TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان - قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان - جنازہ کے احکام و مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of جنازہ کے احکام و مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 10 · 12 Hadith
۔ (۳۰۰۲) عَنْ أَبِی سَعْیِدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ قَوْلَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۶)
سیّدنا ابو سعید خدر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے قریب الموت لوگوں کو لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
Takhreej
(۳۰۰۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۱۶، وأبوداود!: ۳۱۱۷ (انظر: ۱۰۹۹۳)
Explanation
فوائد: …سیّدنا عبد اللہ b سے روایت ہے، نبی کریمa نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ : لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَنَفْسُ الْکَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِہٖ کَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ۔)) (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/ ۷۷/ ۱، الصحیحۃ: ۲۱۵۱) یعنی: ’’قریب الموت لوگوںکو ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کی تلقین کیا کرو، مؤمن کا نفس پسینے کے ٹپکنے کی طرح نکلتا ہے جبکہ کافر کا نفس گدھے کے سانس لینے کی طرح اس کی باچھوں سے نکلتا ہے۔‘‘
3002
Sahih
۔ (۳۰۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالِی أَرَاکَ شَعِثْتَ وَاغْبَرَرْتُ مُنْذُ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَعَلَّکَ سَائَکَ یَا طَلْحَۃُ! إِمَارَۃُ ابْنِ عَمِّکَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللّٰہُ، إِنِّی لَاَجْدَرُکُمْ أَنْ لَّا أَفْعَلَ ذَالِکَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُہَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَۃِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوْحُہُ لَہَا رَوْحًا، حَیْنَ یَخْرُجُ مِنْ جَسَدِہِ، وَکَانَتْ لَہُ نُوْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَلَمْ اَسَاَلْ َرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلَمْ یُخْبِرْنِیْ بِہَا، فذَاکَ الَّذِی دَخَلَنِی، قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَأَنَا أْعْلَمُہَا، قَالَ: فَلِلَّہِ الْحَمْدُ فَمَا ہِیَ؟ قَالَ: ہِیَ الْکَلِمَۃُ الَّتِی قَالَہَا لِعَمِّہِ (لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) قَالَ طَلْحَۃُ :صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا بات ہے کہ جس دن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا ہے آپ پراگندہ پراگندہ اور غبار آلود سے ہو کر رہتے ہیں۔ کہیں آپ کو اپنے چچیرے بھائی (ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا امیر بننا ناگوار تو نہیں گزرا؟ سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی پناہ!میں تو تم سے بھی زیادہ لائق ہوں کہ اس طرح نہ کروں، (مجھے یہ بات کیوں ناگوار گزرے)۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، جوشخص وفات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے تو اس کی روح جسم سے نکلتے ہی رحمت و راحت پا لیتی ہے، نیز وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہو گا۔ مگر افسوس کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کلمہ کے متعلق نہ پوچھ سکا کہ وہ کونسا ہے اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بارے میں بیان کیا۔اس چیز نے مجھے غمزدہ کر رکھا ہے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وہ کلمہ جانتا ہوں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کا شکر، وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) پر پیش کیا تھا، یعنی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
Takhreej
(۳۰۰۳) تخریـج: …حدیث صحیح بطرقہ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۹۶، والنسائی: ۱۱۰۱ (انظر: ۱۸۷، ۱۳۸۴)
3003
Sahih
۔ (۳۰۰۴)( وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ : أَنَا أُخْبِرُکَ بِہَا، ہِیَ الْکَلِمَۃُ الَّتِی أَرَادَ بِہَا عَمَّہُ شَہَادَۃُ ( أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)۔ قَالَ: فَکَأَنَّمَا کُشِفَ عَنِّی غِطَائٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، لَوْ عَلِمَ کَلِمَۃً ہِیَ أَٔفْضَلُ مِنْہَا لَأَمَرَہُ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲)
( دوسری سند) سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ کو وہ کلمہ بتاتا ہوں، یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا سے بھی کہلوانا چاہا تھا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا مجھ سے پردہ چھٹ گیا۔ آپ درست کہہ رہے ہیں، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک کوئی اور کلمہ اس سے افضل ہوتا تو اس کے پڑھنے کا حکم فرماتے۔
