TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے

Chapter 23 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 34 · 6 Hadith
۔ (۳۵۶۵) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَکَانَ مَعْمَرٌ یَقُوْلُ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَہَ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنِ الاَعْرَجِ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی زَکَاۃِ الْفِطْرِ عَلَی کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَکَرٍ وَاُنْثٰی صَغِیْرٍ اَوْ کَبِیْرٍ فَقِیْرٍ اَوْ غَنِیٍّ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ اَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، قَالَ مَعْمَرٌ وَبَلَغَنِی اَنَّ الزُّہْرِیَّ کَانَ یَرْوِیْہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۷۱۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہر آزادو غلام، مرد و زن ، چھوٹے بڑے اور فقیر اور غنی پر کھجور کا ایک صاع اور گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر فرض ہے۔ معمر کہتے ہیں: مجھے یہ خبرملی ہے کہ امام زہری اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۵۶۵) تخر یـج: رجالہ ثقات رجال الشیخین، وھو موقوف۔ اخرجہ عبد الرزاق: ۵۷۶۱، والدارقطنی: ۲/ ۱۴۹، والبیھقی: ۴/ ۱۶۴ (انظر: ۷۷۲۴)
3565
Sahih
۔ (۳۵۶۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قََالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذِہِ الصَّدَقَۃَ کَذَا وَکَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا۔ (مسند احمد: ۲۰۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقۂ فطر کے سلسلہ میں فلاں فلاں جنس کا ایک ایک صاع اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۶) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، الحسن بن ابی الحسن البصری مدلس وقد عنعن۔ اخرجہ النسائی: ۵/ ۵۰ (انظر: ۲۰۱۸)
3566
Sahih
۔ (۳۵۶۷) عَنِ اْلَحَسِن قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِی آخِرِ رَمَضَاَنَ، فَقَالَ: یَا اَہْلَ الْبَصْرَۃِ! اَدُّوا زَکَاۃَ صَوْمِکُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ ہٰہُنَا مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ؟ قُوْمُوْا فَعَلِّمُوْا إِخْوَانَکُمْ فَإِنَّہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی۔ (مسند احمد: ۳۲۹۱)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: اسے اہل بصرہ! تم اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن لم یسمع من ابن عباس، جزم کثیر من العلماء علی ھذا۔ اخرجہ النسائی: ۳/ ۱۹۰(انظر:)
3567
Zaeef
۔ (۳۵۶۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ الْعُذْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمَیْنِ فَقَالَ: اَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ اَوْ قَمْحٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ(وَفِی رِوَایَۃٍ: عَنْ کُلِّ اثْنَیْنِ) اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِیْرٍ وَکَبِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۶۳)
۔ سیدناعبد اللہ بن ثعلبہ عذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: تم ہر دو آدمیوں کی طرف سے گندم کا ایک صاع اور کھجور اور جو کی صورت میں ہر ایک کی طرف ایک ایک صاع ادا کرو، یہ صدقہ ہر آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پر ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۸) تخر یـج: قال الالبانی: صحیح، وللحدیث شواہد کثیرۃ (الصحیحۃ: ۱۱۷۷)۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۲۱ (انظر: ۲۳۶۶۳)
3568
Sahih
