TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5550 - ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 7 in this chapter
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۵۰)۔ عن عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِی، أَوْ قَالَ: ثُمَّ دَعَاہُ اسْتُجِیبَ لَہُ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی تُقُبِّلَتْ صَلَاتُہُ)) (مسند أحمد: ۲۳۰۴۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو بیدار ہو اور یہ ذکر کرے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ پھر کہے: رَبِّ اغْفِرْ لِی۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جائے گی اور اگر عزم کرکے وضو کر لیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔
5550
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۵۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۵۴(انظر: ۲۲۶۷۳)

Related Chapters

38
1
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Washing the face and hands when waking from sleep
نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ منہ دھونا
Sahih Muslim
4
CHAPTER: What to say if one wakes up at night.
باب: رات میں نیند سے بیدار ہونے پر آدمی کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
5
نیند سے اٹھنے پر ناک جھاڑنے کا حکم
Sunnan Nisai
6
Chapter: Something Else About That
باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Concerning The Mention Of: “Glory Is To Allah And The Praise” A Hundred Times
باب: صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
Mishkat
11
باب مایقول عندالصباح والمساء والمنام
صبح و شام اور سوتے وقت کے اذکار کا بیان
Mishkat
12
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
13
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
Musnad Ahmad
14
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
15
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
16
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
17
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
18
اذکار، استغفار اور دعوات کے صیغوں میں اصل قانون تین بار کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
Musnad Ahmad
20
پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو کوئی معاملہ مغلوب کر دے
Musnad Ahmad
21
مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان
Musnad Ahmad
22
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
23
(25) CHAPTER. To establish the (Nawafil - voluntary) prayers on the night of Qadr is a part of faith.
شب قدر کی بیداری ( اور عبادت گزاری ) بھی ایمان ( ہی میں داخل ) ہے
Sahih Bukhari
24
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
25
(163) CHAPTER. The waiting of the people for the religious learned Imam to get up (after the prayer to depart).
لوگوں کا نماز کے بعد امام کے اٹھنے کا انتظار کرنا
Sahih Bukhari
26
Chapter: Everything that is taken from the date palm or grape vine and steeped is called Khamr
(پہلے مرحلے میں) جو بھی نبیذ بنائی جاتی ہے،کھجور سے ہو یا انگور سے(خمیر اٹھنے کے بعد) اسی کا نام شراب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: The Permissibility Of Accepting A Reward For Reciting Ruqyah With Qur'an And Supplications
قرآن مجید اور اذکار(مسنونہ )سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا جواز
Sahih Muslim
28
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
Silsila Sahih
29
CHAPTER: A Man Putting His Hand In The Container Before Washing It.
باب: سو کر اٹھنے والا آدمی ہاتھ دھونے سے پہلے اسے برتن میں نہ ڈالے ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Standing Up In The Single (Odd Numbered Rak’ah).
باب: پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟
Sunnan Ibn e Maja
32
رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
33
رات کو سو کر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کرنے کے درمیان قیام کی مقدار کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
رات میں اٹھنے پر مسواک کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
شب بیداری کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

