TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب - حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب - Book 18 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 18 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 51 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

51 Hadith · 13 Chapters
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۷۰)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَتْ تُہَرَاقُ الدَّمَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَتْ لَہَا أُمُّ سَلَمَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لِتَنْظُرْ عِدَّۃَ اللَّیَالِیْ وَالْأَیَّامِ الَّتِیْ کَانَتْ تَحِیْضُہُنَّ مِنَ الشَّہْرِ، فَاِذَا بَلَغَتْ ذٰلِکِ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّیْ)) (مسند أحمد: ۲۷۲۵۲)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں ایک عورت نے خون بہانا شروع کر دیا، پس جب سیدہ ام سلمہؓ نے اس کے لیے فتوی پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک مہینہ میں جتنی راتوں اور دنوں میں اس کو حیض آتا تھا، وہ ان کو دیکھ لے، جب وہ اس مقدار کو پورا کر لے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کر دے۔
Takhreej
(۹۷۰) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۸۲، وابن ماجہ: ۶۲۳ (انظر: ۲۶۷۱۶)
970
Sahih
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۷۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ أُمَّ حَبِیْبَۃَ بِنْتَ جَحْشٍ کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَاِنَّہَا اسْتُحِیْضَتْ فَلَا تَطْہُرُ، فَذُکِرَتْ شأْنُہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ وَلٰـکِنَّہَا رَکْضَۃٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِہَا الَّتِیْ کَانَتْ تَحِیْضُ لَہُ فَلْتَتْرُکِ الصَّلوٰۃَ ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَلْتُصَلِّ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۴۸۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بن جحشؓ، جو سیدہ عبد الرحمن بن عوفؓ کی بیوی تھیں، کو استحاضہ کا اتنا خون آنے لگ گیا کہ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں، جب ان کا معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ رحم میں کسی رگ کو ٹھوکر لگ گئی ہے، اس عورت کو جتنے دنوںمیں حیض آتا تھا، اس کو چاہیے کہ ان دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر دیکھ لے کہ ان کے بعد (طہر کے) کتنے دن بنتے ہیں، ان میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرے۔
Takhreej
(۹۷۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فلتغتسل عند کل صلاۃ ولتصل فھو غیر محفوظ۔ أخرجہ مسلم: ۳۳۴ دون قولہ ھذا (انظر: ۲۴۹۷۲)
971
Sahih
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
۔ (۹۷۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اُسْتُحِیْضَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ وَہِیَ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِیْنَ فَشَکَتْ ذٰلِکَ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ ہٰذِہِ لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ، وَاِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ، فَاِذَا اَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلوٰۃَ وَاِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّی۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فکَانَتْ تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلٰوۃٍ ثُمَّ تُصَلِّی، وَکَانَتْ تَقْعُدُ فِیْ مِرْکَنٍ لِأُخْتِہَا زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّی اَنَّ حُمْرَۃَ الدَّمِ لَتَعْلُوْ الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۴۵)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی شکایت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔
Takhreej
(۹۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۷، ومسلم: ۳۳۴ (انظر: ۲۴۵۳۸)
972
Sahih
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
۔ (۹۷۳)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اِنَّہَا قَالَتْ: اِسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّیْ۔)) فَکَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: لَمْ یَأْمُرْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، اِنَّمَا فَعَلَتْہُ ہِیَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۲۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔
Takhreej
(۹۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
973
Sahih
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
۔ (۹۷۴)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أُمِّہِ حَمْنَۃَ بِنْتِ جَحْشٍؓ قَالَتْ: کُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً شَدِیْدَۃً کَثِیْرَۃً، فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَفْتِیْہِ وَأُخْبِرُہُ فَوَجَدْتُہُ فِیْ بَیْتِ أُخْتِیْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً، فَقَالَ: ((مَاہِیَ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیْرَۃً شَدِیْدَۃً فَمَا تَرٰی فِیْہَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِیَ الصَّلوٰۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((أَنْعَتُ لَکِ الْکُرْسُفَ فَاِنَّہُ یُذْہِبُ الدَّمَ)) قَالَتْ: ہُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَتَلَجَّمِیْ)) قَالَتْ: اِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًا؟ فَقَالَ لَہَا: ((سَآمُرُکِ بِأَمَرَیْنِ، أَیُّہُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْکِ مِنَ الْآخَرِ، فَاِنْ قَوِیْتِ عَلَیْہِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ۔)) فقَالَ لَہَا: ((اِنَّمَا ہٰذِہِ رَکَضَۃٌ مِنْ رَکَضَاتِ الشَّیْطَانِِ، فَتَحَیَّضِیْ سِتَّۃَ أَیَّامٍ اِلٰی سَبْعَۃٍ فِیْ عِلْمِ اللّٰہِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ حَتّٰی اِذَا رَأَیْتِ أَنَّکِ قَدْ طَہُرْتِ وَاسْتَیْقَنْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّیْ أَرْبَعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَأَیَّامَہَا وَصُوْمِیْ فَاِنَّ ذٰلِکِ یُجْزِئُکِ وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِیْ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ کَمَا تَحِیْضُ النِّسَائُ وَکَمَا یَطْہُرْنَ بِمِیْقَاتِ حَیْضِہِنِّ وَطُہْرِہِنَّ، وَاِنْ قَوِیْتِ عَلٰی أَنْ تُؤَخِّرِی الظُّہْرَ وَتُعَجِّلِیْ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِیْنَ ثُمَّ تُصَلِّیْنَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیْعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِیْنَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِیْنَ الْعِشَائَ ثُمَّ تَغْتَسِلِیْنَ وَتجْمَعِیْنَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فَافْعَلِیْ، وَتَغْتَسِلِیْنَ مَعَ الْفَجْرِ وَتُصَلِّیْنَ، وَکذٰلِکِ فَافْعَلِیْ وَصَلِّیْ وَصُوْمِیْ اِنْ قَدَرْتِ عَلَی ذٰلِکَ)) وَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَہٰذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَیْنِ اِلَیَّ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۲۲)
