سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔
Takhreej
(۹۵۱) تخریج: صحیح دون قولہ: ما یجاوز الرکبتین وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ بدیۃ مولاۃ میمونۃ، ومحمد بن اسحاق مدلس۔ أخرجہ مسلم: ۲۹۵ بلفظ: عن میمونۃ قالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یضطجع معنی وانا حائض وبینی وبینہ ثوب۔ (انظر: ۲۶۸۱۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس برتن لایا جاتا، پہلے میں اس سے پیتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتن پکڑ لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے تھے اور میں ہڈی والی بوٹی لے کر اس سے گوشت نوچ کر کھاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے۔
سیدنا عبد اللہ بن سعد ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھایا کر۔
ام منبوذ کہتی ہیں: میں سیدہ میمونہؓ کے پاس تھی، سیدنا ابن عباسؓ ان کے پاس آئے، انھوںنے ان سے پوچھا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ تیرا سر پراگندہ ہے؟ انھوں نے کہا: ام عمار میرے سر کی کنگھی کرتی تھیں اور وہ آج کل حائضہ ہیں۔ سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس آتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح وہ کھڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چٹائی آپ کے لیے مسجد میں بچھاتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ میرے گود میں اپنا سر رکھتے، ایک روایت میں ہے: میرے ساتھ ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ انھوں نے کہا: میں تو حائضہ ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں ہے؟
Takhreej
(۹۵۷) تخریج: الحدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شبیۃ:۲/ ۳۶۰(انظر: ۵۳۸۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے مجھے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ میں نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تھے، لونڈی سے کہا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے آلِ رسول کے ساتھ ایک رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے، جبکہ لحاف کا ایک کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھا اور دوسرا کنارہ سیدہ عائشہؓ پر تھا، جبکہ وہ حائضہ تھیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوتے اور نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کپڑا مجھے لگتا، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رات کو ان کو حیض آ گیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کپڑے کا اشارہ کیا، جبکہ اس میں خون لگا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر ہی اشارہ کیا کہ وہ اس کو دھو دیں، پس انھوں نے خون کی جگہ دھو دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا پکڑا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔
Takhreej
(۹۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحیی بن عبد اللہ المعافری (انظر: ۲۴۳۷۰)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول ایک کپڑے میں رات گزارتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اگر خون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ جگہ دھو لیتے اور متاثرہ جگہ سے تجاوز نہ کرتے اور پھر اس میں نماز پڑھتے۔
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔
فوائد:… یہ روایت مختصر ہے، اگلی روایت میں تفصیل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ جب عورت حیض سے فارغ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ پر کستوری جیسی خوشبو لگائے تاکہ خون کی بدبو ختم ہو جائے اور مزاج کے اندر نفاست آ جائے۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، ……۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔
سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کامسئلہ ہے، پس تو دیکھ کہ جب تجھے حیض آئے تو تو نے نماز نہیں پڑھنی، جب حیض ختم ہو جائے تو طہارت حاصل کر کے اِس حیض سے اگلے حیض تک نماز پڑھ۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور کہا: میں استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا رہے۔