452
Jam e Tirmazi
3414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
`Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh.)’ – then he said: ‘O my Lord, forgive me (Rabbighfirlī)’ – or he said – ‘then he supplicates, he shall be responded to. So he makes a firm determination, then performs Wudu', then he performs Salat, his Salat shall be accepted.”
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Mishkat
1213
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ: ثمَّ دَعَا استيجيب لَهُ فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات کو اٹھ کر یہ دعا پڑھے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور ہر قسم کی حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ پاک ہے ، حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ، پھر وہ یہ کہے : میرے رب مجھے بخش دے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ پھر اس نے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ، اگر وہ وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Musnad Ahmad
1013
۔ (۱۰۱۳)۔عَنِ الْحَارِثِ مَوْلٰی عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: جَلَسَ عُثْمَانُ یَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَہُ فجَائَہُ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَائٍ فِیْ اِنَائٍ أَظُنُّہُ سَیَکُوْنُ فِیْہِ مُدٌّ فتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئِیْ ہٰذَا، ثُمَّ قَالَ: ((وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوْئِیْ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الظُّہْرِ غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاِۃ الظُّہِْر، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صلاۃ الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَعَلَّہُ أَنْ یَبِیْتَ یَتَمَرَّغُ لَیْلَتَہُ ثُمَّ اِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی الصُّبْحَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، وَہُنَّ الْحَسَنَاتُ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ۔)) قَالُوْا: ہٰذِہِ الْحَسَنَاتُ فَمَا الْبَاقِیَاتُ یَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ہُنَّ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۵۱۳)
مولائے عثمان حارث کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عثمان ؓبیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی اُن کے ارد گرد بیٹھ گئے، جب مؤذن آیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ وہ ایک مُدّ پانی ہو گا، پس انھوں نے وضو کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جس نے میری وضو کی طرح وضو کیا اور پھر کھڑا ہوا اور نمازِ ظہر ادا کی، اس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے جو اِس ظہر اور فجر کے درمیان ہوں گے، پھر جب وہ عصر کی نماز پڑھے گا تو عصر اور ظہر کے درمیان والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، جب وہ مغرب پڑھے گا تو اِس نماز اور عصر کی نماز کے درمیان والے گنا بخش دیئے جائیں گے، جب وہ عشا پڑھے گا تو عشا اور مغرب کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر ممکن ہے کہ وہ رات گزارے اور الٹ پلٹ ہوتا رہے، پھر جب اٹھے گا اور وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرے گا تو اِس نماز اور عشا کی نماز کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں، یہ نیکیاں ہیں، جو برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہیں، باقی رہنے والی چیزیں کون سی ہیں، اے عثمان!؟ انھوں نے کیا: وہ یہ اذکار ہیں: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
Musnad Ahmad
5445
۔ (۵۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ یَقُولُ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ إِلَّا کُفِّرَتْ عَنْہُ ذُنُوبُہُ، وَلَوْ کَانَتْ أَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۴۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین پر جو آدمی یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Musnad Ahmad
5447
۔ (۵۴۴۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی لَا أَسْتَطِیعُ أَخْذَ شَیْئٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِی مَا یُجْزِئُنِی، قَالَ: ((قُلْ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی۔)) ثُمَّ أَدْبَرَ وَہُوَ مُمْسِکُ کَفَّیْہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا ہٰذَا فَقَدْ مَلَأَ یَدَیْہِ مِنْ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۲۰)
۔ سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات سکھلا دیں، جو اس سے مجھے کفایت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات تو سارے اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ پھر وہ چلا گیا اور اس نے دونوں ہتھیلیوں کو بند کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر و بھلائی سے بھر لیا ہے۔
Musnad Ahmad
5450
۔ (۵۴۵۰)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ أَرْبَعًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ کُتِبَ لَہُ عِشْرُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّتْ عَنْہُ عِشْرُونَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ أَوْ کُتِبَتْ لَہُ ثَلَاثُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْہُ بِہَا ثَلَاثُونَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۲۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی، جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہا، اس کے لیے بھی اتنا ہی اجرو ثواب ہو گا اور جس نے اپنے دل سے اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہا ، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔
Musnad Ahmad
5566
۔ (۵۵۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الشَّہْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ، وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۷۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ،… وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔
Musnad Ahmad
12078
۔ (۱۲۰۷۸)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، رَفَعَ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ خَفَضَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ فِی السَّمَائِ شَیْئٌ، فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّہُ سَیَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَمَالَأَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَا أَنَا مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُمَالِئْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ کَفَّارَتُہُ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ہُنَّ الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۳)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔
Sunnan Abu Dawood
5060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيجُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ،‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا:‏‏‏‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْوَلِيدُ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ .
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes: there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said: Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