TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4401 - کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
۔ (۴۴۰۱) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِی عَنِ الرُّکُوْبِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُوْنَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ، فَقَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، قُلْتُ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا مَاذَا؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ فَخَرَجُوْا، حَتّٰی خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُضْرَبُ عِنْدَہٗاَحَدٌ،فَرَکِبَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطَافَ وَھُوَ رَاکِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَکَانَ الْمَشْیُ أَحَبَّ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۴۹۲)
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ مجھے صفا مروہ کی سعی کے موقع پر سوار ہونے کے متعلق بتلائیں، کیونکہ آپ کی قوم تو اسے سنت سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے۔ میں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، سارے لوگ بھی آ گئے، حتی کہ نوجوان لڑکیاں بھی آگئیں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کسی کو مارا نہیں جاتا تھا، (لیکن ہجوم بھی بہت زیادہ تھا) اس لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف اور سعی سواری پر کی تھی، ورنہ آپ کو زیادہ پسند یہی تھا کہ آپ سواری سے نیچے اتر کر یہ عمل کرتے۔
4401
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۴۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۶۴(انظر: ۳۴۹۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔

Related Chapters

738
1
باب: صفا و مروہ کے درمیان سواری پر سعی کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About Beginning With As-Safa Before Al-Marwah
باب: سعی کی شروعات مروہ کے بجائے صفا سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Sa'i between As-Safa and Al-Marwah
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
صفا مروہ کی سعی
Musnad Ahmad
5
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
7
(79) CHAPTER. The Tawaf (Sa'y) between As-Safa and Al-Marwa is compulsory and is one of the Symbols of Allah.
صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں
Sahih Bukhari
8
Chapter: Clarifying that the pilgrim who has entered Ihram for Umrah should not exit Ihram after performing Tawaf before Sa'i; And the pilgrim who has entered Ihram for Hajj should not exit Ihram after performing Tawaf Al-Qudum, and the same applies to the pilgrim performing Qiran
عمرے کا احرام باندھنے والے کا احرام ‘صفا مروہ کی سعی سے پہلےصرف طواف کرنے سے ختم نہیں ہوتا ‘حج کا احرام باندھنے والا(صرف)طواف قدوم سے حلّت میں نہیں آتا ‘اسی طرح حج قران کرنے والے کا حکم ہے (طواف سے اس کا احرام ختم نہیں ہو گا
Sahih Muslim
9
Chapter: Clarifying that Sa'i between As-safa and Al-Marwah is a pillar of Hajj, without which Hajj is not valid
صفا مروہ کے مابین سعی حج کا رکن ہے ‘اس کے بغیر حج صحیح نہیں
Sahih Muslim
10
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
11
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: قارن اور متمتع صفا و مروہ کی سعی کتنی بار کرے؟
Sunnan Nisai
13
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
15
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
Musnad Ahmad
16
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
17
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
18
(61) CHAPTER. To urinate beside one's companion while screened by a wall.
اپنے ( کسی ) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا
Sahih Bukhari
19
(62) CHAPTER. To urinate near the dumps of some people.
کسی قوم کی کوڑی پر پیشاب کرنا
Sahih Bukhari
20
(7) CHAPTER. To offer the optional non-obligatory Salat (Nawafil) on the back of animals (Rahila) in whatever direction the animal goes.
نفل نماز سواری پر ، اگرچہ سواری کا رخ کسی طرف ہو
Sahih Bukhari
21
(22) CHAPTER. Riding alone or with somebody else during Hajj.
حج کے لیے سوار ہونا یا سواری پر کسی کے پیچھے بیٹھنا درست ہے
Sahih Bukhari
22
(80) CHAPTER. What is said about Sa'y between As-Safa and Al-Marwa.
صفا اور مروہ کے درمیان کس طرح دوڑے
Sahih Bukhari
23
(101) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir in the morning of the day of Nahr till the Ramy of Jamarat-al-Aqaba and riding behind somebody else on a riding animal.
دسویں تاریخ کو صبح تک تکبیر اور لبیک کہتے رہنا جمرہ عقبہ کی رمی تک اور چلتے ہوئے ( سواری پر کسی کو ) اپنے پیچھے بٹھا لینا
Sahih Bukhari
24
(27) CHAPTER. Standing and urinating at the dumps of some people.
کسی قوم کے کوڑے کے پاس ٹھہرنا اور وہاں پیشاب کرنا
Sahih Bukhari
25
(6) CHAPTER. If a dispute arises between the mortgagor and mortgagee, a proof is to be provided by plaintiff, otherwise the defendant has to take an oath (if he insists on denying the plaintiff's claim).
راہن اور مرتہن میں اگر کسی بات پر اختلاف ہو جائے یا ان کی طرح دوسرے لوگوں میں تو گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے ، ورنہ ( منکر ) مدعیٰ عل یہ سے قسم لی جائے گی
Sahih Bukhari
26
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
27
(4) CHAPTER. It is permissible for the seller to stipulate that he should ride the (sold) animal up to a certain place.
اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام تک سواری کی شرط لگائی تو یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
28
(119) CHAPTER. The wages given to fight on somebody else's behalf, and the riding animals presenyed to be used in Allah's Cause.
کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا
Sahih Bukhari
29
(128) CHAPTER. Holding the riding animal of somebody else (to help him ride).
جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھادے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے ، اس کا ثواب
Sahih Bukhari
30
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
31
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
32
(15) CHAPTER. To visit a patient riding, walking or sitting with another person on a donkey.
