TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے - وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے - دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 8 · 8 Hadith
۔ (۳۲۸۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ أَخَا بَنِی سَاعِدَۃَ تُوُفِّیْتْ أُمُّہُ، وَہُوَ غَائِبٌ عَنْہَا، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! إِنَّ أُمِّیْ تُوُفِّیَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْہَا، فَہَلْ یَنْفَعُہَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَیْئٍ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَإِنِّیْ أُشْہِدُکَ أَنَّ حَائِطِی الْمِخْرَفَ(وَفِی لَفْظٍ: الْمِخْرَافَ) صَدَقَۃٌ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۳۵۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۲۸۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۷۵۶(انظر: ۳۰۸۰، ۳۵۰۸)
3289
Sahih
۔ (۳۲۹۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّ أُمِّی اُفْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَأَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَہَلْ لَہَا أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۵۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہا کہ: میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ بات کر سکتی تو صدقہ کرتی، تو اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۲۹۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۷۶۰، ومسلم: ۱۰۰۴(انظر: ۲۴۲۵۱)
3290
Sahih
۔ (۳۲۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا حَجَاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ یُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ أُمَّہُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّ أُمِّیْ مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سَقْیُ الْمَائِ۔)) قَالَ: فَتِلْکَ سِقَایَۃُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَۃَ: مَنْ یَقُوْلُ ’’تِلْکَ سِقَایَۃُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۶)
حسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدق افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میںیہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔
Takhreej
(۳۲۹۱) تخریـج: …حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۸۱، والنسائی: ۶/ ۲۵۵، وابن ماجہ:۳۶۸۴(انظر: ۲۲۴۵۹)
Explanation
فوائد: …سیّدنا سعد bنے اپنی ماں کی طرف سے کنواں کھدوایا تھا۔
3291
Sahih
۔ (۳۲۹۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقاَل: إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا نَذْرٌ، أَفَیُجْزِیُٔ عَنْہَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((أَعْتِقْ عَنْ أُمِّکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۴۷)
سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، اب اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو ان کو کفایت کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔
Takhreej
(۳۲۹۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۷۶۱، ۶۶۹۸، ومسلم: ۱۶۳۸ لکن جعلاہ من مسند ابن عباس (انظر: ۱۸۹۳، ۲۳۸۴۶)
Explanation
فوائد: …ان کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
3292
Sahih
۔ (۳۲۹۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَنْحَرَ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ، وَإِنَّ ہِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحْرَ حِصَّتَہُ خَمْسِیْنَ بَدَنَۃً، وَأَنَّ عَمْرًوا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: ((أَمَّا أَبُوْکَ فَلَوْ کَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِیْدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْہُ نَفَعَہُ ذَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، (پھر وہ مر گیا اوراس کے ایک بیٹے) ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیئے، لیکن سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور پھر تم اس کی طرف سے روزے رکھتے اور صدقہ کرتے تو اسے اس کا فائدہ ہوتا۔
Takhreej
(۳۲۹۳) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۸۳ (انظر: ۶۷۰۴)
Explanation
فوائد: …عاص کے دو بیٹے ہشام اور عمرو تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر پر مرنے والے کو نیک عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
3293
Sahih
۔ (۳۲۹۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّ أَبِی مَاتَ وَتَرَکَ مَالاً وَلَمْ یُوْصِ، فَہَلْ یُکَفِّرُ عَنْہُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے مال تو چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی، تو کیاان کی طرف سے میرا صدقہ کرناان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۲۹۴) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۱۶۳۰(انظر: ۸۸۴۱)
3294
Sahih
۔ (۳۲۹۵) عَنْ عُقْبَہَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ غُلَامًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی لَفْظٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أُمِّیْ مَاتَتْ وَتَرکَتْ حُلِیًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِہِ عَنْہَا؟ قَالَ: ((أُمُّکَ أَمْرَتْکَ بِذَالِکَ؟)) قَالَ: لَا۔ قَالَ: ((فَأَمْسِکْ عَلَیْکَ حُلِیَّ أُمِّکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۷۳)
سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: میری والدہ کچھ زیورات چھوڑ کر فوت ہو گئی ہیں، تو کیا میں یہ زیورات ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کے زیورات کو اپنے پاس ہی رکھو (اور صدقہ نہ کر)۔
Takhreej
(۳۲۹۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، ومتنہ منکر، ابن لھیعۃ سییء الحفظ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۷/ ۷۷۲ (انظر: ۱۷۳۵۶، ۱۷۴۳۷)
Explanation
فوائد: …چونکہ یہ آدمی خود زیادہ محتاج تھا، اس لیے یہ جس مال کا وارث بنا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا۔
3295
Zaeef
۔ (۳۲۹۶) عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یٰسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا یَقْرَؤُہَا رَجُلٌ یُرِیْدُ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالدَّارَ الآخِرَۃَ إِلَّا غُفِرَ لَہُ وَاقْرَئُ وہَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۶)
سیّدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ یس، قرآن کریم کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے، اور اپنے قریب الموت لوگوں پر بھی اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
Takhreej
(۳۲۹۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل وأبیہ أخرجہ ابوداود: ۳۱۲۱، وابن ماجہ: ۱۴۴۸ (انظر: ۲۰۳۰۰، ۲۰۳۰۱)
Explanation
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کا اصل قانون یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی نیکی اور برائی کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا} (سورۂ فصلت: ۴۶)
3296
Sahih

Chapters

8
01
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
6 Hadith
03
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
3 Hadith
04
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
6 Hadith
05
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
9 Hadith
06
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
4 Hadith
07
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
4 Hadith
08
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
8 Hadith
No chapter matched that.