Takhreej
(۳۰۰۴)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3004
Sahih
۔ (۳۰۰۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ ابْنِ عُبیْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَآہُ (یَعْنِی رَأیٰ طَلْحَۃَ) کَئِیْبًا، فَقَالَ: یَا أَبَا مُحَمَّدٍ! لَعَلَّکَ سَائَ تْکَ إِمْرَۃُ ابْنِ عَمِّکَ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ؟ قَالَ: لَا، وَأَثْنٰی عَلٰی أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلٰکِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّی لأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُہَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِہِ إِلَّا فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَتَہُ وَأَشْرَقَ لَوْنَہُ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۶)
(تیسری سند) سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے غمگین دیکھ کر پوچھا: ابو محمد! کیا بات ہے؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت ناگوار گزری ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر انھوں نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف کی اور کہا کہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی فوت ہوتے وقت وہ کلمہ پڑھ لیتا، اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور اس کا رنگ نکھر آتا ہے، …۔ الحدیث۔
Takhreej
(۳۰۰۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …سیّدنا ابو بکر صدیق اور سیّدنا طلحہ dکا نسب ان کی تیسری پشت عمرو بن کعب میں مل جاتا تھا، اس لیے وہ ایک دوسری کے چچازاد بھائی لگتے تھے۔ سیّدنا طلحہ bکی پریشانی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام آخرت کے معاملے میں کتنے فکر مند رہتے تھے۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث بھی قابل توجہ ہے۔سیّدنا ابوہریرہ bسے روایت ہے کہ رسول اللہ Aنے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) (مسندأبو یعلی: ۱۱/۸/۶۱۴۷، الکامل لابن عدی: ۲۰۴/ ۲، والحدیث فی صحیح مسلم و غیرہ بلفظ : ((ولقنوا موتاکم لا الہ الا اللہ۔)) یعنی: ’’اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو ، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاٹ حائل ہو جائے اور قریب الموت لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔‘‘
3005
Sahih
۔ (۳۰۰۶) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِی مَرَضِہِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کُنْتُ أَکْتُمُکُمُوْہُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۲۲۳۸۴)
کثیر بن مرہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مرض الموت کے دوران ہم سے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک بات سنی تھی، جسے میں اب تک تم سے چھپاتا رہا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس آدمی کا آخری کلام لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہوگا، اس کے لیے جنت و اجب ہو جائے گی۔
Takhreej
(۳۰۰۶) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ أبوداود: ۳۱۱۶، وابن ماجہ: ۳۷۹۶ (انظر: ۲۱۹۹۸، ۲۲۱۲۷)
3006
Sahih
۔ (۳۰۰۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ (وَفِی رِوَایَۃٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ) فَقَالَ: ((یَا خَالُ! قُلْ لَا إلٰہ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَالَ: أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ فَقَالَ: ((لَا بَلْ خَالٌ۔)) قَالَ: فَخَیْرٌ لِیْ أَنْ أَقُوْلَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک انصار یا بنو نجار کے ایک آدمی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ماموں جان! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے کہا: ماموں یا چچا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چچا نہیں، بلکہ ماموں۔ اس نے پوچھا: کیا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنا میرے حق میں بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
Takhreej
(۳۰۰۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ أبویعلی: ۳۵۱۲، والضیاء فی ’’المختارۃ‘‘: ۱۶۴۰، والبزار: ۷۸۷ (انظر: ۱۲۵۴۳، ۱۳۸۲۶)
Explanation
فوائد:…آپaنے اس شخص کو ماموں کہا تھا کیونکہ اس کا تعلق بنو نجار سے تھے اور بنونجار آپa کے دادا عبد المطلب کے ماموں تھے۔
3007
Sahih