۔ (۳۵۶۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ اَوْ صَاعًا مِنْ بُرٍّ وَشَکَّ حَمَّادٌ، عَنْ کُلِّ اثْنَیْنِ صَغِیْرٍ اَوْ کَبِیْرٍ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی حُرٍّ اَوْ مَمْلُوْکٍ، غَنِیٍّ اَوْ فَقِیْرٍ، اَمَّا غَنِیُّکُمْ فَیُزَکِّیْہِ اللّٰہُ وَاَمَّا فَقِیْرُکُمْ، فَیَرُدُّ عَلَیْہِ اَکْثَرَ مِمَّا یُعْطِی۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۶۴)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر چھوٹے بڑے، مردو زن، آزاد و غلام اور امیرو غریب میں سے ہر دو کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو، رہا مسئلہ امیر کا تو اللہ تعالیٰ اسے پاک کر دے گا اور رہا مسئلہ غریب کا تو اللہ تعالیٰ (دوسرے لوگوں کے ذریعے) اسے اس مقدار سے زیادہ واپس کرے گا، جو وہ صدقہ میں دے گا۔
Takhreej
(۳۵۶۹) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول، لکن انفرد نعمان بن راشد فی ھذا الحدیث بایجاب صدقۃ الفطر علی الغنی و الفقیر، وھو ضعیف لسوء حفظہ
3569
Zaeef
۔ (۳۵۷۰) عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: کُنَّا نُؤَدِّیْ زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُدَّیْنِ مِنْ قَمْحٍ بِالْمُدِّ الَّذِی تَقْتَاتُوْنَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں ایک آدمی کی طرف سے گندم کے دو مُد بطورِ صدقۂ فطر ادا کرتے تھے، یہ وہی مُد ہے، جس کے ساتھ تم غلے کا لین دین کرتے ہو۔
Takhreej
(۳۵۷۰) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۴۰۱، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۱۷۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۲۱۹(انظر: ۲۶۹۹۵)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر کفایت کرتا ہے، ایک حدیثیہ بھی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((… مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ اَوْ صَاعٍ مِمَّا سَوَاہ مِنَ الطَّعَامِ۔)) (دارقطنی: ۲۲۰، ۲۲۱ من طریقین عن ابن جریج عنہ،صحیحہ: ۱۱۷۹) …’’گندم سے دو مدّ اور اس کے علاوہ باقی کھانوں سے ایک صاع۔‘‘ سیدناابوبکر،سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا معاویہ، سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا زبیر ، یہ سب اس بات کے قائل تھے کہ گندم کا نصف صاع صدقۂ فطر میںدیا جائے گا۔ ہمارے ہاں عام طور پر عید الفطر کے موقع پر مروّجہ جنس کی قیمت کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کر دیا جاتا ہے۔ جواز کی حد تک تو اس کا قائل ہوا جا سکتا ہے، بہرحال اصل شرعی مسئلہ یہی ہے کہ سنت کے مطابق جنس ادا کی جائے، اسی میں مساکین لوگوں کا زیادہ فائدہ ہے۔ اس موقع پر ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے، بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جنس کی قیمت ادا کرنا زیادہ مناسب ہے، وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مساکین اپنی ضرورت کے مطابق عید سے متعلقہ مختلف چیزیں خرید سکیں گے۔ ان لوگوں کا یہ فہم دو وجوہات کی بنا پر درست نہیں ہے، ایکیہ کہ وہی صورت زیادہ مناسبت کا حق رکھتی ہے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اختیار کی گئی ہو اور دوسرے یہ کہ کیا مسکینوں، بے سہاروں اور بے کسوں کی عیدوں کی خوشیاں صرف ہمارے صدقۂ فطر کے پچاس ساٹھ روپوں میں پنہاں ہیں۔ ایسے لوگ عید کے موقع پر جب اپنے بچوں کے لیے قسما قسم کے کپڑے، جوتے، کھلونے اور کھانے کی چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں، کیا اس وقت یہ خیال ان کو بے چین نہیں کرتا کہ ہمارے معاشرے میں سینکڑوں ایسے بچے موجود ہیں، جو ایسے موقعوں پر حاجت مند آنکھوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کا منہ تک رہے ہوتے ہیں، لیکن ان بے چاروں کی جیب ان کے بچوں کے یہ تقاضے پورے کرنے سے عاجز ہوتی ہے۔ یہ کیسی کھوٹی اور ردّی سوچ ہے کہ ایسے محتاج صرف صدقۂ فطر سے اپنی زندگی کا سارا سرکل چلائیں۔
3570
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.