
عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کے بارے میں گواہی دینا
Sahih Bukhari
29
(32) CHAPTER. Whoever likes to hear the Quran from another person.
اس شخص کے بارے میں جس نے قرآنمجید کو دوسرے سے سننا پسند کیا
Sahih Bukhari
30
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
31
(40) CHAPTER. One should take off the left shoe first.
اس بارے میں کہ صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو ۔ دوسرا پیر ننگا ہو اس طرح چلنا منع ہے
Sahih Bukhari
32
Chapter: What was narrated concerning one who finds relief and one from whom relief is found
آرام پانےوالا اور جس سے دوسرے آرام پائیں ‘ان کےبارے میں کیا کہا گیا؟
Sahih Muslim
33
CHAPTER: Hair Extensions.
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
Chapter: One Who Claims Something Does Not Belong To Him And Disputes About It
جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
جو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہہ دے کہ یہ میرا نہیں ہے اس پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
37
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Neglecting The Friday Prayer Without An Excuse.
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been related about the severe warning regarding the one who raises his head before the Imam
باب: اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھانے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Severe Warning Against Withholding Zakat
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Muhill And The One Who The Muhallal Was Done For
باب: حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back One's Gift
باب: ہبہ کو واپس لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Married A Woman His Father Was Married To (Previously)
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Severing the Ties Of Kinship
باب: قطع رحمی (ناتا توڑنے) پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
49
باب: زہر یا کسی اور ذریعہ سے خودکشی کرنے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
4189
۔ (۴۱۸۹) عَنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَیَّ بْنَ مَعْبَدٍ کَانَ نَصْرَانِیًّا تَغْلِبِیًّا أَعْرَابِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَنَّ رَجُلًا کَانَ نَصْرَانِیًّایُقَالَ لَہُ الصُّبَیُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِیْلَ لَہُ: الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَأَرَادَ أَنْ یُجَاہِدَ، فَقِیْلَ لَہُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِیْلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاہِدْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَہَلَّ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَرَآہُ زَیْدُ بْنُ صُوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیْعَۃَ فَقَالَا: لَہُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِہِ أَوْ مَا ہُوَ بِأَہْدٰی مِنْ نَاقَتِہِ، فَانْطَلَقَ إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہِمَا فَقَالَ: ہُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ الْحَکَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِی وَائِلٍ: حَدَّثَکَ الصُّبَیُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۸۳)
۔ سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
321
۔ (۳۲۱)۔عن أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ ؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَی جَمَلٍ آدَمَ فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! خُذُوْا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ۔)) وَقَدْ کَانَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا أَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُوئْ کُمْ، وَاِنْ تَسْأَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنْزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَکُمْ، عَفَااللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ} قَالَ: فَکُنَّا نَذْکُرُہَا کَثِیْرًا مِنْ مَسْأَلَتِہِ وَاتَّقَیْنَا ذَاکَ حِیْنَ أنَزَلَ اللّٰہُ عَلَی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَأَتَیْنَا أَعْرَابِیًّا فَرَشَوْنَاہُ بِرِدَائٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ حَاشِیَۃَ الْبُرْدِ خَارِجَۃً مِنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَہُ: سَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَیْفَ یُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَیْنَ أَظْہُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِیْھَا وَعَلَّمْنَا ہَا نِسَائَ نَا وَذَرَارِیَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَأْسَہُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْہَہُ حُمْرَۃٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَیْ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی بَیْنَ أَظْہُرِہُمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ یُصْبِحُوْا یَتَعَلَّقُوْا بِحَرْفٍ مِمَّا جَائَ تْہُمْ بِہ أَنْبِیَائُ ہُمْ، أَلَا وَاِنَّ مِنْ ذَہَابِ الْعِلْمِ أَنْ یَذْہَبَ حَمَلَتُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۴۶)
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس ؓ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانۂ نزولِ قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کی دی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والابڑے حلم والا ہے۔ (سورۂ مائدہ:۱۰۱) ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدّو کے پاس گئے اور یہ کام کروانے کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: او فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
1361
۔ (۱۳۶۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِِّ أََنَّ أَعْرَابِیًّا قَالَ فِی الْمَسْجِدِ مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ بَعْدَ الْفَجْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَجَدْتَّہُ لَا وَجَدْتَّہُ، إِنَّمَا بُنِیَتْ ھٰذِہِ الْبُیُوتُ قَالَ مُؤَمِّلٌ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنْیَتْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۳۲)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میںفجر کے بعد اعلان کیا کہ کس نے سرخ اونٹ کو بلایا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے نہ پائے، تو اسے نہ پائے، یہ مساجد صرف ان مقاصد کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو تعمیر کیا گیا۔
Musnad Ahmad
5442
۔ (۵۴۴۲)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْن سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عَلِّمْنِی کَلَامًا أَقُولُہُ، قَالَ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔)) خَمْسًا، قَالَ: ہٰؤُلَاء ِ لِرَبِّی فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔
Musnad Ahmad
6274
۔ (۶۲۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِیًّا وَہَبَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہِبَۃً فَأَثَابَہُ عَلَیْہَا قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ فَزَادَہُ، قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَزَادَہُ قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّہِبَ ہِبَۃً إِلَّا مِنْ قُرَشِیٍّ أَوْ أَنْصَارِیٍّ أَوْ ثَقَفِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