TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 288 - روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے - علم کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 7 in this chapter
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
۔ (۲۸۸)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَ لَا یُعْجِبُکَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ؟ جَائَ فَجَلَسَ اِلَی جَانِبِ حُجْرَتِیْ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسْمِعُنِیْ ذٰلِکَ وکُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِیَ سُبْحَتِیْ وَلَوْ أَدْرَکْتُہُ لَرَدَدْتُ عَلَیْہِ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ یَسْرُدُ الْحَدِیْثَ کَسَرْدِکُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۷۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کیا ابو ہریرہ تم کو تعجب میں نہیں ڈالتے؟ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر مجھے سناتے ہوئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کر رہے تھے، جبکہ میںنفلی نماز پڑھ رہی تھی، پھر وہ میری نماز پوری ہونے سے پہلے چلے گئے، اگر میں ان کو پا لیتی تو میں نے ان کا ردّ کرنا تھا، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمہاری طرح تسلسل کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔
288
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۸۸) تخریج: أخرجہ البخاریِ ۳۵۶۷، ومسلم: ۲۴۹۳(انظر: ۲۴۸۶۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …سیدہ عائشہ ؓیہ کہنا چاہتی ہیں کہ نبی ٔ کریم لوگوں کو سمجھانے کی خاطر ٹھہر ٹھہر کر احادیث بیان کرتے تھے اور ابوہریرہؓ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے۔

Related Chapters

98
1
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریمa کے قرض لینے کا بیان
Musnad Ahmad
2
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
3
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط
Sunnan Ibn e Maja
5
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
Sunnan Ibn e Maja
6
اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
12
اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
اس حدیث میں مالک بن مغول سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
اس حدیث میں شعبہ کی قتادہ سے روایت میں شعبہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
16
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
17
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
18
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
19
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان اور اس سلسلہ میں جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف الفاظ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
27
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
30
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
31
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
33
باب: چوری کرنے والی مخزومی عورت کے بارے میں زہری کی روایت میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: (اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی روایت میں) تلامذہ زہری کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
35
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
36
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
37
وتر میں قنوت اور اس کے الفاظ کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
39
سلام کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس کے دو مرتبہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
41
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
Musnad Ahmad
43
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
Musnad Ahmad
44
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
Musnad Ahmad
45
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
Musnad Ahmad
46
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ابو طفیل نے روایت کی
Musnad Ahmad
47
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
48
دم کے الفاظ کا بیان
Musnad Ahmad
49
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
Musnad Ahmad
50
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
2529
۔ (۲۵۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُوْنَ السُّنَّۃَ وَیُحْدِثُوْنَ بِدْعَۃً وَیُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی اِذَا أَدْرَکْتُہُمْ؟ قَالَ: ((لَیْسَ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَھَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَاحِ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک قریب ہے کہ تمہارے امور کے والی ایسے لوگ بن جائیں ، جو سنت کو مٹائیں گے، بدعتوں کو زندہ کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کر دیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں ان کو پالوں توکیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے! اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
4296
