TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں

Chapter 9 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 43 · 20 Hadith
۔ (۱۲۸۳۵)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ یَقُوْلُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُعُوْدًا نَذْکُرُ الْفِتَنَ، فَاَکْثَرَ ذِکْرَھَا حَتّٰی ذَکَرَ فِتْنَۃَ اْلاَحْلاَسِ،فَقَالَ قِائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللَّہِ! وَمَا فِتْنَۃُ اْلاَحْلَاسِ؟ قَالَ: ((فِتْنَۃُالْاَحْلاَسِ ھِيَ فِتْنَۃُ ھَرْبٍ وَحَرْبٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ السَّرَّائِ دَخَلُھَا اَوْ دَفَنُھَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِيیَزْعُمُ اَنَّہُ مِنِّي، وَلَیْسَ مِنِّي، اِنَّمَا وَلِیِّيَ الْمُتَّقُوْنَ، ثُمَّ یَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلٰی رَجُلٍ کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ الدُّھَیْمَائِ لَا تَدَعُ اَحَدًا مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا لَطَمَتْہُ لَطْمَۃً، فَاِذَا قِیْلَ : اِنْقَطَعَتْ، تَمَادَّتْ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْھَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِيْ کَافِرًا، حَتّٰییَصِیْرَ النَّاسُ اِلٰی فُسْطَاطَیْنِ: فُسْطَاطِ اِیْمَانٍ لَا نِفَاقَ فِیْہِ، وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لاَ اِیْمَانَ فِیْہِ، اِذَا کَانَ ذَاکُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْیَوْمِ اَوْغَدٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۳۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ أبوداود: ۴۲۴۲ (انظر: ۶۱۶۸)
Explanation
فوائد: … حلس کی جمع احلاس ہے، اس کے معانی ہیں: وہ چادر جو پالان کے نیچے اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ ملی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ فتنہ طول اختیار کرے گا اور چھٹنے کا نام نہیں لے گا، جیسے یہ چادر اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس چادر کی سیاہی اور ظلمت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ کا لفظی معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ پسلی، کولہے پر سہارا نہیں لیتی۔ یہ ایک ضرب المثل ہے، جس کے معانی ہیں: وہ معاملہ جو ثابت ہوتا ہے نہ سیدھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ وہ شخص بادشاہت کے لائق ہو گا نہ اس کا مستقل اہل۔
12835
Sahih
۔ (۱۲۸۳۶)۔ وَعَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ: عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: لَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَاصَاحِبُ الدِّیْنَارِ وَالدِّرْھَمِ بِاَحَقَّ مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ ثُمَّ لَقَدْ رَاَیْتُنَا بِآخِرَۃٍ الآْنَ وَالدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ اَحَبُّ اِلٰی اَحَدِنَا مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((لَئِنْ اَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ اَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَیَلْزِمَنَّکُمُ اللّٰہُ مَذَلَّۃً فِیْ اَعْنَاقِکُمْ ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْکُمْ حَتّٰی تَرْجِعُوْنَ اِلٰی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ وَتَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔)) وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَتَکُوْنَنَّ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ اِلٰی مُہَاجَرِ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام حَتّٰی لَایَبْقٰی فِی الْاَرْضِیْنَ اِلَّا شِرَارُ اَھْلِہَا وَتَلْفِظُہُمْ اَرْضُوْھُمْ وَتَقْذَرُھُمْ رُوْحُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ تَقِیْلُ حَیْثُیَقِیْلُوْنَ وَتَبِیْتُ حَیْثُیَبِیْتُوْنَ وَمَاسَقَطَ مِنْہُمْ فَلَہَا۔)) وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجْاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) لَااَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُاَحَدُکُمْ عَمَلَہٗمَعَعَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہٗکُلَّمَاطَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Takhreej
(۱۲۸۳۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۴، وأخرج البخاری (۶۹۳۲) وقد ذکر الحروریۃ، فقال: قال النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ۔)) (انظر: ۵۵۶۲)
Explanation
فوائد:… گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ جانے سے مراد کھیتی باڑی میں مصروف ہو جانا ہے۔ یاد رہے کہ کھیتی باڑی فی نفسہ پسندیدہ چیز ہے،لیکن جب آدمی جہاد اوردوسرے احکامِ شریعت سے روگردانی کر کے دنیوی مال و دولت سمیٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس وقت رزق کا ہر حلال سبب بھی قابل مذمت قرار پاتا ہے۔ بیع عِینہ: یہ تجارت کی ا یک قسم ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک انسان کسی کو کوئی چیز ادھار پر فروخت کرے، پھر اس سے وہی چیز نقداً کم قیمت میں خرید لے۔یہ دراصل ادھار کے عوض زیادہ رقم حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
12836
Sahih
۔ (۱۲۸۳۷)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۶۷۸۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
