TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان - مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان - دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 8 · 4 Hadith
۔ (۳۲۸۱) عَنْ ثَابِتٍ (البُنَانِیِّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَعْنِی بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ لِامْرَأَۃٍ مِنْ أَہْلِہِ: أَتَعْرِفِیْنَ فُلَانَۃَ؟ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ مَرَّ بِہَا وَہِیَ تَبْکِی عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ لَہَا: ((اِتَّقِی اللّٰہَ وَاصْبِرِیْ۔)) فَقَالَتْ لَہُ إِلَیْکَ عَنِّیْ، فَإِنَّکَ لَا تُبَالِی بِمُصِیْبَتِی، قَالَ: وَلَمْ تَکُنْ عَرَفَتْہُ، فَقِیْلَ لَہَا: إِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَأَخَذَہَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَجَاَئَ تْ إِلٰی بَابِہِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَیْہِ بَوَّابًا، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی لَمْ أَعْرِفْکَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدَمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۸۵)
ثابت بنانی کہتے ہیں: سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے اہل خانہ کی ایک خاتون سے کہا: کیا تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبرکرو۔ اس نے آگے سے کہا: تم مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔دراصل یہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، بعد میں اسے بتلایا گیا کہ یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت کی گھبراہٹ سی طاری ہوگئی اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر پہنچ گئی اور وہاں کوئی دربان نہ پایا، پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یوں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک صبر تو وہ ہوتا ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
Takhreej
(۳۲۸۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۵۴، ومسلم: ۹۲۶(انظر: ۱۲۴۵۸)
Explanation
فوائد: …یعنی جونہی مسلمان کو اپنی کسی چھوٹی بڑی مصیبت کی خبر ہوتی ہے، تو اسی وقت سے صبر کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں، یہ صبر نہیں ہے کہ خبر ملتے ہی واویلا کرلیا جائے، جنون کی سی کیفیت طاری کر لی جائے اور بعد میں تھک ہار کر صبر کا دامن پکڑ لیا جائے، کیونکہ وقت گزرنے سے تو ہر ایک کو صبر آ ہی جاتا ہے۔ اس حدیث سے انتہائی اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ جو کسی کے مقام ومرتبہ کو نہ پہچانتا ہو، اس کے گستاخانہ رویے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ
3281
Sahih
۔ (۳۲۸۲) عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَۃٍ یُصَابُ بِمُصِیْبَۃٍ فَیَذْکُرُہَا وَإِنْ طَالَ عَہْدُہَا،قَالَ عُبَادَۃُ: قَدُمَ عَہْدُہَا، فَیُحْدِثُ لِذَالِکَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللّٰہُ لَہُ عِنْدَ ذَالِکَ فَأَعْطَاہُ مِثْلَ أَجْرِہَا یَوْمَ أُصِیْبَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴)
سیّدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔
Takhreej
(۳۲۸۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، ہشام بن ابی ہشام متروک، وأمہ لایعرف حالھا أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۰(انظر: ۱۷۳۴)
Explanation
فوائد: …یہ کلمات مصیبت زدہ لوگوں کا ملجا و مأوی ہیں اور بندہ یہ کلمات ادا کر کے اپنی موت اور حشر کا اقرار کرتا ہے اور یقینی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز نے اپنے مالک ِ حقیقی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
3282
Zaeef
۔ (۳۲۸۳) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیْبُہُ مُصَیْبَۃٌ فَیَقُوْلُ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِی (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا) وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا إِلَّا أَجَرَہُ اللّٰہُ فِی مُصَیْبَتِہِ وَخَلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْہَا۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ سَلَمَۃَ، قُلْتُ: مَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: فَعَزَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِیْ، فَقُلْتُہَا: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا : جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔ (بیشک ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ ! میں تیرے ہاں اپنی مصیبت پر ثواب طلب کرتا ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور نعم البدل عطا کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی اور میں یہ دعا پڑھتی رہی: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ (اے اللہ!تو مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما۔) تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر لی۔
Takhreej
(۳۲۸۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۱۸ (انظر: ۲۶۶۳۵)
Explanation
فوائد: …اس دعا کے الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصَیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا ‘‘ کی بجائے یہ الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ‘‘ کہنا بھی درست ہیں، عام کتب میں یہی مؤخر الذکر الفاظ لکھے جاتے ہیں۔ یہ دعا انتہائی بابرکت ہے، جبکہ تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں، اس لیے صبر کے ساتھ یہ دعا پڑھتے رہنا چاہیے۔
3283
Sahih
۔ (۳۲۸۴) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْضُ بَنَاتِہِ أَنَّ صَبِیًّا لَہَا اِبْنًا أَوْ اِبْنَۃً قَدْ احْتُضِرَتْ فَاشْہَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا یَقْرَأُ لسَّلَامَ وَیَقُوْلُ: ((إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی (وَفِی لَفْظٍ: لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلِلّٰہِ مَا أَعْطٰی) وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۹)
سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔
Takhreej
(۳۲۸۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۵۵، ۶۶۵۵، ومسلم ۹۲۳ (انظر: ۲۱۷۷۶)
Explanation
فوائد: …تعزیت اور تسلی دلانے کے لیے یہ بہترین الفاظ ہیں، بخاری ومسلم کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یہ ہیں اور یہی عام کتب میں شائع ہوتے ہیں: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہٗ مَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی۔ نیز دعا وغیرہ کے ذریعے تسلی دلانے کے لیے کوئی بھی جائز انداز اختیار کیا جا سکتا ہے، تعزیت کی فضیلت یہ ہے: محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم a نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُعَزِّيْ أَخَاہُ بِمُصِیْبَۃٍ، إِلَّا کَسَاہُ للّٰہُ سُبْحَانَہٗ مِنْ حُلَلِ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (ابن ماجہ: ۱۶۰۱، صحیحہ: ۱۹۵)
3284
Sahih

Chapters

8
01
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
6 Hadith
03
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
3 Hadith
04
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
6 Hadith
05
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
9 Hadith
06
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
4 Hadith
07
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
4 Hadith
08
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
8 Hadith
No chapter matched that.