سیدہ حمنہ بنت جحش ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا کون آتا تھا، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھنے اور آپ کو اپنا مسئلہ بتانے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنی بہن سیدہ زینب بن جحشؓ کے گھر پایا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے روئی کی تجویز دیتا ہوں، وہ خون کو ختم کر دے گی۔ میں نے کہا: وہ خون تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر لنگوٹ کس لے۔ اس نے کہا: میں تو بہت خون بہا رہی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے دو حکم دیتا ہوں، تو ان میں سے جو بھی کرے گی، وہ تجھے کفایت کرے گا، پس اگر تجھے اِن دونوں کو کرنے کی طاقت ہو تو تو خود بہتر جانتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ شیطان کی ٹھوکروںمیں سے ایک ٹھوکر ہے، پس تو چھ سے سات دن اپنے آپ کو حائضہ شمار کر جو بھی اللہ کے علم کے مطابق ہو، پھر اس طرح غسل کر کہ تجھے نظر آنے لگے کہ واقعی تو پاک اور صاف ہو گئی ہے اور تجھے اس چیز کا یقین ہو گیا ہے، پھر تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، پس یہ عمل تجھے کفایت کرے گا، پس تو ہر ماہ کو اسی طرح کر، جیسا کہ خواتین کو ان کے حیض اور طہر کے وقت میں حیض آتا ہے اور پھر وہ پاک ہو جاتی ہیں اور اگر تجھ میں اتنی قدرت ہے کہ تو ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کر ے اور اِن دونوں کو اکٹھا کرکے ادا کرے، مغر ب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کرے اور اِن دونوں کو اکٹھا کر کے ادا کرے اور فجر کے لیے علیحدہ غسل کر کے اس کو ادا کر لے، تو تو اسی طرح کر اور نماز پڑھ اور روزے رکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اِن دو حکموں میں سے یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔
Takhreej
(۹۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف ، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف یعتبر بہ فی المتابعات، ولم یتابع ھنا۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷، والترمذی: ۱۲۸، ابن ماجہ: ۶۲۷ (انظر: ۲۷۴۷۴)
974
Zaeef
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
۔ (۹۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: اِنَّ سَلَمَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: سُہَیْلَۃَ) بِنْتَ سُہَیْلِ بْنِ عَمْروٍ اُسْتُحِیْضَتْ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَمَرَہَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، فَلَمَّا جَہَدَہَا ذٰلِکَ أَمَرَہَا أَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۹۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔
Takhreej
(۹۷۵) تخریج: حدیث ضعیف، وھذا اسناد اختلف فیہ علی عبد الرحمن بن القاسم (انظر: ۲۴۸۷۹)
975
Sahih
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
۔ (۹۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً مُسْتَحَاضَۃً سَأَلَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقِیْلَ: اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّہْرَوَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَائَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصلَاۃِ الصُّبْحِ غُسْلًَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)
Takhreej
(۹۷۶) تخریج: حدیث ضعیف۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۴ (انظر: ۲۵۳۹۱)
976
Sahih
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
۔ (۹۷۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُصَلِّی الْمُسْتَحَاضَۃُ وَاِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَی الْحَصِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵۷۳)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستحاضہ خاتون نماز پڑھے گی، اگرچہ اس کا خون چٹائی پر بہتا رہے۔
Takhreej
(۹۷۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابو داود: ۲۹۸، وابن ماجہ: ۶۲۴ (انظر: ۲۵۰۵۹)
977
Sahih
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
۔ (۹۷۸)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِعْتَکَفَتْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِہِ مُسْتَحَاضَۃٌ فَکَانَتْ تَرَی الْصُّفْرَۃَ وَالْحُمْرَۃَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَہَا وَہِیَ تُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۱۲)
سیدہ عائشہؓ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویوں میں ایک خاتون مستحاضہ تھی، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ اعتکاف کیا تھا، جبکہ وہ زرد اور سرخ رنگ کا خون دیکھتی رہتی تھی، بسا اوقات تو ہم اس کے نیچے ایک تھال رکھتی تھیں، جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھی۔
Takhreej
(۹۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۰، ۲۰۳۷(انظر: ۲۴۹۹۸)
978
Sahih
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
۔ (۹۷۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْمَرْأَۃِ تَرٰی مَا یُرِیْبُہَا بَعْدَالطُّہْرِ: قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ۔)) أَوْ قَالَ: ((عُرُوْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۳۲۳)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام بکر۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۴۶ (انظر: ۲۵۸۰۳)
979
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
۔ (۹۸۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النُّفَسَائُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً شَکَّ أَبُوْ خَیْثَمَۃَ وَکُنَّا نَطْلِیْ عَلَی وُجُوْہِنَا الْوَرَسَ مِنَ الْکَلَفِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۹۶)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں بچہ جنم دینے کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر جھائیوں کی وجہ سے ورس بوٹی خوب ملتی تھیں۔
Takhreej
(۹۸۰) حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۲، ۹۵۵، والترمذی: ۱۳۹، وابن ماجہ: ۶۴۸(انظر: ۲۶۵۶۱)
980
Sahih

Chapters

13
01
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
4 Hadith
02
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
1 Hadith
03
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
2 Hadith
04
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
15 Hadith
05
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
2 Hadith
06
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
6 Hadith
07
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
4 Hadith
08
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
3 Hadith
09
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
10
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
2 Hadith
11
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
1 Hadith
12
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
2 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
4 Hadith
No chapter matched that.