12837
Sahih
۔ (۱۲۸۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ یَتَوَضَّاُ وُضُوْائً مَکِیْثًا فَرَفَعَ رَاْسَہُ فَنَظَرَ اِلَیَّ فَقَالَ:((سِتٌّ فِیْکُمْ اَیَّتُھَا الْاُمَّۃُ، مَوْتُ نَبِیِّکُمْ۔)) فَکَاَنَّمَا اِنْتَزَعَ قَلْبِیْ مِنْ مَکَانِہٖقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاحِدَۃً۔))، قَالَ: ((وَیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰیْ عَشْرَۃَ آلَافٍ فَیَظِلُّیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثِنْتَیْنِ۔)) قَالَ: ((وَفِتْنَۃٌ تَدْخُلُ بَیْتَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((وَمَوْتٌ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبعٌ، وَھُْدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ لَیَجْمَعُوْنَ لَکُمْ تِسْعَۃَ اَشْھُرٍ کَقَدْرِحَمْلِ الْمَرْاَۃِ، ثُمَّ یَکُوْنُوْنَ اَوْلٰی بِالْغَدْرِ مُنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((خَمْسٌ۔)) قَالَ: ((وَفَتْحُ مَدِیْنَۃٍ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِتٌّ۔)) قُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ مَدِیْنَۃٍ؟ قَالَ:((قُسْطُنْطِیْنَۃُ۔)) (مسند ۶۶۲۳)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت ٹھہر ٹھہر کر وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور مجھے دیکھ کر فرمایا: اے میری امت! (قیامت سے پہلے) تمہارے اندر چھ بڑے بڑے امور رونما ہوں گے، پہلی چیز تمہارے نبی کی موت ہے۔ یہ بات سن کر مجھے یوں لگا کہ میرا دل اپنی جگہ سے اڑ گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہے۔ پھر فرمایا: اور تمہارے اندر دولت کی اس قدر ریل پیل ہوجائے گی کہ کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں گے تو وہ اسے قلیل سمجھتے ہوئے ناگواری کا اظہار کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ دوسری علامت ہو گئی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو تم میں سے ہر ایک کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیسری علامت ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کثرت سے موتیں واقع ہوں، جیسے بکریاں ایک خاص بیماری کی وجہ سے مرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ چوتھی علامت ہے اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہوگی، وہ عورت کے حمل کی مدت یعنی نوماہ تک تو تم سے صلح رکھیں گے، پھر وہ تم سے بے وفائی کر جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ پانچویں علامت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہوگا، یہ چھٹی علامت ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہر ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ۔
Takhreej
(۱۲۸۳۸) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۶۶۲۳)
12838
Sahih
۔ (۱۲۸۳۹)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((سِتٌ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ، مَوْتِیْ، وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ، وَمَوْتٌ یَاْخُذُ فِی النَّاسِ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَۃٌیَدْخُلُ حَرْبُہَا بَیْتَ کُلَّ مُسْلِمٍ، وَاَنْ یُّعْطَی الرَّجُلُ اَلْفَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا، وَاَنْ تَغْدِرَ الرُّوْمُ فَیَسِیْرُوْنَ فِیْ ثَمَانِیْنَ بَنْدًا کُلُّ بَنْدٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۴۲)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات ، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میںموت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ ۲۴۴، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۰۴ (انظر: ۲۱۹۹۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں چھ علامات قیامت بیان کی گئی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو چکے، بیت المقدس کی فتح مکمل ہو گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ خلافت فاروقی میں طاعون کی وجہ سے تین دنوں میں ستر ہزار لوگوں کا مر جانا اسی حدیث کا مصداق ہے۔ حدیث میں وہ فتنہ مراد ہے، جو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا سبب بنا اور پھر اس کے فتنوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے۔ پانچویں علامت سے مراد مال و دولت کی کثرت ہے، جو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں عظیم فتوحات کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے، اس کے بعد سے مال و دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔ چھٹی علامت یعنی رومیوںکا غداری کرنا، جس میں وہ سات لاکھ اور ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ آئیں گے، ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔
12839
Sahih