۔ (۳۰۰۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ غُلَامًا یَہُوْدِیًا کَانَ یَضَعُ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضُوْئَ ہُ وَیُنَاوِلُہُ نَعْلَیْہِ؟ فَمَرِضَ فَأتَاَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہِ وَأَبُوْہُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! قُلْ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَنَظَرَ إِلٰی أَبِیْہِ، فَسَکَتَ أبُوْہُ، فَأَعَاَد عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَظَرَ إلٰی أبِیْہِ، فَقَالَ أبُوْہُ: أَطِعْ أَبَا قَاسِمٍ، فَقَالَ الْغُلَامُ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ فَخَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اَلْحَمْدُ اللّٰہِ الَّذِی أَخْرَجَہُ بِی مِنَ النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۲۸۲۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا کرتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جوتے اٹھا کر لا دیتا تھا، وہ بیمار پڑ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ اس کاوالد اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے سے فرمایا: اے فلاں! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور اس کا والد خاموش رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات دوہرائی۔اس نے پھر اپنے والد کی طرف دیکھا، اس دفعہ اس کے والد نے کہا: ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات مان لو۔ یہ سن کر بچے نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔) جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے نکلے تو فرما رہے تھے: اللہ کا شکر ہے، جس نے اسے میرے سبب سے جہنم سے بچا لیا۔
Takhreej
(۳۰۰۸) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، مؤمل سییء الحفظ لکنہ متابع أخرجہ البخاری: ۱۳۵۶، ۵۶۵۷ (انظر: ۱۲۷۹۲، ۱۳۹۷۷)
Explanation
فوائد: …سیدنا صفوان بن عسال مرادی bکہتے ہیں: رسول اللہaایک یہودی لڑکے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھا، آپaنے اسے فرمایا: ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔
3008
Zaeef
۔ (۳۰۰۹) عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۹)
ابو عمر زاذان کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: جس آدمی کو اس کی وفات کے وقت لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۳۰۰۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۸۹۴)
3009
Sahih
۔ (۳۰۱۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْضَ بَنَاتِہِ وَہِیَ تَجُوْدُ بِنَفْسِہَا، فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمْ یَرْفَعْ رَأْسَہُ حَتَّیٰ قُبِضَتْ، قَالَ: فَرْفَعَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، الْمُؤْمِنُ بِخَیْرٍ، تُنْزَعُ نَفْسُہُ مِنْ بَیْنَ جَنْبَیْہِ وَہُوَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک (نواسی) بیٹی کے پاس تشریف لے گئے، اس کی روح نکل رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے اوپر جھک گئے اور اس کی روح قبض ہونے تک اپنا سر اوپر نہ اٹھایا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، مومن بھلائی میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے پہلوئوں سے اس کی روح قبض کی جا رہی ہوتی ہے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۰۱۰) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: ۳۱۸، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۹۴، وعبد بن حمید: ۵۹۳ (انظر: ۲۴۱۲، ۲۴۷۵)
Explanation
فوائد: …یہ نواسی کون تھی؟ اس کی وضاحت ’’ابواب البکائ‘‘ کے باب ’’نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان‘‘ میں آئے گی۔
3010
Sahih
۔ (۳۰۱۱) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ (الأَسْلَمِی) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ کَانَ بَخُرَاسَانَ فَعَادَ اَخًا لَہُ وَہُوَ مَرِیْضٌ فَوَجَدَہُ بِالْمَوْتِ ، وَإِذَا ہُوَ یَعْرَقُ جَبِیْنُہُ، فَقَالَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۰)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خراسان میں تھے، وہاں وہ اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے گئے، جبکہ وہ فوت ہونے والا تھا اور اس کی پیشانی پسینہ آلود تھی، یہ دیکھ کر انھوں نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کی موت اس کی پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔
Takhreej
(۳۰۱۱) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۵۲، والترمذی: ۹۸۲، والنسائی: ۴/ ۵ (انظر: ۲۲۹۶۴، ۲۳۰۲۲)
3011
Sahih
۔ (۳۰۱۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَمُوْتُ بِعَرَقِ الْجَبِیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۵۲)
(دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ فوت ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۰۱۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …اس موقع پر پسینہ آنے کی درج ذیل تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:
3012
Sahih
