TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان

Chapter 7 of نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 16 · 22 Hadith
۔ (۲۷۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ یَوَمَ الْجُمُعَۃِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ قَالَ: لَا، وَمَنْ شَائَ اِغْتَسَلَ، وَسَاُحَدِّثُکُمْ عَنْ بَدْئِ الْغُسْلِ، کَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِیْنَ وَکَانُوا یَلْبَسُوْنَ الصُّوفَ وَکَانُوا یَسْقُونَ النَّخْلَ عَلٰی ظُہُوْرِھِمْ وَکَانَ مَسْجِدُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَیِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِی الصُّوْفِ فَعَرِقُوا وَکَانَ مِنْبَرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَصِیْرًا، اِنَّمَا ھُوَ ثَـلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِی الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُہُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّی بَعْضُہُمْ بِبَعْضٍ حَتّٰی بَلَغَتْ أَرْوَاحُہُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَۃَ فَاغْتَسِلُوْا وَلْیَمَسَّ أَحَدُکُمْ مِنْ أَطْیِبِ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی آدمی نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ واجب ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن جو چاہتا ہے، وہ غسل کر لے۔ اور میں تجھے غسل کے آغاز کے بارے میں بیان کرتا ہوں، بات یہ ہے کہ لو گ محتاج (اور فقیر) تھے، اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی پشتوں پر( مشکیزے اٹھا اٹھا کر) کھجوروںکو پانی دیا کرتے تھے، جبکہ مسجد نبوی تنگ اور کم بلند چھت والی تھی۔ (ایک دن یوں ہوا کہ) لوگ اسی طرح اونی لباس پہنے آگئے، اس میں ان کو پسینہ آیا، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر بھی چھوٹا سا تھا، بس تین سیڑھیاں تھیں، جب لوگوں کو اون میں پسینہ آیا تو خوب بو پھیلنے لگی اور ان کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، ان کی یہ بو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک بھی پہنچی، جبکہ آپ منبر پر تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لیا کرو اور اگر ہو سکے توبہترین خوشبو استعمال کیا کرو۔
Takhreej
(۲۷۳۵) تخریـج: …اسنادہ جید۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۳ (انظر: ۲۴۱۹)
2735
Sahih
۔ (۲۷۳۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِہِمْ فَکَانُوا یَرُوحُونَ کَہَیْئَتِہِمْ، فَقِیْلَ لَھُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: لوگ اپنا کام خود کیا کرتے تھے، پھر اسی حالت میں(جمعہ کے لیے مسجد میں) آجایا کرتے تھے، اس لیے ان سے کہا گیا: اگر تم غسل کر لیا کرو (تو اچھا ہو گا)۔
Takhreej
(۲۷۳۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۰۳، ومسلم: ۸۴۷ (انظر: ۲۴۳۳۹)
2736
Sahih
۔ (۲۷۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاسْتَاکَ وَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی یَأْتِیَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ یَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ حَتّٰی رَکَعَ مَاشَائَ أَنْ یَرْکَعَ ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الَّتِی قَبْلَہَا۔)) قَالَ وَکَانَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: وَثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ زِیَادَۃً اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۰)
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی اور خوشبو اگر اس کے پاس ہوئی تو وہ بھی استعمال کی اور بہترین کپڑے پہنے، پھر نکلا اور مسجد میں آگیا اورلوگوں کی گردنیں نہ پھلانگی، پھر جتنی چاہی نماز پڑھی، جب امام آیا تو خاموش ہو گیا اور نماز کے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کی، تو یہ (جمعہ) اِس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے مابین (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہو گا۔سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مزید تین دنوں کے (گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کو اس سے دس گنا کے برابر کیا ہے۔
Takhreej
(۲۷۳۷) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ أبوداود: ۳۴۳۔ وأخرجہ مسلم (۸۵۷) من طریق ابی صالح عن ابی ھریرۃ مرفوعا بلفظ: ((من اغتسل، ثم أتی الجمعۃ، فصلی ما قدر لہ، ثم أنصت حتی یفرغ من خطبتہ، ثم یصلی معہ، غفِر لہ ما بینہ وبین الجمعۃ الأخری، وفضل ثلاثۃ أیام۔)) (انظر: ۱۱۷۶۸)
2737
Sahih
۔ (۲۷۳۸) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَطَہَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّہُوْرَ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِ وَمَسَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ طِیْبٍ أَوْ دُھْنِ أَھْلِہِ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ فَلَمْ یَلْغُ وَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۷۲)
سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غسل کیا یا طہارت حاصل کی اور اچھی طرح طہارت حاصل کی،اپنے کپڑوں میں سے بہترین لباس پہنا اور خوشبو استعمال کی، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے میسر کی یا اپنی اہلیہ کا تیل لگا لیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور نہ کوئی لغو کام کیا اور نہ دوبندوں کے درمیان کوئی جدائی ڈالی، تو اس کے (وہ گناہ) بخش دیئے جائیں گے، جو اِس جمعہ سے اگلے جمعہ کے مابین ہوں گے۔
Takhreej
(۲۷۳۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۹۷، وأخرجہ الحمیدی: ۱۳۸ وزاد فی آخرہ: ((وزیادۃ ثلاثۃ أیام)) (انظر: ۲۱۵۳۹)