۔ (۱۲۸۴۰)۔ وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((عَوْفٌ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ ،فَقَالَ: ((اُدْخُلْ))قَالَ: قُلْتُ: کُلٌّ اَوْ بَعْضِیْ قَالَ: ((بَلْ کُلُّکَ۔)) قَالَ: ((اُعْدُدْ یَاعَوْفُ! سِتًّا بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، اَوَّلُھُنَّ مَوْتِیْ۔)) قَالَ: فَاسْتَبْکَیْتُ حَتّٰی جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَکِّتُنِیْ قَالَ: قُلْتُ: اِحْدٰی((وَالثَّانِیَۃُ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قُلْتُ: اِثْنَیْنِ، ((وَالثَّالِثَۃُ مُوْتَانٌ یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْیَاْخُذُھُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ: ((ثَلاَثًا وَالرَّابِعَۃُ فِتْنَۃٌ تَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ وَاَعْظَمُہَا۔)) قَالَ :((اَرْبَعًا وَالْخَامِسَۃُیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰی الْمِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ: ((خَمْسًا،وَالسَّادِسَۃُ ھُدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ فَیَسِیْرُوْنَ اِلَیْکُمْ عَلٰی ثَمَانِیْنَ غَایَۃً۔)) قُلْتُ: وَمَا الْغَایَۃُ؟ قَالَ: ((اَلرَّایَۃُ تَحْتَ کُلِّ رَاْیَۃٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِیْنَیَوْمَئِذٍ فِیْ اَرْضٍ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ فِیْ مَدِیْنَۃٍیُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۵)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے پوچھا : عوف ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے کہا: سارا آجاؤں یا کچھ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پورے کے پورے ہی آجاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے چھ بڑی بڑی علامتوں کو شمار کرو، پہلی علامت میری موت ہے۔ یہ سن کر میں رونے لگ گیا، پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے چپ کرانے لگ گئے، میںنے کہا: یہ ایک ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری بیت المقدس کی فتح ہے۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری علامت یہ ہے کہ میری امت میں اس قدر زیادہ موتیں ہوں، جیسے بکریاں موت کی وباء میںمرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ تیسری ہو گئی، اور چوتھی علامت یہ ہے کہ ایک بڑا فتنہ ہو گا، یہ چوتھی ہو گئی اور پانچواں یہ کہ دولت اس قدر عام ہوجائے گی کہ جب کسی کو ایک سو دینار دئیے جائیں گے تو وہ ان کو قلیل سمجھتے ہوئے غصے کا اظہار کرے گا۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچویں ہوئی اور چھٹی علامت یہ ہو گی کہ تمہارے اور بنو الاصفر کے درمیان صلح ہوگی،لیکن وہ (عہد توڑ کر) اسی جھنڈوں کے نیچے چل کر آئیں گے۔ میں نے کہا: غایہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جھنڈا ہے، ہر جھندے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، ان دنوں مسلمانوں کا مرکز دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۷۶، وابوداود!: ۵۰۰۰ (انظر: ۲۳۹۸۵)
Explanation
فوائد:… بنو الاصفر: ایشائے کوچک اور قسطنطنیہ وغیرہ میں رہنے والے رومی باشندوں کا لقب۔
12840
Sahih
۔ (۱۲۸۴۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْیَشْکَرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتّٰی قَدِمْتُ الْکُوْفَۃَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا اَنَا بِحَلْقَۃٍ فِیْہَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ، حَسَنَ الثَّغْرِ، یُعْرَفُ فِیْہِ اَنَّہٗمِنْرِجَالِاَھْلِالْحِجَازِقَالَ: فَقُلْتُ مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: اَوَمَا تَعْرِفُہٗ؟فَقُلْتُ: لَا،فَقَالُوْا :ہٰذَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَعَدْتُّ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَسْاَلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الخَیْرِ وَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشَّرِّ،فَاَنْکَرَذٰلِکَالْقَوْمُعَلَیْہِ فَقَالَ :لَھُمْ اِنِّیْ سَاُخْبِرُکُمْ بِمَا اَنْکَرْتُمْ مِنْ ذٰلِکَ، جَائَ الْاِسْلَامُ حِیْنَ جَائَ فَجَائَ اَمْرٌ لَیْسَ کَأَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ وَکُنْتُ قَدْ اُعْطِیْتُ فِی الْقُرْآنِ فَہْمًا، فَکَانَ رِجَالٌ یَجِیْئُوْنَ فَیَسْاَلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ فَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشََّرِّ،فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَکُوْنُ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ شَرٌّ کَمَا کَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَۃُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلسَّیْفُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَھَلْ بَعْدَ ہٰذَا السَّیْفِ بَقِیِّۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ تَکُوْنُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٌ عَلٰی دَخَنٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: ((ثُمَّ تَنْشَاُ دُعَاۃُ الضَّلاَلَۃِ فَاِنْ کَانَ لِلّٰہِ یَوْمَئِذٍ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃٌ جَلَدَ ظَہْرَکَ وَاَخَذَ مَالَکَ فَالْزَمْہٗوَاِلَّافَمُتْوَاَنْتَعَاضٌّعَلٰی جَذْلِ َشَجَرَۃٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذٰلِکَ مَعَہٗنَہْرٌوَنَارٌمَنْوَقَعَفِیْ نَارِہٖٖوَجَبَاَجْرُہٗوَحَطَّوِزْرُہٗ،وَمَنْوَقَعَفِیْ نَہْرِہٖوَجَبَوِزْرُہٗوَحَطَّاَجْرُہٗ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّمَاذَا؟قَالَ: ((ثُمَّ نُتِجَ الْمَہْرُ فَلَا یُرْکَبُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ الضَّرْبُ، وَقَوْلُہُ: فَمَا الْعِصْمَۃُ مِنْہُ قَالَ: اَلسَّیْفُ، کَانَ قَتَادَۃُیَضَعُہُ عَلَی الرِّدَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْ زَمَنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَقَوْلُہُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ یَقُوْلُ صُلْحٌ وَقُوْلُہُ عَلٰی دَخَنٍ یَقُوْلُ عَلٰی ضَغَائِنَ، قِیْلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِیْرُ قَالَ: عَنْ قَتَادَۃَ زَعَمَ۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ: ((مَاھُدْنَۃُ عَلٰی دَخَنٍ قَالَ: قُلُوْبٌ لَاتَعُوْدُ عَلٰی مَاکَانَتْ۔ (مسند احمد:۲۳۸۲۲ )