۔ (۴۲۹۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ: أَحْرَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ وَلَمْ یُحْرِمْ أَبُوْ قَتَادَۃَ، قَالَ: وَحُدِّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ عَدُوًّا بِغَیْقَۃَ، فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِی فَضَحِکَ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ۔ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَاسْتَعَنْتُہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یُعِیْنُوْنِی، فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَاَثْبَتُّہُ فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِہِ وَخَشِیْنَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ فَرَسِیْ شَأْواً وَأَسِیْرُ شَأْواً، وَلَقِیْتُ رَجُلاً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَقُلْتُ أَیْنَ تَرَکْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: تَرَکْتُہُ وَہُوَ بِتِعْہِنَ، وَہُوَ مِمَّا یَلِیْ السُّقْیَا، فَأَدْرَکْتُہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَصْحَابَکَ یُقْرِئُونَکَ السَّلَامَ وَرَحْمَۃَ اللَّٰہِ، وَقَدْ خَشُوْا أَنْ یُقْتَطَعُوْا دُوْنَکَ فَانْتَظِرْہُمْ، قَالَ: فَانْتَظَرَہُمْ، قُلْتُ وَقَدْ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِی مِنْہُ فَاضِلَۃٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ((کُلُوْا وَہُمْ مُحْرِمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۳۷)
۔ سیدناعبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ دشمن غیقہ کے مقام پر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے، جب میں بھی ادھر متوجہ ہوا تو میری نظر ایک جنگلی گدھے پر پڑی، میں نے ان سے مدد چاہی، لیکن انہوں نے شکار کرنے میں میری مدد کرنے سے انکار دیا، بہرحال میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار گرایا، ہم نے اس کا گوشت کھایا، لیکن ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اچک لیے جائیں (یعنی ہماری تعداد تھوڑی ہونے کی وجہ سے دشمن ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے) ، اس لیے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا، میں اپنے گھوڑے کو کچھ دور تک دوڑاتا اور کچھ فاصلے تک آہستہ چلتا، رات کو میری ملاقات بنو غفار کے ایک آدمی سے ہوئی، میں نے اس سے پوچھا: آپ کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کس مقام پر ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے بتایا کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سقیا کے قریب تَعْھِن کے مقام پر چھوڑا تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مقام پر پا لیا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے رفقاء آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت پیش کرتے تھے، انہیں اندیشہ تھا کہ دشمن ان پر حملہ نہ کر دے، لہٰذا آپ یہیں ان کا انتظار کریں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں ان کا انتظار کیا اور میں نے عرض کیا: میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا تھا، میرے پاس اس کا ایک عضو باقی بچا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھالو۔ جبکہ وہ محرم تھے۔
Musnad Ahmad
5118
۔ (۵۱۱۸)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا فَجَائَ عَیْنٌ لِلْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ یَتَصَبَّحُونَ، فَدَعَوْہُ إِلٰی طَعَامِہِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَکِبَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ، وَذَہَبَ مُسْرِعًا لِیُنْذِرَ أَصْحَابَہُ، قَالَ سَلَمَۃُ: فَأَدْرَکْتُہُ فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَہُ وَضَرَبْتُ عُنُقَہُ، فَغَنَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَبَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۳۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، اتنے میں مشرکوں کا ایک جاسوس پہنچ گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، صحابۂ کرام نے اس کو کھانے کی طرف بلایا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہوا اور جلدی سے واپس ہونا شروع کر دیا، دراصل وہ اپنے ساتھیوں کو متنبہ کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پیچھے دوڑا اور اس کو پا لیا اور اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی گردن قلم کر دی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا سلب مجھے بطورِ غنیمت دے دیا۔
Musnad Ahmad
6627
۔ (۶۶۲۷)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّۃَ قَالَ: بَیْنَمَا اَنَا رَاقِدٌ اِذْ جَائَ السَّارِقُ فَأَخَذَ ثَوْبِیْ مِنْ تَحْتِ رَأْسِیْ فَأَدْرَکْتُہُ فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ ھٰذَا سَرَقَ ثَوْبِیْ فَأَمَرَ بِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْطَعَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیْسَ ھٰذَا أَرَدْتُ، ھُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ، قَالَ: ((فَہَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸۹)
۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا چرا لیا، میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے میرا کپڑا چوری کر لیا ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تو نہیں تھا، میںیہ کپڑا اس پر صدقہ کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
Musnad Ahmad
11969