مریض کی عیادت کو سوار ہو کر یا پیدل یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ہر طرح جائز درست ہے
Sahih Bukhari
33
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
34
Chapter: It is permissible to exit Ihram if one is prevented from completing Hajj; It is permissible to perform Qiran and the pilgrim performing Qiran should perform just one Tawaf and one Sa'i
کسی رکاوٹ کے باعث (راستے میں)احرام کھول دینے ‘نیز حج قران اور اس میں ایک طواف اور ایک سعی پر اکتفاکرنے کا جواز
Sahih Muslim
35
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
36
CHAPTER: Seclusion While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تنہائی کی جگہ میں جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: It Is Dislikes To Face The Qiblah While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Concession In This Regard.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت قبلہ رخ ہونے کی رخصت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: The Disliking Of Speech While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت بات چیت مکرو ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Covering While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت پردہ کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Making The Prayer Shorter Due To An Unexpected Occurrence.
باب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر نماز ہلکی کر دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: The Imam Interrupting The Khutbah Due To An Incident.
باب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر امام خطبہ میں رک سکتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding As-Safa and Al-Marwah.
باب: صفا اور مروہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: When The Crescent Is Sighted In A Land A Night Before It Is Sighted In Other Lands.
باب: اگر کسی شہر میں دوسرے شہر سے ایک رات پہلے چاند نظر آ جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
45
اگر کسی خاص درخت کی خریداری بیع سلم سے (یعنی پیشگی ادائیگی کے بعد) کی ہو اور اس میں پھل نہ آئے تو کیا حکم ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
46
کسی چیز کو سامنے رکھ کر اس کی آڑ میں پیشاب کرنے کا بیان
Sunnan Nisai
47
باب: صفا و مروہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: صفا و مروہ کے درمیان رمل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: صفا مروہ میں وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Musnad Ahmad
4109
۔ (۴۱۰۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ذَکَرُوْا الرَّجُلَ یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ فَیَحِلُّ، ہَلْ لَہُ أَنْ یَأْتِیَیَعْنِیْ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: لَا حَتّٰییَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَطَافَبِالْبَیْتِ سَبْعًا فَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۴۶۴۱)
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیںاور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
Musnad Ahmad
4215
۔ (۴۲۱۵) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتّٰییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَشَکُوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ وَدَعِیْ الْعُمْرَۃَ۔)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ اِلَی التَّنْعِمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ((ہٰذِہِ مَکَانُ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَہَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوْافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آئوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
Musnad Ahmad
4217
۔ (۴۲۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَن عُبَیْدِ اللّٰہِ أَخْبَرْنِی نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) حِیْنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَا: لَا یَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ ھٰذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشٰی أَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، قَالَ: إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حِیْنَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً فَإِنْ خُلِّیَ سَبِیْلِیْ قَضَیْتُ عُمْرَتِی، وَإِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَلَبّٰی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ثُمَّ سَارَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدَائِ، قَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِیْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی ابْتَاعَ بِقُدَیْدٍ ہَدْیًا ثُمَّ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْکَذَالِکَ إِلٰییَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند احمد: ۵۱۶۵)
۔ نافع کرتے ہیں کہ جس سال حجاج ،سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں ، کیونکہیہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہتریننمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔
Musnad Ahmad
4370
۔ (۴۳۷۰) عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: أَیَصْلُحُ أَنْ أَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَأَنَا مُحُرِمٌ؟ قَالَ: مَا یَمْنَعُکَ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا یَنْہَانَا عَنْ ذٰلِکَ حََتّٰییَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَیْتُہُ کَأَنَّہُ مَالَتْ بِہِ الدُّنْیَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَیْنَا مِنْہُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، وَسُنَّۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَرَسُوْلِہِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّۃِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا۔ (مسند احمد: ۵۱۹۴)
۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔
Musnad Ahmad
4375
۔ (۴۳۷۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۴۸)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے اور ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، قربانی والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہم صفامروہ کے قریب تک نہیں گئے۔
Musnad Ahmad
4376
۔ (۴۳۷۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی حَدِیْثٍ لَھَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ، فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔
Musnad Ahmad
4377
۔ (۴۳۷۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَیُصِیْبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَن یَطُوْفَ بالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ تَلَا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۱۴۳۶۸)
۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔)
Musnad Ahmad
4378
۔ (۴۳۷۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ طَافُوْا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ طَافُوْا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لَحِجَّہِمْ، وَالَّذِیْنَ قَرَنُوْا طَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جن صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا،انہوں نے بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیاتھا، اس کے بعد منیٰ سے واپسی پر انہوں نے حج کے لئے طواف کیاتھا اور جن لوگوں نے حج قران کا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔
Musnad Ahmad
4390
۔ (۴۳۹۰) عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} فَوَاللّٰہِ مَا عَلٰی أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی! إِنَّہَا لَوْ کَانَتْ کَمَا أَوَّلْتَہَا عَلَیْہِ کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ إِنَّ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانُوْا قَبْلَ أَنْ یُسْلِمُوْایُہِلُّوْا لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ، الَّتِی کَانُوْایَعْبُدُوْنَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَکَانَ مَنْ أَھَلَّ لَھَا یَتَحَرَّجُ أَنْ یَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} قَالَتْ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الطَّوَافَ بِہِمَا فَلَیْسَیَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَدَعَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۰)
۔ جنابِ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ کیا آپ نے اس آیت پر غور نہیں کیا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) اللہ کی قسم! اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: بھانجے!تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، اگر بات اسی طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہوتو اس آیت کی عبارت یوں ہوتی فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا (اس پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف نہ کرنے)۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ آیت تو اس لئے نازل ہوئی تھی کہ انصار کا یہ قبیلہ اسلام سے قبل مناۃ نامی بت کے لئے احرام باندھا کرتا تھا اور یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی پوجا کیاکرتے تھے،اس مناۃ کے لئے احرام باندھنے والے لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، جب ان لوگوں نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) اب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کے درمیان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سعی کو ترک کرے۔