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں:جس زمانے میں تُسْتَر فتح ہوا تھا، میں ان دنوں کوفہ میں گیا، میں ایک مسجد میں داخل ہوا اور دیکھا کہ لوگ وہاں ایک حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہیں، اس میں ایک چھریرے بدن کا آدمی تھا، اس کے اگلے دانت یا منہ بہت خوبصورت تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حجاز کا رہنے والا ہے۔ میںنے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیا آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوںنے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، یہ سن کر میں بھی بیٹھ گیا، وہ لوگوں سے باتیں کرتے رہے، انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرّ کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی، لیکن انھوں نے کہا: تم جس بات پر تعجب کر رہے ہو، میں تمہیں بتلاتا ہوں۔ جب اسلام آیا تو ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ جو جاہلیت کے دور سے مختلف تھا، جبکہ مجھے فہمِ قرآن کا کافی ملکہ حاصل تھا، لوگ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کی بات پوچھا کر تے، جبکہ میں شرکے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعد شر (اورفتنوں) کا دور آئے گا، جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: کیا تلوار کے چلنے کے بعد اسلام کا کوئی حصہ باقی رہے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن بباطن لڑائی ہو گی اور ظاہری صلح ہو گی‘ اس کے بعد ضلالت و گمراہی کی طرف پکارنے والے منظرِ عام پر آئیں گے‘ اگر ان دنوں میں تجھے کوئی خلیفہ نظر آ جائے تو اسے لازم پکڑ لینا‘ اگرچہ وہ تیرے جسم کو اذیت پہنچائے اور تیرا مال سلب کر لے، وگرنہ اس حال میں مر جانا کہ تو درخت کے تنے کے ساتھ چمٹا ہوا ہو۔ میںنے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر دجال نمودار ہو گا، اس کے پاس پانی کی نہر ہوگی اور آگ بھی ہوگی، جو آدمی اس کی آگ میں گیا، اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر (اور نجات) لازمی ہوگی، اور اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، لیکن جو کوئی اس کی نہر میں چلا گیا، وہ گنہگار ہوگا اور اس کا تمام اجر و ثواب ضائع ہوجائے گا۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اس قدر جلد قیامت آجائے گی کہ ان دنوں جو گھوڑی بچہ جنم دے گی، ابھی تک اس پر سواری نہ کی جائے گی کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ سے مراد الضرب یعنی کم گوشت والا آدمی ہے، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ سوال کہ اس فتنے سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جواب کہ تلوار ہو گی، امام قتادہ اس کو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں ہونے والے ارتداد پر محمول کرتے تھے، اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ سے مراد صلح ہے، اور الدخن سے مراد دلی نفرت اور کھوٹ ہے۔ جب حدیث کے راوی عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ ان الفاظ کی یہ وضاحت کس نے کی ہے تو انھوں نے کہا کہ امام قتادۃ نے کی۔
Takhreej
(۱۲۸۴۱) تخریج: حدیث حسن دون قولہ: ثم ینتج المھر فلا یرکب حتی تقوم الساعۃ ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۴۵ (انظر: ۲۳۴۲۹)
Explanation
فوائد:… السَّیْف :تلوار کے ذریعے عفت و عصمت کا تحفظ ہو گا۔ بقیّۃ :یعنی جب ہم ان سے لڑیں گے، تو کیا اس لڑائی کے بعد اسلام باقی رہے گا؟ أقذائ : ابن اثیر کہتے ہیں: قذاۃ کی جمع القَذی ہے اور القَذی کی جمع أقذائ ہے۔ لغت میں اس سے مراد وہ مٹی یا بھوسے کے تنکے یا میل کچیل ہے، جو آنکھ میں پڑتی ہے یا پانی میں گرتی ہے۔ حدیث میں اس لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ بظاہر مسلمان اکٹھے تو ہوں گے، لیکن ان کے دلوں میں فساد اور کینہ ہو گا۔ دَخَن :قتادہ کی رائے کے مطابق اس سے مراد کینہ ہے، متن میںمذکور ایک طریق میں اس کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے: لوگوں کے دل (ان خصائل حمیدہ) کی طرف نہیں لوٹیں گے‘ جن سے وہ پہلے متصف ہوں گے۔ جَذْل :وہ لکڑی، جو اس مقصد کے لیے گاڑھی جاتی ہے، تاکہ اونٹ اس کے ساتھ خارش کریں۔ اہم فائدہ:… حافظ ابن حجرکہتے ہیں کہ طبری نے کہا: اس حدیث میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ جب مسلمانوں کا ایک حاکم و خلیفہ نہ ہو اور وہ مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہوں، تو پھر کسی مخصوص فرقے کی پیروی نہ کرے اور تمام تنظیموں سے علیحدگی اختیار کر لے، بشرطیکہ ایسا کرنے میں کسی شرّ کا خطرہ نہ ہو، اس موضوع پر مختلف احادیث میں یہی جمع و تطبیق مناسب ہے۔
12841
Sahih