۔ (۱۱۹۶۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی خَلِیلِی الصَّادِقُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یَکُونُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْثٌ إِلَی السِّنْدِ وَالْہِنْدِ۔)) فَإِنْ أَنَا أَدْرَکْتُہُ فَاسْتُشْہِدْتُ فَذٰلِکَ، وَإِنْ أَنَا فَذَکَرَ کَلِمَۃً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِی مِنَ النَّارِ۔ (مسند احمد: ۸۸۰۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے سچے ! یعنی میں کسی بیمارییا سفر کی وجہ سے کوئی اور روزے نہ رکھ سکوں تو پھر یہی تین روزے ہی آخر تک رہتے ہیں اور ان سے ہی پورے مہینہ کے ثواب حاصل ہونے کی امید ہوتی ہے کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے۔ [بلوغ الامانی] (عبداللہ رفیق) @ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: شدَّتْ فِیْ مَضَاغِیْ وہ میرے چبانے میں سخت تھی۔ یعنی وہ کھجور چبانے کے لحاط سے سخت ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ پسند آئی۔ خلیل اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف جائے گا۔ پھر ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے: اگر میں اس لشکر کو پا لوں اور اس میں شریک ہو کر شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو جائوں تو بہتر، اوراگر میں (شہید نہ ہوا)، بلکہ واپس آ گیا تو میں آزاد ابو ہریرہ بن جاؤں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آگ سے آزاد کر دے گا۔
Musnad Ahmad
12080
۔ (۱۲۰۸۰)۔ (وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَ) قَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُونَ السُّنَّۃَ، وَیُحْدِثُونَ بِدْعَۃً، وَیُؤَخِّرُونَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی إِذَا أَدْرَکْتُہُمْ، قَالَ: ((لَیْسَیَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۹)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
12353
۔ (۱۲۳۵۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذَہَبَۃٍ فِی أَدِیمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِہَا، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَرْبَعَۃٍ بَیْنَ زَیْدِ الْخَیْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَۃَ بْنِ عُلَاثَۃَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَیْلِ شَکَّ عُمَارَۃُ، فَوَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ وَالْأَنْصَارُ وَغَیْرُہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا تَأْتَمِنُونِی وَأَنَا أَمِینُ مَنْ فِی السَّمَائِ، یَأْتِینِی خَبَرٌ مِنَ السَّمَائِ صَبَاحًا وَمَسَائً۔)) ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَیْنَیْن، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ، نَاشِزُ الْجَبْہَۃِ، کَثُّ اللِّحْیَۃِ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((وَیْحَکَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَتَّقِیَ اللّٰہَ أَنَا؟)) ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَالَ خَالِدٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَلَعَلَّہُ یَکُونُیُصَلِّی)) فَقَالَ: إِنَّہُ رُبَّ مُصَلٍّ یَقُولُ بِلِسَانِہِ مَا لَیْسَ فِی قَلْبِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَہُمْ۔)) ثُمَّ نَظَرَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: ((ہَا إِنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ ہٰذَا قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِِِِِ)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((یَقْتُلُونَ أَہْلَ الْإِسْلَامِ، وَیَدَعُونَ أَہْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَکْتُہُمْ لَأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمن سے رنگے ہوئے چمڑے میں بند سونا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیجاہے، جسے ابھی مٹی سے صاف نہیںکیا گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ سونا زید خیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل یہ شک اس حدیث کے ایک راوی عمارہ کو ہے (صحیح علقمہ بن علاثہ ہے کیونکہ عامر کئی سال پہلے کا فوت ہو چکا ہے)، میں تقسیم فرمایا: تو بعض صحابہ اور انصار وغیرہ کو یہ کافی محسوس ہوا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے امین،دیانت دار نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اللہ کا امین ہوں اور میرے پاس صبح شام آسمان سے خبریں آتی ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس تقسیم پر قریش اور انصار کے کچھ لوگ غضناک ہوئے، انہوںنے کہا:آپ اہل نجد کے بڑے بڑے لوگوں کو عطیات دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںان کی دل جوئی کرتا ہوں، اس کے بعدایک آدمی آپ کے پاس آیا، اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی اونچی،داڑھی گھنی،چادر خوب اونچی اور سرمنڈا ہواتھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریں، دوسری روایت میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا: تم پر افسوس ہے کہ تمام روئے زمین والوں میں سے میں سب سے زیاد ہ اس بات کا حقدار نہیں کہ اللہ سے ڈروں؟ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا، یہ سارا ماجرا دیکھ کر خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میںاس کی گردن نہ اڑادوں؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں!شاید یہ نماز پڑھتا ہو۔ تو خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بعض نماز ی اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں: جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں،تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایاگیا کہ میں لوگوں کے دلوں اور ان کے پیٹوں کو چیر چیر کر دیکھوں۔ وہی آدمی پیٹھ موڑ کر جا رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوںکو کچھ نہیں کہیں گے، اگر میں نے ان کو پایا تو ان کو یوں قتل کر وں گا جس طرح قوم عاد کو قتل کیا گیا تھا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