TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5549 - ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۴۹)۔ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ فِرَاشَہُ فَلْیَنْزِعْ دَاخِلَۃَ إِزَارِہِ ثُمَّ لِیَنْفُضْ بِہَا فِرَاشَہُ، فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی مَا حَدَثَ عَلَیْہِ بَعْدَہُ، ثُمَّ لِیَضْطَجِعْ عَلٰی جَنْبِہِ الْأَیْمَنِ، ثُمَّ لِیَقُلْ: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی وَبِکَ أَرْفَعُہُ، إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا حَفِظْتَ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے بستر پر آئے تو وہ اپنے ازار کے پلّو کو کھینچے اور اس کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوا ہے، پھر وہ دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا حَفِظْتَ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔ (اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔
5549
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۵۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۲۰، ومسلم: ۲۷۱۴(انظر: ۹۴۶۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ممکن ہے کہ بستر میں کوئی موذی جانور پڑا ہو اور کسی نقصان یا پریشانی کا سبب بن جائے۔

Related Chapters

38
1
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Washing the face and hands when waking from sleep
نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ منہ دھونا
Sahih Muslim
4
CHAPTER: What to say if one wakes up at night.
باب: رات میں نیند سے بیدار ہونے پر آدمی کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
5
نیند سے اٹھنے پر ناک جھاڑنے کا حکم
Sunnan Nisai
6
Chapter: Something Else About That
باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Concerning The Mention Of: “Glory Is To Allah And The Praise” A Hundred Times
باب: صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
Mishkat
11
باب مایقول عندالصباح والمساء والمنام
صبح و شام اور سوتے وقت کے اذکار کا بیان
Mishkat
12
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
13
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
Musnad Ahmad
14
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
15
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
16
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
17
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
18
اذکار، استغفار اور دعوات کے صیغوں میں اصل قانون تین بار کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
Musnad Ahmad
20
پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو کوئی معاملہ مغلوب کر دے
Musnad Ahmad
21
مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان
Musnad Ahmad
22
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
23
(25) CHAPTER. To establish the (Nawafil - voluntary) prayers on the night of Qadr is a part of faith.
شب قدر کی بیداری ( اور عبادت گزاری ) بھی ایمان ( ہی میں داخل ) ہے
Sahih Bukhari
24
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
25
(163) CHAPTER. The waiting of the people for the religious learned Imam to get up (after the prayer to depart).
لوگوں کا نماز کے بعد امام کے اٹھنے کا انتظار کرنا
Sahih Bukhari
26
Chapter: Everything that is taken from the date palm or grape vine and steeped is called Khamr
(پہلے مرحلے میں) جو بھی نبیذ بنائی جاتی ہے،کھجور سے ہو یا انگور سے(خمیر اٹھنے کے بعد) اسی کا نام شراب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: The Permissibility Of Accepting A Reward For Reciting Ruqyah With Qur'an And Supplications
قرآن مجید اور اذکار(مسنونہ )سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا جواز
Sahih Muslim
28
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
Silsila Sahih
29
CHAPTER: A Man Putting His Hand In The Container Before Washing It.
باب: سو کر اٹھنے والا آدمی ہاتھ دھونے سے پہلے اسے برتن میں نہ ڈالے ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Standing Up In The Single (Odd Numbered Rak’ah).