۔ (۱۲۸۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ)وَفِیْہِ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا لْخَیْرِ شَرٌّ کَمَاکَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ قَالَ: ((یَا حُذَیْفَۃُ! اِقْرَأْ کِتَابَ اللّٰہِ وَاعْمَلْ بِمَا فِیْہِ۔)) فَاَعْرَضَ عَنِّیْ فَاَعَدْتُّ عَلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ اَنَّہُ اِنْ کَانَ خَیْرًا اِتَّبَعْتُہُ وَاِنْ کَانَ شَرًّا اِجْتَنَبْتُہُ، فَقُلْتُ: ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ عَمَّائُ صَمَّائُ وَدُعَاۃُ ضَلَالَۃٍ عَلٰی اَبْوَابِ جَہَنَّمَ، مَنْ اَجْلَبَہُمْ قَذَفُوْہُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۴۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۴۲) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیث بالطریق الاول
12842
Sahih
۔ (۱۲۸۴۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلآْیَاتٌ خَرَزَاتٌ مَنْظُوْمَاتٌ فِیْ سِلْکٍ فَاِنْ یَقْطَعِ السِّلْکَ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۰)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤمل بن اسماعیل سییء الحفظ، وعلی بن زید بن جدعان ضعیف، وقد توبعا، وتبقی علتہ خالد بن الحویرث، قال ابن معین: لا اعرفہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۷۳ (انظر:۷۰۴۰)
Explanation
فوائد:… جب علامات ِ قیامت کا ظہور شروع ہو گا تو وہ یکے بعد دیگرے جلدی جلدی رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن برائیوں کو قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے، وہ بھی مختلف علاقوں میں ایک ایک کر کے جلد ہی منظرِ عام پر آ گئیں، جیسے سود، زنا، شراب، قطع رحمی اور جھوٹی گواہی کا عام ہونا، سچی شہادت کو چھپانا اور مخصوص لوگوں کو سلام کہنا۔
12843
Zaeef
۔ (۱۲۸۴۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّرٰی رُعَاۃُ الشَّائِ رُؤُوْسَ النَّاسِ، وَاَنْ یُّرٰی الْحُفَاۃُ الْعُرَاۃُ الْجُوْعُ یَتَبَارَوْنَ فِی الْبِنَائِ، وَاَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّہَا اَوْ رَبَّتَہَا۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہیں کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے سردار اور حکمران بن جائیں گے اور ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور بھوکے لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے اور لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔
Takhreej
(۱۲۸۴۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الدارقطنی: ۳/ ۲۵۷ (انظر: ۹۱۲۸)
Explanation
فوائد:… عرصے سے یہ تینوں علامتیں پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، دیکھیں مستقبل میں کیا ہوتا ہے ۔ لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔ اس کے مختلف مفہوم بیان کیے گئے ہیں، بعض یہ ہیں: ۱۔ والدین کی نافرمانی بہت زیادہ ہو جائے گی، اولاد ان سے ایسا سلوک کرے گی، جیسے آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ۲۔ آقا سے مراد مربی لوگ ہیں، یعنی لوگ اپنے مربّیوں کے احسانات کو بھول جائیں گے اور ان پر اپنا حکم چلائیں گے۔ ۳۔ یہ محض ایک مثال ہے، اس کا مرادی معنی یہ ہے کہ زمانہ بدل جائے گا اور لوگوں کے حالات تبدیل ہو جائیں گے اور وہ اس طرح کہ اعلی اور اقتدار والے ذلیل ہو جائیں گے اور نا اہل اور کمینے لوگ عالی مقام اور بادشاہ بن جائیں گے۔ ۴۔ لونڈیاں بادشاہوں کو جنم دیں گے اور وہ اس طرح کہ پہلے وقت میں بادشاہ آزاد عورتوں کی رغبت رکھتے اور لونڈیوں سے جماع کرنے سے عار محسوس کرتے تھے، لیکن حالات اور رغبتیں بدل گئیں اور اِن کی لونڈیوں سے اولاد ہونے لگ گئی، جن کو ورثے میں بادشاہت مل جاتی تھی، بنو عباس میں ایسے ہوتا رہا۔ ۵۔ حالات میں فساد آ جائے گا اور کثرت سے امہات الاولاد کی خرید وفروخت ہو گی، حتی کہ ایک شخص ایسی لونڈی خریدے گا، جو اس کی ماں ہو گی، پھر اس کے ساتھ وہ آقا والا معاملہ کرے گا۔
12844
Sahih
۔ (۱۲۸۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَبَادَرُوْا بِالْاَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا، وَالدَّجَالَ، وَالدُّخَّانَ، وَدَابَّۃَ الْاَرْضِ، وَخُوَیْصَۃَ اَحَدِکُمْ،وَأَمْرَ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان چھ علامتوں کے ظہور سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نیک عمل کر لو، (۱)مغرب سے طلوع ِ آفتاب، (۲)دجال، (۳)دھواں، (۴)زمین کا چوپایہ، (۵) نفسا نفسی کا عالم اور (۶)عام لوگوں کا معاملہ۔
Takhreej
(۱۲۸۴۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۷ (انظر: ۸۴۴۶)
Explanation
فوائد: … ((خویصۃ احدکم)) کے تین معانی ہے: موت، ہر شخص سے متعلقہ مخصوص لڑائی، ہر شخص کے جان ومال سے متعلقہ مصروفیات۔ جب بندہ ان تین امور میں سے کسی ایک میں پھنس جاتا ہے تو وہ اعمالِ صالحہ کی روٹین برقرار نہیں رکھ سکتا، بالخصوص موت۔ دجال، مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب اور چوپایہ، ان تین علامتوں کے ظہور کے بعدنہ تو ایمان قبول کرنا مفید ثابت ہو گا اور نہ فاسق و فاجر کو اس کی توبہ فائدہ دے گی۔ دھویں کے تعین کے بارے میں دواقوال ہیں: ۱۔ قیامت کے قریب آنے کی علامت ہے، ابھی تک ظہور پذیر نہیں ہوئی، اس کی ہیئت و حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ۲۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں یہ نشانی ظاہر ہو چکی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مکہ کے معاندانہ رویے سے تنگ آ کر ان کے لیے قحط سالی کی بددعا کی، نتیجتاً ان پر قحط کا عذاب نازل کر دیا گیا، حتی کہ وہ ہڈیاں، کھالیں اور مردار وغیرہ کھاتے تھے، جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انھیں دھواں سا نظر آتا تھا۔ زمین کا یہ چوپایہ قربِ قیامت کی علامت ہے، یہ لوگوںسے کلام کرے گے۔
12845
Sahih
