TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12842 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 20 in this chapter
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
۔ (۱۲۸۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ)وَفِیْہِ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا لْخَیْرِ شَرٌّ کَمَاکَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ قَالَ: ((یَا حُذَیْفَۃُ! اِقْرَأْ کِتَابَ اللّٰہِ وَاعْمَلْ بِمَا فِیْہِ۔)) فَاَعْرَضَ عَنِّیْ فَاَعَدْتُّ عَلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ اَنَّہُ اِنْ کَانَ خَیْرًا اِتَّبَعْتُہُ وَاِنْ کَانَ شَرًّا اِجْتَنَبْتُہُ، فَقُلْتُ: ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ عَمَّائُ صَمَّائُ وَدُعَاۃُ ضَلَالَۃٍ عَلٰی اَبْوَابِ جَہَنَّمَ، مَنْ اَجْلَبَہُمْ قَذَفُوْہُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۴۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔
12842
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۸۴۲) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

137
1
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
Musnad Ahmad
2
Chapter: The Hour Will Not Be Established until A Fire Comes From The Direction Of The Hijaz
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی طرف سے آگ نکلے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About 'The Hour Shall Not Be Established Until The Liars Appear'
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ کذاب (جھوٹے) نکلیں
Jam e Tirmazi
4
بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ وَأَنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَت قِيَامَته
قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان
Mishkat
5
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
6
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
Musnad Ahmad
7
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
Sahih Bukhari
8
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
Sahih Bukhari
9
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
Sahih Bukhari
10
(8) CHAPTER. The Statement of Prophet “The Hour will not be established till two (huge) groups fight against each other, their claim being one and the same.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا
Sahih Bukhari
11
(22) CHAPTER. The Hour will not be established until the living wish to be in the place of the dead (i.e., in the place of the people in graves).
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں
Sahih Bukhari
12
Chapter: The Hour Will Begin When The Byzantines Are The Most Prevalent Of People
قیامت قائم ہوگی تو لوگوں میں رومی (عیسائی) سب سے زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
13
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Fire Emerges From The Land Of The Hijaz
قیامت قائم نہیں ہوگی،یہاں تک کہ ارض حجاز سے ایک آگ نکلے گی
Sahih Muslim
14
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
Sahih Muslim
15
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: For Each Person Who Betrays A Treaty There Is A Banner Erected On The Day Of Judgement
باب: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What has been Related About 'There Will Be A Fitnah Like A Portion Of The Dark Night'
باب: ان فتنوں کا بیان جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What has been Related About The Signs Of The Hour
باب: علامات قیامت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: Something Else: There Shall Not Come A Time Except That The One After It Is More Evil Than It
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Something Else: The Earth Expelling The Treasures That Are Inside Of It
باب: فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Something Else: The Happiest Of People Will Be Luka' Bin Luka'
باب: فتنوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah Are FromQuraish Until The Hour Is Established'
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: 'Whoever Comes To The Door Of The Sultan He Will Suffer A Fitnah'
باب: فتنوں میں پڑنے والی چیزوں کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
Jam e Tirmazi
28
باب: قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: قیامت کے دن کی پیشی کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: قیامت کے دن پیشی اور حساب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
32
باب: قیامت کے دن حساب اور پیشی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
34
باب: قیامت کے دن کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: قیامت کے دن شفاعت پر ایک اور حدیث
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
37
بَاب حد الْخمر
شراب نوشی پر حد قائم کرنے کا بیان
Mishkat
38
بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود
جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان
Mishkat
39
بَاب أَشْرَاط السَّاعَة
علاماتِ قیامت کا بیان
Mishkat
40
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
41
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
42
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
43
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
44
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
سورۂ ہود سورۂ ہود میں قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
Musnad Ahmad
48
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
49
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
Musnad Ahmad
50
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
4277
۔ (۴۲۷۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ سَادِسٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ:) قَالَ: ((أَتَقْدِرُ عَلٰی نُسُکٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۰۰)
۔ (چھٹی سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلا دو کہ ہر مسکین کو کھجوروں کا نصف نصف صاع مل جائے۔
Musnad Ahmad
4291
۔ (۴۲۹۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) فَأَہْدَیْتُ لَہٗحِمَارَوَحْشٍفَرَدَّہٗعَلَیَّ، اَلْحَدِیْثَ، وَفِیْ آخِرِہٖقُلْتُلِابْنِشِہَابٍ: اَلْحِمَارُعَقِیْرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۴۲)