باب: پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟
Sunnan Ibn e Maja
32
رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
33
رات کو سو کر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کرنے کے درمیان قیام کی مقدار کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
رات میں اٹھنے پر مسواک کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
شب بیداری کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
5532
۔ (۵۵۳۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُولُ: یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا وَضَعَ جَنْبَہُ یَقُولُ: ((بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنا پہلو بسترپر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ(اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔
Musnad Ahmad
321
۔ (۳۲۱)۔عن أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ ؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَی جَمَلٍ آدَمَ فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! خُذُوْا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ۔)) وَقَدْ کَانَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا أَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُوئْ کُمْ، وَاِنْ تَسْأَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنْزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَکُمْ، عَفَااللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ} قَالَ: فَکُنَّا نَذْکُرُہَا کَثِیْرًا مِنْ مَسْأَلَتِہِ وَاتَّقَیْنَا ذَاکَ حِیْنَ أنَزَلَ اللّٰہُ عَلَی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَأَتَیْنَا أَعْرَابِیًّا فَرَشَوْنَاہُ بِرِدَائٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ حَاشِیَۃَ الْبُرْدِ خَارِجَۃً مِنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَہُ: سَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَیْفَ یُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَیْنَ أَظْہُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِیْھَا وَعَلَّمْنَا ہَا نِسَائَ نَا وَذَرَارِیَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَأْسَہُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْہَہُ حُمْرَۃٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَیْ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی بَیْنَ أَظْہُرِہُمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ یُصْبِحُوْا یَتَعَلَّقُوْا بِحَرْفٍ مِمَّا جَائَ تْہُمْ بِہ أَنْبِیَائُ ہُمْ، أَلَا وَاِنَّ مِنْ ذَہَابِ الْعِلْمِ أَنْ یَذْہَبَ حَمَلَتُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۴۶)
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس ؓ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانۂ نزولِ قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کی دی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والابڑے حلم والا ہے۔ (سورۂ مائدہ:۱۰۱) ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدّو کے پاس گئے اور یہ کام کروانے کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: او فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
Musnad Ahmad
1200
۔ (۱۲۰۰)۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیِّؓ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَسْأَلُکَ عَمَّا أَنْتَ بِہِ عَالِمٌ وَأَنَا بِہِ جَاہِلٌ، قَالَ: ((وَمَا ہُوَ؟)) قَالَ: ھَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سَاعَۃٌ تُکْرَہُ فِیْھَا الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ، اِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَاَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تَعْتَدِلَ عَلَی رَأْسِکَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَاِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَی رَأْسِکَ فَاِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ تُسْجَرُ فِیْھَا جَہَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِیْھَا أَبْوَابُہَا حَتّٰی تَزُوْلَ عَنْ حَاجِبِکَ الْأَیْمَنِ، فَاِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِکَ الْأَیْمَنِ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ)) (مسند أحمد: ۲۲۰۳۸)
سیدنا صفوان بن معطل سلمی ؓ سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں، جس کو آپ جانتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیا دن اور رات میں ایسی گھڑیاں بھی ہیں، جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہوتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو نمازِ فجرپڑھ لے تو طلوع آفتاب تک مزید نماز پڑھنے سے رک جا، جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک وہ نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک سورج نیزے کی طرح تیرے سر کے برابر ہو جائے، پس جب وہ تیرے سر کے برابرہو جاتا یہ تو اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے، پس جب وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ تو نماز عصر ادا کر لے۔
Musnad Ahmad
5537
۔ (۵۵۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَوَیْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ، وَقُلْ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِہِ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: ((فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۸۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔
Musnad Ahmad
11026
۔ (۱۱۰۲۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ نَبِیٍّیَمْرَضُ إِلَّا خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَرَضَ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ، أَخَذَتْہُ بُحَّۃٌ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} قَالَتْ: فَعَلِمْتُ أَنَّہُ خُیِّرَ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۵۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ جب بھی کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانسی آئی، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ میں یہ سن کر جان گئی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیااور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ( اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخرت کا انتخاب کیا ہے۔ )
Musnad Ahmad
11329
۔ (۱۱۳۲۹)۔ عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ الْأَیْمَنِ، وَکَانَتْ یَمِیْنُہُ لِطَعَامِہِ وَطُہُوْرِہِ وَصَلَاتِہِ وَثِیَابِہِ، وَکَانَتْ شِمَالُہُ لِمَا سِوٰی ذٰلِکَ، وَکَانَ یَصُوْمُ الْإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۳)
زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بستر پر دراز ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دایاں ہاتھ(اور دائیں جانب) کھانا کھانے، وضوء کرنے، نماز پڑھنے اور کپڑے پہننے کے لیے مخصوص تھا اور بایاں ہاتھ (اور بائیں جانب) باقی کاموں کے لیے مخصوص تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