2738
Sahih
۔ (۲۷۳۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا یُونسُ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ وَدِیْعَۃَ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مِثْلُہُ وَفِیْہِ) قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَکَرْتُ لِعُبَادَۃَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: صَدَقَ وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۰۲)
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ عبادہ بن عامر نے اوپر والی روایت کے بارے میں کہا: اس نے سچ کہا، بلکہ مزید تین دن (کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں)۔
Takhreej
(۲۷۳۹)تخریج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2739
Sahih
۔ (۲۷۴۰) وَعَنْ سَلْمَانَ الْخَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِ الْطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی مِنَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۱۱)
سیّدنا سلمان الخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۲۷۴۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۸۳، ۹۱۰ (انظر: ۲۳۷۱۰)
2740
Sahih
۔ (۲۷۴۱) وَعَنْہُ أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرِی مَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ؟)) قُلْتُ: ھُوَ الْیَوْمُ الَّذِی جَمَعَ اللّٰہُ فِیْہِ أَبَاکُمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّی أَدْرِی مَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، لَا یَتَطَہَّرُ الرَّجُلُ فَیُحْسِنُ طُہُوْرَہُ ثُمَّ یَأْتِی الْجُمُعَۃَ فَیُنْصِتُ حَتّٰی یَقْضِیَ الْاِمَامُ صَلَاتَہُ اِلَّا کَانَ کَفَّارَۃً لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۱۹)
سیّدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا:یہ وہی دن ہے، جس میں اللہ نے آپ کے باپ (آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے (پوری طرح) معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیاہے،جو آدمی اچھے انداز میں طہارت حاصل کرتا ہے، پھر جمعہ کے لیے آتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو یہ (عمل) اس کے لیے اِس جمعہ اور اگلے جمعہ کے ما بین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
Takhreej
(۲۷۴۱) تخریـج: …حدیث صحیح۔ انظر الحدیث السابق: ۱۵۴۴ (انظر: ۲۳۷۱۸)
2741
Sahih
۔ (۲۷۴۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھٰذِہِ؟ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْقَلَبْتُ مِنْ السُّوقِ فَسَمِعْتُ الْنِّدَائَ فَمَا زِدْتُّ عَلٰی أَنْ تَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوئَ أَیْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِالْغُسْلِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا اور سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے اِس سے پوچھا: یہ کون سا وقت ہے (آنے کا)؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین! ابھی ابھی بازار سے واپس آیاتھا، اتنے میں اذان سن لی اور صرف وضو کر کے آگیا ہوں، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نے غسل چھوڑ کر صرف وضو پر اکتفا کیا ہے، لیکن تجھے علم تو ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
Takhreej
(۲۷۴۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۷۸، ومسلم: ۸۴۵ (انظر: ۱۹۹)
2742
Sahih
۔ (۲۷۴۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَخْطُبُ (فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ) أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا رَاحَ أَحَدُکُمْ اِلَی الْجُمُعَۃِ فَلْیَغْتَسِلْ۔)) (مسند احمد: ۹۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطبہ دے رہے تھے (پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس میں ہے) پھر انھوں نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب تم میں کوئی جمعہ کے لیے آئے تو نہا لیا کرے۔
Takhreej
(۲۷۴۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۸۲، ومسلم: ۸۴۵ (انظر: ۹۱)
2743
Sahih
۔ (۲۷۴۴) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو الْیَمانِ ثَنَا شُعَیْبٌ قَالَ سُئِلَ الزُّھْرِیُّ ھَلْ فِی الْجُمُعَۃِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَائَ مِنْکُمْ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ۔)) وَقَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ذَکَرُوا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِغْتَسِلُوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْسِلُوا رُؤُوْسَکُمْ وَاِنْ لَمْ تَکُوْنُوا جُنُبًا وَأَصِیْبُوا مِنَ الطِّیْبِ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّیْبُ فَـلَا أَدْرِی۔ (مسند احمد: ۳۰۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے ۔طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہواور خوشبو بھی لگاؤ۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: غسل کا حکم تو ٹھیک ہے، لیکن خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
Takhreej
(۲۷۴۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۸۴ (انظر: ۳۰۵۸)
2744
Sahih
۔ (۲۷۴۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((غُسْلُ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ)) (مسند احمد: ۱۱۵۹۹)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔
Takhreej
(۲۷۴۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۷۹، ۸۹۵، ومسلم: ۸۴۶ (انظر: ۱۱۵۷۸)
2745
Sahih