۔ (۱۲۸۴۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ (حُذَیْفَۃُ بْنُ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ تَحْتَہَا نَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَاَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاتَذْکُرُوْنَ؟)) قَالُوْا: اَلسَّاعَۃَ، قَالَ: ((اِنَّ السَّاعَۃَ لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَۃُ وَطَلُوْعُ الشَّمْسِ مِن مَّغْرِبِہَا وَیَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ۔)) فَقَالَ شُعْبَۃُ: سَمِعْتُہُ وَاَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَنْزِلُ مَعَہُمْ حَیْثُ نَزَلُوْا اَوْ تَقِیْلُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَالُوا۔)): قَالَ شُعْبَۃُ: وَحَدَّثَنِیْ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ رَجُلٌ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ لَمْ یَرْفَعْہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ: ((نُزُوْلُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ۔)) وَقَالَ الآْخَرُ: ((رِیْحٌ تُلْقِیْہِمْ فِی الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۲)
ابو سریحہ سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالاخانے میں تشریف فرما تھے اور ہم نیچے باتیں کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور پوچھا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو؟ لوگو ں نے کہا: قیامت کے بارے میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تم یہ دس علامات نہیں دیکھ لیتے، اس وقت تک قیامت قائم نہیں گی: (۱)مشرق میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا۔ (۲)مغرب میں دھنسنا۔ (۳)جزیرۂ عرب میں دھنسنا۔ (۴)دھواں۔ (۵) دجال۔ (۶)زمین کا چوپایہ۔ (۷)مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب۔ (۸)یاجوج ماجوج کا ظہور۔ (۹) عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کو دھکیل کر لے جائے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے فرات سے یہ بھی سنا کہ لوگ جہاں اتریں گے، وہ آگ بھی وہیں ٹھہر جائے گی اور وہ جہاں قیلولہ کریں گے، وہ قیلولہ کرے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث فرات کے علاوہ ایک دوسرے آدمی نے بھی بیان کی، اس نے ابو طفیل سے روایت کی اور ابو طفیل نے سیدنا ابو سریحہ سے لی، لیکن اس نے اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوعاً بیان نہیں کیا، ان دو مشائخ میں سے ایک نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا اور سمندر میں پھینک دینے والی ہوا کابطورِ علامتِ قیامت ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۲۸۴۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۱ (انظر: ۱۶۱۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ آگ اس اعتبار سے قیامت کی پہلی علامت ہے کہ اس کے بعد دنیوی امور کا وجود ختم ہو جائے گا اور اس لحاظ سے آخری نشانی ہے کہ قیامت کی جتنی نشانیاں بیان کی گئیں ہیں، ان میں سب سے آخری یہ آگ ہو گی، اس کے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔ اس آگ کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۳۰۵۴) والا باب۔
12846
Sahih
۔ (۱۲۸۴۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ خَرَابُ یَثْرِبَ، وَخَرَابُ یَثْرِبَ خُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ، وَخُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ، وَ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ خُرُوْجُ الدَّجَّالِ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی فَخِذِہٖاَوْعَلٰی مَنْکِبِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَا الْحَقُّ کَمَا أَنَّکَ قَاعِدٌ۔)) وَکَانَ مَکْحُوْلُ یُحَدِّثُ بِہِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۳)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی، یثرب کی ویرانی کا، یثرب کی ویرانی، خون ریزی کا، اورخون ریزی، قسطنطنیہ کی فتح کا اور فتح ِ قسطنطنیہ، دجال کے خروج کا پیش خیمہ ہوگا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: یہ سب باتیں اسی طرح حق ہیں، جیسے یہاں تمہارا بیٹھنا یقینی ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۴۷) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۲۹۴ (انظر: ۲۲۰۲۳)
12847
Sahih
۔ (۱۲۸۴۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَلْحَمَۃُ الْعُظْمٰی وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ وَخُرُوْجُ الدَّجَالِ فِیْ سَبْعَۃِ اَشْہُرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۹۵)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی ، فتحِ قسطنطنیہ اور خروجِ دجال، یہ تینوں امور سات ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم والولید بن سفیان بن ابی مریم، ولجھالۃ حال یزید بن قطیب، أخرجہ ابوداود: ۴۲۹۵، والترمذی: ۲۲۳۸، وابن ماجہ: ۱۰۹۵ (انظر: ۲۲۰۴۵)
12848
Zaeef