۔ (تیسری سند) یہ حدیث ایسے ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے جنگلی گدھے کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، لیکن آپ۱ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ واپس کر دیا،۔اس کے آخر میں ہے: میں (ابن جریج) نے ابن شہاب سے کہا: کیایہ جنگلی گدھا شکاری کے تیر کی وجہ سے مرا ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔
Musnad Ahmad
6802
۔ (۶۸۰۲)۔ (وعَنْہُ من طریق ثالث) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْیُنَہُمْ وَأَلْقَاھُمْ بِالْحَرَّۃِ، قَالَ أَنَسٌ: قَدْ کُنْتُ أَرٰی أَحَدَھُمْ یَکْدِمُ الْأَرْضَ بِفِیْہِ حَتّٰی مَاتُوْا (زاد فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ قَتَادَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ: اِنَّمَا کَانَ ھٰذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُوْدُ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۰۷)
۔ (تیسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ نے مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلاخیں پھیریں اور انہیں حرّہ زمین میںپھینک دیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ سے زمین کو کاٹتا تھا ، پھر وہ سب اسی حالت میں مرگئے۔محمد بن سیرین نے کہا: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
Musnad Ahmad
6805
۔ (۶۸۰۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَأَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ ذِی أَرْوَانَ وَفِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَخَرَجْتَہُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: ((اَمَّا اَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۲)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔
Musnad Ahmad
6856
۔ (۶۸۵۶)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) قَالَ: ((لَکُمْ أَنْمَاطٌ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأنیّٰ، فَقَالَ: ((خِفْ أَمَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ۔)) فَأَنَا الْیَوْمَ أَقُوْلُ لِاِمْرَأَتِیْ: نَحِّی عَنِّی أَنْمَاطَکِ، فَتَقُوْلُ: نَعَمْ، أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّہَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ، فَأَتْرُکُہَا؟ (مسند احمد: ۱۴۱۷۸)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟
Musnad Ahmad
10750
۔ (۱۰۷۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ بِنْتِ امِّ سَلَمَۃَ عَنْ اّمِّ سَلَمَۃَ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: قَالَ: فَتَزَوَّجَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاَتَاھَا فَوَجَدَھَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ اَتَاھَا فَوَجَدَھَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ، قَالَ: فبَلَغَ ذٰلِکَ عَمَّارَ بْنَ یَاسرٍ اَتَاھَا، فَقَالَ: حَلَّتْ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَ حَاجَتِہِ ھَلُمَّ الصَّبِیَّۃَ، قَالَ: فَاخَذَھَا فَاسْتَرْضَعَ لَھَا، فَاتَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَیْنَ زَنَابُ؟)) یَعْنِی زَیْنَبَ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخَذَھَا عَمَّارٌ، فَدَخَلَ بِہَا وَقَالَ: ((اِنَّ بِکِ عَلٰی اَھْلِکِ کَرَامَۃً۔)) قَالَ: فَاقَامَ عِنْدَھَا اِلَی الْعَشِیِّ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَاِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِیْ؟ وَاِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَکِ؟)) قَالَتْ: لَا، بَلِ اقْسَمْ لِیْ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۷)
سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے گذشتہ حدیث کی مانند ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے نکاح کر لیا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں آئے تو دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ واپس لوٹ گئے، اس کے بعد پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اورانہیں دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر واپس چلے گئے۔ جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ ان کے ہاں آئے اور کہا: تم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کی حاجت کے درمیان حائل ہو، تم یہ بچی مجھے دے دو، پس وہ اسے لے گئے اور اسے دودھ پلانے والی عورت کا بندوبست کر دیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے عمار لے گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف رکھی اور فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ہاں پچھلے پہر تک قیام کیا اورپھر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کر سکتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن گزاروں گا اور اگر چاہو تو تمہارے لیے باری مقرر کردوں؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے باری ہی مقرر کر دیں۔
Musnad Ahmad
12336
۔ (۱۲۳۳۶)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی وَابْنُ عَمِّکِ یَعْنِی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((سَتَکُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَۃٌ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَاکْسِرْ سَیْفَکَ، وَاتَّخِذْ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ۔)) فَقَدْ وَقَعَتْ الْفِتْنَۃُ وَالْفُرْقَۃُ وَکَسَرْتُ سَیْفِی وَاتَّخَذْتُ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَأَمَرَ أَہْلَہُ حِینَ ثَقُلَ أَنْ یُکَفِّنُوہُ، وَلَا یُلْبِسُوہُ قَمِیصًا، قَالَ: فَأَلْبَسْنَاہُ قَمِیصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِیصُ عَلَی الْمِشْجَبِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۷)
۔ (تیسری سند) سیدنا اہبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے، جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اور جب میرے والد زیاد ہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ ان کو کفن دیں تو قمیص نہ پہنائیں، لیکن ہم نے انہیں قمیص پہنا دی، جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔
Musnad Ahmad
13037
۔ (۱۳۰۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: ((فَتَحَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلتَّوْبَۃِیَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یُغْلِقُہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۷۱)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
Musnad Ahmad
13247
۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