زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں ایک عورت نے خون بہانا شروع کر دیا، پس جب سیدہ ام سلمہؓ نے اس کے لیے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینہ میں جتنی راتوں اور دنوں میں اس کو حیض آتا تھا، وہ ان کو دیکھ لے، جب وہ اس مقدار کو پورا کر لے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کر دے۔
Takhreej
(۹۷۰) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۸۲، وابن ماجہ: ۶۲۳ (انظر: ۲۶۷۱۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بن جحشؓ، جو سیدہ عبد الرحمن بن عوفؓ کی بیوی تھیں، کو استحاضہ کا اتنا خون آنے لگ گیا کہ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں، جب ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ رحم میں کسی رگ کو ٹھوکر لگ گئی ہے، اس عورت کو جتنے دنوںمیں حیض آتا تھا، اس کو چاہیے کہ ان دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر دیکھ لے کہ ان کے بعد (طہر کے) کتنے دن بنتے ہیں، ان میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرے۔
Takhreej
(۹۷۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فلتغتسل عند کل صلاۃ ولتصل فھو غیر محفوظ۔ أخرجہ مسلم: ۳۳۴ دون قولہ ھذا (انظر: ۲۴۹۷۲)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔
سیدہ حمنہ بنت جحش ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا کون آتا تھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوی پوچھنے اور آپ کو اپنا مسئلہ بتانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بہن سیدہ زینب بن جحشؓ کے گھر پایا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے روئی کی تجویز دیتا ہوں، وہ خون کو ختم کر دے گی۔ میں نے کہا: وہ خون تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لنگوٹ کس لے۔ اس نے کہا: میں تو بہت خون بہا رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے دو حکم دیتا ہوں، تو ان میں سے جو بھی کرے گی، وہ تجھے کفایت کرے گا، پس اگر تجھے اِن دونوں کو کرنے کی طاقت ہو تو تو خود بہتر جانتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان کی ٹھوکروںمیں سے ایک ٹھوکر ہے، پس تو چھ سے سات دن اپنے آپ کو حائضہ شمار کر جو بھی اللہ کے علم کے مطابق ہو، پھر اس طرح غسل کر کہ تجھے نظر آنے لگے کہ واقعی تو پاک اور صاف ہو گئی ہے اور تجھے اس چیز کا یقین ہو گیا ہے، پھر تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، پس یہ عمل تجھے کفایت کرے گا، پس تو ہر ماہ کو اسی طرح کر، جیسا کہ خواتین کو ان کے حیض اور طہر کے وقت میں حیض آتا ہے اور پھر وہ پاک ہو جاتی ہیں اور اگر تجھ میں اتنی قدرت ہے کہ تو ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کر ے اور اِن دونوں کو اکٹھا کرکے ادا کرے، مغر ب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کرے اور اِن دونوں کو اکٹھا کر کے ادا کرے اور فجر کے لیے علیحدہ غسل کر کے اس کو ادا کر لے، تو تو اسی طرح کر اور نماز پڑھ اور روزے رکھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن دو حکموں میں سے یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔
Takhreej
(۹۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف ، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف یعتبر بہ فی المتابعات، ولم یتابع ھنا۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷، والترمذی: ۱۲۸، ابن ماجہ: ۶۲۷ (انظر: ۲۷۴۷۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔
Takhreej
(۹۷۵) تخریج: حدیث ضعیف، وھذا اسناد اختلف فیہ علی عبد الرحمن بن القاسم (انظر: ۲۴۸۷۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)
سیدہ عائشہؓ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں ایک خاتون مستحاضہ تھی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا تھا، جبکہ وہ زرد اور سرخ رنگ کا خون دیکھتی رہتی تھی، بسا اوقات تو ہم اس کے نیچے ایک تھال رکھتی تھیں، جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھی۔
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام بکر۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۴۶ (انظر: ۲۵۸۰۳)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں بچہ جنم دینے کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر جھائیوں کی وجہ سے ورس بوٹی خوب ملتی تھیں۔
Takhreej
(۹۸۰) حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۲، ۹۵۵، والترمذی: ۱۳۹، وابن ماجہ: ۶۴۸(انظر: ۲۶۵۶۱)