۔ (۱۲۸۴۹)۔ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُفَیْلِ نِ السَّکُوْنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ اُتِیْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَائِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ: ((بِمُسْخَنَۃٍ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ کَانَ فِیْہَا فَضْلٌ عَنْکَ؟ قَالَ ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِہِ؟ قَالَ: ((رُفِعَ وَھُوَ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنِّیْ مَکْفُوْتٌ غَیْرُ لَابِثٍ فِیْکُمْوَلَسْتُمْ لَابِثِیْنَ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًاِ بَلْ تَلْبِثُوْنَ حَتّٰی تَقُوْلُوْا مَتٰی وَسَتَاْتُوْنَ اَفْنَادًا یُفْنِیْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَبَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ مُوْتَانٌ شَدِیْدٌ وَبَعْدَہُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۹)
سیدناسلمہ بن نفیل سکونی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، اچانک ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر کہا: اس کے ساتھ کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ ایسا برتن تھا،جس میں کھانا گرم رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا اس کھانے سے کچھ بچ بھی گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر پوچھا: اس کا کیا بنا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اوپر اٹھا لیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی جانے لگی کہ مجھے موت آنے والی ہے اور میں تم میں اب ٹھہرنے والا نہیں ہوں، اور تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی رہو گے، بلکہ تم اس قدر قلیل مدت رہو گے کہ ایک دوسرے سے پوچھو گے کہ کیا ہم اتنی جلدی چلے جائیں او ر تم گروہوں کی شکل میں آؤ گے اور ایک دوسرے کو فنا کرو گے اور قیامت سے پہلے اموات بکثرت ہوں گی او ر اس کے بعد زلزلوں والے سال شروع ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۶۷۷۷، والدارمی: ۱/ ۲۹، وابویعلی: ۶۸۶۱، والطبرانی فی الکبیر : ۶۳۵۶ (انظر: ۱۶۹۶۴)
12849
Sahih
۔ (۱۲۸۵۰)۔ وَعَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ حَبِیْبٍ اَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْاَیَادِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ: نَزَلَ عَلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَوَالَۃَ الْاَزْدِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ لِیْ وَاِنَّہُ لَنَازِلٌ عَلَیَّ فِیْ بَیْتِیْ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ عَلٰی اَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَیْئًا وَعَرَفَ الْجُہْدَ فِیْ وُجُوْھِنَا فَقَامَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَاتَکِلْہُمْ اِلَیَّ فَاَضْعُفَ، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلٰی اَنْفُسِھِمْ فَیَعْجِزُوْا عَنْہَا، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلَی النَّاسِ فَیَسْتَاْثِرُوْا عَلَیْہِمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَیُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ وَالرُّوْمُ وَفَارِسُ اَوِالرُّوْمُ وَفَارِسُ حَتّٰییَکُوْنَ لِاَحَدِکُمْ مِنَ الْاِبِلِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْبَقَرِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْغَنَمِ حَتّٰییُعْطٰی اَحَدُھُمْ مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَسْخَطُہَا۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رَاْسِیْ اَوْ ھَامَتِیْ فَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! اِذَا رَاَیْتَ الْخِلَافَۃَ قَدْ نَزَلَتِ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَایَا وَالْاُمُوْرُ الْعِظَامِ وَالسَّاعَۃُیَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ اِلٰی النَّاسِ مِنْ یَدِیْ ہٰذِہِ مِنْ رَاْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۵۴)
ابن زغب ایادی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس میرے گھر میں آئے ہوئے تھے، انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے گردو نواح میں پیدل روانہ کیا، تاکہ ہم مال ِ غنیمت لے کر لائیں، لیکن ہوا یوں کہ ہم مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکے، جب ہم لوٹے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے چہروں پر تھکاوٹ محسوس کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کرنا،میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے کمزور ہوں، اور نہ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر، کیونکہ یہ عاجز آجائیں گے، اور نہ ہی ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے کر، کیونکہ لوگ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور شام ، روم اور فارس (ایران) فتح ہو جائے گا، (اور اتنا مالِ غنیمت جمع ہو گا کہ) تم میں سے ہر آدمی کو کئی اونٹ ، کئی گائیں اور دوسری غنیمتیں ملیں گی، بلکہ جب کسی کو سو دینار دیا جائے گا تو وہ اسے کم سمجھ ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا: ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (یعنی بیت المقدس) میں قائم ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زلزلے، مصائب اور بڑی بڑی علاماتِ قیامت قریب آگئیں ہیںاور اس وقت قیامت لوگوں سے اس سے بھی زیادہ قریب ہوگی، جیسے میرا ہاتھ اور تمہارا سر ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۵۰) تخریج: ضعیف، فقد تفرد بہ معاویۃ بن صالح بھذہ السیاقۃ، أخرجہ ابوداود: ۲۵۳۵(انظر: ۲۲۴۸۷)
Explanation
