TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان - ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان - شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 7 · 4 Hadith
۔ (۱۳۹۶) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ جَدِّیْ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَوْرَاتُنَا مَانأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((احْفَظْ عَوْرَتَکَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکَ أَوْ مَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَإِذَا کَانَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ فِی بَعْضٍ؟ قَالَ: ((إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَّایَرَاھاَ أَحَدٌ فَـلَا یَرَیَنَّہَا۔)) قُلْتُ: فَإِذَا کَانَ أَحَدُنَا خَالِیاً؟ قَالَ: ((فَاللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَا مِنْہُ۔)) وَزَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا عَلَی فَرْجِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۹۶)
سیّدنامعاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے عورہ کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوںتو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے عورہ) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
Takhreej
(۱۳۹۶) تخریـج:… اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۷، والترمذی: ۱۹۲۰، ۲۷۶۹، وابن ماجہ: ۱۹۲۰، والجملۃ الاخیرۃ ای فوضعھا علی فرجہ اسنادھا حسن ایضا و أخرجھا عبد الرزاق: ۱۱۰۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۹۸۹ (انظر: ۲۰۰۳۴، ۲۰۰۳۵)۔
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہوں کی طرف دیکھنا جائز ہے، یہی معاملہ آقا اور اس کی لونڈی کا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ سے شرم کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کی پسند کو ترجیح دیتے ہوئے علیحدگی میں بھی پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، وگرنہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے پردہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر خواتین آپس میں ان مقامات کا پردہ بھی نہیں کرتیں، جن کا شریعت نے سختی سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ گناہ کا کام ہے، صرف میاں بیوی اور آقاو لونڈی کو مستثنی کیا گیا ہے۔
1396
Sahih
۔ (۱۳۹۷) عَنْ أَبِی سَعیدٍ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَۃُ إِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ وَلَا یُفْضِی الرَّجُلُ إِلیَ الرَّجُلِ فِی الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِی الْمَرْأَۃُ إِلیَ الْمَرْأَۃِ فِی الثَّوْبِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۲۳)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مرد ، مرد کے ستر کی طرف اور عورت، عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور مرد ایک ہی کپڑے میں دوسرے مرد کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کی طرف پہنچے۔
Takhreej
(۱۳۹۷) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۳۳۸، وابوداود: ۴۰۱۸ (انظر: ۱۱۶۰۱)۔
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کا معنییہ ہے کہ مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں داخل نہ ہوں، کیونکہ اس صورت میں ایک کا ننگا جسم دوسرے کے ننگے جسم کو ٹچ کرے گا، بے پردگی ہو گی اوراگر وہ خود محرم بھی ہوں تو خیالات ضرور بگڑیں گے اور غیر محرم کو اس حالت میں دیکھنے کا شیطانی وسوسہ پیدا ہو گا اور مزید فساد… رہا مسئلہ ایک دوسرے ساتھ سونے کا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو علیحدہ علیحدہ سلانے کا حکم دیا ہے۔
1397
Sahih
۔ (۱۳۹۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مُوسَی بْنَ عِمْرَانَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْ خُلَ الْمَائَ لَمْ یُلْقِ ثَوْبَہُ حَتّٰییُوَارِیَ عَوْرَتَہُ فِی الْمَائِ۔) (مسند احمد: ۱۳۸۰۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا نہ اتارتے حتی کہ اپنی شرمگاہ پانی میں چھپا لیتے۔
Takhreej
(۱۳۹۸) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۳۷۶۴)۔
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غور کیا جائے کہ کیا درج ذیل روایت اس کا شاہد بن سکتی ہے: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے نہاتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام حیادار اور پردہ دار ہونے کی وجہ سے پردہ کر کے نہاتے تھے۔ ان کیقوم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کی شرمگاہ میں کوئی عیب ہے، اس لیےیہ پردہ کرتے ہیں۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ کر نہا رہے تھے، اچانک وہ پتھر کپڑوں سمیت چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس کے تعاقب میں چل پڑے : پتھر! میرےکپڑے، پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گئے، … … (مسند احمد: ۹۰۹۱، صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹) بہرحال یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام غسل کے وقت پردے کا انتظام کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1398
Zaeef
۔ (۱۳۹۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَانَظَرْتُ إِلٰی فَرْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ، أَوْ مَا رَأَیْتُ فَرْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شرمگاہ نہیں دیکھی۔
Takhreej
(۱۳۹۹) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عائشۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۶۲، ۱۹۲۲، الترمذی فی الشمائل : ۳۵۲ (انظر: ۲۴۳۴۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، کئی شرعی نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے جسم کا کوئی عضو دوسرے کے لیے پردہ نہیں ہے، یہی معاملہ آقا و لونڈی کا ہے۔
1399
Zaeef