۔ (۳۰۱۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا نُؤْذِنُہُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَیَأْتِیْہِ قَبْلَ أَنْ یَمُوْتَ، فَیَحْضُرُہُ وَیَسْتَغْفِرُ لَہُ وَیَنْتَظِرُ مَوْتَہُ، قَالَ فَکَانَ ذٰلِکَ رُبَّمَا حَبَسَہُ الْحَبْسَ الطَّوِیْلَ فَشَقَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ لَا نُؤْذِنَہُ بِالْمَیِّتِ حَتّٰی یَمُوْتَ، قَالَ: فَکُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَیْتُ، آذَنَّاہُ بِہِ فَجَائَ فِی أَہْلِہِ فَاسْتَغْفَرَ لَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ إنْ بَدَا لَہُ أَن یَشْہَدَہُ، اِنْتَظَرَ شُہُوْدَہُ وَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یَنْصَرِفَ اِنْصَرَفَ، قَالَ: فَکُنَّا عَلٰی ذَالِکَ طَبَقَۃً أُخْرٰی، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَی بَیْتِہُ وَلَا نُشْخِصَہُ وَلَا نُعَنِّیَہِ، قَالَ: فَقُلْنَا ذَالِکَ فَکَانَ الْاَمْرُ۔(مسند احمد: ۱۱۶۵۱)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ہم میں سے جب کسی آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی وفات سے پہلے ہی تشریف لے آتے اور اس کے پاس ٹھہرے رہتے، اس کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے اور اس کی وفات کا انتظار کرتے، بسا اوقات اس سلسلہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کافی دیر ہو جاتی اور یہ معاملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر شاق گزرتا۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات سے پہلے اطلاع نہ کیا کریں۔ پس بعد ازاں ایسے ہوتا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دیتے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے اہل و عیال کے ہاں تشریف لا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اور نماز جنازہ پڑھاتے، اس کے بعد اگر مناسب سمجھتے تو دفن تک ٹھہر جاتے اور مناسب سمجھتے تو پہلے ہی تشریف لے جاتے۔ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک عرصہ تک یہی طریقہ جاری رہی، اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے آسانی اس میں ہے کہ ہم میت کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر اٹھا کر لے جایا کریں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر سے نہ نکالا کریں اور (اہل میت کے گھر آنے کی) تکلیف نہ دیا کریں۔
Takhreej
(۳۰۱۳) تخریـج: …رجالہ ثقات غیر فلیح بن سلیمان الخزاعی، فقد تکلم بعض الائمۃ فی حفظہ، وضعفہ یحیی بن معین، والنسائی، وابوداود، وقال الساجی: ھو من أھل الصدق، وکان یھم، وقال الدارقطنی: مختلف فیہ ولابأس بہ، وقال الحافظ فی ’’التقریب‘‘: صدوق، کثیر الخطأ أخرجہ ابن حبان: ۳۰۰۶، والحاکم: ۱/ ۳۵۷، والبیھقی: ۴/ ۷۴ (انظر: ۱۱۶۲۸)
Explanation
فوائد:… یہ حقائق ہمیں بھی سمجھنے چاہئیں کہ آج کل بعض اہل علم کے بارے میں عوام کی عقیدت زیادہ ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں دم کروانے کے لیے ان کو ترجیح دیتے ہیں، نمازِ جنازہ کے لیے ان ہی کا انتخاب کرتے ہیں اور نکاح اور دوسری دعوتوں میں بھی ان کی شرکت کو ضروری سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ ایک علاقے میں اس قسم کا عالم ایک ہی ہوتا ہے، اب وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، کس کو چھوڑے اور کس کو نہ چھوڑے، جبکہ اس نے زندگی بھی گزارنی ہے اور اپنے بیوی بچوں کا نظام بھی چلانا ہے، اس لیے اگر بعض اوقات ایسے لوگ ہماری خواہش کی تکمیل نہ کر سکیں تو ان کے بارے میں نرم رویہ ہونا چاہیے اور ان کے خلاف زبان کھولنے سے محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی معاملہ رات کو خطاب کرنے والے اہل علم اور خطباء کا ہے کہ عوام تقریر کے لیے وقت لیتے اتنا اصرار کرتے ہیں کہ چاروناچار ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے، لیکن بعد میں ایسی مجبوریاں کھڑی ہو جاتی ہیں کہ وہ پہنچ نہیں پاتے، ایسی صورت میں دیکھا یہ گیا ہے کہ عوام آگ بگولا ہو کر اس خطیب کی مخالفت میں برس پڑتے ہیں، بلکہ بسا اوقات اس پر کیس بھی کر دیتے ہیں اوراپنی کانفرنس کے خرچے کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ روحِ اسلام سے دور ہیں اور اس سے غافل ہیں کہ اِن اہل علم کا ان پر کیا حق ہے اور ان کا ان کے بارے میں کیا رویّہ ہونا چاہیے۔
3013
Sahih

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
9 Hadith
02
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
04
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
12 Hadith
05
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
9 Hadith
06
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
4 Hadith
07
قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
3 Hadith
08
روح سے متعلقہ مسائل
8 Hadith
09
میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
4 Hadith
10
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.