فوائد:… مستقبل کے امورِ غیبیہ کی خبریں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں کہ فتح بیت المقدس کے بعد دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں اور علامتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہوں گی، مثلا: زلزلے، سیلاب، نئی نئی بیماریاں، قتل و غارت گری کی درندہ صفت مثالیں، امت ِ مسلمہ کا ایک دوسرے کا خون بہانا، فتح و شکست کے سلسلے، تہذیبوں میں تبدیلی، نئی ایجادات اور بڑے بڑے حادثات۔
12850
Zaeef
۔ (۱۲۸۵۱)۔ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ جُلُوْسًا، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: قَدْ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ۔ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہٗ،فَلَمَّادَخَلْنَاالْمَسْجِدَ،رَأَیْنَا النَّاسَ رُکُوْعًا فِیْ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَکَبَّرَ وَرَکَعَ وَرَکَعْنَا ثُمَّ مَشَیْنَا، وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ یُسْرِعُ فَقَالَ: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔فَلَمَّاصَلَّیْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ عَلٰی أَھْلِہٖ،جَلَسْنَا،فَقَالَبَعْضُنَالِبَعْضٍ: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّہٗعَلَی الرَّجُلِ: صَدَقَ اللّٰہُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُہٗ۔أَیُّکُمْیَسْأَلُہٗ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُہٗ۔فَسَأَلَہٗحِیْنَ خَرَجَ، فَذَکَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ: تَسْلِیْمَ الْخَاصَّۃِ وَفُشُوَّ التِّجَارَۃِ حَتّٰی تُعِیْنَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَھَا عَلَی التِّجَارَۃِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَھَادَۃَ الزُّوْرِ وَکِتْمَانَ شَھَادَۃِ الْحَقِّ وُظُھَوْرَ الْقَلَمِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۷۰)
طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے‘ وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا‘ ہم نے بھی رکوع کیا‘ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! عَلَیْکَ السَّلَامُ۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیاہے؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے گا؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ‘ حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی‘ نیز قطع رحمی‘ جھوٹی گواہی‘ سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔
Takhreej
(۱۲۸۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۴۰۷، والحاکم: ۴/ ۴۴۵ (انظر: ۳۸۷۰)
Explanation
فوائد:… عصر حاضر میں یہ امور ہوبہو پورے ہو چکے ہیں۔
12851
Sahih
۔ (۱۲۸۵۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوْقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہ جب تک بنو قحطان میں پیدا ہونے والا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا نہیں ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۸۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۱۸، ۷۱۱۷، ومسلم: ۲۹۱۰(انظر: )
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۴۳)
12852
Sahih
۔ (۱۲۸۵۳)۔ وَعََنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰییَمْلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِیْیُقَالُ لَہُ جَہْجَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے ،جب تک جہجاہ نامی ایک غلام لوگوں پر حکمرانی نہ کرلے۔
Takhreej
(۱۲۸۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۱۱، والترمذی: ۲۲۲۸(انظر: ۸۳۶۴)
12853
Sahih
۔ (۱۲۸۵۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَدِیْثًا جَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ: فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ فَکِرَہُ مَا قَالَ، وَقَالَ: بَعْضُہُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ حَتّٰی اِذَا قَضٰی حَدِیْثَہُ، قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ قَالَ: ھَا اَنَا ذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! قَالَ: ((اِذَا ضُیِّعَتِ الْاَمَانََۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَوْ قَالَ: مَا اِضَاعَتُہَا؟ قَالَ: ((اِذَا تَوَسَّدَ الْاَمْرُ غَیْرَ اَھْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اتنے میں ایک بدّو نے آکر پوچھا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات توسن لی ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور بعض نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات ہی نہیںسنی، اُدھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات پوری کر لی تو پوچھا: قیامت کے متعلق دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امانتوں کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! امانتوں کو ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب معاملات نااہل لوگوںکے سپرد کر دیئے جائیں گے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔
Takhreej
(۱۲۸۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹، ۶۴۹۶ (انظر: ۸۷۲۹)
Explanation
فوائد:… مسلم ممالک میں تمام عہدیداران پر نظر دوڑائیں، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے اور مذہبی ہوں یا سیاسی، ہر عہدے پر نااہل فرد نظر آئے گا، مثال دینے کی ضرورت نہیں، الا ما شاء اللہ، اگر کسی اہل کو کوئی خدمت سونپ دی گئی ہے تو وہ اس کا حق ادا نہیں کر رہا۔
12854
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.