۔ (۲۷۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاکُ وَاِنَّمَا یَمَسُّ مِنَ الطِّیبِ مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ وَلَوْ مِنْ طِیْبِ أَھْلِہِ)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۰)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل اور مسواک ہر بالغ پرہے اورجو میسر ہو وہ خوشبو لگائے، اگرچہ اپنے اہل خانہ کی ہو۔
Takhreej
(۲۷۴۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۸۰، ومسلم: ۸۴۶ (انظر: ۱۱۲۵۰)
2746
Sahih
۔ (۲۷۴۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَقُّ اللّٰہِ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ یَغْتَسِلَ فِی کُلِّ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَجَسَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۸۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں نہائے اور اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔
Takhreej
(۲۷۴۷) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۴۹ (انظر: ۸۵۰۳)
2747
Sahih
۔ (۲۷۴۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ غُسْلٌ فِی سَبْعَۃِ أَیَّامٍ کُلَّ جُمُعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۱۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ سات دنوں میں ہر جمعہ کے دن غسل کرے۔
Takhreej
(۲۷۴۸) تخریـج: …حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ أخرجہ النسائی: ۳/۹۳ (انظر: ۱۴۲۶۶)
2748
Sahih
۔ (۲۷۴۹) عَنْ سَمْرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَضَّأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَبِھَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَہُوَ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۳۶)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو قبول کیااوریہ اچھا ہے اور جس نے غسل کیا تو وہ زیادہ فضیلت والا ہے۔
Takhreej
(۲۷۴۹) تخریـج: …حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۴، والنسائی: ۳/ ۹۴، والترمذی: ۴۹۷ (انظر: ۲۰۰۸۹، ۲۰۱۲۰، ۲۰۱۷۴)
2749
Sahih
۔ (۲۷۵۰) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ أَنْ یَغْتَسِلَ أَحَدُھُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأَنْ یَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَ أَھْلِہِ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ طِیْبٌ فَاِنَّ الْمَائَ أَطْیَبُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۸۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر حق ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور خوشبو لگائیں، اگران کے گھر والوں کے پاس ہو، اور اگر نہ ہو تو پانی ہی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے۔
Takhreej
(۲۷۵۰) تخریـج: …حدیث صحیح، دون قولہ: ((فان لم یکن عندھم طیب، فان الماء اطیب))، وھذا اسناد ضعیف لضعف یزید بن أبی زیاد أخرجہ الترمذی: ۵۲۹ (انظر: ۱۸۴۸۸)
2750
Sahih
۔ (۲۷۵۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ شَیْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ وَالْطِّیبُ وَالسِّوَاکُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶۴)
ایک انصاری بزرگ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا ہر مسلمان پر حق ہے۔
Takhreej
(۲۷۵۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۹۴، وأبو یعلی: ۷۱۶۸ (انظر: ۲۳۰۷۶، ۱۶۳۹۷)
2751
Sahih
۔ (۲۷۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَکَرَ وَدَنَا فَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْھَا أَجْرُ قِیَامِ سَنَۃٍ وَصِیَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۹۵۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:جس نے (سر) دھویا،غسل کیا، بہت جلدی آیا، قریب ہوا، بلکہ بہت قریب ہو کر بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو وہ جتنے قدم چل کر آیا تھا، ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور ایک سال کے روزوں کاثواب ملے گا۔
Takhreej
(۲۷۵۲) تخریـج: …حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عثمان الشامی أخرجہ الحاکم: ۱/ ۲۸۲، والبیھقی: ۳/ ۲۲۷ (انظر: ۶۹۵۴)
2752
Sahih
۔ (۲۷۵۳) وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ ’’وَفِی لَفْظٍ: ’’اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فَغَسَلَ أَحَدُکُمْ رَأْسَہُ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا،‘‘ الخ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۶۱)
سیّدنا اوس بن اوس ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:) جب جمعہ کا دن ہو اور تم میں سے کوئی اپنا سر دھوئے اور غسل کرے، پھر جلدی نکلے، …۔
Takhreej
(۲۷۵۳) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، محمد بن سعید المصلوب متروک کذبوہ، وقد قلبوا اسمہ علی مئۃ وجہ لیخفی، ولم یدرک أوسا، وعمر بن محمد لم نقع علی ترجمتہ أخرجہ ابوداود: ۳۴۶، والترمذی: ۴۹۶، وابن ماجہ: ۱۰۸۷، والنسائی: ۳/ ۹۷(انظر: ۱۶۱۶۱، ۱۶۱۷۳، ۱۶۱۷۵، ۱۶۱۷۸)
2753
Zaeef
۔ (۲۷۵۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَخَرَجَ یَمْشِی وَلَمْ یَرْکَبْ ثُمَّ دَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ سَنَۃٍ صِیَامِھَا وَقِیَامِہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۷۵)
(دوسری سند) اسی طرح روایت ہے، اس میں ہے: اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلا اور سوار نہ ہوا، پھر امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خاموش رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تواس ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔
Takhreej
(۲۷۵۴)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2754
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.