TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے - خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے - کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 3 Hadith
۔ (۳۵۱)۔عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍؓ یَقُوْلُ: ((مَا أَعْرِفُ شَیْئًا الْیَوْمَ مِمَّا کُنَّا عَلَیْہِ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَیْنَ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوْ فِی الصَّلَاۃِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۰۰)
ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: ہم عہد ِ نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ ہم نے کہا: پس نماز کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟
Takhreej
(۳۵۱) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۵۲۹(انظر: ۱۱۹۷۷)
351
Sahih
۔ (۳۵۲)۔عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍؓ: مَا أَعْرِفُ فِیْکُمُ الْیَوْمَ شَیْئًا کُنْتُ أَعْہَدُہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَیْسَ قَوْلَکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَاأَبَاحَمْزَۃَ! الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّیْتَ حِیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَکَانَتْ تِلْکَ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلٰی اَنِّیْ لَمْ أَرَ زَمَانًا خَیْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِکُمْ ھٰذَا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ زَمَانًا مَعَ نَبِیٍّ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۹۷)
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ سیدنا سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: میں جن امور کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دیکھتا ہے، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا وہی ہے۔ میں نے کہا: اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟ انھوں نے کہا: تو نے تو (عصر کی) نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جوعامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الّا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت والا ہو۔
Takhreej
(۳۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۳۳۳۰ (انظر: ۱۳۸۶۱)
352
Sahih
۔ (۳۵۳)۔عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَکَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! َلا أَعْرِفُ فِیْھِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا اِلَّا أَنَّہُمْ یُصَلُّوْنَ جَمِیْعًا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِلَّا الصَّلَاۃَ)۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۴۸)
سیدہ ام درداء ؓ کہتی ہیں: سیدنا ابودرداء ؓمیرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اِن لوگوں میں تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: سوائے نماز کے۔
Takhreej
(۳۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۰ (انظر: ۲۷۵۰۰)
Explanation
فوائد:… آخری صحابی تو۱۱۰ھ میں فوت ہوا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے بہت پہلے کئی ایسے امورِ خیر مفقود ہو گئے تھے، جو عہد ِنبوی اور خلافت ِ راشدہ کے ابتدائی دور میں موجود تھے، مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں،اسباب کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر آہستہ آہستہ تنزّل آتا گیا اور پندرہویں صدی ہجری شروع ہو گئی، جس میں شرّ، فسا د اور بگاڑ بہت عروج پر ہے۔
353
Sahih