TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان - آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان - کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 6 · 6 Hadith
۔ (۳۴۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوْہُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آلْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ: ((فَمَنْ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۸۲۲)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوںکی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اور کون۔
Takhreej
(۳۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۵۶، ۷۳۲۰، ومسلم: ۲۶۶۹(انظر: ۱۱۸۰۰)
345
Sahih
۔ (۳۴۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ: وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ قَالَ: ((وَبَاعًا فَبَاعًا حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوْہُ۔)) قَالُوْا: وَمَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَھْلُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((فَمَنْ؟۔)) (مسند أحمد: ۱۰۶۴۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ کے بعد یہ الفاظ ہیں: اور بَاع کے برابر باع ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں، کیا اہل کتاب ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اور کون ہیں۔
Takhreej
(۳۴۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۶۴۱)
Explanation
فوائد:… دو بازوؤں کے پھیلاؤ کو بَاع کہتے ہیں۔
346
Sahih
۔ (۳۴۷)۔ عَنْ سَھْلٍ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِثلًا بِمِثْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۶۶)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے والے لوگوںکے طریقوں کو ہو بہو اپناؤ گے۔
Takhreej
(۳۴۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۰۱۷(انظر: ۲۲۸۷۸)
347
Sahih
۔ (۳۴۸)۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَحْمِلَنَّ شِرَارُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَلٰی سُنَنِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ أَھْلِ الْکِتَابِ حَذْوَ القُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۶۵)
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس امت کے برے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے ہی چلیں گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر دوسرے تیر کے مطابق ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۱۴۰(انظر: ۱۷۱۳۵)
Explanation
فوائد:… حَذْوَ الْقُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ یہ دو چیزوں میں مکمل یکسانیت کے لیے ضرب المثل ہے۔
348
Zaeef
۔ (۳۴۹)۔عن أَبِیْ واقَدٍ اللَّیْثِیِّؓ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا عَنْ مَکَّۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی حُنَیْنٍ قَالَ: وَکَانَ لِلْکُفَّارِ سِدْرَۃٌ یَعْکِفُوْنَ عِنْدَہَا وَیُعَلِّقُوْنَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ یُقَالُ لَہَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَۃٍ خَضْرَائَ عَظِیْمَۃٍ قَالَ: فَقُلْنَا: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقُلْتُ) یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا لِلْکُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (( قُلْتُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی: {اِجْعَلْ لَنَا اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃٌ، قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ} اِنَّہَا لَسُنَنٌ، لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُنَّۃً سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۴۲)
سیدنا ابو واقد لیثیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات ِ انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات ِ انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات ِ انواط ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
Takhreej
(۳۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۸۰(انظر: ۲۱۸۹۷)
349
Sahih
۔ (۳۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ، ھٰذَا کَمَا قَالَتْ بَنُوْاِسْرَائِیْلُ لِمُوْسٰی: {اِجْعَلْ لَنَا اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃٌ، قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ} اِنَّکُمْ تَرْکَبُوْنَ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۴۵)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جواباً فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰؑ سے سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
Takhreej
(۳۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے یہودو نصاری نافرمانیوں، بغاوتوں اور اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت پر تُل گئے، ایسے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امت کے افراد بھی قرآن و حدیث کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرلیں گے، آخری حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خود ایک مثال کی وضاحت کر دی ہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی اور اہل کتاب کی طرح امت ِ اسلامیہ کے افراد نے ہر قسم کی معصیت کا ارتکاب کر دیا، مثلا: شرک و بدعت کی کئی صورتیں، اماموں کی تقلید نا سدید، رشوت، خیانت، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں معاشرے کے اعلی اور ادنی افراد میں فرق، ذاتی مقصد کی خاطر آیات و احادیث کو چھپانا اور ان میں اضافہ کرنا اور ان میں باطل تاویل کرنا، حرام و حلال کے خود ساختہ معیار بنانا، غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز، ترکِ نماز، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
350
Sahih